ترجمہ و تفسیر — سورۃ سبأ (34) — آیت 15

لَقَدۡ کَانَ لِسَبَاٍ فِیۡ مَسۡکَنِہِمۡ اٰیَۃٌ ۚ جَنَّتٰنِ عَنۡ یَّمِیۡنٍ وَّ شِمَالٍ ۬ؕ کُلُوۡا مِنۡ رِّزۡقِ رَبِّکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لَہٗ ؕ بَلۡدَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَّ رَبٌّ غَفُوۡرٌ ﴿۱۵﴾
بلاشبہ یقینا سبا کے لیے ان کے رہنے کی جگہ میں ایک نشانی تھی۔ دو باغ دائیں اور بائیں (جانب) سے۔ اپنے رب کے دیے سے کھاؤ اور اس کا شکر کرو، پاکیزہ شہر ہے اور بے حد بخشنے والا رب ہے۔ En
(اہل) سبا کے لئے ان کے مقام بودوباش میں ایک نشانی تھی (یعنی) دو باغ (ایک) داہنی طرف اور (ایک) بائیں طرف۔ اپنے پروردگار کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر کرو۔ (یہاں تمہارے رہنے کو یہ) پاکیزہ شہر ہے اور (وہاں بخشنے کو) خدائے غفار
En
قوم سبا کے لئے اپنی بستیوں میں (قدرت الٰہی کی) نشانی تھی ان کے دائیں بائیں دو باغ تھے (ہم نے ان کو حکم دیا تھا کہ) اپنے رب کی دی ہوئی روزی کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو، یہ عمده شہر اور وه بخشنے واﻻ رب ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15) ➊ { لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِيْ مَسْكَنِهِمْ اٰيَةٌ:} اللہ تعالیٰ نے داؤد اور سلیمان علیھما السلام کے ذکر کے بعد، جو انابت و رجوع والے شکر گزار بندے تھے، قومِ سبا کا ذکر فرمایا، جنھیں اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی نعمتیں دیں، مگر انھوں نے ان نعمتوں کی ناشکری کی، انابت کے بجائے اعراض اور سرکشی اختیار کی، اپنے رسولوں کو اور آخرت کو جھٹلا دیا، جس کے نتیجے میں ان پر عذاب آیا اور ساری خوش حالی ختم ہو گئی۔ اس میں قریش کے لیے بھی نصیحت تھی، جنھیں بیت اللہ کی وجہ سے ہر طرح کی نعمت و راحت میسر تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کو جھٹلایا تو قومِ سبا کی طرح ان کی وہ خوش حالی اور امن و سکون ختم ہو گیا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ (116) وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ» ‏‏‏‏ [النحل: ۱۱۲، ۱۱۳] اور اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان کی جو امن والی، اطمینان والی تھی، اس کے پاس اس کا رزق کھلا ہر جگہ سے آتا تھا، تو اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے اسے بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا، اس کے بدلے جو وہ کیا کرتے تھے۔ اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس انھی میں سے ایک رسول آیا تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، تو انھیں عذاب نے اس حال میں پکڑ لیا کہ وہ ظالم تھے۔ سلیمان علیہ السلام کے ذکر کے ساتھ سبا کے ذکر کا ایک اور تعلق بھی ہے جو سورۂ نمل میں مذکور سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا کے قصے سے ظاہر ہے۔
➋ سبا سے مراد قوم ہے جس کا باپ سبا نامی شخص تھا۔ (دیکھیے سورۂ نمل: ۲۲) پھر ملک کا نام بھی یہی پڑ گیا۔
➌ { فِيْ مَسْكَنِهِمْ:} یہ علاقہ آج کل یمن کے نام سے معروف ہے۔
➍ { اٰيَةٌ:} یعنی ان کے لیے ان کے ملک میں بہت بڑی نشانی تھی، جس سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کی قدرت اور کاری گری کا اظہار ہوتا تھا اور جسے دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ ایسے مالک کا شکر اور اس کی اطاعت واجب ہے اور اس کی ناشکری اور نافرمانی سے پرہیز لازم ہے۔
➎ { جَنَّتٰنِ عَنْ يَّمِيْنٍ وَّ شِمَالٍ:} یہ اس نشانی کی تفصیل ہے۔ سبا کی عمارتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارض القرآن کے مصنف نے لکھا ہے: اسی سلسلۂ عمارت میں ایک چیز بند مآرب ہے، جس کو عرب حجاز سد اور عرب یمن عرم کہتے ہیں۔ عرب کے ملک میں کوئی دائمی دریا نہیں، پانی پہاڑوں سے بہ کر ریگستانوں میں خشک اور ضائع ہو جاتا ہے، زراعت کے مصرف میں نہیں آتا۔ سبا مختلف مناسب موقعوں پر پہاڑوں اور وادیوں کے بیچ میں بڑے بڑے بند باندھ دیتے تھے کہ پانی رک جائے اور بقدر ضرورت زراعت کے کام میں آئے۔ مملکت سبا میں اس طرح کے سیکڑوں بند تھے، ان میں سب سے زیادہ مشہور سد مآرب ہے، جو ان کے دار الحکومت مارب میں واقع تھا۔ شہر مارب کے جنوب میں دائیں بائیں دو پہاڑ ہیں، سبا نے ان دو پہاڑوں کے بیچ میں تقریباً ۸۰۰ ق م میں سد مارب کی تعمیر کی تھی۔ یہ بند تقریباً ایک سو پچاس فٹ لمبی اور پچاس فٹ چوڑی ایک دیوار ہے۔ اس کا اکثر حصہ تو اب افتادہ ہے، تاہم ایک ثلث دیوار اب بھی باقی ہے۔ ارناڈ ایک یورپی سیاح نے اس کے موجودہ حالات پر ایک مضمون فرنچ ایشیا ٹک سوسائٹی کے جرنل (رسالے) میں لکھا ہے، اس کا موجودہ نقشہ نہایت عمدگی سے تیار کیا ہے، اس دیوار پر جا بجا کتبات ہیں، وہ بھی پڑھے گئے۔ اس سد میں اوپر نیچے بہت سی کھڑکیاں تھیں جو حسب ضرورت کھولی اور بند کی جا سکتی تھیں۔ سد کے دائیں بائیں، مشرق و مغرب میں دو بڑے بڑے دروازے تھے، جن سے پانی تقسیم ہو کر چپ و راست کی زمینوں کو سیراب کرتا تھا۔ اس نظام آب رسانی سے چپ و راست دونوں جانب اس ریگستانی اور شور ملک کے اندر سیکڑوں کوس تک بہشت زار تیار ہو گئی تھی، جس میں انواع و اقسام کے میوے اور خوشبودار درخت تھے۔ قرآن کریم { جَنَّتٰنِ عَنْ يَّمِيْنٍ وَّ شِمَالٍ } کہہ کر انھی باغوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ (ارض القرآن) دائیں اور بائیں دو باغوں کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ہر گھر اور ہر گلی کے دائیں بائیں، یعنی ہر طرف باغ ہی باغ تھے۔
➏ { كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ:} یعنی ہم نے اپنے رسولوں اور صالح بندوں کی زبانی ان سے یہ بات کہی، یا اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں اور دائیں بائیں کے ان باغات اور کھیتوں کا ان سے تقاضا یہ تھا۔
➐ { بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ:} طیب ہر چیز میں سے اعلیٰ کو کہتے ہیں۔ { بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ } سے مراد زرخیز اور عمدہ آب و ہوا والی زمین ہے، اس کے مقابلے میں بنجر، شور اور خراب آب و ہوا والی زمین کے لیے خبیث کا لفظ استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ الْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ وَ الَّذِيْ خَبُثَ لَا يَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا» ‏‏‏‏ [الأعراف: ۵۸] اور جو شہر پاکیزہ ہے اس کی کھیتی اس کے رب کے حکم سے نکلتی ہے اور جو خراب ہے (اس کی کھیتی) ناقص کے سوا نہیں نکلتی۔
➑ { وَ رَبٌّ غَفُوْرٌ:} یعنی اگر توحید پر قائم رہو گے، انبیاء کی اطاعت کرو گے اور انابت و رجوع کو اپنا شیوہ بناؤ گے تو اس خوش حالی کے ساتھ اپنے رب کو بھی اپنے لیے مہربان پاؤ گے، جو تمھاری کوتاہیوں پر پردہ ڈالے گا، اس طرح دنیا و آخرت دونوں تمھاری ہوں گی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 1 سبا وہی قوم تھی جس کی ملکہ سبا مشہور ہے جو حضرت سلیمان علیہ والسلام کے زمانے میں مسلمان ہوگئی تھی قوم ہی کے نام پر ملک کا نام بھی سبا تھا آج کل یمن کے نام سے یہ علاقہ معروف ہے یہ بڑا خوش حال ملک تھا یہ ملک بری وبحری تجارت میں بھی ممتاز تھا اور زراعت وباغبانی میں بھی نمایاں اور یہ دونوں ہی چیزیں کسی ملک اور قوم کی خوش حالی کا باعث ہوتی ہیں اسی مال ودولت کی فراوانی کو یہاں قدرت الہٰی کی نشانی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ 15۔ 2 کہتے ہیں کہ شہر کے دونوں طرف پہاڑ تھے جن سے چشموں اور نالوں کا پانی بہہ بہہ کر شہر میں آتا تھا ان کے حکمرانوں نے پہاڑوں کے درمیان پشتے تعمیر کرادیئے اور ان کے ساتھ باغات لگائے گئے جس سے پانی کا رخ بھی متعین ہوگیا اور باغوں کو بھی سیرابی کا ایک قدرتی ذریعہ میسر آگیا انہی باغات کو دائیں بائیں دو باغوں سے تعبیر کیا گیا ہے بعض کہتے ہیں جنتین سے دو باغ نہیں بلکہ دائیں بائیں کی دو جہتیں مراد ہیں اور مطلب باغوں کی کثرت ہے کہ جدھر نظر اٹھا کر دیکھیں باغات ہریالی اور شادابی ہی نظرآتی تھی۔ (فتح القدیر) 15۔ 3 یہ ان کے پیغمبروں کے ذریعے سے کہلوایا گیا یا مطلب ان نعمتوں کا بیان ہے، جن سے انکو نوازا گیا تھا۔ 15۔ 4 یعنی منعم و محسن کی اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی سے اجتناب۔ 15۔ 5 یعنی باغوں کی کثرت اور پھلوں کی فروانی کی وجہ سے یہ شہر عمدہ ہے۔ کہتے ہیں کہ آب و ہوا کی عمدگی کی وجہ سے یہ شہر مکھی، مچھر اور اس قسم کے دیگر موذی جانوروں سے بھی پاک تھا واللہ عالم۔ 15۔ 6  یعنی اگر تم رب کا شکر کرتے رہو گے تو وہ تمہارے گناہ کا سبب نہیں بنتے، بلکہ اللہ تعالیٰ عفو و درگزر سے کام لیتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ قوم سبا کے لئے ان کے مسکن میں ہی ایک نشانی [24] موجود تھی۔ اس مسکن کے دائیں، بائیں دو باغ [25] تھے۔ (ہم نے انھیں کہا تھا کہ) اپنے پروردگار کا دیا ہوا رزق کھاؤ [26] اور اس کا شکر ادا کرو۔ پاکیزہ اور ستھرا شہر ہے اور معاف فرمانے والا پروردگار
