ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 69

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ اٰذَوۡا مُوۡسٰی فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوۡا ؕ وَ کَانَ عِنۡدَ اللّٰہِ وَجِیۡہًا ﴿ؕ۶۹﴾
اے لوگو جوایمان لائے ہو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائو جنھوں نے موسیٰ کو تکلیف پہنچائی تو اللہ نے اسے اس سے پاک ثابت کر دیا جو انھوں نے کہا تھا اور وہ اللہ کے ہاں بہت مرتبے والا تھا۔ En
مومنو تم ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ (کو عیب لگا کر) رنج پہنچایا تو خدا نے ان کو بےعیب ثابت کیا۔ اور وہ خدا کے نزدیک آبرو والے تھے
En
اے ایمان والو! ان لوگوں جیسے نہ بن جاؤ جنہوں نے موسیٰ کو تکلیف دی پس جو بات انہوں نے کہی تھی اللہ نے انہیں اس سے بری فرما دیا، اور وه اللہ کے نزدیک باعزت تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 69) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى:} اوپر بتایا کہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے والوں پر لعنت اور ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔ سورت کے شروع ہی سے منافقین کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینے کا ذکر چلا آرہا ہے، جو کبھی جنگ احزاب میں یہ کہنے کی صورت میں تھی کہ اللہ اور اس کے رسول نے محض دھوکا دینے کے لیے ہم سے فتح و نصرت کا وعدہ کیا تھا، کبھی میدان چھوڑ کر گھروں کو جانے کی اجازت مانگنے کی صورت میں اور کبھی یہ کہہ کر کہ اب مسلمانوں کی مدینہ میں رہنے کی کوئی صورت نہیں۔ اس کے علاوہ ان کی یہود اور دوسرے کفار کے ساتھ دوستی اور ان کی فتح کی خواہش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سخت تکلیف دہ تھی۔ آپ کی ذاتی زندگی کے متعلق تکلیف دہ باتیں اس پر مزید تھیں۔ مثلاً آپ کی چار سے زائد بیویوں پر اعتراض، اپنے متبنّٰی زید رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنھا سے نکاح وغیرہ۔ سورت کے آخر میں پھر اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا سے یہ کہہ کر منع فرما رہے ہیں کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنھوں نے موسیٰ علیہ السلام کو ایذا دی۔
موسیٰ علیہ السلام کو ایذا دینے والوں کی باتوں کا قرآن میں متعدد مقامات پر ذکر آیا ہے۔ ظاہر ہے تمام بنی اسرائیل ایسے نہیں تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی طرح ہونے سے منع فرمایا جنھوں نے موسیٰ علیہ السلام کو ایذا دی۔ ان لوگوں کا یہ رویہ موسیٰ علیہ السلام کے لیے سخت تکلیف دہ تھا کہ عموماً وہ حکم ماننے سے صاف انکار کر دیتے تھے اور اس کے لیے لفظ بھی {لَنْ} (ہر گز نہیں) کا استعمال کرتے جو نفی کی تاکید کے لیے آتا ہے، مثلاً: «‏‏‏‏لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۶۱]، «‏‏‏‏لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۵۵] اور: «لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْهَا» [المائدۃ: ۲۴] ہارون علیہ السلام کے بچھڑے کی عبادت سے منع کرنے پر کہنے لگے: «‏‏‏‏لَنْ نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عٰكِفِيْنَ حَتّٰى يَرْجِعَ اِلَيْنَا مُوْسٰى» [طٰہٰ: ۹۱] ہم اسی پر مجاور بن کر بیٹھے رہیں گے، یہاں تک کہ موسیٰ ہماری طرف واپس آئے۔ کبھی حکم کی تعمیل میں ٹال مٹول سے کام لیتے تھے، جیسا کہ گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو پہلے { اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا } کہا، پھر گائے کی کیفیت کے متعلق سوال پر سوال داغتے رہے۔ ان کا یہ رویہ ان کے اس محسن کے ساتھ تھا جس نے ان کی خاطر لمبی مدت تک فرعون سے تکلیفیں جھیلیں، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے انھیں فرعون کی غلامی سے نجات اور آزادی کی نعمت عطا فرمائی۔ جس کی دعا سے انھیں من و سلویٰ ملتا تھا، بادلوں کا سایہ میسر تھا اور ان کے لیے پانی کے بارہ چشمے جاری تھے۔
