قُلۡ لَّا تُسۡـَٔلُوۡنَ عَمَّاۤ اَجۡرَمۡنَا وَ لَا نُسۡـَٔلُ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۵﴾
کہہ دے نہ تم سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا جو ہم نے جرم کیا اور نہ ہم سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا جو تم کرتے ہو۔
En
کہہ دو کہ نہ ہمارے گناہوں کی تم سے پرسش ہوگی اور نہ تمہارے اعمال کی ہم سے پرسش ہوگی
En
کہہ دیجیئے! کہ ہمارے کئے ہوئے گناہوں کی بابت تم سے کوئی سوال نہ کیا جائے گا نہ تمہارے اعمال کی بازپرس ہم سے کی جائے گی
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 25) {قُلْ لَّا تُسْـَٔلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا …:} یہ بھی بحث و مناظرہ میں حکمت و شائستگی برتنے کی تعلیم ہے، یعنی باوجود یہ کہ مسلمان حق پر ہیں اور ان کے اعمال نیک ہیں، مگر انھیں چاہیے کہ مخاطب کو یوں کہہ کر غور و فکر کی دعوت دیں کہ اپنے صغیرہ گناہوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے لیے جرم کا لفظ استعمال کریں اور ان کے کفرو شرک اور کبیرہ گناہوں کے لیے لفظ ”عمل“ استعمال کریں کہ تم سے اس کے بارے میں سوال نہیں ہو گا جو ہم نے جرم کیے اور ہم سے اس کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا جو عمل تم کر رہے ہو۔ اپنے لیے ماضی کا لفظ {” اَجْرَمْنَا “} استعمال کرنے کا حکم دیا اور ان کے لیے مضارع کا لفظ {” تَعْمَلُوْنَ“} استعمال کرنے کا حکم دیا، یعنی فرض کرو ہم مجرم ہیں تو اس کا خمیازہ ہم بھگتیں گے، تم سے اس کی باز پرس نہیں ہو گی اور تمھارا کوئی عمل گرفت کے قابل ہوا تو اس کی بازپرس تم سے ہو گی، ہم سے نہیں۔ لہٰذا ہم میں سے ہر ایک کو اپنا فائدہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ کہیں ہم غلط راستے پر تو نہیں جا رہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا، اس کا مطلب ان سے براء ت کا اظہار ہے، یعنی نہ تم ہمارے ہو نہ ہم تمھارے، بلکہ ہم تمھیں اللہ تعالیٰ کی طرف، اس کی توحید اور اس اکیلے کی عبادت کی طرف دعوت دیتے ہیں، اگر تم قبول کر لو تو تم ہمارے اور ہم تمھارے ہو گئے اور اگر نہ مانو تو ہم تم سے بری ہیں اور تم ہم سے بری ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّيْ عَمَلِيْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ اَنْتُمْ بَرِيْٓـُٔوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِيْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ» [یونس: ۴۱] ” اور اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے میرے لیے میرا عمل ہے اور تمھارے لیے تمھارا عمل، تم اس سے بری ہو جو میں کرتا ہوں اور میں اس سے بری ہوں جو تم کر رہے ہو۔“ اور فرمایا: «قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ (1) لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ (2) وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ (3) وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ (4) وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ (5) لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَ لِيَ دِيْنِ» [الکافرون: ۱ تا ۶] ”کہہ دے اے کافرو! میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ اور نہ میں اس کی عبادت کرنے والا ہوں جس کی عبادت تم نے کی۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔ تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
25۔ آپ ان سے کہئے کہ ہم اگر جرم کریں تو اس کی باز پرس تم سے نہیں ہو گی اور جو کچھ تم کر رہے [40] ہو اس کی ہم سے باز پرس نہیں ہو گی
[40] اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ عقل و فلم ہم سب کو یکساں دیا گیا ہے۔ تم اگر ایک مسلمہ کلیہ سے غلط نتیجہ اخذ کر کے اس پر اپنی زندگی کی راہ استوار کرتے ہو تو اس کے جواب دہ ہم تو نہیں ہو سکتے اور اگر بالفرض ہم غلط نتیجہ نکال کر اس پر عمل پیرا ہو گئے ہیں تو ہمارے متعلق تم سے سوال نہیں ہو گا۔ ہر ایک اپنے اپنے اعمال کا خود جواب دہ اور ذمہ دار ہے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ عزوجل کی صفات ٭٭