[24] جن بھی غیب نہیں جانتے :۔
یہاں نشانی سے مراد تاریخی شہادت ہے اور وہ یہ ہے کہ جب تک کوئی قوم اللہ کی فرمانبردار اور شکر گزار بن کر رہتی ہے وہ پھلتی پھولتی اور ترقی کی منازل طے کرتی جاتی ہے اور جب وہ اللہ کی نافرمانی اور نا شکری کرنے لگے تو بتدریج زوال آنا شروع ہو جاتا ہے اور اگر وہ اپنا رویہ نہ بدلے تو اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے یہی حال قوم سبا کا ہوا تھا۔
[25] قوم سبا کے حالات:۔
قوم سبا کا علاقہ عرب کا جنوب مغربی علاقہ تھا۔ اور یہی علاقہ آج کل یمن کا علاقہ کہلاتا ہے۔ سبا دراصل ایک شخص کا نام تھا جس کے دس بیٹے تھے۔ بعد میں یہی دس قبیلے بن گئے انہی میں سے چار بیٹے اپنے خاندان سمیت شام کی طرف منتقل ہو گئے تھے۔ اس قوم کے عروج و زوال کا زمانہ تیرہ صدیوں پر محیط ہے (700 ق م تا 450ء) ایک زمانہ تھا جب تہذیب و تمدن کے لحاظ سے اسی قوم کا طوطی بولتا تھا اور روم اور یونان کی تہذیبیں ان کے سامنے ہیچ تھیں۔ زراعت اور تجارت کے میدان میں ان لوگوں نے خوب ترقی کی۔ ان لوگوں کا آب پاشی کا نظام نہایت عمدہ تھا۔ اس علاقہ کے دو طرف پہاڑی سلسلے تھے۔ جگہ جگہ ان لوگوں نے بارش کا پانی روکنے اور ذخیرہ رکھنے کے لئے بند بنا رکھے تھے۔ ان کا دار الخلافہ مآرب تھا اور سب سے اعلیٰ اور بڑا عظیم الشان بند بھی اسی جگہ تعمیر کیا گیا تھا جو سد مآرب کے نام سے معروف تھا۔ ان کے علاقہ کے دونوں طرف پہاڑوں کے دامن میں باغات کا سینکڑوں میلوں میں پھیلا ہوا سلسلہ موجود تھا اور انسان کو یوں معلوم ہوتا تھا کہ جس جگہ وہ کھڑا ہے اس کے دونوں طرف باغات ہی باغات ہیں۔
[26] قوم سبا پر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور زرعی نظام:۔
بارشوں کے لحاظ سے یہ علاقہ کچھ اتنا زرخیز نہیں تھا۔ مگر ان لوگوں کے نظام آبپاشی کی عمدگی کی وجہ سے ملک کے اندر تین سو مربع میل کا علاقہ جنت نظیر بن گیا تھا۔ جس میں انواع و اقسام کے پھلوں کے درخت بھی تھے جن کی خوشبو سے یہ پوری سرزمین معطر بن گئی تھی اور کھیتی بھی خوب پیدا ہوتی تھی۔ اندرون ملک بخورات، دارچینی اور کھجور کے نہایت بلند و بالا درختوں کے جنگل تھے اور ان سے میٹھی میٹھی خوشبو تمام فضا کو خوشبودار بنا دیتی تھی۔ اور جب ہوا چلتی تو اس خوشبو سے سب لوگ لطف اندوز ہوتے تھے۔ اسی علاقہ کو اللہ تعالیٰ نے ﴿بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا۔ یعنی سرسبزی، زرخیزی، فضا کا خوشبو سے ہر وقت معمور رہنا، موسم اور آب و ہوا میں اعتدال، رزق کی فراوانی اور سامان عیش و شرت کی بہتات یہ وہ نعمتیں تھیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا کر رکھی تھیں۔ مآرب کے ایک پہاڑی علاقہ میں گنجان درختوں کے درمیان حکمرانوں کے محلات واقع تھے۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمتوں کی بارش کر رکھی تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قوم سبا کا تفصیلی تذکرہ ٭٭
قوم سبا یمن میں رہتی تھی۔ تبع بھی ان میں سے ہی تھے۔ بلقیس بھی انہی میں سے تھیں۔ یہ بڑی نعمتوں اور راحتوں میں تھے۔ چین آرام سے زندگی گزار رہے تھے۔ اللہ کے رسول ان کے پاس آئے انہیں شکر کرنے کی تلقین کی۔ رب کی وحدانیت کی طرف بلایا اس کی عبادت کا طریقہ سمجھایا۔
کچھ زمانے تک وہ یونہی رہے لیکن پھر جب کہ انہوں نے سرتابی اور روگردانی کی احکام اللہ بےپرواہی سے ٹال دیئے تو ان پر زور کا سیلاب آیا اور تمام ملک باغات اور کھیتیاں وغیرہ تاخت و تاراج ہو گئیں۔ جس کی تفصیل یہ ہے۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ سبا کسی عورت کا نام ہے۔ یا مرد کا یا جگہ کا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک مرد تھا جس کے دس لڑکے تھے جن میں سے چھ تو یمن میں جا بسے تھے اور چار شام میں۔ مذحج، کندہ، ازد، اشعری، اغار، حمیریہ یہ چھ قبیلے یمن میں۔ نجم، جذام، عاملہ اور غسان یہ چار قبیلے شام میں۔ } ۱؎ [مسند احمد:316/1:حسن]‏‏‏‏ (‏‏‏‏مسند احمد)