➌ { فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا:} ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی ایذا موسیٰ علیہ السلام کی ذات گرامی پر الزام اور دھبے لگانے تک پہنچ گئی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا ان کے تمام الزامات سے پاک ہونا روز روشن کی طرح ظاہر فرما دیا، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت مرتبے والے تھے۔ ممکن نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ ان پر کوئی داغ لگنے دیتا۔
➍ بنی اسرائیل کی جانب سے موسیٰ علیہ السلام کی ایذا کا ایک نمونہ اس حدیث میں بیان ہوا ہے جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام بہت حیا والے، بہت پردے والے تھے۔ شدید حیا کی وجہ سے ان کی جلد کا کوئی حصہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ بنی اسرائیل کے ایذا دینے والوں میں سے بعض نے انھیں ایذا دی اور کہنے لگے: موسیٰ اپنا جسم اتنا سخت چھپاتے ہیں تو ضرور اس میں کوئی عیب ہے، یا برص ہے، یا خصیہ پھولا ہوا ہے، یا کوئی اور بیماری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ موسیٰ علیہ السلام کا ان چیزوں سے پاک ہونا ظاہر کرے، جو وہ ان کے متعلق کہتے تھے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ وہ اکیلے ہوئے تو اپنے کپڑے پتھر پر رکھ کر غسل کرنے لگے، جب فارغ ہوئے تو کپڑے لینے کے لیے بڑھے تو پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ اٹھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لاٹھی لی اور پتھر کے پیچھے یہ کہتے ہوئے دوڑے کہ اے پتھر! میرے کپڑے، اے پتھر! میرے کپڑے۔ یہاں تک کہ وہ پتھر بنی اسرائیل کی ایک مجلس کے پاس جا پہنچا اور انھوں نے انھیں ننگا دیکھ لیا۔ انھوں نے دیکھا کہ وہ اللہ کی پیدا کردہ مخلوق میں سب سے خوب صورت اور ان عیبوں سے بالکل بری تھے جو وہ کہتے تھے۔ الغرض! پتھر رک گیا، تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیے اور پتھر کو اپنی لاٹھی سے مارنے لگے۔ اللہ کی قسم! پتھر پر ان کے مارنے کی وجہ سے لاٹھی کے تین یا چار یا پانچ نشان پڑ گئے۔ یہ مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی: «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِيْهًا» ‏‏‏‏ [الأحزاب: ۶۹] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب: ۳۴۰۴]
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض اوقات کسی بظاہر مسلمان کی طرف سے ایذا دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کو دی جانے والی ایذا اور اس پر ان کے صبر کا ذکر فرمایا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال تقسیم کیا تو ایک آدمی کہنے لگا: اس تقسیم میں اللہ کی رضا مقصود نہیں رکھی گئی۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ غصے میں آ گئے، یہاں تک کہ میں نے آپ کے چہرے میں غصے کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَرْحَمُ اللّٰهُ مُوْسٰي قَدْ أُوْذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هٰذَا فَصَبَرَ] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب: ۳۴۰۵]اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم فرمائے، انھیں اس سے زیادہ ایذا دی گئی تو انھوں نے صبر کیا۔
➏ بعض تفاسیر میں اس ایذا کے ضمن میں مذکور ہے کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام پر ہارون علیہ السلام کے قتل کا الزام لگا دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتے بھیجے، جنھوں نے ہارون علیہ السلام کی میت اٹھا کر دکھا دی اور اس میں ایسا کوئی نشان نہیں تھا، اس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی براء ت فرما دی۔ مگر یہ قصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی نہیں، ظاہر ہے یہ اسرائیلی روایت ہے جسے ہم نہ سچا کہہ سکتے ہیں نہ جھوٹا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

