وَ لَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَہٗ ؕ حَتّٰۤی اِذَا فُزِّعَ عَنۡ قُلُوۡبِہِمۡ قَالُوۡا مَاذَا ۙ قَالَ رَبُّکُمۡ ؕ قَالُوا الۡحَقَّ ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡکَبِیۡرُ ﴿۲۳﴾
اور نہ سفارش اس کے ہاں نفع دیتی ہے مگر جس کے لیے وہ اجازت دے، یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں تمھارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ کہتے ہیں حق (فرمایا) اور وہی سب سے بلند، بہت بڑا ہے۔
En
اور خدا کے ہاں (کسی کے لئے) سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لئے جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے اضطراب دور کردیا جائے گا تو کہیں گے تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے۔ (فرشتے) کہیں گے کہ حق (فرمایا ہے) اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے
En
شفاعت (سفارش) بھی اس کے پاس کچھ نفع نہیں دیتی بجز ان کے جن کے لئے اجازت ہوجائے۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے تو پوچھتے ہیں تمہارے پرودگار نے کیا فرمایا؟ جواب دیتے ہیں کہ حق فرمایا اور وه بلند وباﻻ اور بہت بڑا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 23) ➊ { وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ:} مشرکین کہتے تھے کہ ہم اپنے معبودوں کو اس لیے پکارتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے سفارش کر کے ہماری حاجت روائی اور مشکل کُشائی کروا دیتے ہیں۔ (دیکھیے یونس: ۱۸۔ زمر: ۳) یہ اس کا رد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کی سفارش کام نہیں آتی، ہاں، جسے وہ خود اجازت دے اور جس کے حق میں اجازت دے۔{” لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ “} (جس کے لیے وہ اجازت دے) میں یہ دونوں باتیں شامل ہیں۔ ظاہر ہے مشرک کو تو شفاعت کرنے کی جرأت ہی نہ ہو گی، اجازت تو دور کی بات ہے اور نہ ہی کسی کو مشرک کے حق میں سفارش کی اجازت ہو گی، کیونکہ اس پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کر دی ہے۔ (دیکھیے مائدہ: ۷۳) صرف ایمان والوں کے حق میں سفارش ہو گی، مگر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد، حتیٰ کہ فرشتے اور رسول بھی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکیں گے۔ (دیکھیے نجم: ۲۶) سفارش تو دور کی بات ہے، وہاں اجازت کے بغیر کوئی بول بھی نہیں سکے گا۔ (دیکھیے طٰہٰ: ۱۰۹) حتیٰ کہ سید الانبیاء والرسل صلی اللہ علیہ وسلم بھی سفارش کے لیے جائیں گے تو سجدے میں گر جائیں گے، لمبی مدت تک تسبیح و تحمید کے بعد سر اٹھانے اور سفارش کرنے کی اجازت ملے گی تو سفارش کریں گے، جیسا کہ حدیث شفاعت میں معروف ہے۔
➋ {حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ …: ”فَزِعَ يَفْزَعُ“} (س) گھبرا جانا۔ {”فَزَّعَ يُفَزِّعُ“} (تفعیل) گھبراہٹ دور کرنا، خصوصاً جب اس کے ساتھ حرف {”عَنْ“} ہو۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اس سے پہلے جملے {” وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ “} کے ساتھ اس جملے کا کیا تعلق ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ تم جن ہستیوں کو اپنا سفارشی سمجھتے ہو اور کہتے ہو کہ وہ اپنے زور یا دبدبے یا اللہ کا محبوب ہونے کی وجہ سے اپنی بات منوا لیتے ہیں، ان کی کیا بساط ہے کہ اجازت کے بغیر سفارش کی جرأت کر سکیں۔ وہاں تو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے سامنے عرشِ معلی کے فرشتے اور ان کے نیچے آسمان دنیا تک کے فرشتے، جو برابر احکامِ الٰہی سنتے ہیں، ان کا یہ حال ہے کہ جب رب العزت کوئی وحی فرماتا ہے تو وہ سب اس کی ہیبت سے تھر تھرا اٹھتے ہیں، پھر جب اللہ تعالیٰ اس ہیبت کو ان کے دلوں سے ہٹا لیتا ہے تو ہر گروہ اپنے سے اوپر والے سے پوچھتا ہے کہ رب تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے؟ {” قَالُوا الْحَقَّ “} وہ کہتے ہیں، اس نے حق فرمایا ہے۔ {” وَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ “} اور وہی سب سے بلند اور بہت بڑا ہے۔ چنانچہ وہ فرشتے اپنے نیچے والے فرشتوں کو حق تعالیٰ کی وحی کسی کمی بیشی کے بغیر پہنچاتے ہیں۔ پھر جب مقربین ملائکہ کی یہ حالت ہے، جو وحی کے عادی بنا دیے گئے ہیں، تو مشرکین کسی اور سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ بخاری نے اس آیت کی تفسیر میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِذَا قَضَی اللّٰهُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلاَئِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ كَالسِّلْسِلَةِ عَلٰی صَفْوَانٍ، قَالَ عَلِيٌّ وَ قَالَ غَيْرُهُ صَفْوَانٍ يَنْفُذُهُمْ ذٰلِكَ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوْا لِلَّذِيْ قَالَ الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ، فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ، وَ مُسْتَرِقُو السَّمْعِ هٰكَذَا، وَاحِدٌ فَوْقَ آخَرَ وَ وَصَفَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ، وَ فَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدِهِ الْيُمْنٰي، نَصَبَهَا بَعْضَهَا فَوْقَ بَعْضٍ فَرُبَّمَا أَدْرَكَ الشِّهَابُ الْمُسْتَمِعَ، قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ بِهَا إِلٰی صَاحِبِهِ، فَيُحْرِقُهُ وَ رُبَّمَا لَمْ يُدْرِكْهُ حَتّٰی يَرْمِيَ بِهَا إِلَی الَّذِيْ يَلِيْهِ إِلَی الَّذِيْ هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ حَتّٰی يُلْقُوْهَا إِلَی الْأَرْضِ، وَ رُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ حَتّٰہ تَنْتَهِيَ إِلَی الْأَرْضِ فَتُلْقٰی عَلٰی فَمِ السَّاحِرِ، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ فَيُصَدَّقُ، فَيَقُوْلُوْنَ أَلَمْ يُخْبِرْنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا يَكُوْنُ كَذَا وَكَذَا؟ فَوَجَدْنَاهُ حَقًّا، لِلْكَلِمَةِ الَّتِيْ سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «إلا من استرق السمع…» : ۴۷۰۱] ”جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان کے سامنے عاجزی اختیار کرتے ہوئے اپنے پر پھڑ پھڑاتے ہیں۔ (انھیں اللہ کا فرمان اس طرح سنائی دیتا ہے) جیسے وہ صاف چکنے پتھر پر زنجیر کی آواز ہو، تو جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کی جاتی ہے تو وہ (آپس میں) پوچھتے ہیں: ”تمھارے رب نے کیا فرمایا؟“ وہ کہتے ہیں: ”اس نے حق فرمایا اور وہی سب سے بلند، بہت بڑا ہے۔“ اس گفتگو کو چوری سننے والے شیاطین بھی سن لیتے ہیں، جو اس طرح ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں۔“ حدیث کے راوی سفیان نے اس کیفیت کو بیان کرنے کے لیے اپنے ہاتھ کو کنارے کے رخ کیا اور انگلیوں کو کھول دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو وہ شیطان وہ بات سن لیتا ہے اور اپنے سے نیچے والے شیطان کو بتا دیتا ہے (یہ سلسلہ نیچے تک چلتا ہے)، یہاں تک کہ سب سے نیچے والا وہ بات کسی جادوگر یا کاہن کو پہنچا دیتا ہے، پھر کبھی اس سے پہلے کہ وہ نیچے والے کو بات پہنچائے اسے آگ کا انگارا آ دبوچتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے اور کبھی اس کے لگنے سے پہلے وہ اس بات کو آگے پہنچا دیتا ہے، تو وہ (جادوگر یا کاہن) اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا دیتا ہے، تو (جب آسمان سے سنی ہوئی بات صحیح ہو جاتی ہے تو اس کے ماننے والوں کی طرف سے) کہا جاتا ہے کہ کیا فلاں فلاں دن اس (جادو گر یا کاہن) نے ہمیں اس طرح نہیں کہا تھا؟ تو اس ایک بات کی وجہ سے جو شیطان نے آسمان سے سنی تھی کاہن یا ساحر کی بات کو سچا سمجھ لیا جاتا ہے۔“