{ فردہ بن مسیک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنی قوم میں سے ماننے والوں اور آگے بڑھنے والوں کو لے کر نہ ماننے اور پیچھے ہٹنے والوں سے لڑوں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ جب میں جانے لگا تو آپ نے مجھے بلا کر فرمایا دیکھو پہلے انہیں اسلام کی دعوت دینا نہ مانیں تب جہاد کی تیاری کرنا۔ میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ سبا کس کا نام ہے؟ تو آپ کا جواب تقریباً وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ قبیلہ انمار میں سے بجیلہ اور خثعم بھی ہیں۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3222،قال الشيخ الألباني:۔حسن صحیح]‏‏‏‏
ایک اور مطول روایت میں اس آیت کے شان نزول کے متعلق اسی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ فردہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جاہلیت کے زمانے میں قوم سبا کی عزت تھی مجھے اب ان کے ارتداد کا خوف ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں ان سے جہاد کروں۔ آپ نے فرمایا ان کے بارے میں مجھے کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ پس یہ آیت اتری۔ لیکن اس میں غرابت ہے اس سے تو یہ پایا جاتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے، حالانکہ سورت مکیہ ہے۔
محمد بن اسحاق سبا کا نسب نامہ اس طرح بیان کرتے ہیں عبد شمس بن العرب بن قحطان اسے سبا اس لیے کہتے ہیں کہ اس نے سب سے پہلے عرب میں دشمن کے قید کرنے کا رواج ڈالا تھا۔
اس وجہ سے اسے رائش بھی کہتے ہیں۔ مال کو ریش اور ریاش بھی عربی میں کہتے ہیں۔ یہ بھی مذکور ہے کہ اس بادشاہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے سے پہلے ہی آپ کی پیشن گوئی کی تھی۔ کہ ملک کا مالک ہمارے بعد ایک نبی ہو گا جو حرم کی عزت کرے گا۔ اس کے بعد اس کے خلیفہ ہوں گے، جن کے سامنے دنیا کے بادشاہ سرنگوں ہو جائیں گے پھر ہم میں بھی بادشاہت آئے گی اور بنو قحطان کے ایک نبی بھی ہوں گے اس نبی کا نام احمد ہو گا (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کاش کہ میں بھی ان کی نبوت کے زمانے کو پالیتا تو ہر طرح کی خدمت کو غنیمت سمجھتا۔ لوگو! جب بھی اللہ کے وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہوں تو تم پر فرض ہے کہ ان کا ساتھ دو اور ان کے مددگار بن جاؤ۔ اور جو بھی آپ سے ملے اس پر میری جانب سے فرض ہے کہ وہ آپ کی خدمت میں میرا سلام پہنچا دے (‏‏‏‏اکیل ہمدانی)
قحطان کے بارے میں تین قول ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ارم بن سام بن نوح کی نسل میں سے ہے۔ دوسرا یہ کہ عابر یعنی ہود علیہ السلام کی نسل میں سے ہے۔ تیسرا یہ کہ اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام کی نسل سے ہے۔
اس سب کو تفصیل کے ساتھ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الابناہ میں ذکر کیا ہے۔ بعض روایتوں میں جو آیا ہے کہ سبا عرب میں سے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں میں سے جن کی نسل سے عرب ہوئے۔ ان کا نسل ابراہیمی میں سے ہونا مشہور نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
صحیح بخاری میں ہے کہ { قبیلہ اسلم جب تیروں سے نشانہ بازی کر رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے نکلے تو آپ نے فرمایا اے اولاد اسماعیل! تیر اندازی کئے جاؤ تمہارے والد بھی پورے تیر انداز تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2899]‏‏‏‏
اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ سبا کا سلسلہ نسب خلیل الرحمن علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ اسلم انصار کا ایک قبیلہ تھا اور انصار سارے کے سارے غسان میں سے ہیں اور یہ سب یمنی تھے۔ سبا کی اولاد ہیں۔ یہ لوگ مدینے میں اس وقت آئے جب سیلاب سے ان کا وطن تباہ ہو گیا۔ ایک جماعت یہاں آ کر بسی تھی دوسری شام چلی گئی۔ انہیں غسانی اس لیے کہتے ہیں کہ اسی نام کی پانی والی ایک جگہ پر یہ ٹھہرے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مشلل کے قریب ہے۔