اللہ تعالیٰ اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ صرف وہی خالق و رازق ہے اور صرف وہی الوہیت والا ہے۔ جیسے ان لوگوں کو اس کا اقرار ہے کہ آسمان سے بارشیں برسانے والا زمینوں سے اناج اگانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ایسے ہی انہیں یہ بھی مان لینا چاہئے کہ عبادت کے لائق بھی فقط وہی ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ جب ہم تم میں اتنا بڑا اختلاف ہے تو لامحالہ ایک ہدایت پر اور دوسرا ضلالت پر ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ دونوں فریق ہدایت پر ہوں یا دونوں ضلالت پر ہوں۔ ہم موحد ہیں اور توحید کے دلائل کھلم کھلا اور واضح ہم بیان کر چکے ہیں اور تم شرک پر ہو جس کی دلیل تمہارے پاس نہیں۔ پس یقیناً ہم ہدایت پر اور یقیناً تم ضلالت پر ہو۔ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں سے یہی کہا تھا کہ ہم فریقین میں سے ایک ضرور سچا ہے۔ کیونکہ اس قدر تضاد و تباین کے بعد دونوں کا سچا ہونا تو عقلاً محال ہے۔ اس آیت کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ ہم ہی ہدات پر اور تم ضلالت پر ہو، ہمارا تمہارا بالکل کوئی تعلق نہیں۔ ہم تم سے اور تمہارے اعمال سے بری الذمہ ہیں۔ ہاں جس راہ ہم چل رہے ہیں اسی راہ پر تم بھی آ جاؤ تو بیشک تم ہمارے ہو اور ہم تمہارے ہیں ورنہ ہم تم میں کوئی تعلق نہیں۔
اور ایک آیت میں بھی ہے کہ اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرا عمل میرے ساتھ ہے اور تمہارا عمل تمہارے ساتھ ہے، تم میرے اعمال سے چڑتے ہو اور میں تمہارے کرتوت سے بیزار ہوں۔
پھر فرماتا ہے کہ جب ہم تم میں اتنا بڑا اختلاف ہے تو لامحالہ ایک ہدایت پر اور دوسرا ضلالت پر ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ دونوں فریق ہدایت پر ہوں یا دونوں ضلالت پر ہوں۔ ہم موحد ہیں اور توحید کے دلائل کھلم کھلا اور واضح ہم بیان کر چکے ہیں اور تم شرک پر ہو جس کی دلیل تمہارے پاس نہیں۔ پس یقیناً ہم ہدایت پر اور یقیناً تم ضلالت پر ہو۔ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں سے یہی کہا تھا کہ ہم فریقین میں سے ایک ضرور سچا ہے۔ کیونکہ اس قدر تضاد و تباین کے بعد دونوں کا سچا ہونا تو عقلاً محال ہے۔ اس آیت کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ ہم ہی ہدات پر اور تم ضلالت پر ہو، ہمارا تمہارا بالکل کوئی تعلق نہیں۔ ہم تم سے اور تمہارے اعمال سے بری الذمہ ہیں۔ ہاں جس راہ ہم چل رہے ہیں اسی راہ پر تم بھی آ جاؤ تو بیشک تم ہمارے ہو اور ہم تمہارے ہیں ورنہ ہم تم میں کوئی تعلق نہیں۔
اور ایک آیت میں بھی ہے کہ اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرا عمل میرے ساتھ ہے اور تمہارا عمل تمہارے ساتھ ہے، تم میرے اعمال سے چڑتے ہو اور میں تمہارے کرتوت سے بیزار ہوں۔
سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ١ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ٢ وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ٣ وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ ٤ وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ٥ لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ ٦» ۱؎ [109-الكافرون:1] الخ، میں بھی اسی بےتعلقی اور برات کا ذکر ہے، رب العالمین تمام عالم کو میدان قیامت میں اکٹھا کر کے سچے فیصلے کر دے گا۔ نیکوں کو ان کی جزا اور بدوں کو ان کی سزا دے گا۔ اسی دن تمہیں ہماری حقانیت و صداقت معلوم ہو جائے گی۔
جیسے ارشاد ہے «وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:14-16] الخ، ’ قیامت کے دن سب جدا جدا ہو جائیں گے۔ ایماندار جنت کے پاک باغوں میں خوش وقت و فرحان ہوں گے اور ہماری آیتوں اور آخرت کے دن کو جھٹلانے والے، کفر کرنے والے، دوزخ کے گڑھوں میں حیران و پریشان ہوں گے۔ ‘
وہ حاکم و عادل ہے، حقیقت کا پورا علم ہے، تم اپنے ان معبودوں کو ذرا مجھے بھی تو دکھاؤ۔ لیکن کہاں سے ثبوت دے سکو گے۔ جبکہ میرا رب لانظیر، بےشریک اور عدیم المثیل ہے، وہ اکیلا ہے، وہ ذی عزت ہے جس نے سب کو اپنے قبضے میں کر رکھا ہے اور ہر ایک پر غالب آ گیا ہے۔ حکیم ہے اپنے اقوال و افعال میں۔ اس طرح شریعت اور تقدیر میں بھی۔ برکتوں والا بلندیوں والا پاک منزہ اور مشرکوں کی تمام تہمتوں سے الگ ہے۔
جیسے ارشاد ہے «وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:14-16] الخ، ’ قیامت کے دن سب جدا جدا ہو جائیں گے۔ ایماندار جنت کے پاک باغوں میں خوش وقت و فرحان ہوں گے اور ہماری آیتوں اور آخرت کے دن کو جھٹلانے والے، کفر کرنے والے، دوزخ کے گڑھوں میں حیران و پریشان ہوں گے۔ ‘
وہ حاکم و عادل ہے، حقیقت کا پورا علم ہے، تم اپنے ان معبودوں کو ذرا مجھے بھی تو دکھاؤ۔ لیکن کہاں سے ثبوت دے سکو گے۔ جبکہ میرا رب لانظیر، بےشریک اور عدیم المثیل ہے، وہ اکیلا ہے، وہ ذی عزت ہے جس نے سب کو اپنے قبضے میں کر رکھا ہے اور ہر ایک پر غالب آ گیا ہے۔ حکیم ہے اپنے اقوال و افعال میں۔ اس طرح شریعت اور تقدیر میں بھی۔ برکتوں والا بلندیوں والا پاک منزہ اور مشرکوں کی تمام تہمتوں سے الگ ہے۔