➋ {حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ …: ”فَزِعَ يَفْزَعُ“} (س) گھبرا جانا۔ {”فَزَّعَ يُفَزِّعُ“} (تفعیل) گھبراہٹ دور کرنا، خصوصاً جب اس کے ساتھ حرف {”عَنْ“} ہو۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اس سے پہلے جملے {” وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ “} کے ساتھ اس جملے کا کیا تعلق ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ تم جن ہستیوں کو اپنا سفارشی سمجھتے ہو اور کہتے ہو کہ وہ اپنے زور یا دبدبے یا اللہ کا محبوب ہونے کی وجہ سے اپنی بات منوا لیتے ہیں، ان کی کیا بساط ہے کہ اجازت کے بغیر سفارش کی جرأت کر سکیں۔ وہاں تو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے سامنے عرشِ معلی کے فرشتے اور ان کے نیچے آسمان دنیا تک کے فرشتے، جو برابر احکامِ الٰہی سنتے ہیں، ان کا یہ حال ہے کہ جب رب العزت کوئی وحی فرماتا ہے تو وہ سب اس کی ہیبت سے تھر تھرا اٹھتے ہیں، پھر جب اللہ تعالیٰ اس ہیبت کو ان کے دلوں سے ہٹا لیتا ہے تو ہر گروہ اپنے سے اوپر والے سے پوچھتا ہے کہ رب تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے؟ {” قَالُوا الْحَقَّ “} وہ کہتے ہیں، اس نے حق فرمایا ہے۔ {” وَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ “} اور وہی سب سے بلند اور بہت بڑا ہے۔ چنانچہ وہ فرشتے اپنے نیچے والے فرشتوں کو حق تعالیٰ کی وحی کسی کمی بیشی کے بغیر پہنچاتے ہیں۔ پھر جب مقربین ملائکہ کی یہ حالت ہے، جو وحی کے عادی بنا دیے گئے ہیں، تو مشرکین کسی اور سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ بخاری نے اس آیت کی تفسیر میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِذَا قَضَی اللّٰهُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلاَئِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ كَالسِّلْسِلَةِ عَلٰی صَفْوَانٍ، قَالَ عَلِيٌّ وَ قَالَ غَيْرُهُ صَفْوَانٍ يَنْفُذُهُمْ ذٰلِكَ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوْا لِلَّذِيْ قَالَ الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ، فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ، وَ مُسْتَرِقُو السَّمْعِ هٰكَذَا، وَاحِدٌ فَوْقَ آخَرَ وَ وَصَفَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ، وَ فَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدِهِ الْيُمْنٰي، نَصَبَهَا بَعْضَهَا فَوْقَ بَعْضٍ فَرُبَّمَا أَدْرَكَ الشِّهَابُ الْمُسْتَمِعَ، قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ بِهَا إِلٰی صَاحِبِهِ، فَيُحْرِقُهُ وَ رُبَّمَا لَمْ يُدْرِكْهُ حَتّٰی يَرْمِيَ بِهَا إِلَی الَّذِيْ يَلِيْهِ إِلَی الَّذِيْ هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ حَتّٰی يُلْقُوْهَا إِلَی الْأَرْضِ، وَ رُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ حَتّٰہ تَنْتَهِيَ إِلَی الْأَرْضِ فَتُلْقٰی عَلٰی فَمِ السَّاحِرِ، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ فَيُصَدَّقُ، فَيَقُوْلُوْنَ أَلَمْ يُخْبِرْنَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا يَكُوْنُ كَذَا وَكَذَا؟ فَوَجَدْنَاهُ حَقًّا، لِلْكَلِمَةِ الَّتِيْ سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «إلا من استرق السمع…» : ۴۷۰۱] ”جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان کے سامنے عاجزی اختیار کرتے ہوئے اپنے پر پھڑ پھڑاتے ہیں۔ (انھیں اللہ کا فرمان اس طرح سنائی دیتا ہے) جیسے وہ صاف چکنے پتھر پر زنجیر کی آواز ہو، تو جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کی جاتی ہے تو وہ (آپس میں) پوچھتے ہیں: ”تمھارے رب نے کیا فرمایا؟“ وہ کہتے ہیں: ”اس نے حق فرمایا اور وہی سب سے بلند، بہت بڑا ہے۔“ اس گفتگو کو چوری سننے والے شیاطین بھی سن لیتے ہیں، جو اس طرح ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں۔“ حدیث کے راوی سفیان نے اس کیفیت کو بیان کرنے کے لیے اپنے ہاتھ کو کنارے کے رخ کیا اور انگلیوں کو کھول دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو وہ شیطان وہ بات سن لیتا ہے اور اپنے سے نیچے والے شیطان کو بتا دیتا ہے (یہ سلسلہ نیچے تک چلتا ہے)، یہاں تک کہ سب سے نیچے والا وہ بات کسی جادوگر یا کاہن کو پہنچا دیتا ہے، پھر کبھی اس سے پہلے کہ وہ نیچے والے کو بات پہنچائے اسے آگ کا انگارا آ دبوچتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے اور کبھی اس کے لگنے سے پہلے وہ اس بات کو آگے پہنچا دیتا ہے، تو وہ (جادوگر یا کاہن) اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا دیتا ہے، تو (جب آسمان سے سنی ہوئی بات صحیح ہو جاتی ہے تو اس کے ماننے والوں کی طرف سے) کہا جاتا ہے کہ کیا فلاں فلاں دن اس (جادو گر یا کاہن) نے ہمیں اس طرح نہیں کہا تھا؟ تو اس ایک بات کی وجہ سے جو شیطان نے آسمان سے سنی تھی کاہن یا ساحر کی بات کو سچا سمجھ لیا جاتا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