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے شعر سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایک پانی والی جگہ یا اس کنویں کا نام غسان تھا۔ یہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی دس اولادیں تھیں اس سے مراد صلبی اولادیں نہیں کیونکہ بعض بعض دو دو تین تین نسلوں بعد کے بھی ہیں۔ جیسے کہ کتب انساب میں موجود ہے۔ جو شام اور یمن میں جا کر آباد ہوئے یہ بھی سیلاب کے آنے کے بعد کا ذکر ہے۔ بعض وہیں رہے بعض ادھر ادھر چلے گئے۔
دیوار کا قصہ یہ ہے کہ ان کے دونوں جانب پہاڑ تھے۔ جہاں سے نہریں اور چشمے بہہ بہہ کر ان کے شہروں میں آتے تھے اسی طرح نالے اور دریا بھی ادھر ادھر سے آتے تھے ان کے قدیمی بادشاہوں میں سے کسی نے ان دونوں پہاڑوں کے درمیان ایک مضبوط پشتہ بنوا دیا تھا جس دیوار کی وجہ سے پانی ادھر ادھر ہو گیا تھا۔ اور بصورت دریا جاری رہا کرتا تھا جس کے دونوں جانب باغات اور کھیتیاں لگا دی تھیں۔ پانی کی کثرت اور زمین کی عمدگی کی وجہ سے یہ خطہ بہت ہی زرخیز اور ہرا بھرا رہا کرتا تھا۔
یہاں تک کہ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ کوئی عورت اپنے سر پر جھلی رکھ کر چلتی تھی۔ کچھ دور جانے تک پھلوں سے وہ جھلی بالکل بھر جاتی تھی۔ درختوں سے پھل خودبخود جو جھڑتے تھے وہ اس قدر کثرت سے ہوتے تھے کہ ہاتھ سے توڑنے کی حاجت نہیں پڑتی تھی۔ یہ دیوار مارب میں تھی صنعاء سے تین مراحل پر تھی اور سد مارب کے نام سے مشہور تھی۔ آب و ہوا کی عمدگی، صحت مزاج اور اعتدال عنایت الہٰیہ سے اس طرح تھا کہ ان کے ہاں مکھی، مچھر اور زہریلے جانور بھی نہیں ہوتے تھے۔ یہ اس لیے تھا کہ وہ لوگ اللہ کی توحید کو مانیں اور دل و جان سے اس کی خلوص کے ساتھ عبادت کریں۔ یہ تھی وہ نشانی قدرت جس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ دونوں پہاڑوں کے درمیان آباد بستی اور بستی کے دونوں طرف ہرے بھرے پھل دار باغات اور سرسبز کھیتیاں اور ان سے جناب باری نے فرما دیا تھا کہ اپنے رب کی دی ہوئی روزیاں کھاؤ پیو اور اس کے شکر میں لگے رہو۔ لیکن انہوں نے اللہ کی توحید کو، اور اس کی نعمتوں کے شکر کو بھلا دیا اور سورج کی پرستش کرنے لگے۔
جیسے کہ ہدہد نے سلیمان علیہ السلام کو خبر دی تھی کہ «فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ» ۱؎ [27-النمل:22-24]‏‏‏‏ الخ یعنی ’ میں تمہارے پاس سبا کی ایک پختہ خبر لایا ہوں۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے جس کے پاس تمام چیزیں موجود ہیں عظیم الشان تخت سلطنت پر وہ متمکن ہے۔ رانی اور رعایا سب سورج پرست ہیں۔ شیطان نے ان کو گمراہ کر رکھا ہے۔ بے راہ ہو رہے ہیں ‘
مروی ہے کہ بارہ یا تیرہ پیغمبر ان کے پاس آئے تھے۔ بالاخر شامت اعمال رنگ لائی جو دیوار انہوں نے بنا رکھی تھی وہ چوہوں نے اندر سے کھوکھلی کر دی اور بارش کے زمانے میں وہ ٹوٹ گئی پانی کی ریل پیل ہو گئی ان دریاؤں کے، چشموں کے، بارش کے، نالوں کے، سب پانی آ گئے ان کی بستیاں، ان کے محلات، ان کے باغات اور ان کی کھیتیاں سب تباہ و برباد ہو گئیں۔ ہاتھ ملتے رہ گئے کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی۔ پھر تو وہ تباہی آئی کہ اس زمین پر کوئی پھلدار درخت جمتا ہی نہ تھا۔ پیلو، جھاؤ، کیکر، ببول اور ایسے ہی بےمیوہ بدمزہ بےکار درخت اگتے تھے۔ ہاں البتہ کچھ بیریوں کے درخت اگ آئے تھے جو نسبتاً اور درختوں سے کار آمد تھے۔ لیکن وہ بھی بہت زیادہ خار دار اور بہت کم پھل دار تھے۔
یہ تھا ان کے کفر و شرک کی سرکشی اور تکبر کا بدلہ کہ نعمتیں کھو بیٹھے اور زحمتوں میں مبتلا ہو گئے کافروں کو یہی اور اس جیسی ہی سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ ابو خیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں گناہوں کا بدلہ یہی ہوتا ہے کہ عبادتوں میں سستی آ جائے روز گار میں تنگی واقع ہو لذتوں میں سختی آ جائے یعنی جہاں کسی راحت کا منہ دیکھا وہاں فوراً کوئی زحمت آ پڑی اور مزہ مٹی ہو گیا۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

