ترجمہ و تفسیر — سورۃ سبأ (34) — آیت 32

قَالَ الَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡا لِلَّذِیۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡۤا اَنَحۡنُ صَدَدۡنٰکُمۡ عَنِ الۡہُدٰی بَعۡدَ اِذۡ جَآءَکُمۡ بَلۡ کُنۡتُمۡ مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿۳۲﴾
وہ لوگ جو بڑے بنے تھے، ان لوگوں سے جو کمزور سمجھے گئے، کہیں گے کیا ہم نے تمھیں ہدایت سے روکا تھا، اس کے بعد کہ وہ تمھارے پاس آئی ؟ بلکہ تم مجرم تھے۔ En
بڑے لوگ کمزوروں سے کہیں گے کہ بھلا ہم نے تم کو ہدایت سے جب وہ تمہارے پاس آچکی تھی روکا تھا؟ (نہیں) بلکہ تم ہی گنہگار تھے
En
یہ بڑے لوگ ان کمزوروں کو جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس ہدایت آچکنے کے بعد ہم نے تمہیں اس سے روکا تھا؟ (نہیں) بلکہ تم (خود) ہی مجرم تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 32) {بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِيْنَ:} بلکہ تم خود مجرم تھے جو عقل اور سمجھ رکھنے کے باوجود محض دنیا کے لالچ میں ہمارے پیچھے چلتے رہے اور ہدایت قبول کرنے سے انکار کرتے رہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

32۔ 1 یعنی ہمارے پاس کون سی طاقت تھی کہ ہم تمہیں ہدایت کے راستے سے روکتے، تم نے خود ہی اس پر غور نہیں کیا اور اپنی خواہشات کی وجہ سے ہی اسے قبول کرنے سے گریزاں رہے، اور آج مجرم ہمیں بنا رہے ہو؟ حالانکہ سب کچھ تم نے خود ہی اپنی مرضی سے کیا، اس لئے مجرم بھی تم خود ہی ہو نہ کہ ہم۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

