تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ سبا سے مراد قوم ہے جس کا باپ سبا نامی شخص تھا۔ (دیکھیے سورۂ نمل: ۲۲) پھر ملک کا نام بھی یہی پڑ گیا۔
➌ { فِيْ مَسْكَنِهِمْ:} یہ علاقہ آج کل یمن کے نام سے معروف ہے۔
➍ { اٰيَةٌ:} یعنی ان کے لیے ان کے ملک میں بہت بڑی نشانی تھی، جس سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کی قدرت اور کاری گری کا اظہار ہوتا تھا اور جسے دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ ایسے مالک کا شکر اور اس کی اطاعت واجب ہے اور اس کی ناشکری اور نافرمانی سے پرہیز لازم ہے۔
➎ { جَنَّتٰنِ عَنْ يَّمِيْنٍ وَّ شِمَالٍ:} یہ اس نشانی کی تفصیل ہے۔ سبا کی عمارتوں کا ذکر کرتے ہوئے ”ارض القرآن“ کے مصنف نے لکھا ہے: ”اسی سلسلۂ عمارت میں ایک چیز ”بند مآرب“ ہے، جس کو عرب حجاز ”سد“ اور عرب یمن ”عرم“ کہتے ہیں۔ عرب کے ملک میں کوئی دائمی دریا نہیں، پانی پہاڑوں سے بہ کر ریگستانوں میں خشک اور ضائع ہو جاتا ہے، زراعت کے مصرف میں نہیں آتا۔ ”سبا“ مختلف مناسب موقعوں پر پہاڑوں اور وادیوں کے بیچ میں بڑے بڑے بند باندھ دیتے تھے کہ پانی رک جائے اور بقدر ضرورت زراعت کے کام میں آئے۔ مملکت سبا میں اس طرح کے سیکڑوں بند تھے، ان میں سب سے زیادہ مشہور ”سد مآرب“ ہے، جو ان کے دار الحکومت ”مارب“ میں واقع تھا۔ شہر مارب کے جنوب میں دائیں بائیں دو پہاڑ ہیں، سبا نے ان دو پہاڑوں کے بیچ میں تقریباً ۸۰۰ ق م میں ”سد مارب“ کی تعمیر کی تھی۔ یہ بند تقریباً ایک سو پچاس فٹ لمبی اور پچاس فٹ چوڑی ایک دیوار ہے۔ اس کا اکثر حصہ تو اب افتادہ ہے، تاہم ایک ثلث دیوار اب بھی باقی ہے۔ ”ارناڈ“ ایک یورپی سیاح نے اس کے موجودہ حالات پر ایک مضمون فرنچ ایشیا ٹک سوسائٹی کے جرنل (رسالے) میں لکھا ہے، اس کا موجودہ نقشہ نہایت عمدگی سے تیار کیا ہے، اس دیوار پر جا بجا کتبات ہیں، وہ بھی پڑھے گئے۔ اس سد میں اوپر نیچے بہت سی کھڑکیاں تھیں جو حسب ضرورت کھولی اور بند کی جا سکتی تھیں۔ ”سد“ کے دائیں بائیں، مشرق و مغرب میں دو بڑے بڑے دروازے تھے، جن سے پانی تقسیم ہو کر چپ و راست کی زمینوں کو سیراب کرتا تھا۔ اس نظام آب رسانی سے چپ و راست دونوں جانب اس ریگستانی اور شور ملک کے اندر سیکڑوں کوس تک بہشت زار تیار ہو گئی تھی، جس میں انواع و اقسام کے میوے اور خوشبودار درخت تھے۔ قرآن کریم {” جَنَّتٰنِ عَنْ يَّمِيْنٍ وَّ شِمَالٍ “} کہہ کر انھی باغوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔“ (ارض القرآن) دائیں اور بائیں دو باغوں کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ہر گھر اور ہر گلی کے دائیں بائیں، یعنی ہر طرف باغ ہی باغ تھے۔
➏ { كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ:} یعنی ہم نے اپنے رسولوں اور صالح بندوں کی زبانی ان سے یہ بات کہی، یا اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں اور دائیں بائیں کے ان باغات اور کھیتوں کا ان سے تقاضا یہ تھا۔
➐ { بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ:} ”طیب“ ہر چیز میں سے اعلیٰ کو کہتے ہیں۔ {” بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ “} سے مراد زرخیز اور عمدہ آب و ہوا والی زمین ہے، اس کے مقابلے میں بنجر، شور اور خراب آب و ہوا والی زمین کے لیے ”خبیث“ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ الْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ وَ الَّذِيْ خَبُثَ لَا يَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا» [الأعراف: ۵۸] ”اور جو شہر پاکیزہ ہے اس کی کھیتی اس کے رب کے حکم سے نکلتی ہے اور جو خراب ہے (اس کی کھیتی) ناقص کے سوا نہیں نکلتی۔“
