تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ:} یعنی دونوں فریق ایک دوسرے پر الزام تراشی کریں گے، مگر دونوں ہی اپنے اپنے کفر پر نادم ہوں گے، لیکن اپنی پشیمانی اور ندامت کو چھپانے کی کوشش کریں گے۔
➌ {وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِيْۤ اَعْنَاقِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا:} آپس کی بحث سے دونوں فریقوں کو معلوم ہو جائے گا کہ دونوں ہی مجرم ہیں اور ان کی یہ بحث لاحاصل ہے۔ لہٰذا ہم دونوں کو ایک جیسی سزا دیں گے، ان کے گلوں میں طوق اور پاؤں میں لوہے کی زنجیریں ڈال کر انھیں جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
➍ { هَلْ يُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ:} یعنی یہ عذاب ان کے اپنے اعمال ہی کی جزا ہو گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[51] ان دونوں فریقوں کے مکالمہ سے ہر فریق کو معلوم ہو جائے گا کہ دونوں فریق قصور وار ہیں۔ اور یہ مکالمہ محض بحث برائے بحث ہی ہے۔ لہٰذا ہم ان دونوں کو ایک جیسی سزا دیں گے ان کے گلوں میں طوق اور پاؤں میں زنجیریں ڈال کر انھیں جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال {الذين استُضْعِفوا للذينَ استَكْبَروا بلْ مَكْرُ الليل والنهارِ إذْ تأمرونَنا أن نكفُرَ بالله ونجعلَ له أنداداً}؛ أي: بل الذي دهانا منكم ووصل إلينا من إضلالكم ما دبَّرْتُموه من المكر في الليل والنهار؛ إذْ تُحَسِّنون لنا الكفرَ وتدعوننا إليه، وتقولون: إنَّه الحقُّ، وتقدحون في الحقِّ، وتهجِّنونَه وتزعمونَ أنَّه الباطلُ؛ فما زال مكرُكُم بنا وكيدُكُم إيَّانا حتى أغْوَيْتُمونا وفَتَنْتُمونا. فلم تُفِدْ تلك المراجعةُ بينَهم شيئاً إلاَّ تبرِّي بعضِهم من بعضٍ والندامةَ العظيمةَ، ولهذا قال: {وأسرُّوا الندامةَ لما رأوا العذابَ}؛ أي: زال عنهم ذلك الاحتجاج الذي احتجَّ به بعضُهم لينجو من العذاب، وعلم أنَّه ظالمٌ مستحقٌّ له، فندم كلٌّ منهم غاية الندم، وتمنَّى أنْ لو كان على الحقِّ، وأنَّه ترك الباطل الذي أوصله إلى هذا العذاب، سرًّا في أنفسهم؛ لخوفهم من الفضيحة في إقرارهم على أنفسهم! وفي بعض مواقف القيامةِ وعند دخولِهِمُ النارَ يُظْهِرون ذلك الندمَ جهراً: {ويومَ يَعَضُّ الظالمُ على يَدَيْهِ يقولُ يا لَيْتَني اتَّخَذْتُ مع الرسول سَبيلاً. يا وَيْلَتى لَيْتَني لم أتَّخِذْ فُلاناً خليلاً ... } الآيات، {وقالوا لو كُنَّا نَسْمَعُ أو نَعْقِلُ ما كنَّا في أصحابِ السعير. فاعترفوا بذَنْبِهِم فَسُحْقاً لأصحاب السَّعيرِ}. {وجعلنا الأغلال في أعناق الذين كفروا}: يُغَلُّونَ كما يُغَلُّ المسجونُ الذي سيُهانُ في سجنه؛ كما قال تعالى: {إذِ الأغلالُ في أعناقِهِم والسلاسلُ يُسْحَبونَ في الحميم ثم في النارِ يُسْجَرونَ ... } الآيات. {هل يُجْزَوْنَ}: في هذا العذاب والنَّكال وتلك الأغلال الثقال {إلاَّ ما كانوا يَعْمَلونَ}: من الكفر والفسوق والعصيان.