وَ حِیۡلَ بَیۡنَہُمۡ وَ بَیۡنَ مَا یَشۡتَہُوۡنَ کَمَا فُعِلَ بِاَشۡیَاعِہِمۡ مِّنۡ قَبۡلُ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا فِیۡ شَکٍّ مُّرِیۡبٍ ﴿٪۵۴﴾
اور ان کے درمیان اور ان چیزوں کے درمیان جن کی وہ خواہش کریں گے، رکاوٹ ڈال دی جائے گی، جیسا کہ اس سے پہلے ان جیسے لوگوں کے ساتھ کیا گیا۔ یقینا وہ ایسے شک میں پڑے ہوئے تھے جوبے چین رکھنے والا تھا۔
En
اور ان میں اور ان کی خواہش کی چیزوں میں پردہ حائل کردیا گیا جیسا کہ پہلے ان کے ہم جنسوں سے کیا گیا وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے
En
ان کی چاہتوں اور ان کے درمیان پرده حائل کردیا گیا جیسے کہ اس سے پہلے بھی ان جیسوں کے ساتھ کیا گیا، وه بھی (ان ہی کی طرح) شک وتردد میں (پڑے ہوئے) تھے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 54) ➊ { وَ حِيْلَ بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ …: ”أَشْيَاعٌ“ ”شِيْعَةٌ“} کی جمع ہے، ایک جیسے لوگوں کی جماعت۔{ ” مَا يَشْتَهُوْنَ “} (جس کی وہ خواہش کریں گے) سے مراد توبہ اور ایمان لانا ہے۔ یعنی وہ آخرت میں چاہیں گے کہ ان کا ایمان قبول ہو جائے اور عذاب سے ان کی نجات ہو جائے، مگر ان کے درمیان اور ان کی خواہش کے درمیان رکاوٹ ڈال دی جائے گی، جیسا کہ ان سے پہلے توحید و رسالت اور آخرت کے منکرین کے ساتھ کیا گیا کہ عذاب دیکھنے کے بعد کسی کی توبہ قبول ہوئی نہ ایمان لانا معتبر ہوا، جیسا کہ فرمایا: «فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ فِيْ عِبَادِهٖ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ» [المؤمن: ۸۵] ”پھر یہ نہ تھا کہ ان کا ایمان انھیں فائدہ دیتا، جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔ یہ اللہ کا طریقہ ہے جو اس کے بندوں میں گزر چکا اور اس موقع پر کافر خسارے میں رہے۔“
➋ { اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ: ” مُرِيْبٍ “ ”أَرَابَ يُرِيْبُ إِرَابَةً“} (افعال) سے اسم فاعل ہے، بے چین رکھنے والا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید، اس کے پیغمبروں کی رسالت اور آخرت سے انکار کرنے والوں کے عقائد کی بنیاد علم پر نہیں ہوتی، بلکہ محض وہم و گمان پر ہوتی ہے۔ وہ کبھی دلیل کے ساتھ ثابت نہیں کر سکتے کہ اتنی عظیم کائنات کسی بنانے والے کے بغیر خود بخود بن گئی، یا ان کے بنائے ہوئے معبود فی الواقع اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں شریک ہیں، نہ ہی وہ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی بشر کو اپنا پیغمبر نہیں بنا سکتا، نہ یہ کہ وہ دوبارہ پیدا نہیں ہو سکتے یا قیامت نہیں آ سکتی، وہ خود بھی اس کے متعلق شک میں مبتلا رہتے ہیں اور شک بھی ایسا جو انھیں بے چین رکھتا ہے۔ اگرچہ وہ اپنے بعض مفادات کی بنا پر اپنے شک کا اظہار نہیں کرتے۔
