(آیت 65) ➊ {خٰلِدِيْنَفِيْهَاۤاَبَدًا:} پھر یہ نہیں کہ کچھ دیر رہ کر اس سے نکل آئیں گے کہ اس خیال سے بھی تکلیف کچھ کم ہو جاتی ہے، بلکہ {”خٰلِدِيْنَفِيْهَاۤ“} وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور یہ نہ سمجھو کہ {”خٰلِدِيْنَ“} کا لفظ صرف لمبی مدت کے لیے ہے، بلکہ {”اَبَدًا“} یعنی یہ ہمیشگی ابدی ہے، کبھی اس سے نکلنے والے نہیں۔ ➋ { لَايَجِدُوْنَوَلِيًّاوَّلَانَصِيْرًا:} عذاب کی ہمیشگی کی مزید تاکید کے لیے فرمایا کہ عذاب میں مبتلا آدمی کو یا تو کوئی دوست سفارش کر کے چھڑوا سکتا ہے، یا مددگار جو زبردستی چھڑوالے، مگر کفار کو وہاں کوئی دوست ملے گا نہ مددگار۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۸)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
65۔ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کوئی اپنا حامی یا مددگار نہ پائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