69۔ 1 اس کی تفسیر حدیث میں اس طرح آئی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نہایت با حیا تھے، چناچہ اپنا جسم انہوں نے کبھی لوگوں کے سامنے ننگا نہیں کیا۔ بنو اسرائیل کہنے لگے کہ شاید موسیٰ ؑ کے جسم میں برص کے داغ یا کوئی اس قسم کی آفت ہے جس کی وجہ سے ہر وقت لباس میں ڈھکا چھپا رہتا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ ؑ تنہائی میں غسل کرنے لگے، کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ دیئے۔ پتھر (اللہ کے حکم سے) کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہوا۔ حضرت موسیٰ ؑ اس کے پیچھے پیچھے دوڑے۔ حتٰی کہ بنی اسرائیل کی ایک مجلس میں پہنچ گئے، انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کو ننگا دیکھا تو ان کے سارے شبہات دور ہوگئے۔ موسیٰ ؑ نہایت حسین و جمیل ہر قسم کے داغ اور عیب سے پاک تھے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر پتھر کے ذریعے سے ان کے اس الزام اور شبہہ سے صفائی کردی جو بنی اسرائیل کی طرف سے ان پر کیا جاتا تھا (صحیح بخاری) حضرت موسیٰ ؑ کے حوالے سے اہل ایمان کو سمجھایا جارہا ہے کہ تم ہمارے پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی اسرائیل کی طرح ایذا مت پہنچاؤ اور آپ کی بابت ایسی بات مت کرو جسے سن کر آپ قلق اور اضطراب محسوس کریں جیسے ایک موقعے پر مال غنیمت کی تقسیم میں ایک شخص نے کہا کہ اس میں عدل وانصاف سے کام نہیں لیا گیا جب آپ تک یہ الفاظ پہنچے تو غضب ناک ہوئے حتیٰ کہ آپ کا چہر مبارک سرخ ہوگیا آپ نے فرمایا موسیٰ ؑ پر اللہ کی رحمت ہو انھیں اس سے کہیں زیادہ ایذا پہنچائی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا (صحیح بخاری)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

69۔ اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں [107] نے موسیٰ کو اذیت پہنچائی تھی۔ پھر اللہ نے موسیٰ کو ان کی بنائی ہوئی باتوں سے بری کر دیا اور وہ اللہ کے ہاں بڑی عزت [108] والے تھے۔
[107] اس آیت کی تائید و توثیق درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے: سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حنین کی جنگ کا) مال غنیمت تقسیم کیا تو ایک شخص کہنے لگا: اس تقسیم سے اللہ کی رضامندی مقصود نہیں ہے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انھیں یہ بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غصہ کے اثرات نمودار ہوئے اور فرمایا: اللہ موسیٰؑ پر رحم کرے انھیں اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا۔ [بخاری۔ کتاب الجہاد باب ماکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یعطی المؤلفۃ قلوبھم وغیرھم من الخمس ونحوہ]
اور درج ذیل حدیث اس آیت کی تفسیر پیش کرتی ہے:
بنی اسرائیل کی موسیٰؑ کو ایذا رسانی:۔
سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل برہنہ غسل کیا کرتے تھے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھتا رہتا تھا۔ مگر موسیٰؑ تنہا غسل فرمایا کرتے۔ بنی اسرائیل کہنے لگے۔ واللہ موسیٰ کو ہمارے ساتھ غسل کرنے سے بجز اس کے اور کوئی بات مانع نہیں کہ وہ فتق (جلدی بیماری) میں مبتلا ہیں۔ اتفاق سے ایک دن موسیٰؑ غسل کرنے لگے تو اپنا لباس ایک پتھر پر رکھ دیا وہ پتھر ان کا لباس لے بھاگا اور سیدنا موسیٰؑ اس کے تعاقب میں یہ کہتے ہوئے دوڑے کہ ثوبی یا حجر۔ ثوبی یا حجر (اے پتھر! میرے کپڑے۔ اے پتھر! میرے کپڑے) یہاں تک بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰؑ کو (ننگے) دیکھ لیا اور کہنے لگے: واللہ! موسیٰؑ کو کوئی بیماری نہیں ہے۔ (پتھر ٹھہر گیا) موسیٰؑ نے اپنا لباس لے لیا اور پتھر کو مارنے لگے۔ ابوہریرہؓ کہتے ہیں: خدا کی قسم اس پتھر پر چھ یا سات نشان ہیں۔ [بخاری۔ کتاب الغسل۔ باب من اغتسل عریاناً]