23۔ 1 ' جن کے لئے اجازت ہوجائے ' کا مطلب ہے انبیاء اور ملائکہ وغیرہ یعنی یہی سفارش کرسکیں گے، کوئی اور نہیں۔ اس لئے کہ کسی اور کی سفارش فائدے مند ہوگی، نہ انھیں اجازت ہی ہوگی۔ دوسرا مطلب ہے۔ مستحقین شفاعت۔ یعنی انبیاء (علیہم السلام) و ملائکہ اور صالحین صرف انھیں کے حق میں سفارش کرسکیں گے جو مستحقین شفاعت ہوں گے کیونکہ اللہ کی طرف سے انھیں کے حق میں سفارش کرنے کی اجازت ہوگی، کسی اور کے لئے نہیں (فتح القدیر) مطلب یہ ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) ملائکہ اور صالحین کے علاوہ وہاں کوئی سفارش نہیں کرسکے گا اور یہ حضرات بھی سفارش اہل ایمان گناہ گاروں کے لیے ہی کرسکیں گے کافر و مشرک اور اللہ کے باغیوں کے لیے نہیں قرآن کریم نے دوسرے مقام پر ان دونوں نکتوں کی وضاحت فرمادی ہے۔ (مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ) 2۔ البقرۃ:255) (وَلَا يَشْفَعُوْنَ ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى) 21۔ الانبیاء:28)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
23۔ اس کے ہاں صرف اس کی سفارش فائدہ دے سکتی ہے جس کے لئے وہ خود اجازت دے [37]۔ حتیٰ کہ جب لوگوں کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو گی تو وہ پوچھیں گے کہ ”تمہارے [38] پروردگار نے کیا جواب دیا؟“ وہ کہیں گے کہ ٹھیک جواب ملا ہے۔ اور وہ عالی شان اور سب سے بڑا ہے۔
[37] اللہ کے ہاں سفارش کا ضابطہ:۔
اکثر مشرکوں کا اپنے معبودوں کے متعلق یہ عقیدہ بھی پایا جاتا ہے کہ وہ بڑے خدا یعنی اللہ کے ہاں ان کی سفارش کرتے ہیں اگرچہ کام بنانے والا اللہ ہی ہوتا ہے۔ ہمارے یہ معبود یا بزرگ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کر کے ہمارے کام اللہ سے کروانے کا سبب ہوتے ہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ نے سفارش کے متعلق بھی اپنا ضابطہ بیان فرما دیا۔ اور یہ ضابطہ پہلے قرآن میں متعدد بار گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ کہ:
(1) اللہ کے ہاں سفارش وہی شخص کر سکے گا، جس کو اللہ کی طرف سے اجازت ملے گی۔ یہ کیا معلوم کہ جسے تم نے سفارشی سمجھ رکھا ہے۔ اسے اجازت بھی ملتی ہے یا نہیں۔
(2) اس شخص کے حق میں سفارش کی جا سکے گی، جس کے متعلق اللہ چاہے اور تمہیں یہ کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ تمہارے حق میں اللہ کی طرف سے سفارش کی اجازت کسی کو ملتی ہے یا نہیں؟
(3) اور صرف اس گناہ کی مغفرت کی سفارش کی جا سکتی ہے جس کے متعلق اللہ چاہے۔ یہ قید سفارش کے تصور کو اور بھی محدود بنا دیتی ہے۔ پھر تم کس خیال میں ان معبودوں یا بزرگوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہو۔ بروقت اپنی فکر خود کر لو اور کسی کی سفارش پر تکیہ مت رکھو۔
(1) اللہ کے ہاں سفارش وہی شخص کر سکے گا، جس کو اللہ کی طرف سے اجازت ملے گی۔ یہ کیا معلوم کہ جسے تم نے سفارشی سمجھ رکھا ہے۔ اسے اجازت بھی ملتی ہے یا نہیں۔
(2) اس شخص کے حق میں سفارش کی جا سکے گی، جس کے متعلق اللہ چاہے اور تمہیں یہ کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ تمہارے حق میں اللہ کی طرف سے سفارش کی اجازت کسی کو ملتی ہے یا نہیں؟
(3) اور صرف اس گناہ کی مغفرت کی سفارش کی جا سکتی ہے جس کے متعلق اللہ چاہے۔ یہ قید سفارش کے تصور کو اور بھی محدود بنا دیتی ہے۔ پھر تم کس خیال میں ان معبودوں یا بزرگوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہو۔ بروقت اپنی فکر خود کر لو اور کسی کی سفارش پر تکیہ مت رکھو۔
[38] اللہ تعالیٰ کا جلال اور دہشت:۔