32۔ اور جو بڑا بنتے تھے وہ کمزور لوگوں کو جواب دیں گے کہ: ”جب تمہارے پاس ہدایت آ گئی تھی تو کیا ہم نے تمہیں اس سے [49] روکا تھا؟ بلکہ تم خود ہی مجرم تھے۔
[49] یعنی انبیاء نے جیسی دعوت ہمیں دی تھی ویسی ہی تمہیں بھی دی تھی۔ ہم نے زبردستی کسی کو بھی ان کی دعوت قبول کرنے سے نہیں روکا تھا۔ اگر تم ایمان لانا چاہتے تو ہم تمہیں کیسے روک سکتے تھے۔ اس کے بجائے حقیقت یہ ہے کہ تم خود بھی انبیاء کی پیش کردہ دعوت اور اس کی پابندیوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے نہ ہی تم ان سختیوں کو برداشت کرنے پر آمادہ تھے جو انبیاء کو ماننے والوں کو پیش آتی تھیں۔ اس لحاظ سے ہم اور تم دونوں ایک جیسے مجرم ہیں۔ اگر کچھ فرق ہے تو یہ صرف یہ کہ ہم نے تمہیں اپنی طرف بلایا۔ اور ہمارا یہ بلانا چونکہ تمہارے اپنے ہی ضمیر کی آواز اور اپنی ہی خواہش نفس کی تکمیل تھی۔ لہٰذا تم نے فوراً ہماری دعوت کو قبول کر لیا۔ اس وقت حقیقت میں تم ہماری پیروی نہیں بلکہ اپنے نفس اور اپنے مفادات کی پیروی کر رہے تھے۔ ورنہ تم لوگ ہم سے تعداد میں بہت زیادہ تھے۔ اگر تم ایمان لانا چاہتے اور اس کام میں مخلص ہوتے تو تم ہمارا بھی ناطقہ بند کر سکتے تھے کیونکہ اکثریت میں تم تھے ہم نہیں تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کافروں کی سرکشی ٭٭
کافروں کی سرکشی اور باطل کی ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ گو قرآن کی حقانیت کی ہزارہا دلیلیں دیکھ لیں لیکن نہیں مانیں گے بلکہ اس سے اگلی کتاب پر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ انہیں اپنے اس قول کا مزہ اس وقت آئے گا جب اللہ کے سامنے جہنم کے کنارے کھڑے کھڑے چھوٹے بڑوں کو بڑے چھوٹوں کو الزام دیں گے۔ ہر ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرائے گا۔ تابعدار اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ تم ہمیں نہ روکتے تو ہم ضرور ایمان لائے ہوئے ہوتے ان کے بزرگ انہیں جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں روکا تھا؟ ہم نے ایک بات کہی تم جانتے تھے کہ یہ سب بےدلیل ہے۔
دوسری جانب سے دلیلوں کی برستی ہوئی بارش تمہاری آنکھوں کے سامنے تھی پھر تم نے اس کی پیروی چھوڑ کر ہماری کیوں مان لی؟ یہ تو تمہاری اپنی بےعقلی تھی۔ تم خود شہوت پرست تھے۔ تمہارے اپنے دل اللہ کی باتوں سے بھاگتے تھے رسولوں کی تابعداری خود تمہاری طبیعتوں پر شاق گزرتی تھی۔ سارا قصور تمہارا اپنا ہی ہے ہمیں کیا الزام دے رہے ہو؟
اپنے بزرگوں کی مان لینے والے یہ بےدلیل انہیں پھر جواب دیں گے کہ تمہاری دن رات کی دھوکے بازیاں، جعل سازیاں، فریب کاریاں ہمیں اطمینان دلاتیں کہ ہمارے افعال اور عقائد ٹھیک ہیں ہم سے بار بار شرک و کفر کے نہ چھوڑنے پرانے دین کے نہ بدلنے باپ دادوں کی روش پر قائم رہنے کو کہنا ہماری کمر تھپکنا۔ ہماے ایمان سے رک جانے کا یہی سبب ہوا۔ تم ہی آ آ کر ہمیں عقلی ڈھکوسلے سنا کر اسلام سے روگرداں کرتے تھے۔ دونوں الزام بھی دیں گے۔ برأت بھی کریں گے لیکن دل میں اپنے کئے پر پچھتا رہے ہوں گے۔ ان سب کے ہاتھوں کو گردن سے ملا کر طوق و زنجیر سے جکڑ دیا جائے گا۔ اب ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا گمراہ کرنے والوں کو بھی اور گمراہ ہونے والوں کو بھی۔ ہر ایک کو پورا پورا عذاب ہو گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جہنمی جب ہنکا کر جہنم کے پاس پہنچائے جائیں گے تو جہنم کے ایک ہی شعلے کی لپٹ سے سارے جسم کا گوشت جھلس کر پیروں پر آ پڑے گا۔ } ۱؎ [میزان:327/2:ضعیف]‏‏‏‏ (‏‏‏‏ابن ابی حاتم)
حسن بن یحییٰ خشنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہنم کے ہر قید خانے، ہر غار، ہر زنجیر، ہر قید، پر جہنمی کا نام لکھا ہوا ہے جب سلیمان درانی رحمہ اللہ کے سامنے یہ بیان ہوا تو آپ بہت روئے اور فرمانے لگے ہائے ہائے پھر کیا حال ہو گا اس کا جس پر یہ سب عذاب جمع ہو جائیں؟۔ پیروں میں بیڑیاں ہوں، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہوں، گردن میں طوق ہوں پھر جہنم کے غار میں دھکیل دیا جائے۔ اللہ تو بچانا پروردگار تو ہمیں سلامت رکھنا۔ «‏‏‏‏اللھم سلم اللھم سلم»