سبا ایک معروف قبیلہ تھا جو یمن کے قریب ترین علاقوں میں آباد تھا وہ ایک شہر میں آباد تھے جسے مَأرِب کہا جاتا تھا۔ تمام بندوں پر عموما اور عربوں پر خصوصاً اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور اس کی بے پایاں نعمتیں ہیں کہ اس نے قرآن مجید میں ان ہلاک شدہ قوموں کے بارے میں خبر دی ہے جن پر عذاب نازل کیا گیا، جو ان کے پڑوس میں آباد تھیں، جہاں ان کے آثار کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور لوگ ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آرہے ہیں تاکہ اس طرح ان کے واقعات کے ذریعے سے قرآن کی تصدیق ہو اور یہ چیز نصیحت کے قریب تر ہو۔
﴿لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ سبا کے لیے ان کے مسکنوں میں یعنی ان کے مساکن جہاں وہ آباد تھے ﴿اٰیَةٌ ایک نشانی اور وہ نشانی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا اور بہت سی تکالیف کو ان سے دور کیا اور یہ چیز اس بات کی مقتضی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اس کا شکر ادا کرتے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس نشانی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَنَّتٰ٘نِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّشِمَالٍ ان کے دائیں بائیں دو باغات تھے۔ ان کے پاس ایک وادی تھی جہاں بہت کثرت سے سیلاب آتے تھے انھوں نے اس پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے ایک بہت مضبوط بند تعمیر کیا۔ چنانچہ سیلاب کا پانی آکر اس وادی میں جمع ہو جاتا، پھر وہ اس وادی کے دائیں بائیں لگائے ہوئے اپنے باغات کو اس پانی سے سیراب کرتے۔یہ دو عظیم باغ ان کے لیے اتنا پھل پیدا کرتے جو ان کی معیشت کے لیے کافی ہوتا۔ اس سے انھیں بہت مسرت حاصل ہوتی۔
اللہ تعالیٰ نے ان کو کئی پہلوؤ ں سے اپنی ان بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا:
(۱) یہ دونوں باغ ان کو ان کی خوراک کا بہت بڑا حصہ فراہم کرتے تھے۔
(۲) اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے علاقے کو، اس کی نہایت خوشگوار آب و ہوا، اس کے مضر صحت نہ ہونے اور رزق کے ذرائع کی فراوانی کی بنا پر، بہت خوبصورت بنایا۔
(۳) اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ پاکیزہ شہر ہے اور بخشنے والا رب ہے۔
(۴) اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اپنی تجارت اور اپنے مکاسب میں ارض مبارک کے محتاج ہیں... سلف میں سے ایک سے زائد اہل علم کے مطابق ارض مبارک سے صنعاء کی بستیاں مراد ہیں اور بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد ارض شام ہے... تو ان کو ایسے ذرائع اور اسباب مہیا کر دیے جن کے ذریعے سے ان بستیوں تک پہنچنا ان کے لیے انتہائی آسان ہو گیا، انھیں دوران سفر امن اور عدم خوف حاصل ہوا، ان کے درمیان اور ارض مبارک کے درمیان بستیاں اور آبادیاں تھیں، بنا بریں انھیں زادراہ کا بوجھ اٹھانے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی تھی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَجَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَبَیْنَ الْ٘قُ٘رَى الَّتِیْ بٰرَؔكْنَا فِیْهَا قُ٘رًى ظَاهِرَةً وَّقَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی، دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد و رفت کا اندازہ مقرر کر دیا تھا۔ یعنی ایک مقرر راستہ جسے وہ پہچانتے تھے اسی پر چلتے تھے اور یہ راستہ چھوڑ کر ادھر ادھر نہ ہوتے تھے۔ ﴿لَیَالِیَ وَاَیَّ٘امًا اٰمِنِیْنَ یعنی وہ ان میں راتوں اور دنوں کو نہایت اطمینان کے ساتھ، کسی خوف کے بغیر سفر کرتے تھے۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی کامل نعمت تھی کہ اس نے ان کو خوف سے مامون رکھا۔ پس انھوں نے نعمتیں عطا کرنے والے منعم حقیقی اور اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت پر اترانے لگے اور اس سے اکتا گئے۔ یہاں تک کہ وہ تمنا کرنے لگے کہ ان کی بستیوں کے درمیان ان کا سفر، جو نہایت آسان تھا، کاش! وہ دور ہو جائے۔
