ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 61

مَّلۡعُوۡنِیۡنَ ۚۛ اَیۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَ قُتِّلُوۡا تَقۡتِیۡلًا ﴿۶۱﴾
اس حال میں کہ لعنت کیے ہوئے ہوں گے، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور ٹکڑے ٹکڑے کیے جائیں گے، بری طرح ٹکڑے کیا جانا۔ En
(وہ بھی) پھٹکارے ہوئے۔ جہاں پائے گئے پکڑے گئے اور جان سے مار ڈالے گئے
En
ان پر پھٹکار برسائی گئی، جہاں بھی مل جائیں پکڑے جائیں اور خوب ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 61){ مَلْعُوْنِيْنَ اَيْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِيْلًا:} یعنی ایسے لوگ ملعون ہیں، جہاں پائے جائیں گے انھیں گرفتار کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ان آیات میں مذکورہ احکام وقتی اور عارضی نہیں، بلکہ قرآن مجید کے دوسرے احکام کی طرح قیامت تک کے لیے ہیں۔ اب بھی حکومت پر لازم ہے کہ ایسے لوگوں کا یہی علاج کرے، جو لوگ بھرے بازار سے لڑکیاں اٹھا لیں، لڑکے اٹھا کر ان سے قوم لوط کا عمل کریں، پورے معاشرے کے سامنے نکاح کے بغیر بدکار مرد عورت اکٹھے رہ کر اللہ کی حدود کو للکارتے رہیں ان کا علاج یہی ہے کہ انھیں گرفتار کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے، تاکہ دوبارہ کسی کو ایسا کرنے کی جرأت نہ ہو۔ اغوا اور ایسے دوسرے معاملات سادہ زنا کے کیس نہیں ہیں، بلکہ زنا کے علاوہ یہ فساد فی الارض کے تحت بھی آتے ہیں، جن کی سزا ایسے لوگوں کا صفایا ہے۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [لَقِيْتُ عَمِّيْ وَ مَعَهُ رَايَةٌ فَقُلْتُ لَهُ أَيْنَ تُرِيْدُ؟ قَالَ بَعَثَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰی رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيْهِ فَأَمَرَنِيْ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ وَآخُذَ مَالَهُ] [أبو داوٗد، الحدود، باب في الرجل یزني بحریمہ: ۴۴۵۷، و قال الألباني صحیح] میں اپنے چچا سے ملا، اس کے پاس جھنڈا تھا، میں نے اس سے کہا: کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا ہے کہ میں اس کی گردن اتاردوں اور اس کا مال لے لوں۔ مزید دیکھیے سورۂ مائدہ (۳۳)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

61۔ 1 یہ حکم نہیں ہے کہ ان کو پکڑ کر مار ڈالا جائے، بلکہ بددعا ہے کہ اگر وہ اپنے نفاق اور حرکتوں سے باز نہ آئے تو ان کا نہایت عبرت ناک حشر ہوگا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ حکم ہے۔ لیکن یہ منافقین نزول آیت کے بعد اپنی حرکتوں سے باز آگئے تھے، اس لئے ان کے خلاف یہ کاروائی نہیں کی گئی جس کا حکم اس آیت میں دیا گیا تھا (فتح القدیر

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

61۔ یہ لوگ ملعون ہیں جہاں بھی یہ پائے جائیں انھیں پکڑ کر بری طرح قتل کر دیا [102] جائے گا۔
[102] اس سے مراد بنو قریظہ کا انجام ہے۔ بنو نضیر کا سردار حیی بن اخطب بھی ان کے ساتھ ہی قتل ہوا تھا جس نے بنو قریظہ کو عہد شکنی پر مجبور کیا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