تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ موسیٰ علیہ السلام کو ایذا دینے والوں کی باتوں کا قرآن میں متعدد مقامات پر ذکر آیا ہے۔ ظاہر ہے تمام بنی اسرائیل ایسے نہیں تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی طرح ہونے سے منع فرمایا جنھوں نے موسیٰ علیہ السلام کو ایذا دی۔ ان لوگوں کا یہ رویہ موسیٰ علیہ السلام کے لیے سخت تکلیف دہ تھا کہ عموماً وہ حکم ماننے سے صاف انکار کر دیتے تھے اور اس کے لیے لفظ بھی {”لَنْ“} (ہر گز نہیں) کا استعمال کرتے جو نفی کی تاکید کے لیے آتا ہے، مثلاً: «لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ» [البقرۃ: ۶۱]، «لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً» [البقرۃ: ۵۵] اور: «لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْهَا» [المائدۃ: ۲۴] ہارون علیہ السلام کے بچھڑے کی عبادت سے منع کرنے پر کہنے لگے: «لَنْ نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عٰكِفِيْنَ حَتّٰى يَرْجِعَ اِلَيْنَا مُوْسٰى» [طٰہٰ: ۹۱] ”ہم اسی پر مجاور بن کر بیٹھے رہیں گے، یہاں تک کہ موسیٰ ہماری طرف واپس آئے۔“ کبھی حکم کی تعمیل میں ٹال مٹول سے کام لیتے تھے، جیسا کہ گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو پہلے {” اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا “} کہا، پھر گائے کی کیفیت کے متعلق سوال پر سوال داغتے رہے۔ ان کا یہ رویہ ان کے اس محسن کے ساتھ تھا جس نے ان کی خاطر لمبی مدت تک فرعون سے تکلیفیں جھیلیں، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے انھیں فرعون کی غلامی سے نجات اور آزادی کی نعمت عطا فرمائی۔ جس کی دعا سے انھیں من و سلویٰ ملتا تھا، بادلوں کا سایہ میسر تھا اور ان کے لیے پانی کے بارہ چشمے جاری تھے۔
➌ { فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا:} ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی ایذا موسیٰ علیہ السلام کی ذات گرامی پر الزام اور دھبے لگانے تک پہنچ گئی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا ان کے تمام الزامات سے پاک ہونا روز روشن کی طرح ظاہر فرما دیا، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت مرتبے والے تھے۔ ممکن نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ ان پر کوئی داغ لگنے دیتا۔
➍ بنی اسرائیل کی جانب سے موسیٰ علیہ السلام کی ایذا کا ایک نمونہ اس حدیث میں بیان ہوا ہے جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام بہت حیا والے، بہت پردے والے تھے۔ شدید حیا کی وجہ سے ان کی جلد کا کوئی حصہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ بنی اسرائیل کے ایذا دینے والوں میں سے بعض نے انھیں ایذا دی اور کہنے لگے: ”موسیٰ اپنا جسم اتنا سخت چھپاتے ہیں تو ضرور اس میں کوئی عیب ہے، یا برص ہے، یا خصیہ پھولا ہوا ہے، یا کوئی اور بیماری ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ موسیٰ علیہ السلام کا ان چیزوں سے پاک ہونا ظاہر کرے، جو وہ ان کے متعلق کہتے تھے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ وہ اکیلے ہوئے تو اپنے کپڑے پتھر پر رکھ کر غسل کرنے لگے، جب فارغ ہوئے تو کپڑے لینے کے لیے بڑھے تو پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ اٹھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لاٹھی لی اور پتھر کے پیچھے یہ کہتے ہوئے دوڑے کہ اے پتھر! میرے کپڑے، اے پتھر! میرے کپڑے۔ یہاں تک کہ وہ پتھر بنی اسرائیل کی ایک مجلس کے پاس جا پہنچا اور انھوں نے انھیں ننگا دیکھ لیا۔ انھوں نے دیکھا کہ وہ اللہ کی پیدا کردہ مخلوق میں سب سے خوب صورت اور ان عیبوں سے بالکل بری تھے جو وہ کہتے تھے۔ الغرض! پتھر رک گیا، تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیے اور پتھر کو اپنی لاٹھی سے مارنے لگے۔ اللہ کی قسم! پتھر پر ان کے مارنے کی وجہ سے لاٹھی کے تین یا چار یا پانچ نشان پڑ گئے۔ یہ مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِيْهًا» [الأحزاب: ۶۹] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب: ۳۴۰۴]
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض اوقات کسی بظاہر مسلمان کی طرف سے ایذا دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کو دی جانے والی ایذا اور اس پر ان کے صبر کا ذکر فرمایا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال تقسیم کیا تو ایک آدمی کہنے لگا: ”اس تقسیم میں اللہ کی رضا مقصود نہیں رکھی گئی۔“ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ غصے میں آ گئے، یہاں تک کہ میں نے آپ کے چہرے میں غصے کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَرْحَمُ اللّٰهُ مُوْسٰي قَدْ أُوْذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هٰذَا فَصَبَرَ] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب: ۳۴۰۵]”اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم فرمائے، انھیں اس سے زیادہ ایذا دی گئی تو انھوں نے صبر کیا۔“
➏ بعض تفاسیر میں اس ایذا کے ضمن میں مذکور ہے کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام پر ہارون علیہ السلام کے قتل کا الزام لگا دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتے بھیجے، جنھوں نے ہارون علیہ السلام کی میت اٹھا کر دکھا دی اور اس میں ایسا کوئی نشان نہیں تھا، اس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی براء ت فرما دی۔ مگر یہ قصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی نہیں، ظاہر ہے یہ اسرائیلی روایت ہے جسے ہم نہ سچا کہہ سکتے ہیں نہ جھوٹا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اور درج ذیل حدیث اس آیت کی تفسیر پیش کرتی ہے:
اب ظاہر ہے کہ جو لوگ خرق عادت واقعات یا معجزات کے منکر ہیں۔ انھیں یہ تفسیر راس نہیں آسکتی۔ تاہم اس حدیث کے الفاظ میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ وہ بھی اسے تسلیم کر لیں وہ یوں کہ حجر کے معنی پتھر بھی ہیں اور گھوڑی بھی۔ (منجد) اس لحاظ سے یہ واقعہ یوں ہو گا کہ موسیٰ گھوڑی پر سوار تھے۔ کسی تنہائی کے مقام پر نہانے لگے تو گھوڑی کو کھڑا کیا اور اسی پر اپنے کپڑے رکھ دیئے۔ جب نہانے کے بعد کپڑے لینے کے لئے آگے بڑھے تو گھوڑی دوڑ پڑی اور موسیٰؑ ثوبی یا حجر کہتے اس کے پیچھے دوڑے تا آنکہ کچھ لوگوں نے آپ کو ننگے بدن دیکھ لیا کہ آپ بالکل بے داغ اور ان کی مزعومہ بیماری سے پاک ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو ان لوگوں کے الزام سے بری کر دیا۔ رہی یہ بات کہ سیدنا ابوہریرہؓ قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ پتھر پر مار کے چھ یا سات نشان ہیں تو یہ سیدنا ابوہریرہؓ کا اپنا قول ہے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جس کا ماننا حجت ہو۔ علاوہ ازیں قارون نے بھی ایک فاحشہ عورت کو کچھ دے دلا کر اس بات پر آمادہ کر لیا تھا کہ وہ سیدنا موسیٰؑ پر اپنے ساتھ زنا کی تہمت لگا دے۔ پھر جب سیدنا موسیٰؑ نے اسے اللہ کی قسم دے کر پوچھا تو اس پر کچھ ایسا رعب طاری ہوا کہ اس نے صاف انکار کر لیا کہ میں نے قارون کی انگیخت پر یہ تہمت لگائی تھی۔ اور بنی اسرائیل کا موسیٰؑ کو اس طرح دکھ پہنچانا اس لحاظ سے اور بھی شدید جرم بن جاتا ہے کہ آپ ہی کے ذریعہ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات ملی تھی۔ اور ان کی مصر میں وہی حالت تھی جو ہندوستان میں شودروں کی ہے۔ بلکہ اس سے بھی بد تر حالت میں وہاں زندگی گزار رہے تھے۔
[108] ﴿وَجِيْهًا﴾ کا دوسرا معنی ایسا آبرو اور رعب والا شخص ہے جس کے متعلق لوگوں کو کچھ اعتراض ہو بھی تو وہ اس کے منہ پر کچھ نہ کہہ سکیں اور ادھر ادھر باتیں کرتے پھریں۔ یہی لفظ اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ کے لئے استعمال فرمایا اور کہا ﴿وَجِيْهًا فِيْ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ﴾ [3: 45] یعنی عیسیٰ دنیا میں بھی وجیہ تھے اور آخرت میں بھی وجیہ ہوں گے۔ چنانچہ دنیا میں یہود ان کی پیدائش سے متعلق الزام لگاتے تھے لیکن منہ پر بات کہنے کی کوئی جرات نہ کرتا تھا۔ اس آیت میں روئے سخن غالباً منافقوں کی طرف ہے جو مسلمانوں میں ملے جلے رہتے تھے۔ ورنہ مخلص مومنوں سے یہ بات نا ممکن ہے کہ وہ اپنے مجبوب اور محسن اعظم کو دکھ پہنچائیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس میں یہ بھی ہے کہ { وہ بوجہ سخت حیاء و شرم کے اپنا بدن کسی کے سامنے ننگا نہیں کرتے تھے۔ بنو اسرائیل آپ علیہ السلام کو ایذاء دینے کے درپے ہو گئے اور یہ افواہ اڑا دی کہ چونکہ ان کے جسم پر برص کے داغ ہیں یا ان کے بیضے بڑھ گئے ہیں یا کوئی اور آفت ہے اس وجہ سے یہ اس قدر پردے داری کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ یہ بدگمانی آپ علیہ السلام سے دور کر دے۔ ایک دن موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام تنہائی میں ننگے نہا رہے تھے، ایک پتھر پر آپ علیہ السلام نے کپڑے رکھ دیئے تھے، جب غسل سے فارغ ہو کر آئے، کپڑے لینے چاہے تو پتھر آگے کو سرک گیا۔ آپ علیہ السلام اپنی لکڑی لیے اس کے پیچھے گئے وہ دوڑنے لگا۔ آپ علیہ السلام بھی اے پتھر میرے کپڑے میرے کپڑے کرتے ہوئے اس کے پیچھے دوڑے۔ بنی اسرائیل کی جماعت ایک جگہ بیٹھی ہوئی تھی۔
جب آپ علیہ السلام وہاں تک پہنچ گئے تو اللہ کے حکم سے پتھر ٹھہر گیا۔ آپ علیہ السلام نے اپنے کپڑے پہن لیے۔ بنو اسرائیل نے آپ علیہ السلام کے تمام جسم کو دیکھ لیا اور جو فضول باتیں ان کے کانوں میں پڑی تھیں ان سے اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بری کر دیا۔ غصے میں موسیٰ علیہ السلام نے تین یا چار پانچ لکڑیاں پتھر پر ماری تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { واللہ لکڑیوں کے نشان اس پتھر پر پڑ گئے }۔ اسی برأت وغیرہ کا ذکر اس آیت میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3404]
یہ حدیث مسلم میں نہیں یہ روایت بہت سی سندوں سے بہت سی کتابوں میں ہے۔ بعض روایتیں موقوف بھی ہیں۔
