تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اِنَّاۤ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى …:} یعنی ہم دو فریق بن چکے ہیں، ایک وہ جو آسمان و زمین میں ایک اللہ ہی کو رزاق مانتے ہیں اور اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ دوسرے وہ جو اس کے ساتھ ایسی ہستیوں کو شریک بناتے ہیں جو نہ کائنات کے ایک ذرے کے مالک ہیں، نہ کسی کا نفع و نقصان یا رزق ان کے اختیار میں ہے، اور ہم دونوں میں سے ایک گروہ یا ہدایت پر ہے یا واضح گمراہی میں مبتلا ہے، تم خود فیصلہ کر لو کہ ہدایت پر کون ہے اور گمراہ کون؟ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس بات میں کوئی شک ہے کہ ایک رب کو رزاق مان کر اسی کی عبادت کرنے والے حق پر ہیں اور ان کے مخالف باطل پر، بلکہ نہایت حکیمانہ طریقے سے دونوں چیزیں مخاطب کے سامنے رکھ کر خود اس سے انصاف طلب کیا گیا ہے، کیونکہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں کہ وہ کہے دونوں گمراہ ہیں، نہ یہ کہ دونوں حق پر ہیں۔ لا محالہ اسے ماننا پڑے گا کہ ہدایت پر وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان کا خالق و رازق ماننے کے بعد عبادت بھی اسی کی کرتا ہے اور وہ شخص یقینا کھلی گمراہی میں ہو گا جو اللہ تعالیٰ کو خالق و رازق تو مانتا ہے، مگر عبادت دوسروں کی کرتا ہے، لہٰذا آپ اپنے منہ سے کہنے کے بجائے کہ مشرک باطل پر ہے، اسے فیصلے کا موقع دے کر اس مقام پر لے آئیں کہ وہ خود کہے کہ ایک اللہ کی عبادت کرنے والا حق پر ہے اور اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والا باطل پر ہے۔
➌ اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ جو جہاں لگا ہوا ہے ٹھیک ہے، یا اپنی جگہ سب لوگ ہی درست ہیں، بلکہ حق ایک ہے اور جو حق پر نہیں وہ باطل پر ہے۔ باہم متضاد باتیں دونوں حق نہیں ہو سکتیں، مثلاً یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ بھی حق ہو کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور یہ بھی حق ہو کہ ہر نشہ آور چیز حرام نہیں۔ نہ ایک مسئلے میں چار متضاد مذہب حق ہو سکتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر فرماتا ہے کہ جب ہم تم میں اتنا بڑا اختلاف ہے تو لامحالہ ایک ہدایت پر اور دوسرا ضلالت پر ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ دونوں فریق ہدایت پر ہوں یا دونوں ضلالت پر ہوں۔ ہم موحد ہیں اور توحید کے دلائل کھلم کھلا اور واضح ہم بیان کر چکے ہیں اور تم شرک پر ہو جس کی دلیل تمہارے پاس نہیں۔ پس یقیناً ہم ہدایت پر اور یقیناً تم ضلالت پر ہو۔ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں سے یہی کہا تھا کہ ہم فریقین میں سے ایک ضرور سچا ہے۔ کیونکہ اس قدر تضاد و تباین کے بعد دونوں کا سچا ہونا تو عقلاً محال ہے۔ اس آیت کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ ہم ہی ہدات پر اور تم ضلالت پر ہو، ہمارا تمہارا بالکل کوئی تعلق نہیں۔ ہم تم سے اور تمہارے اعمال سے بری الذمہ ہیں۔ ہاں جس راہ ہم چل رہے ہیں اسی راہ پر تم بھی آ جاؤ تو بیشک تم ہمارے ہو اور ہم تمہارے ہیں ورنہ ہم تم میں کوئی تعلق نہیں۔
اور ایک آیت میں بھی ہے کہ اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرا عمل میرے ساتھ ہے اور تمہارا عمل تمہارے ساتھ ہے، تم میرے اعمال سے چڑتے ہو اور میں تمہارے کرتوت سے بیزار ہوں۔
