تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى:} یعنی یہ سب قیامت کے دن تک چل رہے ہیں، جب قیامت آئے گی تو ان کا چلنا موقوف ہو جائے گا اور یہ نظام باقی نہیں رہے گا۔
➌ { وَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ …:” قِطْمِيْرٍ “} کھجور کی گٹھلی پر باریک سے چھلکے کو کہتے ہیں، یعنی جس کی صفات اوپر بیان ہوئی ہیں حقیقت میں یہ ہے تمھارا سچا پروردگار، جو اکیلا زمین و آسمان کا بادشاہ ہے اور جنھیں تم حاجت روا اور مشکل کُشا سمجھ کر پکارتے ہو وہ بے چارے بادشاہ تو کیا ہوں گے، کھجور کی گٹھلی پر باریک سی جھلی کے مالک بھی نہیں۔ بعض مفسرین نے {” مِنْ دُوْنِهٖ “} سے مراد بت قرار دیے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے سوا جو بھی ہے سب شامل ہیں، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے سید الاولین و الآخرین صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ برملا اعلان کر دیں کہ وہ نہ اپنے لیے کسی نفع یا نقصان کے مالک ہیں، نہ کسی دوسرے کے لیے، پھر کسی اور پیر فقیر کی کیا حیثیت ہے؟ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۸۸) اور سورۂ جنّ (۲۱) اس کی ایک دلیل اگلی آیت کے یہ الفاظ ہیں: «وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ» [فاطر: ۱۴] ”اور قیامت کے دن وہ تمھارے شرک کا انکار کریں گے۔“ ظاہر ہے قیامت کے دن ان کے شرک کا انکار بت نہیں، بلکہ وہ فرشتے، انبیاء اور صالحین کریں گے جن کے وہ بُت بناتے تھے اور جنھیں وہ پکارتے رہے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کا قول نقل فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۱۱۶)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن ذلك أيضاً إيلاجُهُ تعالى الليلَ بالنهارِ والنهارَ بالليلِ؛ يُدْخِلُ هذا على هذا وهذا على هذا، كلما أتى أحدُهما؛ ذهب الآخر، ويزيدُ أحدُهما وينقصُ الآخرُ ويتساويان، فيقوم بذلك ما يقومُ من مصالح العبادِ في أبدانهم وحيواناتهم وأشجارِهم وزُروعهم، وكذلك ما جعل الله في تسخير الشمس والقمر من مصالح الضياء والنورِ والحركة والسكون وانتشار العباد في طلب فضله وما فيهما من تنضيج الثمار وتجفيف ما يجفَّف وغير ذلك مما هو من الضَّرورياتِ التي لو فُقِدَتْ؛ لَلَحِقَ الناسَ الضررُ.
وقوله {كلٌّ يجري لأجل مُسَمًّى}؛ أي: كلٌّ من الشمس والقمر يسيران في فلكهما ما شاء الله أن يسيرا؛ فإذا جاء الأجلُ وقَرُبَ انقضاءُ الدُّنيا؛ انقطع سيرُهما، وتعطَّل سلطانُهما، وخسفَ القمرُ، وكُوِّرَتِ الشمسُ، وانتثرتِ النُّجومُ.
فلما بيَّن تعالى ما بيَّن من هذه المخلوقات العظيمة وما فيها من العبرِ الدالَّة على كماله وإحسانِهِ قال: {ذلكُمُ الله ربُّكم له الملكُ}؛ أي: الذي انفرد بخَلْق هذه المذكورات وتسخيرِها هو الربُّ المألوه المعبودُ الذي له الملكُ كلُّه. {والذين تدعونَ من دونِهِ}: من الأوثان والأصنام، لا يملِكونَ {من قِطْميرٍ}؛ أي: لا يملكون شيئاً لا قليلاً ولا كثيراً، حتى ولا القطمير الذي هو أحقر الأشياء، وهذا من تنصيص النفي وعمومه؛ فكيف يُدْعَوْنَ وهم غير مالكينَ لشيء من ملك السماواتِ والأرض؟!