➑ { وَ رَبٌّ غَفُوْرٌ:} یعنی اگر توحید پر قائم رہو گے، انبیاء کی اطاعت کرو گے اور انابت و رجوع کو اپنا شیوہ بناؤ گے تو اس خوش حالی کے ساتھ اپنے رب کو بھی اپنے لیے مہربان پاؤ گے، جو تمھاری کوتاہیوں پر پردہ ڈالے گا، اس طرح دنیا و آخرت دونوں تمھاری ہوں گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کچھ زمانے تک وہ یونہی رہے لیکن پھر جب کہ انہوں نے سرتابی اور روگردانی کی احکام اللہ بےپرواہی سے ٹال دیئے تو ان پر زور کا سیلاب آیا اور تمام ملک باغات اور کھیتیاں وغیرہ تاخت و تاراج ہو گئیں۔ جس کی تفصیل یہ ہے۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ سبا کسی عورت کا نام ہے۔ یا مرد کا یا جگہ کا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک مرد تھا جس کے دس لڑکے تھے جن میں سے چھ تو یمن میں جا بسے تھے اور چار شام میں۔ مذحج، کندہ، ازد، اشعری، اغار، حمیریہ یہ چھ قبیلے یمن میں۔ نجم، جذام، عاملہ اور غسان یہ چار قبیلے شام میں۔ } ۱؎ [مسند احمد:316/1:حسن] (مسند احمد)
ایک اور مطول روایت میں اس آیت کے شان نزول کے متعلق اسی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ فردہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جاہلیت کے زمانے میں قوم سبا کی عزت تھی مجھے اب ان کے ارتداد کا خوف ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں ان سے جہاد کروں۔ آپ نے فرمایا ان کے بارے میں مجھے کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ پس یہ آیت اتری۔ لیکن اس میں غرابت ہے اس سے تو یہ پایا جاتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے، حالانکہ سورت مکیہ ہے۔
اس وجہ سے اسے رائش بھی کہتے ہیں۔ مال کو ریش اور ریاش بھی عربی میں کہتے ہیں۔ یہ بھی مذکور ہے کہ اس بادشاہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے سے پہلے ہی آپ کی پیشن گوئی کی تھی۔ کہ ملک کا مالک ہمارے بعد ایک نبی ہو گا جو حرم کی عزت کرے گا۔ اس کے بعد اس کے خلیفہ ہوں گے، جن کے سامنے دنیا کے بادشاہ سرنگوں ہو جائیں گے پھر ہم میں بھی بادشاہت آئے گی اور بنو قحطان کے ایک نبی بھی ہوں گے اس نبی کا نام احمد ہو گا (صلی اللہ علیہ وسلم ) کاش کہ میں بھی ان کی نبوت کے زمانے کو پالیتا تو ہر طرح کی خدمت کو غنیمت سمجھتا۔ لوگو! جب بھی اللہ کے وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہوں تو تم پر فرض ہے کہ ان کا ساتھ دو اور ان کے مددگار بن جاؤ۔ اور جو بھی آپ سے ملے اس پر میری جانب سے فرض ہے کہ وہ آپ کی خدمت میں میرا سلام پہنچا دے (اکیل ہمدانی)
قحطان کے بارے میں تین قول ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ارم بن سام بن نوح کی نسل میں سے ہے۔ دوسرا یہ کہ عابر یعنی ہود علیہ السلام کی نسل میں سے ہے۔ تیسرا یہ کہ اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام کی نسل سے ہے۔
اس سب کو تفصیل کے ساتھ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الابناہ میں ذکر کیا ہے۔ بعض روایتوں میں جو آیا ہے کہ سبا عرب میں سے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں میں سے جن کی نسل سے عرب ہوئے۔ ان کا نسل ابراہیمی میں سے ہونا مشہور نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ سبا کا سلسلہ نسب خلیل الرحمن علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ اسلم انصار کا ایک قبیلہ تھا اور انصار سارے کے سارے غسان میں سے ہیں اور یہ سب یمنی تھے۔ سبا کی اولاد ہیں۔ یہ لوگ مدینے میں اس وقت آئے جب سیلاب سے ان کا وطن تباہ ہو گیا۔ ایک جماعت یہاں آ کر بسی تھی دوسری شام چلی گئی۔ انہیں غسانی اس لیے کہتے ہیں کہ اسی نام کی پانی والی ایک جگہ پر یہ ٹھہرے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مشلل کے قریب ہے۔
