ترجمہ و تفسیر — سورۃ سبأ (34) — آیت 29

وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۹﴾
اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو؟ En
اور کہتے ہیں اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ (قیامت کا) وعدہ کب وقوع میں آئے گا
En
پوچھتے ہیں کہ وه وعده ہے کب؟ سچے ہو تو بتا دو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 29){ وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ …:} یعنی جس وقت کے متعلق تم نے ابھی کہا ہے کہ ہم سب کو ہمارا رب جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا وہ وقت آخر کب آئے گا؟ ان کے پوچھنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس وقت کا علم ہونے پر وہ اس کے لیے تیاری کرنا چاہتے تھے، بلکہ یہ کہہ کر وہ قیامت کو جھٹلا رہے تھے اور اس کا مذاق اڑا رہے تھے، کیونکہ آخرت پر ایمان رکھنے والے اس کے جلدی لانے کا مطالبہ نہیں کیا کرتے، بلکہ اس سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ شوریٰ (۱۸)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

29۔ 1 یہ بطور مذاق پوچھتے تھے، کیونکہ اس کا وقوع ان کے نزدیک بعید اور ناممکن تھا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ اور یہ لوگ آپ سے کہتے ہیں کہ: ”اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ (قیامت) کب پورا ہو گا؟“

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

تمام اقوام کے لئے نبوت ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہا ہے کہ ہم نے تجھے تمام کائنات کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا» ۱؎ [7-الأعراف:158]‏‏‏‏ یعنی ’ اعلان کر دو کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ ‘
اور آیت میں ہے «تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَا» ۱؎ [25-الفرقان:1]‏‏‏‏ ’ بابرکت ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہاں کو ہوشیار کر دے ‘ یہاں بھی فرمایا کہ اطاعت گزاروں کو بشارت جنت دے اور نافرمانوں کو خبر جہنم۔ لیکن اکثر لوگ اپنی جہالت سے نبی کی نبوت کو نہیں مانتے
جیسے فرمایا «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [12-يوسف:103]‏‏‏‏ ’ گو تو ہر چند چاہے تاہم اکثر لوگ بے ایمان رہیں گے۔ ‘
ایک اور جگہ ارشاد ہوا اگر بڑی جماعت کی بات مانے گا تو وہ خود تجھے راہ راست سے ہٹا دیں گے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت عام لوگوں کی طرف ہے۔ عرب و عجم سب کی طرف سے اللہ کو زیادہ پیارا وہ ہے جو سب سے زیادہ اس کا تابع فرمان ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان والوں اور نبیوں پر غرض سب پر فضیلت دی ہے۔ لوگوں نے اس کی دلیل دریافت کی تو آپ نے فرمایا دیکھو قرآن فرماتا ہے کہ ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا۔ تاکہ وہ اس میں کھلم کھلا تبلیغ کر دے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرماتا ہے کہ ہم نے تجھے عام لوگوں کی طرف اپنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بنا کر بھیجا۔
بخاری و مسلم میں فرمان رسالت مآب ہے کہ { مجھے پانچ صفتیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ مہینہ بھر کی راہ تک میری مدد صرف رعب سے کی گئی ہے۔ میرے لیے ساری زمین مسجد اور پاک بنائی گئی ہے۔ میری امت میں سے جس کسی کو جس جگہ نماز کا وقت آ جائے وہ اسی جگہ نماز پڑھ لے۔ مجھ سے پہلے کسی نبی کے لیے غنیمت کا مال حلال نہ تھا میرے لیے غنیمت حلال کر دی گئی۔ مجھے شفاعت دی گئی۔ ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا۔ اور میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3521]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے { سیاہ و سرخ سب کی طرف میں نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3]‏‏‏‏ یعنی جن و انس، عرب و عجم کی طرف، پھر کافروں کا قیامت کو محال ماننا بیان ہو رہا ہے کہ پوچھتے ہیں قیامت کب آئے گی؟
جیسے اور جگہ ہے بے ایمان تو اس کی جلدی مچا رہے ہیں اور با ایمان اس سے کپکپا رہے ہیں اور اسے حق جانتے ہیں۔ ۱؎ [42-الشورى:18]‏‏‏‏
جواب دیتا ہے کہ تمہارے لیے وعدے کا دن مقرر ہو چکا ہے جس میں تقدیم و تاخیر کمی و زیادتی ناممکن ہے۔ جیسے فرمان ہے «اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [71-نوح:4]‏‏‏‏ اور فرمایا «وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ» ۱؎ [11-هود:104-105]‏‏‏‏ الخ یعنی ’ وہ مقررہ وقت پیچھے ہٹنے کا نہیں۔ تمہیں اس وقت مقررہ وقت تک ڈھیل ہے جب وہ دن آ گیا پھر تو کوئی لب بھی نہ ہلا سکے گا۔ اس دن بعض نیک بخت ہوں گے اور بعض بدبخت۔ ‘