اب ظاہر ہے کہ جو لوگ خرق عادت واقعات یا معجزات کے منکر ہیں۔ انھیں یہ تفسیر راس نہیں آسکتی۔ تاہم اس حدیث کے الفاظ میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ وہ بھی اسے تسلیم کر لیں وہ یوں کہ حجر کے معنی پتھر بھی ہیں اور گھوڑی بھی۔ (منجد) اس لحاظ سے یہ واقعہ یوں ہو گا کہ موسیٰ گھوڑی پر سوار تھے۔ کسی تنہائی کے مقام پر نہانے لگے تو گھوڑی کو کھڑا کیا اور اسی پر اپنے کپڑے رکھ دیئے۔ جب نہانے کے بعد کپڑے لینے کے لئے آگے بڑھے تو گھوڑی دوڑ پڑی اور موسیٰؑ ثوبی یا حجر کہتے اس کے پیچھے دوڑے تا آنکہ کچھ لوگوں نے آپ کو ننگے بدن دیکھ لیا کہ آپ بالکل بے داغ اور ان کی مزعومہ بیماری سے پاک ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو ان لوگوں کے الزام سے بری کر دیا۔ رہی یہ بات کہ سیدنا ابوہریرہؓ قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ پتھر پر مار کے چھ یا سات نشان ہیں تو یہ سیدنا ابوہریرہؓ کا اپنا قول ہے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جس کا ماننا حجت ہو۔ علاوہ ازیں قارون نے بھی ایک فاحشہ عورت کو کچھ دے دلا کر اس بات پر آمادہ کر لیا تھا کہ وہ سیدنا موسیٰؑ پر اپنے ساتھ زنا کی تہمت لگا دے۔ پھر جب سیدنا موسیٰؑ نے اسے اللہ کی قسم دے کر پوچھا تو اس پر کچھ ایسا رعب طاری ہوا کہ اس نے صاف انکار کر لیا کہ میں نے قارون کی انگیخت پر یہ تہمت لگائی تھی۔ اور بنی اسرائیل کا موسیٰؑ کو اس طرح دکھ پہنچانا اس لحاظ سے اور بھی شدید جرم بن جاتا ہے کہ آپ ہی کے ذریعہ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات ملی تھی۔ اور ان کی مصر میں وہی حالت تھی جو ہندوستان میں شودروں کی ہے۔ بلکہ اس سے بھی بد تر حالت میں وہاں زندگی گزار رہے تھے۔
[108] ﴿وَجِيْهًا کا دوسرا معنی ایسا آبرو اور رعب والا شخص ہے جس کے متعلق لوگوں کو کچھ اعتراض ہو بھی تو وہ اس کے منہ پر کچھ نہ کہہ سکیں اور ادھر ادھر باتیں کرتے پھریں۔ یہی لفظ اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ کے لئے استعمال فرمایا اور کہا ﴿وَجِيْهًا فِيْ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ [3: 45] یعنی عیسیٰ دنیا میں بھی وجیہ تھے اور آخرت میں بھی وجیہ ہوں گے۔ چنانچہ دنیا میں یہود ان کی پیدائش سے متعلق الزام لگاتے تھے لیکن منہ پر بات کہنے کی کوئی جرات نہ کرتا تھا۔ اس آیت میں روئے سخن غالباً منافقوں کی طرف ہے جو مسلمانوں میں ملے جلے رہتے تھے۔ ورنہ مخلص مومنوں سے یہ بات نا ممکن ہے کہ وہ اپنے مجبوب اور محسن اعظم کو دکھ پہنچائیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

موسیٰ علیہ السلام کا مزاج ٭٭
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { موسیٰ علیہ السلام بہت ہی شرمیلے اور بڑے لحاظ دار تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4799]‏‏‏‏ یہی مطلب ہے قرآن کی اس آیت کا۔ کتاب التفسیر میں تو امام صاحب رحمہ اللہ اس حدیث کو اتنا ہی مختصر لائے ہیں، لیکن احادیث انبیاء علیہم السلام کے بیان میں اسے مطول لائے ہیں۔
اس میں یہ بھی ہے کہ { وہ بوجہ سخت حیاء و شرم کے اپنا بدن کسی کے سامنے ننگا نہیں کرتے تھے۔ بنو اسرائیل آپ علیہ السلام کو ایذاء دینے کے درپے ہو گئے اور یہ افواہ اڑا دی کہ چونکہ ان کے جسم پر برص کے داغ ہیں یا ان کے بیضے بڑھ گئے ہیں یا کوئی اور آفت ہے اس وجہ سے یہ اس قدر پردے داری کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ یہ بدگمانی آپ علیہ السلام سے دور کر دے۔ ایک دن موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام تنہائی میں ننگے نہا رہے تھے، ایک پتھر پر آپ علیہ السلام نے کپڑے رکھ دیئے تھے، جب غسل سے فارغ ہو کر آئے، کپڑے لینے چاہے تو پتھر آگے کو سرک گیا۔ آپ علیہ السلام اپنی لکڑی لیے اس کے پیچھے گئے وہ دوڑنے لگا۔ آپ علیہ السلام بھی اے پتھر میرے کپڑے میرے کپڑے کرتے ہوئے اس کے پیچھے دوڑے۔ بنی اسرائیل کی جماعت ایک جگہ بیٹھی ہوئی تھی۔
