(آیت 30) {قُلْلَّكُمْمِّيْعَادُيَوْمٍلَّاتَسْتَاْخِرُوْنَعَنْهُسَاعَةً …:} یعنی تمھارے لیے اس کا ایک وقت مقرر کیا گیا ہے جس سے تم نہ ایک گھڑی پیچھے رہو گے کہ تمھیں توبہ اور رجوع کی مہلت ملے، نہ ایک گھڑی آگے ہو گے کہ مقرر وقت سے پہلے عذاب آ جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے جتنی مہلت طے کر رکھی ہے وہ پوری ہونے کے بعد ہی عذاب آئے گا، خواہ تم کتنی ہی جلدی مچاتے رہو۔ خلاصہ یہ کہ یہ مت پوچھو کہ وہ وقت کب آئے گا، بلکہ اس کے لیے تیاری کرو۔ مزید دیکھیے سورۂ یونس (۴۹)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
30۔ 1 یعنی اللہ نے قیامت کا دن مقرر کر رکھا ہے جس کا علم صرف اسی کو ہے، تاہم جب وہ وقت مقرر آجائے گا تو ایک ساعت بھی آگے، پیچھے نہیں ہوگا (اِنَّاَجَلَاللّٰہِاِذَاجَآءَلَایُئَوخَّرُ) 71۔ نوح:4)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
30۔ آپ انھیں کہئے کہ تمہارے لئے وعدہ کا ایک دن مقرر ہے۔ تم اس سے ایک گھڑی بھی نہ پیچھے رہ سکو گے [45] اور نہ آگے جا سکو گے۔
[45] یعنی یہ تو اللہ ہی کو معلوم ہے کہ ابھی اس نے کتنے انسان اور پیدا کرنے ہیں۔ جن کا اسی دنیا اور اس نظام کائنات کے تحت امتحان لیا جانے والا ہے۔ اور یہ سب کچھ اس کے پہلے سے طے شدہ سکیم کے مطابق ہو رہا ہے۔ وہ ہو کے رہے گا۔ تمہارے طلب کرنے یا جلدی مچانے سے یا پوچھتے رہنے سے وہ وقت سے پہلے نہیں آسکتا ہاں جب اس کا وقت آگیا تو پھر اس میں تاخیر نا ممکن ہے۔ لہٰذا کرنے کا کام یہ ہے کہ اس دن کے آنے سے پہلے پہلے جو بہتر سے بہتر کام تم اپنے لئے کر سکتے ہو کر لو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