تم اللہ کے ہاں سفارش کی بات کرتے ہو جس کی جلالت اور عظمت شان کا یہ حال ہے کہ جب اس کی طرف سے کوئی حکم نازل ہوتا ہے تو اس کے پاس رہنے والے مقرب فرشتے تھر تھر کانپنے لگتے ہیں اور گھبرا جاتے ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے لئے از راہ عاجزی اپنے پر مارتے ہیں اور ایسی آواز آتی ہے جیسے کسی زنجیر کو صاف پتھر پر کھینچنے سے آتی ہے۔ پھر جب انھیں ہوش آتا ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتا ہے تمہارے پروردگار نے کیا کہا۔ دوسرا کہتا ہے کہ جو کہا درست کہا اور وہ بزرگ و برتر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور شیطان زمین اور آسمان کے درمیان ایک دوسرے کے اوپر جمع ہو جاتے ہیں (تاکہ آسمانی خبریں چرا سکیں) [ترمذي۔ كتاب التفسير]
ایسے جاہ و جلال والے اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کو یہ جرات ہو سکتی ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کر سکے۔ اور تم لوگ کس قسم کی خوش فہمیوں میں مبتلا ہو؟ محدثین اس حدیث کو اس آیت کی تفسیر میں اس لئے لائے ہیں کہ اہل عرب میں سے ایک گروہ فرشتوں کو کارگاہ عالم میں متصرف سمجھ کر ان کی پوجا کرتا تھا اور جو لوگ ان میں سے آخرت کے کسی حد تک قائل تھے وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر قیامت کو باز پرس ہوئی بھی تو یہ فرشتے اللہ کے ہاں ہماری سفارش کر کے ہمیں چھڑا لیں گے۔ اور بعض مفسرین نے اس آیت کو ان مشائخ اور پیروں سے متعلق کیا ہے جو اپنے مریدوں کو شفاعت کر کے چھڑا لینے کے وعدے کرتے اور کسی نہ کسی پیر کے دامن سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔ یعنی کیا شافع اور کیا مشفوع دونوں قیامت کے دن کی گھبراہٹ سے سخت گھبرائے ہوئے ہوں گے اور دونوں اس انتظار میں ہوں گے کہ شفاعت کرنے کی اجازت ملتی بھی ہے یا نہیں۔ پھر اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے شافع کو شفاعت کی اجازت مل جائے تو اس کی گھبراہٹ کسی حد تک دور ہو جاتی ہے جس کو مشفوع بھانپ کر اس سے پوچھتا ہے کہ کیا جواب ملا تو شافع کہتا ہے کہ معاملہ ٹھیک ہے اجازت مل گئی ہے تو اس وقت مشفوع کی جان میں جان آتی ہے۔ اس میں شافع اور مشفوع دونوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ تم نے شفاعت سے متعلق جس قسم کا تصور باندھ رکھا ہے وہ قطعاً غلط ہے۔ اللہ کی بارگاہ اتنی عالی مرتبت اور بڑی ہے کہ وہاں اللہ کی اجازت کے بغیر نہ مقرب فرشتوں کو دم مارنے کی ہمت ہوتی ہے اور نہ کسی اور بڑی شخصیت کو۔ کسی کو یوں کہنے کی ہمت نہ ہو گی کہ وہ اللہ تعالیٰ سے یوں کہہ سکے کہ یہ تو میرے دامن سے وابستہ ہے۔ لہٰذا اسے بخشنا ہی پڑے گا۔ کیونکہ شافع کو تو اپنی بھی خبر نہیں کہ اس کا کیا حال ہو گا وہ بھلا دوسروں کی ذمہ داری کیسے لے سکتا ہے۔
ایسے جاہ و جلال والے اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کو یہ جرات ہو سکتی ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کر سکے۔ اور تم لوگ کس قسم کی خوش فہمیوں میں مبتلا ہو؟ محدثین اس حدیث کو اس آیت کی تفسیر میں اس لئے لائے ہیں کہ اہل عرب میں سے ایک گروہ فرشتوں کو کارگاہ عالم میں متصرف سمجھ کر ان کی پوجا کرتا تھا اور جو لوگ ان میں سے آخرت کے کسی حد تک قائل تھے وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر قیامت کو باز پرس ہوئی بھی تو یہ فرشتے اللہ کے ہاں ہماری سفارش کر کے ہمیں چھڑا لیں گے۔ اور بعض مفسرین نے اس آیت کو ان مشائخ اور پیروں سے متعلق کیا ہے جو اپنے مریدوں کو شفاعت کر کے چھڑا لینے کے وعدے کرتے اور کسی نہ کسی پیر کے دامن سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔ یعنی کیا شافع اور کیا مشفوع دونوں قیامت کے دن کی گھبراہٹ سے سخت گھبرائے ہوئے ہوں گے اور دونوں اس انتظار میں ہوں گے کہ شفاعت کرنے کی اجازت ملتی بھی ہے یا نہیں۔ پھر اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے شافع کو شفاعت کی اجازت مل جائے تو اس کی گھبراہٹ کسی حد تک دور ہو جاتی ہے جس کو مشفوع بھانپ کر اس سے پوچھتا ہے کہ کیا جواب ملا تو شافع کہتا ہے کہ معاملہ ٹھیک ہے اجازت مل گئی ہے تو اس وقت مشفوع کی جان میں جان آتی ہے۔ اس میں شافع اور مشفوع دونوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ تم نے شفاعت سے متعلق جس قسم کا تصور باندھ رکھا ہے وہ قطعاً غلط ہے۔ اللہ کی بارگاہ اتنی عالی مرتبت اور بڑی ہے کہ وہاں اللہ کی اجازت کے بغیر نہ مقرب فرشتوں کو دم مارنے کی ہمت ہوتی ہے اور نہ کسی اور بڑی شخصیت کو۔ کسی کو یوں کہنے کی ہمت نہ ہو گی کہ وہ اللہ تعالیٰ سے یوں کہہ سکے کہ یہ تو میرے دامن سے وابستہ ہے۔ لہٰذا اسے بخشنا ہی پڑے گا۔ کیونکہ شافع کو تو اپنی بھی خبر نہیں کہ اس کا کیا حال ہو گا وہ بھلا دوسروں کی ذمہ داری کیسے لے سکتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی ٭٭