➋ { اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ: ” مُرِيْبٍ “ ”أَرَابَ يُرِيْبُ إِرَابَةً“} (افعال) سے اسم فاعل ہے، بے چین رکھنے والا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید، اس کے پیغمبروں کی رسالت اور آخرت سے انکار کرنے والوں کے عقائد کی بنیاد علم پر نہیں ہوتی، بلکہ محض وہم و گمان پر ہوتی ہے۔ وہ کبھی دلیل کے ساتھ ثابت نہیں کر سکتے کہ اتنی عظیم کائنات کسی بنانے والے کے بغیر خود بخود بن گئی، یا ان کے بنائے ہوئے معبود فی الواقع اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں شریک ہیں، نہ ہی وہ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی بشر کو اپنا پیغمبر نہیں بنا سکتا، نہ یہ کہ وہ دوبارہ پیدا نہیں ہو سکتے یا قیامت نہیں آ سکتی، وہ خود بھی اس کے متعلق شک میں مبتلا رہتے ہیں اور شک بھی ایسا جو انھیں بے چین رکھتا ہے۔ اگرچہ وہ اپنے بعض مفادات کی بنا پر اپنے شک کا اظہار نہیں کرتے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
54۔ 1 یعنی آخرت میں وہ چاہیں گے کہ ان کا ایمان قبول کرلیا جائے، عذاب سے ان کی نجات ہوجائے، لیکن ان کے درمیان اور ان کی اس خواہش کے درمیاں پردہ حائل کردیا گیا یعنی اس خواہش کو رد کردیا گیا۔ 54۔ 2 یعنی پچھلی امتوں کا ایمان بھی اس وقت قبول نہیں کیا گیا جب وہ عذاب کے آنے کے بعد ایمان لائیں۔ 54۔ 1 اس لیے اب معائنہ عذاب کے بعد ان کا ایمان بھی کسی طرح قبول ہوسکتا ہے؟ حضرت قتادہ فرماتے ہیں ریب وشک سے بچو، جو شک کی حالت میں فوت ہوگا اسی حالت میں اٹھے گا اور جو یقین پر مرے گا، قیامت والے دن یقین پر ہی اٹھے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
54۔ اس وقت ان کے اور ان کی خواہش کی چیزوں کے درمیان [79] پردہ حائل کر دیا جائے گا۔ جیسا کہ اس سے پہلے ان کے ہم جنسوں سے یہی سلوک کیا گیا تھا۔ وہ بھی ایسے شک میں پڑے [80] ہوئے تھے جو انہیں بے چین کئے ہوئے تھا۔
[79] اس وقت ان کی خواہشات کیا ہوں گی۔ یہی کہ ہم ایمان لے آئیں یا ہمیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے یا کوئی ایسی صورت بن جائے کہ ہم عذاب سے بچ سکیں یا ہمارے لئے کوئی سفارش کرنے والا یا ہمارا کوئی مددگار ہی اٹھ کھڑا ہو۔ اس دن ان کی اس قسم کی تمام خواہشات کو یوں ختم کر کے انہیں مایوس کر دیا جائے گا جیسے ان کی خواہشات کے آگے بند باندھ کر انہیں ان سے یکسر اوجھل کر دیا گیا ہے۔ پھر انہیں سوائے عذاب بھگتنے کے کوئی دوسرا خیال بھی نہ آسکے گا۔ [80] اشیاع کا لغوی مفہوم :۔
أشیاع شیعہ کی جمع ہے اور شیعہ کے معنی پارٹی یا سیاسی فرقہ ہے۔ جس کی بنیاد عقیدہ کا اختلاف ہو اور شیعہ کی جمع شیعا بھی آتی ہے۔ اور جب اس کی جمع اشیاع آئے تو اس کے معنی ایک ہی جیسی عادات و اطوار رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں خواہ وہ پہلے گزر چکے ہوں یا موجود ہوں۔ اور قریش مکہ کی بنیادی گمراہیاں دو تھیں ایک بت پرستی اور اللہ سے شرک۔ اور اپنے بتوں کو اختیار و تصرف میں اللہ کا شریک سمجھنا دوسرے انکار آخرت۔ اب جو لوگ بھی ان دو قسم کی گمراہیوں میں قریش کے ہمنوا ہوں گے وہ سب قریش کے اشیاع ہیں۔ خواہ وہ قریش سے پہلے گزر چکے ہوں یا بعد میں آئیں۔ اللہ تعالیٰ یہ فرما رہے ہیں کہ اس قسم کے لوگوں کے ان عقائد کی بنیاد علم پر نہیں ہوتی۔ بلکہ محض شکوک و ظنون پر ہوتی ہے۔ وہ یہ کبھی بدلائل ثابت نہیں کر سکتے کہ ان کے معبود فی الواقع اللہ کے اختیارات میں شریک ہیں نہ ہی وہ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ وہ دوبارہ پیدا نہیں کئے جا سکتے یا قیامت نہیں آسکتی۔ وہ خود بھی اس بارے میں ہمیشہ مشکوک ہی رہتے ہیں۔ اور شک بھی ایسا جو انہیں بے چین کئے رکھتا ہے۔ مگر وہ محض اپنے بعض مفادات کی خاطر اپنے ان شکوک کا برملا اظہار نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