لِیُوَفِّیَہُمۡ اُجُوۡرَہُمۡ وَ یَزِیۡدَہُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ؕ اِنَّہٗ غَفُوۡرٌ شَکُوۡرٌ ﴿۳۰﴾
تاکہ وہ انھیں ان کے اجر پور ے پورے دے اور اپنے فضل سے انھیں زیادہ بھی دے، بلا شبہ وہ بے حد بخشنے والا، نہایت قدردان ہے ۔
En
کیونکہ خدا ان کو پورا پورا بدلہ دے گا اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی دے گا۔ وہ تو بخشنے والا (اور) قدردان ہے
En
تاکہ ان کو ان کی اجرتیں پوری دے اور ان کو اپنے فضل سے اور زیاده دے بےشک وه بڑا بخشنے واﻻ قدردان ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 30) ➊ { لِيُوَفِّيَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ يَزِيْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ:” لِيُوَفِّيَهُمْ “} میں لام عاقبت کا ہے، یعنی اہل علم کی تلاوتِ کتاب، اقامتِ صلاۃ اور خرچ کرنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اجر پورے دے گا اور اپنے فضل سے مزید بھی دے گا۔ یہ لام علت اور وجہ بیان کرنے کے لیے بھی ہو سکتا ہے، یعنی علم والے لوگ قرآن کی تلاوت، اقامتِ صلاۃ اور اللہ کے عطا کردہ میں سے خرچ کرتے ہیں، تاکہ وہ انھیں ان کے اجر پورے دے اور اپنے فضل سے مزید بھی عطا فرمائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ يَزِيْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ» [النساء: ۱۷۳] ”پھر جو لوگ تو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے سو وہ انھیں ان کے اجر پورے دے گا اور انھیں اپنے فضل سے زیادہ بھی دے گا۔“ اپنے فضل سے مزید عطا کرنے میں ایک نیکی کو سات سو نیکیوں تک یا اس سے بھی زیادہ بڑھانا ہے، پھر چند روزہ زندگی کے عمل پر ہمیشہ کی جنت عطا کرنا ہے، پھر جنت کی تمام نعمتوں سے بڑی نعمت اپنا دیدار عطا فرمانا ہے، جیسا کہ فرمایا: «لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِيَادَةٌ» [یونس: ۲۶] ”جن لوگوں نے نیکی کی انھی کے لیے نہایت اچھا بدلا اور کچھ زیادہ ہے۔“ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے۔ (آمین)
➋ { اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ:} یعنی اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اہل ایمان کے گناہوں پر بے حد پردہ ڈالنے والا اور ان کے نیک اعمال کی بے حد قدر کرنے والا ہے۔
➋ { اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ:} یعنی اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اہل ایمان کے گناہوں پر بے حد پردہ ڈالنے والا اور ان کے نیک اعمال کی بے حد قدر کرنے والا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
30۔ 1 یعنی یہ تجارت مندے سے اس لئے محفوظ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال صالحہ پر پورا اجر عطا فرمائے گا۔ یا فعل محذوف کے متعلق ہے کہ یہ نیک اعمال اس لئے کرتے ہیں یا اللہ نے انہیں ان کی طرف ہدایت کی تاکہ وہ انہیں اجر دے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
30۔ تاکہ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کا پورا پورا اجر دے اور اپنی مہربانی سے کچھ زیادہ بھی دے۔ بلا شبہ وہ معاف کرنے والا ہے اور قدردان [35] ہے۔
[35] اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے اعمال کی قدردانی، پیاسے کو پانی پلانے اور راہ سے کانٹے ہٹانے پر بخشش:۔
یعنی اللہ کا اپنے بندوں سے معاملہ ایسا نہیں ہے جیسا ایک تنگ ظرف آقا کا معاملہ اپنے ملازم سے ہوتا ہے۔ جو بات بات پر اپنے ملازم پر گرفت تو کرتا ہے مگر اس کی خدمات کو خاطر میں نہیں لاتا۔ اللہ کا اپنے بندوں سے معاملہ اس سے بالکل برعکس ہے۔ وہ اپنے بندوں کی چھوٹی موٹی غلطیاں معاف کر دیتا ہے اور ان سے ان کی باز پرس بھی نہیں کرتا اور انسان جو نیک اعمال بجا لاتا ہے ان کا ان کے اجر سے بہت زیادہ بدلہ عطا فرماتا ہے۔ اسے اپنے بندے کی کوئی بھی ادا پسند آجائے تو اسے اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ چنانچہ سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”ایک شخص نے ایک کتا دیکھا جو پیاس کے مارے گیلی مٹی چاٹ رہا تھا۔ اس نے اپنا موزا اتارا اور اس میں پانی بھر بھر کر اس کو پلانا شروع کیا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گیا۔ اللہ نے اس کے اس کام کی قدر کی اور اس کو جنت عطا فرمائی“ [بخاری۔ کتاب الوضوء۔ باب اذاشرب الکلب فی الاناء]
نیز سیدنا ابو ہریرہؓ ہی سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”ایک مرتبہ ایک شخص کہیں جا رہا تھا اس نے راستہ میں کانٹوں والی ایک ٹہنی دیکھی جسے اس نے راہ سے ہٹا دیا۔ اللہ تعالیٰ کو اس کا یہ کام بہت پسند آیا اور اسے بخش دیا“ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب فضل التھجیر الی الظھر]
نیز سیدنا ابو ہریرہؓ ہی سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”ایک مرتبہ ایک شخص کہیں جا رہا تھا اس نے راستہ میں کانٹوں والی ایک ٹہنی دیکھی جسے اس نے راہ سے ہٹا دیا۔ اللہ تعالیٰ کو اس کا یہ کام بہت پسند آیا اور اسے بخش دیا“ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب فضل التھجیر الی الظھر]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کتاب اللہ کی تلاوت کے فضائل ٭٭
مومن بندوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ کتاب اللہ کی تلاوت میں مشغول رہا کرتے تھے۔ ایمان کے ساتھ پڑھتے رہتے ہیں عمل بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ نماز کے پابند زکوٰۃ خیرات کے عادی ظاہر و باطن اللہ کے بندوں کے ساتھ سلوک کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور وہ اپنے اعمال کے ثواب کے امیدوار اللہ سے ہوتے ہیں۔ جس کا ملنا یقینی ہے۔ جیسے کہ اس تفسیر کے شروع میں فضائل قرآن کے ذکر میں ہم نے بیان کیا ہے کہ کلام اللہ شریف اپنے ساتھی سے کہے گا کہ ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے ہے اور تو تو سب کی سب تجارتوں کے پیچھے ہے۔ انہیں ان کے پورے ثواب ملیں گے بلکہ بہت بڑھا چڑھا کر ملیں گے جس کا خیال بھی نہیں۔ اللہ گناہوں کا بخشنے والا اور چھوٹے اور تھوڑے عمل کا بھی قدر دان ہے۔ مطرف رحمتہ اللہ علیہ تو اس آیت کو قاریوں کی آیت کہتے تھے۔ مسند کی ایک حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے راضی ہوتا ہے تو اس پر بھلائیوں کی ثناء کرتا ہے جو اس نے کی نہ ہوں اور جب کسی سے ناراض ہوتا ہے تو اسی طرح برائیوں کی۔ ۱؎ [مسند احمد:/338ضعیف] لیکن یہ حدیث بہت ہی غریب ہے۔