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے شعر سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایک پانی والی جگہ یا اس کنویں کا نام غسان تھا۔ یہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی دس اولادیں تھیں اس سے مراد صلبی اولادیں نہیں کیونکہ بعض بعض دو دو تین تین نسلوں بعد کے بھی ہیں۔ جیسے کہ کتب انساب میں موجود ہے۔ جو شام اور یمن میں جا کر آباد ہوئے یہ بھی سیلاب کے آنے کے بعد کا ذکر ہے۔ بعض وہیں رہے بعض ادھر ادھر چلے گئے۔
یہاں تک کہ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ کوئی عورت اپنے سر پر جھلی رکھ کر چلتی تھی۔ کچھ دور جانے تک پھلوں سے وہ جھلی بالکل بھر جاتی تھی۔ درختوں سے پھل خودبخود جو جھڑتے تھے وہ اس قدر کثرت سے ہوتے تھے کہ ہاتھ سے توڑنے کی حاجت نہیں پڑتی تھی۔ یہ دیوار مارب میں تھی صنعاء سے تین مراحل پر تھی اور سد مارب کے نام سے مشہور تھی۔ آب و ہوا کی عمدگی، صحت مزاج اور اعتدال عنایت الہٰیہ سے اس طرح تھا کہ ان کے ہاں مکھی، مچھر اور زہریلے جانور بھی نہیں ہوتے تھے۔ یہ اس لیے تھا کہ وہ لوگ اللہ کی توحید کو مانیں اور دل و جان سے اس کی خلوص کے ساتھ عبادت کریں۔ یہ تھی وہ نشانی قدرت جس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ دونوں پہاڑوں کے درمیان آباد بستی اور بستی کے دونوں طرف ہرے بھرے پھل دار باغات اور سرسبز کھیتیاں اور ان سے جناب باری نے فرما دیا تھا کہ اپنے رب کی دی ہوئی روزیاں کھاؤ پیو اور اس کے شکر میں لگے رہو۔ لیکن انہوں نے اللہ کی توحید کو، اور اس کی نعمتوں کے شکر کو بھلا دیا اور سورج کی پرستش کرنے لگے۔
جیسے کہ ہدہد نے سلیمان علیہ السلام کو خبر دی تھی کہ «فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَجِئْتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ» ۱؎ [27-النمل:22-24] الخ یعنی ’ میں تمہارے پاس سبا کی ایک پختہ خبر لایا ہوں۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے جس کے پاس تمام چیزیں موجود ہیں عظیم الشان تخت سلطنت پر وہ متمکن ہے۔ رانی اور رعایا سب سورج پرست ہیں۔ شیطان نے ان کو گمراہ کر رکھا ہے۔ بے راہ ہو رہے ہیں ‘
یہ تھا ان کے کفر و شرک کی سرکشی اور تکبر کا بدلہ کہ نعمتیں کھو بیٹھے اور زحمتوں میں مبتلا ہو گئے کافروں کو یہی اور اس جیسی ہی سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ ابو خیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں گناہوں کا بدلہ یہی ہوتا ہے کہ عبادتوں میں سستی آ جائے روز گار میں تنگی واقع ہو لذتوں میں سختی آ جائے یعنی جہاں کسی راحت کا منہ دیکھا وہاں فوراً کوئی زحمت آ پڑی اور مزہ مٹی ہو گیا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
سبأ قبيلةٌ معروفةٌ في أداني اليمن، ومسكنُهم بلدةٌ يُقالُ لها: مأرِب، ومن نعم الله ولطفِهِ بالناس عموماً وبالعرب خصوصاً أنه قصَّ في القرآن أخبار المهلكين والمعاقَبين ممَّنْ كان يجاوِرُ العرب، ويشاهدُ آثاره، ويتناقلُ الناس أخبارَه؛ ليكونَ ذلك أدعى إلى التصديق وأقربَ للموعظة، فقال: {لقد كان لسبأٍ في مسكنِهِم}؛ أي: محلِّهم الذي يسكنون فيه {آيةٌ}: والآيةُ هنا ما أدرَّ الله عليهم من النعم، وصرف عنهم من النقم، الذي يقتضي ذلك منهم أن يَعْبُدوا الله ويشكُروه. ثم فسَّرَ الآية بقوله: {جنَّتانِ عن يمينٍ وشمال}: وكان لهم وادٍ عظيمٌ تأتيه سيولٌ كثيرةٌ، وكانوا بنوا سدًّا محكماً يكون مجمعاً للماء، فكانت السيول تأتيه، فيجتمع هناك ماءٌ عظيمٌ، فيفرِّقونَه على بساتينهم التي عن يمين ذلك الوادي وشماله، وتُغِلُّ لهم تلك الجنتان العظيمتان من الثمار ما يكفيهم ويَحْصُلُ لهم به الغبطةُ والسرورُ، فأمرهم الله بشكرِ نِعَمِهِ التي أدرَّها عليهم من وجوه كثيرة:
منها: هاتان الجنَّتان اللتان غالب أقواتهم منهما.