﴿وَظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ اور اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کا انکار کر کے انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی نعمت کے ذریعے سے، جس نے انھیں سرکش بنا دیا تھا، ان کو سزا دی کہ ان کے اس بند کو توڑ دینے والا منہ زور سیلاب بھیجا جس نے ان کے اس بند کو توڑ کر ان کے باغات کو تباہ کر دیا۔ ان کے پھل دار درختوں والے یہ باغات جھاڑ جھنکار میں بدل گئے، لہٰذا فرمایا: ﴿وَبَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُ٘لٍ اور ان کو ان کے دو باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیے جن کے میوے یعنی بہت تھوڑا پھل جو ان کے کسی کام نہیں آسکتا تھا ﴿خَمْطٍ وَّاَثْلٍ وَّشَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں۔ یہ سب معروف درخت ہیں، یہ سزا ان کے عمل کی جنس سے تھی یعنی جس طرح انھوں نے شکر حسن کو کفر قبیح میں بدل ڈالا اسی طرح ان کی یہ نعمتیں بدل دی گئیں، گزشتہ سطور میں جس کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے فرمایا: ﴿ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَهَلْ نُجٰؔزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ یہ ہم نے انھیں ان کی ناشکری کی سزا دی اور ہم ناشکرے ہی کو سزا دیا کرتے ہیں۔ یعنی ہم جزا کے طور پر عذاب... جیسا کہ سیاق کلام سے ظاہر ہے... اس شخص کے سوا کسی اور کو نہیں دیتے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا ہو اور اس کی عطا کردہ نعمت پر اتراتا رہا ہو۔
جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئے اس سے پہلے وہ اکٹھے تھے، ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا لوگ ان کے بارے میں دن رات گفتگو کرتے ہیں، وہ پراگندگی میں ضرب المثل بن گئے اور ان کی مثال دی جانے لگی۔، چنانچہ کہا جاتا ہے: (تَفَرَّقُوا أَیْدِي سَبَأ) وہ ایسے بکھر گئے جیسے قوم سبا بکھر گئی تھی۔ ہر شخص ان کے قصے بیان کرتا تھا، مگر عبرت سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّ٘كُ٘لِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ بلاشبہ اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر گزار بندے کے لیے نشانیاں ہیں۔ ناپسندیدہ امور اور سختیوں پر صبر کرنے والا، جو ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر برداشت کرتا ہے، ان پر ناراضی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ ان پر صبر کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار اور اعتراف کر کے اس پر اس کا شکر اداکرتا ہے، منعم کی حمد وثنا بیان کرتا ہے اور اس نعمت کو اس کی اطاعت میں صرف کرتا ہے۔
جب ان کا قصہ سنا جاتا ہے کہ ان کے کرتوت کیا تھے اور ان کے ساتھ کیا کیاگیا تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کو یہ سزا اس بنا پر دی گئی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناسپاسی کی تھی۔ نیز یہ اس پر بھی دلیل ہے کہ جو کوئی اس قسم کا رویہ اختیار کرے گا اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔
(۱) یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ شکر اللہ تعالیٰ کی نعمت کی حفاظت اور اس کی ناراضی کو دور کرتا ہے۔
(۲) یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول اپنی خبر میں سچے ہیں۔
(۳) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ جزا حق ہے جیسا کہ اس کا نمونہ دنیا میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

سبأ قبيلةٌ معروفةٌ في أداني اليمن، ومسكنُهم بلدةٌ يُقالُ لها: مأرِب، ومن نعم الله ولطفِهِ بالناس عموماً وبالعرب خصوصاً أنه قصَّ في القرآن أخبار المهلكين والمعاقَبين ممَّنْ كان يجاوِرُ العرب، ويشاهدُ آثاره، ويتناقلُ الناس أخبارَه؛ ليكونَ ذلك أدعى إلى التصديق وأقربَ للموعظة، فقال: {لقد كان لسبأٍ في مسكنِهِم}؛ أي: محلِّهم الذي يسكنون فيه {آيةٌ}: والآيةُ هنا ما أدرَّ الله عليهم من النعم، وصرف عنهم من النقم، الذي يقتضي ذلك منهم أن يَعْبُدوا الله ويشكُروه. ثم فسَّرَ الآية بقوله: {جنَّتانِ عن يمينٍ وشمال}: وكان لهم وادٍ عظيمٌ تأتيه سيولٌ كثيرةٌ، وكانوا بنوا سدًّا محكماً يكون مجمعاً للماء، فكانت السيول تأتيه، فيجتمع هناك ماءٌ عظيمٌ، فيفرِّقونَه على بساتينهم التي عن يمين ذلك الوادي وشماله، وتُغِلُّ لهم تلك الجنتان العظيمتان من الثمار ما يكفيهم ويَحْصُلُ لهم به الغبطةُ والسرورُ، فأمرهم الله بشكرِ نِعَمِهِ التي أدرَّها عليهم من وجوه كثيرة:

منها: هاتان الجنَّتان اللتان غالب أقواتهم منهما.