اس کی عظمت و کبریائی عزت و بڑائی ایسی ہے کہ بغیر اس کی اجازت کے کسی کی جرات نہیں کہ اس کے سامنے کسی کی سفارش کے لیے بھی لب ہلا سکے۔
جیسے فرمان ہے «مَن ذَا الَّذي يَشفَعُ عِندَهُ إِلّا بِإِذنِهِ» ۱؎ [2-البقرة:255] ’ کون ہے؟ جو اس کے سامنے کسی کی شفاعت بغیر اس کی رضا مندی کے بغیر کر سکے ‘
اور آیت میں ہے «وَكَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِي السَّمٰوٰتِ لَا تُغْـنِيْ شَفَاعَتُهُمْ شَـيْــــًٔا اِلَّا مِنْ بَعْدِ اَنْ يَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ يَّشَاءُ وَيَرْضٰى» ۱؎ [53-النجم:26] الخ، یعنی ’ آسمانوں کے کل فرشتے بھی اس کے سامنے کسی کی سفارش کے لیے لب ہلا نہیں سکتے مگر جس کے لیے اللہ اپنی رضا مندی سے اجازت دے دے۔ ‘
ایک اور جگہ فرمان ہے «وَلَا يَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَهُمْ مِّنْ خَشْيَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:28] الخ، ’ وہ لوگ صرف ان کی شفاعت کر سکتے ہیں جن کے لیے اللہ کی رضا مندی ہو وہ تو خود ہی اس کے خوف سے تھرا رہے ہیں۔ ‘
تمام اولاد آدم کے سردار سب سے بڑے شفیع اور سفارشی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی قیامت کے دن مقام محمود میں شفاعت کے لیے تشریف لے جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ آئے اور مخلوق کے فیصلے کرے اس وقت کی نسبت آپ فرماتے ہیں { میں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑوں گا اللہ ہی جانتا ہے کہ کب تک سجدے میں پڑا رہوں گا اس سجدے میں اس قدر اپنے رب کی تعریفیں بیان کروں گا۔ کہ اس وقت تو وہ الفاظ بھی مجھے معلوم نہیں۔ پھر مجھ سے کہا جائے گا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنا سر اٹھایئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بات کیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی جائے گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مانگئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جائے گا۔ آپ شفاعت کیجئے قبول کی جائے گی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:7410]
جیسے فرمان ہے «مَن ذَا الَّذي يَشفَعُ عِندَهُ إِلّا بِإِذنِهِ» ۱؎ [2-البقرة:255] ’ کون ہے؟ جو اس کے سامنے کسی کی شفاعت بغیر اس کی رضا مندی کے بغیر کر سکے ‘
اور آیت میں ہے «وَكَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِي السَّمٰوٰتِ لَا تُغْـنِيْ شَفَاعَتُهُمْ شَـيْــــًٔا اِلَّا مِنْ بَعْدِ اَنْ يَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ يَّشَاءُ وَيَرْضٰى» ۱؎ [53-النجم:26] الخ، یعنی ’ آسمانوں کے کل فرشتے بھی اس کے سامنے کسی کی سفارش کے لیے لب ہلا نہیں سکتے مگر جس کے لیے اللہ اپنی رضا مندی سے اجازت دے دے۔ ‘
ایک اور جگہ فرمان ہے «وَلَا يَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَهُمْ مِّنْ خَشْيَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:28] الخ، ’ وہ لوگ صرف ان کی شفاعت کر سکتے ہیں جن کے لیے اللہ کی رضا مندی ہو وہ تو خود ہی اس کے خوف سے تھرا رہے ہیں۔ ‘
