تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اس آیت کی تفسیر دو طرح ہے، ایک یہ کہ پہلے جملے {” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ “} سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں سب تعریف اللہ کے لیے ہے، کیونکہ دوسرے جملے {” وَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاٰخِرَةِ “} میں آخرت میں سب تعریف اس کے لیے ہونے کا ذکر ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ پہلے جملے {” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ “} سے مراد یہ ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں میں حمد اللہ کے لیے ہے۔ پھر آخرت میں حمد کا اللہ ہی کے لیے ہونا خاص طور پر دوبارہ ذکر فرمایا، کیونکہ دنیا میں تو بظاہر کسی اور کی بھی تعریف ہو جاتی ہے، مگر آخرت میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کی حمد ہو گی اور ہر ایک کی زبان پر {” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “} کا کلمہ جاری ہو گا۔ دیکھیے سورۂ زمر (۷۴)، اعراف (۴۳) اور فاطر (۳۴، ۳۵) یہ ایسے ہی جیسے سورۂ بقرہ کی آیت (۹۸): «مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِيْلَ وَ مِيْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِيْنَ» میں لفظ{ ” مَلٰٓىِٕكَتِهٖ “} میں سب فرشتے شامل ہونے کے باوجود جبریل و میکال کا الگ ذکر بھی فرمایا۔ {”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “} کے مزید فوائد کے لیے سورۂ فاتحہ کے فوائد ملاحظہ فرمائیں۔
➌ { وَ هُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ:} یعنی صرف وہ ایک ہے جس کا ہر کام محکم و مضبوط ہے اور جسے کائنات کے ذرّے ذرّے کی پوری خبر ہے، اس لیے اس کے کسی کام میں کوئی نقص ہے نہ عیب، جبکہ کوئی اور نہ پوری خبر رکھتا ہے نہ حکمت، اس لیے اس کے پاس عجز و فقر کے سوا کچھ نہیں، پھر حمد کس بات پر؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[2] اور حکم اس لحاظ سے ہے کہ اس نے کائنات میں جو چیز بھی بنائی ہے وہ ایک نہیں متعدد مقاصد پورے کر رہی ہے پھر کائنات کے نظام کا مربوط اور منظم ہونا بھی اس کی حکمت کی بہت بڑا دلیل ہے اور با خبر اس لحاظ سے ہے وہ کائنات کے ایک ایک کل پرزے کی براہ راست نگرانی کر رہا ہے اور مدت ہائے دراز گزرنے پر بھی کائنات کے کسی کل پرزے کی کبھی کوئی کمی، کوتاہی یا گڑبڑ واقع نہیں ہوتی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے اور آیت میں ہے «وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَةَ وَالْأُولَىٰ» ۱؎ [92-الليل:13] آخرت میں اسی کی تعریفیں ہوں گی۔ وہ اپنے اقوال، افعال، تقدیر، شریعت سب پر حکومت والا ہے اور ایسا خبردار ہے جس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔ جس سے کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں۔
جو اپنے احکام میں حکیم جو اپنی مخلوق سے باخبر جتنے قطرے بارش کے زمین میں جاتے ہیں جتنے دانے اس میں بوئے جاتے ہیں اس کے علم سے باہر نہیں۔ جو زمین سے نکلتا ہے اگتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اس کے محیط، وسیع اور بےپایاں علم سے کوئی چیز دور نہیں۔ ہر چیز کی گنتی کیفیت اور صفت اسے معلوم ہے۔ آسمان سے جو بارش برستی ہے اس کے قطروں کی گنتی بھی اس کے علم میں محفوظ ہے جو رزق وہاں سے اترتا ہے اس کے علم سے نیک اعمال وغیرہ جو آسمان پر چڑھتے ہیں وہ بھی اس کے علم میں ہیں۔
وہ اپنے بندوں پر خود ان سے بھی زیادہ مہربان ہے۔ اسی وجہ سے ان کے گناہوں پر اطلاع رکھتے ہوئے انہیں جلدی سے سزا نہیں دیتا بلکہ مہلت دیتا ہے کہ وہ توبہ کر لیں۔ برائیاں چھوڑ دیں رب کی طرف رجوع کریں۔
پھر غفور ہے۔ ادھر بندہ جھکا رویا پیٹا ادھر اس نے بخش دیا یا معاف فرما دیا درگزر کر لیا۔ توبہ کرنے والا دھتکارا نہیں جاتا۔ توکل کرنے والا نقصان نہیں اٹھاتا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{الحمدُ}: الثناء بالصفات الحميدةِ والأفعال الحسنة؛ فلله تعالى الحمدُ؛ لأنَّ جميع صفاته يُحمد عليها لكونها صفاتِ كمال، وأفعالُه يُحمد عليها لأنَّها دائرةٌ بين الفضل الذي يُحمد عليه ويُشكر، والعدل الذي يُحمد عليه ويُعترف بحكمتِهِ فيه. وحَمَدَ نفسَه هنا على أنَّ {له ما في السموات وما في الأرض}: مُلكاً وعبيداً يتصرَّف فيهم بحمده. {وله الحمدُ في الآخرة}: لأنَّ في الآخرة يظهرُ من حمدِهِ والثناء عليه ما لا يكون في الدنيا؛ فإذا قضى الله تعالى بين الخلائق كلِّهم، ورأى الناس والخلق كلُّهم ما حكم به وكمال عدلِهِ وقسطِهِ وحكمته فيه؛ حمدوه كلُّهم على ذلك، حتى أهل العقاب؛ ما دخلوا النار إلاَّ وقلوبُهم ممتلئةٌ من حمده، وأنَّ هذا من جرّاء أعمالهم، وأنَّه عادلٌ في حكمه بعقابهم.
وأمَّا ظهورُ حمدِهِ في دار النعيم والثواب؛ فذلك شيء قد تواردتْ به الأخبارُ وتوافقَ عليه الدليلُ السمعيُّ والعقليُّ؛ فإنَّهم في الجنة يرون من توالي نعم الله وإدرارِ خيره وكثرةِ بركاته وسَعَةِ عطاياه التي لم يبقَ في قلوب أهل الجنة أمنيةٌ ولا إرادةٌ إلاَّ وقد أعطي فوق ما تمنَّى وأراد، بل يُعْطَوْنَ من الخير ما لم تتعلَّقْ به أمانيهم ولم يخطُرْ بقلوبِهم؛ فما ظنُّك بحمدِهم لربِّهم في هذه الحال مع أنَّ في الجنة تضمحلُّ العوارض والقواطع التي تقطع عن معرفة الله ومحبَّتِهِ والثناء عليه، ويكون ذلك أحبَّ إلى أهلها من كلِّ نعيم وألذَّ عليهم من كل لَذَّةٍ؟! ولهذا؛ إذا رأوا الله تعالى وسمعوا كلامه عند خطابِهِ لهم؛ أذْهَلَهم ذلك عن كلِّ نعيم، ويكون الذكر لهم في الجنة كالنَفَس متواصلاً في جميع الأوقات، هذا إذا أضفتَ ذلك إلى أنَّه يظهر لأهل الجنة في الجنةِ كلَّ وقتٍ من عظمة ربِّهم وجلالِهِ وجمالِهِ وسعة كمالِهِ ما يوجب لهم كمالَ الحمد والثناء عليه. {وهو الحكيمُ}: في ملكه وتدبيره، الحكيم في أمره ونهيه. {الخبيرُ}: المطَّلعُ على سرائر الأمورِ وخفاياها.