ومنها: أنَّ الله جعل بَلَدَهُم بلدةً طيبةً لحسن هوائها وقلَّة وَخَمِها وحصول الرزق الرغد فيها.

ومنها: أنَّ الله تعالى وَعَدَهم إن شكروه أن يغفرَ لهم ويرحَمَهم، ولهذا قال: {بلدةٌ طيبةٌ وربٌّ غفورٌ}.

ومنها: أنَّ الله لما علم احتياجَهم في تجاراتِهِم ومكاسِبِهم إلى الأرض المباركة - الظاهرُ أنَّها قُرى صنعاء كما قاله غيرُ واحدٍ من السلف، وقيل: إنَّها الشامُ ـ؛ هيَّأ لهم من الأسباب ما به يتيسَّر وصولُهم إليها بغايةِ السُّهولة من الأمن وعدم الخوف وتواصُل القرى بينهم وبينها؛ بحيثُ لا يكون عليهم مشقَّةٌ بحمل الزاد والمزاد، ولهذا قال: {وجعلنا بينهم وبين القرى التي بارَكْنا فيها قرىً ظاهرةً وقدَّرْنا فيها السيرَ}؛ أي: سيراً مقدراً يعرفونه ويحكمونَ عليه بحيث لا يتيهونَ عنه ليالي وأياماً.

{آمنينَ}؛ أي: مطمئنين في السير في تلك الليالي والأيام غير خائفينَ، وهذا من تمام نعمةِ الله عليهم أنْ أمَّنَهم من الخوف. فأعْرَضوا عن المنعِم وعن عبادتِهِ، وبَطِروا النعمةَ وملُّوها، حتى إنَّهم طلبوا وتمنَّوا أن تتباعد أسفارُهم بين تلك القرى التي كان السير فيها متيسراً. {وظلموا أنْفُسَهم}: بكفرِهِم بالله وبنعمتِهِ، فعاقَبَهُمُ الله تعالى بهذه النعمة التي أطْغَتْهم، فأبادها عليهم، فأرسل عليها {سيلَ العَرِم}؛ أي: السيل المتوعِّر الذي خَرَّبَ سدَّهم، وأتلف جناتهم، وخرَّبَ بساتينَهم، فتبدَّلت تلك الجناتُ ذات الحدائق المعجِبَة والأشجار المثمرة، وصار بَدَلَها أشجارٌ لا نفعَ فيها. ولهذا قال: {وبدَّلْناهم بجنَّتَيْهم جنتينِ ذواتي أكُل}؛ أي: شيءٍ قليل من الأكل الذي لا يقع منهم موقعاً، {خَمْطٍ وأثْلٍ وشيءٍ من سدرٍ قليل}: وهذا كله شجرٌ معروفٌ، وهذا من جنس عملهم؛ فكما بدَّلوا الشكر الحسن بالكفر القبيح؛ بُدِّلُوا تلك النعمة بما ذكر. ولهذا قال: {ذلك جَزَيْناهم بما كفروا وهل نُجازي إلاَّ الكفورَ}؛ أي: وهل نُجازي جزاء العقوبة - بدليل السياق - إلاَّ مَنْ كَفَرَ بالله وبَطِرَ النعمة؟! فلمَّا أصابَهم ما أصابَهم؛ تفرَّقوا وتمزَّقوا بعدما كانوا مجتمعينَ، وجَعَلَهُمُ الله أحاديثَ يُتَحَدَّث بهم وأسماراً للناس، وكان يُضْرَبُ بهم المثلُ، فيقالُ: «تفرَّقوا أيدي سبأ»؛ فكلُّ أحدٍ يتحدَّث بما جرى لهم، ولكنْ لا ينتفعُ بالعبرة فيهم إلاَّ مَنْ قال الله: {إنَّ في ذلك لآياتٍ لكلِّ صبارٍ شكورٍ}: صبَّارٍ على المكاره والشدائدِ، يتحمَّلُها لوجه الله، ولا يتسخَّطُها، بل يصبرُ عليها، شكورٍ لنعمة الله تعالى، يُقِرُّ بها، ويعترفُ، ويثني على من أولاها، ويصرِفُها في طاعته.

فهذا إذا سمع بقصَّتِهم وما جرى منهم وعليهم؛ عَرَفَ بذلك أنَّ تلك العقوبة جزاءٌ لكفرِهم نعمةَ الله، وأنَّ مَنْ فَعَلَ مثلهم؛ فُعِلَ به كما فُعِلَ بهم، وأنَّ شُكْرَ الله تعالى حافظٌ للنعمة دافعٌ للنقمة، وأنَّ رُسُلَ الله صادقون فيما أخبروا به، وأنَّ الجزاء حقٌّ كما رأى أنموذَجَه في دار الدنيا.