جیسے ارشاد ہے «وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:14-16] الخ، ’ قیامت کے دن سب جدا جدا ہو جائیں گے۔ ایماندار جنت کے پاک باغوں میں خوش وقت و فرحان ہوں گے اور ہماری آیتوں اور آخرت کے دن کو جھٹلانے والے، کفر کرنے والے، دوزخ کے گڑھوں میں حیران و پریشان ہوں گے۔ ‘
وہ حاکم و عادل ہے، حقیقت کا پورا علم ہے، تم اپنے ان معبودوں کو ذرا مجھے بھی تو دکھاؤ۔ لیکن کہاں سے ثبوت دے سکو گے۔ جبکہ میرا رب لانظیر، بےشریک اور عدیم المثیل ہے، وہ اکیلا ہے، وہ ذی عزت ہے جس نے سب کو اپنے قبضے میں کر رکھا ہے اور ہر ایک پر غالب آ گیا ہے۔ حکیم ہے اپنے اقوال و افعال میں۔ اس طرح شریعت اور تقدیر میں بھی۔ برکتوں والا بلندیوں والا پاک منزہ اور مشرکوں کی تمام تہمتوں سے الگ ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى نبيَّه محمداً - صلى الله عليه وسلم - أن يقولَ لمن أشركَ بالله ويسألَه عن صحةِ شركِهِ: {من يَرْزُقُكم من السمواتِ والأرضِ}: فإنَّهم لا بدَّ أن يُقرُّوا أنَّه الله، ولئنْ لم يقرُّوا؛ فَـ {قُلِ اللهُ}: فإنَّك لا تجد من يدفعُ هذا القول. فإذا تبيَّن أنَّ الله وحده الذي يرزقُكم من السماواتِ والأرضِ ويُنْزِلُ لكم المطر ويُنْبِتُ لكم النباتَ ويفجِّرُ لكم الأنهارَ ويُطْلِعُ لكم من ثمار الأشجار وجعل لكم الحيواناتِ جميعَها لنفعِكُم ورزقِكُم؛ فلِمَ تعبدون معه من لا يرزُقُكم شيئاً ولا يفيدكم نفعاً؟! وقوله: {وإنا أو إيَّاكم لعلى هدىً أو في ضلال مبينٍ}؛ أي: إحدى الطائفتين منَّا ومنكم على الهدى مستعليةٌ عليه، أو في ضلال بيِّنٍ منغمرةٌ فيه.
وهذا الكلام يقولُه من تبيَّن له الحقُّ واتَّضح له الصوابُ وجَزَمَ بالحقِّ الذي هو عليه وبطلانِ ما عليه خصمُه؛ أي: قد شرحنا من الأدلَّة الواضحة عندنا وعندكم ما به يُعْلَم علماً يقينيًّا لا شكَّ فيه مَن المحقُّ منا ومَن المبطلُ ومَن المهتدي ومن الضالُّ، حتى إنَّه يصير التعيينُ بعد ذلك لا فائدة فيه؛ فإنَّك إذا وازنتَ بين من يدعو إلى عبادة الخالقِ لسائر المخلوقات، المتصرِّفِ فيها بجميع أنواع التصرُّفات، المسدي جميع النعم، الذي رزقهم وأوصل إليهم كلَّ نعمة ودفع عنهم كلَّ نقمة، الذي له الحمدُ كلُّه والملكُ كلُّه وكلُّ أحدٍ من الملائكة فَمَنْ دونهم خاضعون لهيبته متذلِّلون لعظمته، وكلُّ الشفعاء تخافه، لا يشفعُ أحدٌ منهم عنده إلاَّ بإذنِهِ، العليُّ الكبيرُ في ذاتِهِ وأوصافِهِ وأفعالِهِ، الذي له كلُّ كمال وكلُّ جلال وكلُّ جمال وكلُّ حمد وثناء ومجدٍ، يدعو إلى التقرُّب لمن هذا شأنه، وإخلاص العمل له، وينهى عن عبادةِ مَنْ سواه، وبين من يتقرَّب إلى أوثان وأصنام وقبور لا تَخْلُقُ ولا ترزقُ ولا تملكُ لأنفسها ولا لِمَنْ عَبَدَها نفعاً ولا ضرًّا ولا موتاً ولا حياةً ولا نشوراً، بل هي جماداتٌ لا تعقل ولا تسمع دعاء عابديها، ولو سمعتْه؛ ما استجابت لهم، ويوم القيامةِ يكفُرون بشِرْكِهم ويتبرؤون منهم ويتلاعنون بينهم، ليس لهم قِسْطٌ من الملك، ولا شركة فيه ولا إعانة فيه، ولا لهم شفاعةٌ يستقلُّون بها دون الله؛ فهو يدعو من هذا وصفُهُ، ويتقرَّبُ إليه مهما أمكَنَه، ويعادي مَنْ أخلصَ الدين لله ويحاربُهُ، ويكذِّبُ رسل الله الذين جاؤوا بالإخلاص لله وحده؛ تبيَّنَ لك أيُّ الفريقين: المهتدي من الضالِّ والشقيِّ من السعيد، ولم يحتج إلى أن يعينَ لك ذلك؛ لأنَّ وصف الحال أوضح من لسان المقال.