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

انھوں نے جن چیزوں کا مطالبہ کیا تھا ان میں سے ایک عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ تھا جس سے انھیں ڈرایا گیا تھا۔ فرمایا: ﴿وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰؔذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰؔدِقِیْنَ اور کہتے ہیں، اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب وقوع پذیر ہو گا؟ یہ مطالبہ ان کی طرف سے محض ظلم تھا کیونکہ رسول کی صداقت اور اس وعدے کے پورا ہونے کے وقت سے آگاہ کرنے میں کون سا تلازم ہے؟ کیا یہ حق کو ٹھکرانے اور حماقت و سفاہت کے سوا کچھ اور ہے؟ کیا دنیا کے کسی معاملے میں ڈرانے والا کوئی شخص اگر ایسے لوگوں کے پاس آئے جو اس کی صداقت اور خیرخواہی کو جانتے ہیں اور ان کا ایک دشمن بھی ہے جو ان پر حملہ کرنے کے لیے تیار اور اس کے لیے موقع کا متلاشی ہے، تو یہ شخص ان لوگوں کے پاس آ کر کہتا ہے: میں تمھارے دشمن کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ وہ روانہ ہو چکا ہے وہ تمھیں نیست و نابود کرنا چاہتا ہے۔ اگر ان میں سے بعض لوگ کہیں: اگر تو سچا ہے تو ہمیں بتا کہ کس وقت وہ ہمارے پاس پہنچے گا اور اس وقت وہ کہاں ہے؟ کیا یہ سوال کرنے والا شخص عقل مند شمار کیا جائے گا یا اس پر سفاہت اور پاگل پن کا حکم لگایا جائے گا؟
خبر دینے والا سچا یا جھوٹا ہوسکتا ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دشمن کا ارادہ کسی اور طرف کا ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ دشمن اپنا ارادہ ترک کر دے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی مضبوط قلعے میں ہوں جہاں وہ اس دشمن سے اپنی مدافعت کر سکتے ہوں۔ تب وہ اس شخص کو کیوں کر جھٹلا سکتے ہیں جو مخلوق میں سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہے، جو اپنی خبر میں ہر غلطی سے پاک ہے، جو اس آنے والے یقینی عذاب کے بارے میں اپنی خواہش نفس سے کچھ نہیں کہتا، اس عذاب سے بچنے کے لیے کوئی پناہ گاہ ہے نہ اس سے بچانے والا کوئی مددگار ہے۔ کیا اس شخص کی خبر کو محض اس لیے رد کرنا کہ اس عذاب کے وقوع کا وقت نہیں بتایا گیا، سب سے بڑی حماقت نہیں!
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فممَّا اقترحوه استعجالُهم العذابَ الذي أنْذَرَهم به، فقال: {ويقولونَ متى هذا الوعدُ إن كنتُم صادقينَ}: وهذا ظلمٌ منهم؛ فأيُّ ملازمة بين صدقِهِ وبين الإخبار بوقت وقوعِهِ؟! وهل هذا إلاَّ ردٌّ للحقِّ وسفهٌ في العقل؟! أليس النذير في أمرٍ من أحوال الدُّنيا لو جاء قوماً يعلمون صدقَه ونُصحه ولهم عدوٌّ ينتهزُ الفرصة منهم ويعدُّ لهم، فقال لهم: تركتُ عدوَّكم قد سار يريد اجتِياحَكُم واستئصالَكم؛ فلو قال بعضُهم: إن كنتَ صادقاً؛ فأخبِرْنا بأيَّةِ ساعةٍ يصل إلينا؟ وأين مكانَه الآن؟ فهل يعدُّ هذا القائل عاقلاً أم يُحكم بسفهِهِ وجنونِهِ؟! هذا والمخبر يمكن صدقُهُ وكذبُهُ، والعدوُّ قد يبدو له غيرهم وقد تنحلُّ عزيمته، وهم قد يكون بهم مَنَعَةٌ يدافعون بها عن أنفسهم؛ فكيفَ بمن كذَّبَ أصدقَ الخلقِ المعصوم في خبره، الذي لا ينطِقُ عن الهوى بالعذاب اليقين، الذي لا مَدْفَعَ له ولا ناصر منه، أليس ردُّ خبرِهِ بحجَّة عدم بيان وقت وقوعِهِ من أسفه السفه؟!