تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { قُلْ بَلٰى وَ رَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُمْ:} قسم اٹھا کر بات کرنے سے اس بات کی اہمیت اور اس کے واقع ہونے کی تاکید مقصود ہوتی ہے، جس پر قسم اٹھائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بات جتنی شدت سے کی گئی ہو اس کا رد اتنی ہی یا اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ کفار قیامت کا انکار قسمیں اٹھا اٹھا کر کرتے تھے، جیسا کہ اللہ نے ذکر فرمایا: «وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ يَّمُوْتُ» [النحل: ۳۸] ”اور انھوں نے اپنی پکی قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی کہ اللہ اسے نہیں اٹھائے گا جو مر جائے۔“ وہ قیامت کا مذاق بھی اڑاتے تھے اور اسے جلد از جلد لانے کا مطالبہ بھی کرتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ اپنے رب کی قسم کھا کر انھیں بتائیں کہ وہ تم پر ضرور بالضرور آئے گی۔ حافظ ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ آیت ان تین آیات میں سے ایک ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ اپنے رب کی قسم کھا کر بتائیں کہ قیامت ضرور قائم ہو گی۔ ان میں سے ایک سورۂ یونس کی آیت ہے: «وَ يَسْتَنْۢبِـُٔوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ قُلْ اِيْ وَ رَبِّيْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ» [یونس: ۵۳] ”اور وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا یہ سچ ہی ہے؟ تو کہہ ہاں! مجھے اپنے رب کی قسم! یقینا یہ ضرور سچ ہے اور تم ہر گز عاجز کرنے والے نہیں ہو۔“ دوسری یہ آیت اور تیسری سورۂ تغابن میں ہے: «زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا قُلْ بَلٰى وَ رَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ» [التغابن: ۷] ”وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا انھوں نے گمان کیا کہ وہ ہرگز اٹھائے نہیں جائیں گے۔ کہہ دے کیوں نہیں؟ میرے رب کی قسم! تم ضرور بالضرور اٹھائے جاؤ گے۔“
➌ {عٰلِمِ الْغَيْبِ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ…: ” عٰلِمِ الْغَيْبِ “ ” رَبِّيْ “} کی صفت ہے۔ {”عَزَبَ يَعْزُبُ“} (ن، ض) غائب ہونا، چھپا رہنا۔ {” وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ …“} میں {” اَصْغَرُ “} اور {” اَكْبَرُ “} پر رفع مبتدا ہونے کی وجہ سے ہے۔ {” اِلَّا “} حرف استثنا ہے اور {” فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ “} خبر ہے۔ {” كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ “} سے مراد لوح محفوظ ہے۔ کتاب کو واضح کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کتابوں میں لکھی ہوئی بات ڈھونڈنا پڑتی ہے، مگر وہ ایسی کتاب ہے جو ہر چیز کو خود ہی واضح کر دیتی ہے۔
➍ قیامت کے منکروں کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی اور ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہو گئے اور ہماری خاک کے ذرّات بھی کہاں سے کہاں منتشر ہو گئے تو ہم دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان سے کہو، مجھے اپنے اس رب کی قسم ہے جو غیب کو جاننے والا ہے! جس سے ذرہ برابر کوئی چیز بھی چھپی ہوئی نہیں، نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز ہے اور نہ بڑی، مگر اس کے علم میں ہے اور لوح محفوظ میں درج ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مرنے والوں کے ذرّات جہاں بھی ہوں وہ سب سے واقف بھی ہے اور انھیں جمع کرنے اور دوبارہ جوڑنے اور زندہ کرنے پر قادر بھی ہے۔ دیکھیے سورۂ ق (۳، ۴) اور قیامہ (۳، ۴)۔
➎ {” ذَرَّةٍ “} غبار کے اس چھوٹے سے چھوٹے حصے کو کہتے ہیں جو روشنی میں چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ”کہ اس سے چھوٹی ہر چیز بھی کتاب مبین میں ہے“ اس حقیقت کا بیان ہے جو ان آیات کے نزول کے سیکڑوں برس بعد تجربے سے ثابت ہوئی کہ ذرہ (ایٹم) بھی قابل تقسیم ہے اور اس سے چھوٹی بھی بہت سے چیزیں موجود ہیں۔