تمام اولاد آدم کے سردار سب سے بڑے شفیع اور سفارشی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی قیامت کے دن مقام محمود میں شفاعت کے لیے تشریف لے جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ آئے اور مخلوق کے فیصلے کرے اس وقت کی نسبت آپ فرماتے ہیں { میں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑوں گا اللہ ہی جانتا ہے کہ کب تک سجدے میں پڑا رہوں گا اس سجدے میں اس قدر اپنے رب کی تعریفیں بیان کروں گا۔ کہ اس وقت تو وہ الفاظ بھی مجھے معلوم نہیں۔ پھر مجھ سے کہا جائے گا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنا سر اٹھایئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بات کیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی جائے گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مانگئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جائے گا۔ آپ شفاعت کیجئے قبول کی جائے گی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:7410]
رب کی عظمت کا ایک مقام بیان ہو رہا ہے کہ جب وہ اپنی وحی میں کلام کرتا ہے اور آسمانوں کے مقرب فرشتے اسے سنتے ہیں تو ہیبت سے کانپ اٹھتے ہیں اور غشی والے کی طرح ہو جاتے ہیں جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ ہٹ جاتی ہے۔
«فزع» کی دوسری قرأت «فزغ» بھی آئی ہے مطلب دونوں کا ایک ہے۔ تو اب آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کرتے ہیں کہ اس وقت رب کا کیا حکم نازل ہوا؟ پس اہل عرش اپنے پاس والوں کو وہ اپنے پاس والوں کو یونہی درجہ بدرجہ حکم پہنچا دیتے ہیں۔ بلا کم و کاست ٹھیک ٹھیک اسی طرح پہنچا دیتے ہیں۔
ایک مطلب اس آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جب سکرات کا وقت آتا ہے۔ اس وقت مشرک یہ کہتے ہیں اور قیامت کے دن بھی جب اپنی غفلت سے چونکیں گے اور ہوش و حواس قائم ہو جائیں گے اس وقت یہ کہیں گے کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ جواب ملے گا کہ حق فرمایا، حق فرمایا اور جس چیز سے دنیا میں بےفکر تھے آج اس کے سامنے پیش کر دی جائے گی۔ تو دلوں سے گھبراہٹ دور کئے جانے کے یہ معنی ہوئے کہ جب آنکھوں پر سے پردہ اٹھا دیا جائے گا اس وقت سب شک و تکذیب الگ ہو جائیں گے۔ شیطانی وساوس دور ہو جائیں گے اس وقت رب کے وعدوں کی حقانیت تسلیم کریں گے اور اس کی بلندی اور بڑائی کے قائل ہوں گے۔ پس نہ تو موت کے وقت کا اقرار نفع دے نہ قیامت کے میدان کا اقرار فائدہ پہنچائے لیکن امام ابن جریر رحمہ اللہ کے نزدیک پہلی تفسیر ہی راجح ہے یعنی مراد اس سے فرشتے ہیں۔ اور یہی ٹھیک ہے اور اس کی تائید احادیث و آثار سے بھی ہوتی ہے۔
«فزع» کی دوسری قرأت «فزغ» بھی آئی ہے مطلب دونوں کا ایک ہے۔ تو اب آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کرتے ہیں کہ اس وقت رب کا کیا حکم نازل ہوا؟ پس اہل عرش اپنے پاس والوں کو وہ اپنے پاس والوں کو یونہی درجہ بدرجہ حکم پہنچا دیتے ہیں۔ بلا کم و کاست ٹھیک ٹھیک اسی طرح پہنچا دیتے ہیں۔
ایک مطلب اس آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جب سکرات کا وقت آتا ہے۔ اس وقت مشرک یہ کہتے ہیں اور قیامت کے دن بھی جب اپنی غفلت سے چونکیں گے اور ہوش و حواس قائم ہو جائیں گے اس وقت یہ کہیں گے کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ جواب ملے گا کہ حق فرمایا، حق فرمایا اور جس چیز سے دنیا میں بےفکر تھے آج اس کے سامنے پیش کر دی جائے گی۔ تو دلوں سے گھبراہٹ دور کئے جانے کے یہ معنی ہوئے کہ جب آنکھوں پر سے پردہ اٹھا دیا جائے گا اس وقت سب شک و تکذیب الگ ہو جائیں گے۔ شیطانی وساوس دور ہو جائیں گے اس وقت رب کے وعدوں کی حقانیت تسلیم کریں گے اور اس کی بلندی اور بڑائی کے قائل ہوں گے۔ پس نہ تو موت کے وقت کا اقرار نفع دے نہ قیامت کے میدان کا اقرار فائدہ پہنچائے لیکن امام ابن جریر رحمہ اللہ کے نزدیک پہلی تفسیر ہی راجح ہے یعنی مراد اس سے فرشتے ہیں۔ اور یہی ٹھیک ہے اور اس کی تائید احادیث و آثار سے بھی ہوتی ہے۔
صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ کسی امر کا فیصلہ آسمان میں کرتا ہے تو فرشتے عاجزی کے ساتھ اپنے پر جھکا لیتے ہیں اور رب کا کلام ایسا واقع ہوتا ہے جیسے اس زنجیر کی آواز جو پتھر پر بجائی جاتی ہو جب ہیبت کم ہو جاتی ہے۔ تو پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے اس وقت کیا فرمایا؟ جواب ملتا ہے کہ جو فرمایا حق ہے اور وہ اعلی و کبیر ہے۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ جو جنات فرشتوں کی باتیں سننے کی غرض سے گئے ہوئے ہیں اور جو تہہ بہ تہہ ایک دوسروں کے اوپر ہیں وہ کوئی کلمہ سن لیتے ہیں اوپر والا نیچے والے کو وہ اپنے سے نیچے والے کو سنا دیتا ہے اور وہ کاہنوں کے کانوں تک پہنچا دیتے ہیں ان کے پیچھے فوراً ان کے جلانے کو آگ کا شعلہ لپکتا ہے لیکن کبھی کبھی تو وہ اس کے آنے سے پہلے ہی ایک دوسرے کو پہنچا دیتا ہے اور کبھی پہنچانے سے پہلے ہی جلا دیا جاتا ہے۔ کاہن اس ایک کلمے کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر لوگوں میں پھیلاتا ہے۔ وہ ایک بات سچی نکلتی ہے لوگ اس کے مرید بن جاتے ہیں کہ دیکھو یہ بات اس کے کہنے کے مطابق ہی ہوئی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4701]
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک ستارہ ٹوٹا اور زبردست روشنی ہو گئی۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ جاہلیت میں تمہارا خیال ان ستاروں کے ٹوٹنے کی نسبت کیا تھا؟ انہوں نے کہا ہم اس موقعہ پر سمجھتے تھے کہ یا تو کوئی بہت بڑا آدمی پیدا ہوا یا مرا۔ زہری رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ کیا جاہلیت کے زمانے میں بھی ستارے جھڑتے تھے؟ کہا ہاں لیکن کم۔ آپ کی بعثت کے زمانے سے ان میں بہت زیادتی ہو گئی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { سنو! انہیں کسی کی موت و حیات سے کوئی واسطہ نہیں۔ بات یہ ہے کہ جب ہمارا رب تبارک و تعالیٰ کسی امر کا آسمانوں میں فیصلہ کرتا ہے تو حاملان عرش اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں پھر ساتویں آسمان والے پھر چھٹے آسمان والے یہاں تک کہ یہ تسبیح آسمان دنیا تک پہنچتی ہے۔ پھر عرش کے آس پاس کے فرشتے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا؟ وہ انہیں بتاتے ہیں پھر ہر نیچے والا اوپر والے سے دریافت کرتا ہے اور وہ اسے بتاتا ہے یہاں تک کہ آسمان اول والوں کو خبر پہنچتی ہے۔ کبھی اچک لے جانے والے جنات اسے سن لیتے ہیں تو ان پر یہ ستارے جھڑتے ہیں تاہم جو بات اللہ کو پہنچانی منظور ہوتی ہے اسے وہ لے اڑتے ہیں اور اس کے ساتھ بہت کچھ باطل اور جھوٹ ملا کر لوگوں میں شہرت دیتے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2229]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { سنو! انہیں کسی کی موت و حیات سے کوئی واسطہ نہیں۔ بات یہ ہے کہ جب ہمارا رب تبارک و تعالیٰ کسی امر کا آسمانوں میں فیصلہ کرتا ہے تو حاملان عرش اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں پھر ساتویں آسمان والے پھر چھٹے آسمان والے یہاں تک کہ یہ تسبیح آسمان دنیا تک پہنچتی ہے۔ پھر عرش کے آس پاس کے فرشتے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا؟ وہ انہیں بتاتے ہیں پھر ہر نیچے والا اوپر والے سے دریافت کرتا ہے اور وہ اسے بتاتا ہے یہاں تک کہ آسمان اول والوں کو خبر پہنچتی ہے۔ کبھی اچک لے جانے والے جنات اسے سن لیتے ہیں تو ان پر یہ ستارے جھڑتے ہیں تاہم جو بات اللہ کو پہنچانی منظور ہوتی ہے اسے وہ لے اڑتے ہیں اور اس کے ساتھ بہت کچھ باطل اور جھوٹ ملا کر لوگوں میں شہرت دیتے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2229]
ابن ابی حاتم میں ہے اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی امر کی وحی کرتا ہے تو آسمان مارے خوف سے کپکپا اٹھتے ہیں اور فرشتے ہیبت زدہ ہو کر سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ سب سے پہلے جبرائیل علیہ السلام سر اٹھاتے ہیں اور اللہ کا فرمان سنتے ہیں پھر ان کی زبانی فرشتے سنتے ہیں اور وہ کہتے جاتے ہیں کہ اللہ نے حق فرمایا وہ بلندی اور بڑائی والا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کا امین فرشتہ جس کی طرف ہو اسے پہنچا دیتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ اس وحی کا ذکر ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے بعد نبیوں کے نہ ہونے کے زمانے میں بند ہو کر پھر ابتداء ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ابتدائی وحی کے بھی اس آیت کے تحت میں داخل ہونے میں کوئی شک نہیں لیکن آیت اس کو اور سب کو شامل ہے۔