ومنها: أنَّ الله جعل بَلَدَهُم بلدةً طيبةً لحسن هوائها وقلَّة وَخَمِها وحصول الرزق الرغد فيها.
ومنها: أنَّ الله تعالى وَعَدَهم إن شكروه أن يغفرَ لهم ويرحَمَهم، ولهذا قال: {بلدةٌ طيبةٌ وربٌّ غفورٌ}.
ومنها: أنَّ الله لما علم احتياجَهم في تجاراتِهِم ومكاسِبِهم إلى الأرض المباركة - الظاهرُ أنَّها قُرى صنعاء كما قاله غيرُ واحدٍ من السلف، وقيل: إنَّها الشامُ ـ؛ هيَّأ لهم من الأسباب ما به يتيسَّر وصولُهم إليها بغايةِ السُّهولة من الأمن وعدم الخوف وتواصُل القرى بينهم وبينها؛ بحيثُ لا يكون عليهم مشقَّةٌ بحمل الزاد والمزاد، ولهذا قال: {وجعلنا بينهم وبين القرى التي بارَكْنا فيها قرىً ظاهرةً وقدَّرْنا فيها السيرَ}؛ أي: سيراً مقدراً يعرفونه ويحكمونَ عليه بحيث لا يتيهونَ عنه ليالي وأياماً.
{آمنينَ}؛ أي: مطمئنين في السير في تلك الليالي والأيام غير خائفينَ، وهذا من تمام نعمةِ الله عليهم أنْ أمَّنَهم من الخوف. فأعْرَضوا عن المنعِم وعن عبادتِهِ، وبَطِروا النعمةَ وملُّوها، حتى إنَّهم طلبوا وتمنَّوا أن تتباعد أسفارُهم بين تلك القرى التي كان السير فيها متيسراً. {وظلموا أنْفُسَهم}: بكفرِهِم بالله وبنعمتِهِ، فعاقَبَهُمُ الله تعالى بهذه النعمة التي أطْغَتْهم، فأبادها عليهم، فأرسل عليها {سيلَ العَرِم}؛ أي: السيل المتوعِّر الذي خَرَّبَ سدَّهم، وأتلف جناتهم، وخرَّبَ بساتينَهم، فتبدَّلت تلك الجناتُ ذات الحدائق المعجِبَة والأشجار المثمرة، وصار بَدَلَها أشجارٌ لا نفعَ فيها. ولهذا قال: {وبدَّلْناهم بجنَّتَيْهم جنتينِ ذواتي أكُل}؛ أي: شيءٍ قليل من الأكل الذي لا يقع منهم موقعاً، {خَمْطٍ وأثْلٍ وشيءٍ من سدرٍ قليل}: وهذا كله شجرٌ معروفٌ، وهذا من جنس عملهم؛ فكما بدَّلوا الشكر الحسن بالكفر القبيح؛ بُدِّلُوا تلك النعمة بما ذكر. ولهذا قال: {ذلك جَزَيْناهم بما كفروا وهل نُجازي إلاَّ الكفورَ}؛ أي: وهل نُجازي جزاء العقوبة - بدليل السياق - إلاَّ مَنْ كَفَرَ بالله وبَطِرَ النعمة؟! فلمَّا أصابَهم ما أصابَهم؛ تفرَّقوا وتمزَّقوا بعدما كانوا مجتمعينَ، وجَعَلَهُمُ الله أحاديثَ يُتَحَدَّث بهم وأسماراً للناس، وكان يُضْرَبُ بهم المثلُ، فيقالُ: «تفرَّقوا أيدي سبأ»؛ فكلُّ أحدٍ يتحدَّث بما جرى لهم، ولكنْ لا ينتفعُ بالعبرة فيهم إلاَّ مَنْ قال الله: {إنَّ في ذلك لآياتٍ لكلِّ صبارٍ شكورٍ}: صبَّارٍ على المكاره والشدائدِ، يتحمَّلُها لوجه الله، ولا يتسخَّطُها، بل يصبرُ عليها، شكورٍ لنعمة الله تعالى، يُقِرُّ بها، ويعترفُ، ويثني على من أولاها، ويصرِفُها في طاعته.
فهذا إذا سمع بقصَّتِهم وما جرى منهم وعليهم؛ عَرَفَ بذلك أنَّ تلك العقوبة جزاءٌ لكفرِهم نعمةَ الله، وأنَّ مَنْ فَعَلَ مثلهم؛ فُعِلَ به كما فُعِلَ بهم، وأنَّ شُكْرَ الله تعالى حافظٌ للنعمة دافعٌ للنقمة، وأنَّ رُسُلَ الله صادقون فيما أخبروا به، وأنَّ الجزاء حقٌّ كما رأى أنموذَجَه في دار الدنيا.