➏ { وَ لَاۤ اَكْبَرُ:} یہاں ایک سوال ہے کہ یہ کہنے کے بعد کہ ”ذرے سے چھوٹی چیزیں بھی کتاب مبین میں ہیں“ یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ ”اس سے بڑی چیزیں بھی کتاب مبین میں ہیں۔“ جواب اس کا یہ ہے کہ اس کی ضرورت یہ ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ لوح محفوظ میں صرف باریک چیزوں کا علم ہی محفوظ کیا گیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[6] یعنی کائنات کی ہر چھوٹی بڑی، خفیہ اور علانیہ غرض ہر چیز سے اللہ تعالیٰ واقف ہی نہیں بلکہ کائنات میں کوئی بھی چھوٹا یا بڑا پیش آنے والا واقعہ یا حادثہ اس کے پاس پہلے سے لکھا ہوا ہے۔ پھر جب ایسی ذات قیامت کے واقع ہونے کی خبر دے رہی ہے۔ تو پھر اس میں کیا شک و شبہ ہو سکتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تیسری آیت سورۃ التغابن میں «زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۭ وَذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ» ۱؎ [64-التغابن:7] یعنی ’ کفار کا خیال ہے کہ وہ قیامت کے دن اٹھائے نہ جائیں گے۔ تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے ‘
پس یہاں بھی کافروں کا انکار قیامت کا ذکر کر کے اپنے نبی کو ان کے بارے قسمیہ بتا کر پھر اس کی مزید تاکید کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو عالم الغیب ہے جس سے کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں سب اس کے علم میں ہے۔ گو ہڈیاں سڑ گل جائیں ان کے ریزے متفرق ہو جائیں لیکن وہ کہاں ہیں؟ کتنے ہیں؟ سب وہ جانتا ہے وہ ان سب کو جمع کرنے پر قادر ہے۔ جیسے کہ پہلے انہیں پیدا کیا۔ وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ اور تمام چیزیں اس کے پاس اس کی کتاب میں بھی لکھی ہوئی ہیں۔ پھر قیامت کے آنے کی حکمت بیان فرمائی کہ ایمان والوں کو ان کی نیکیوں کا بدلہ ملے گا۔ وہ مغفرت اور رزق کریم سے نوازے جائیں اور جنہوں نے اللہ کی باتوں سے ضد کی، رسولوں کی نہ مانی انہیں بدترین اور سخت سزائیں ہوں۔ نیک کار مومن جزا اور بدکار سزا پائیں گے۔ جیسے فرمایا جہنمی اور جنتی برابر نہیں۔ جنتی کامیاب اور مقصد پانے والے ہیں۔ ۱؎ [59-الحشر:20]
اور آیت میں ہے «اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ» ۱؎ [38-ص:28]، یعنی ’ مومن اور مفسد متقی اور فاجر برابر نہیں۔ ‘
وہ اللہ عزیز ہے یعنی بلند جناب والا بڑی سرکار والا ہے۔ بہت عزت والا ہے پورے غلبے والا ہے نہ اس پر کسی کا بس نہ کسی کا زور۔ ہر چیز اس کے سامنے پست و عاجز۔ وہ قابل تعریف ہے اپنے اقوال و افعال شرع و فعل میں۔ ان تمام میں اس کی ساری مخلوق اس کی ثنا خواں ہے۔ «جل و علا» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لمَّا بيَّن تعالى عظمته بما وصف به نفسه، وكان هذا موجباً لتعظيمه وتقديسه والإيمان به؛ ذكر أنَّ من أصناف الناس طائفةً لم تُقَدِّرْ ربَّها حقَّ قدرِهِ، ولم تعظِّمْه حق عظمته، بل كفروا به وأنكروا قدرتَه على إعادةِ الأموات وقيام الساعة، وعارضوا بذلك رسلَه، فقال: {وقال الذين كفروا}؛ أي: بالله وبرسله وبما جاؤوا به، فقالوا بسبب كفرهم: {لا تَأتينا الساعةُ}؛ أي: ما هي إلاَّ هذه الحياة الدُّنيا نموت ونحيا! فأمر الله رسولَه أنْ يردَّ قولَهم ويُبْطِلَه ويقسِمَ على البعث وأنَّه سيأتيهم، واستدلَّ على ذلك بدليل مَن أقرَّ به؛ لزمه أن يصدِّق بالبعث ضرورةً، وهو علمُه تعالى الواسعُ العامُّ، فقال: {عالم الغيب}؛ أي: الأمور الغائبة عن أبصارنا وعن علمنا؛ فكيف بالشهادة؟! ثم أكَّد علمه فقال: {لا يعزُبُ}؛ أي: لا يغيب عن علمه {مثقالُ ذرَّةٍ في السمواتِ ولا في الأرض}؛ أي: جميع الأشياء بذواتها وأجزائها، حتى أصغر ما يكون من الأجزاء، وهو المثاقيل منها، {ولا أصغر من ذلك ولا أكبر إلاَّ في كتابٍ مبينٍ}؛ أي: قد أحاط به علمُه وجرى به قلمُه وتضمَّنه الكتابُ المبينُ الذي هو اللوحُ المحفوظ.
فالذي لا يخفى عن علمِهِ مثقال الذرة فما دونَه في جميع الأوقات، ويعلم ما تَنْقُصُ الأرضُ من الأموات وما يبقى من أجسادهم؛ قادرٌ على بعثهم من باب أولى، وليس بعثُهم بأعجبَ من هذا العلم المحيط.