تو ہوسکتا ہے کہ ایذاء یہی ہو اور ہوسکتا ہے کہ وہ ایذاء ہو جس کا بیان پہلے گزرا۔ لیکن میں کہتا ہوں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اور یہ دونوں ہوں بلکہ ان کے سوا اور بھی ایذائیں ہوں۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ لوگوں میں کچھ تقسیم کیا اس پر ایک شخص نے کہا اس تقسیم سے اللہ کی رضا مندی کا ارادہ نہیں کیا گیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے جب یہ سنا تو میں نے کہا اے اللہ کے دشمن میں تیری اس بات کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور پہنچاؤں گا۔ چنانچہ میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر کر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہوگیا پھر فرمایا: { اللہ کی رحمت ہو موسیٰ علیہ السلام پر وہ اس سے بہت زیادہ ایذاء دے گئے لیکن صبر کیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4335]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا کہ واللہ اس تقسیم سے نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی خوشی کا ارادہ کیا نہ آخرت کے گھر کا۔ میں ٹھہر گیا اور دونوں کی باتیں سنیں۔ پھر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے کہ { کسی کی کوئی بات میرے سامنے نہ لایا کرو }۔ ابھی کا واقعہ ہے کہ میں جا رہا تھا جو فلاں اور فلاں سے میں نے یہ باتیں سنیں اسے سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ غصے کے مارے سرخ ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات بہت ہی گراں گزری۔ پھر میری طرف دیکھ کر فرمایا: { عبداللہ جانے دو دیکھو موسیٰ علیہ السلام اس سے بھی زیادہ ستائے گئے لیکن انہوں نے صبر کیا } }۔ [مسند احمد:395/1:ضعیف]
قرآن فرماتا ہے موسیٰ علیہ السلام اللہ کے نزدیک بڑے مرتبے والے تھے۔ مستجاب الدعوت تھے۔ جو دعا کرتے تھے قبول ہوتی تھی۔ ہاں اللہ کا دیدار نہ ہوا اس لیے کہ یہ طاقت انسانی سے خارج تھا۔ سب سے بڑھ کر ان کی وجاہت کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کیلئے نبوت مانگی اللہ نے وہ بھی عطا فرمائی۔
فرماتا ہے «وَوَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَآ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِيًّا» ۱؎ [19-مريم:53] ’ ہم نے اسے اپنی رحمت سے اس کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يحذِّر تعالى عبادَه المؤمنين عن أذيَّة رسولهم محمدٍ - صلى الله عليه وسلم - النبيِّ الكريم الرءوف الرحيم، فيقابلوه بضدِّ ما يجب له من الإكرام والاحترام، وأن لا يتشبَّهوا بحال الذين آذَوْا موسى بن عمران كليم الرحمن، فبرَّأه اللَّه مما قالوا من الأذيَّة؛ أي: أظهر الله لهم براءته، والحالُ أنَّه عليه الصلاة والسلام ليس محلَّ التهمة والأذية؛ فإنَّه كان وجيهاً عند الله، مقرباً لديه، من خواصِّ المرسلين، ومن عباد الله المخلَصين، فلم يزجرهم ما له من الفضائل عن أذيَّته والتعرُّض له بما يكره. فاحذروا أيُّها المؤمنون أن تتشبَّهوا بهم في ذلك، والأذيَّة المشار إليها هي قولُ بني إسرائيل عن موسى لما رأوا شدَّة حيائِهِ وتستُّره عنهم: إنَّه ما يمنعُه من ذلك إلاَّ أنَّه آدرُ؛ أي: كبير الخصيتين، واشتهر ذلك عندهم، فأراد الله أن يبرِّئه منهم، فاغتسل يوماً، ووضع ثوبه على حجر، ففرَّ الحجر بثوبه، فأهوى موسى عليه السلام في طلبه، فمرَّ به على مجالس بني إسرائيل، فرأوه أحسن خلق الله، فزال عنه ما رموه به.