جب آپ علیہ السلام وہاں تک پہنچ گئے تو اللہ کے حکم سے پتھر ٹھہر گیا۔ آپ علیہ السلام نے اپنے کپڑے پہن لیے۔ بنو اسرائیل نے آپ علیہ السلام کے تمام جسم کو دیکھ لیا اور جو فضول باتیں ان کے کانوں میں پڑی تھیں ان سے اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بری کر دیا۔ غصے میں موسیٰ علیہ السلام نے تین یا چار پانچ لکڑیاں پتھر پر ماری تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { واللہ لکڑیوں کے نشان اس پتھر پر پڑ گئے }۔ اسی برأت وغیرہ کا ذکر اس آیت میں ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3404]‏‏‏‏
یہ حدیث مسلم میں نہیں یہ روایت بہت سی سندوں سے بہت سی کتابوں میں ہے۔ بعض روایتیں موقوف بھی ہیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ موسیٰ اور ہارون علیہما السلام پہاڑ پر گئے جہاں ہارون علیہ السلام کا انتقال ہو گیا لوگوں نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف بدگمانی کی اور آپ علیہ السلام کو ستانا شروع کیا۔ پروردگار عالم نے فرشتوں کو حکم دیا اور وہ اسے اٹھا لائے اور بنو اسرائیل کی مجلس کے پاس سے گزرے اللہ نے اسے زبان دی اور قدرتی موت کا اظہار کیا۔ ان کی قبر کا صحیح نشان نامعلوم ہے صرف اس ٹیلے کا لوگوں کو علم ہے اور وہی ان کی قبر کی جگہ جانتا ہے لیکن بے زبان ہے۔‏‏‏‏
تو ہوسکتا ہے کہ ایذاء یہی ہو اور ہوسکتا ہے کہ وہ ایذاء ہو جس کا بیان پہلے گزرا۔ لیکن میں کہتا ہوں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اور یہ دونوں ہوں بلکہ ان کے سوا اور بھی ایذائیں ہوں۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ لوگوں میں کچھ تقسیم کیا اس پر ایک شخص نے کہا اس تقسیم سے اللہ کی رضا مندی کا ارادہ نہیں کیا گیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے جب یہ سنا تو میں نے کہا اے اللہ کے دشمن میں تیری اس بات کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور پہنچاؤں گا۔ چنانچہ میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر کر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہوگیا پھر فرمایا: { اللہ کی رحمت ہو موسیٰ علیہ السلام پر وہ اس سے بہت زیادہ ایذاء دے گئے لیکن صبر کیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4335]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عام ارشاد تھا کہ { کوئی بھی میرے پاس کسی کی طرف سے کوئی بات نہ پہنچائے۔ میں چاہتا ہوں کہ میں تم میں آ کر بیٹھوں تو میرے دل میں کسی کی طرف سے کوئی بات چبھتی ہوئی نہ ہو }۔ ایک مرتبہ کچھ مال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لوگوں میں تقسیم کیا۔ دو شخض اس کے بعد آپس میں باتیں کر رہے تھے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا کہ واللہ اس تقسیم سے نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی خوشی کا ارادہ کیا نہ آخرت کے گھر کا۔ میں ٹھہر گیا اور دونوں کی باتیں سنیں۔ پھر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے کہ { کسی کی کوئی بات میرے سامنے نہ لایا کرو }۔ ابھی کا واقعہ ہے کہ میں جا رہا تھا جو فلاں اور فلاں سے میں نے یہ باتیں سنیں اسے سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ غصے کے مارے سرخ ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات بہت ہی گراں گزری۔ پھر میری طرف دیکھ کر فرمایا: { عبداللہ جانے دو دیکھو موسیٰ علیہ السلام اس سے بھی زیادہ ستائے گئے لیکن انہوں نے صبر کیا } }۔ [مسند احمد:395/1:ضعیف]‏‏‏‏
قرآن فرماتا ہے موسیٰ علیہ السلام اللہ کے نزدیک بڑے مرتبے والے تھے۔ مستجاب الدعوت تھے۔ جو دعا کرتے تھے قبول ہوتی تھی۔ ہاں اللہ کا دیدار نہ ہوا اس لیے کہ یہ طاقت انسانی سے خارج تھا۔ سب سے بڑھ کر ان کی وجاہت کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کیلئے نبوت مانگی اللہ نے وہ بھی عطا فرمائی۔
فرماتا ہے «وَوَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَآ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِيًّا» ۱؎ [19-مريم:53]‏‏‏‏ ’ ہم نے اسے اپنی رحمت سے اس کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