وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ بِغَیۡرِ مَا اکۡتَسَبُوۡا فَقَدِ احۡتَمَلُوۡا بُہۡتَانًا وَّ اِثۡمًا مُّبِیۡنًا ﴿٪۵۸﴾
اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیف دیتے ہیں، بغیر کسی گناہ کے جو انھوں نے کمایا ہو تو یقینا انھوں نے بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھایا۔
En
اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت سے) جو انہوں نے نہ کیا ہو ایذا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا
En
اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذا دیں بغیر کسی جرم کے جو ان سے سرزد ہوا ہو، وه (بڑے ہی) بہتان اور صریح گناه کا بوجھ اٹھاتے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 58) ➊ { وَ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوْا …:} یعنی انھیں بدنام کرنے کے لیے ان کی طرف ایسے کاموں کی نسبت کرتے ہیں جو انھوں نے کیے ہی نہیں۔ یہ بہتان ہے اور بہت بڑا گناہ ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”اے اللہ کے رسول! غیبت کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ] ”تمھارا اپنے بھائی کا ذکر اس چیز کے ساتھ کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔“ کہا گیا: ”یہ بتائیں اگر میرے بھائی میں وہ چیز موجود ہو جو میں کہہ رہا ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَإِنْ كَانَ فِيْهِ مَا تَقُوْلُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ وَ إِنْ لَّمْ يَكُنْ فِيْهِ مَا تَقُوْلُ فَقَدْ بَهَتَّهُ] [أبوداوٗد، الأدب، باب في الغیبۃ: ۴۸۷۴، و قال الألباني صحیح] ”اگر اس میں وہ چیز موجود ہے جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں وہ چیز نہیں تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیعت لیتے وقت شرک، چوری، زنا اور قتل نہ کرنے کا عہد لینے کے ساتھ بہتان نہ باندھنے کا بھی عہد لیتے تھے۔ دیکھیے سورۂ ممتحنہ (۱۲)۔ سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ مِنْ أَرْبَی الرِّبَا الْاِسْتِطَالَةَ فِيْ عِرْضِ الْمُسْلِمِ بِغَيْرِ حَقٍّ] [أبوداوٗد، الأدب، باب في الغیبۃ: ۴۸۷۶، و قال الألباني صحیح] ”سود کی سب سے بڑی قسموں میں سے ایک کسی مسلمان کی عزت پر دست درازی یا زبان درازی ہے۔“ ابن کثیر نے فرمایا: ”آیت: «وَ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ …» اس وعید میں سب سے پہلے تو کفار داخل ہیں، پھر رافضی شیعہ جو صحابہ کے نقص بیان کرتے اور ان کے ذمے وہ عیب لگاتے ہیں جن سے انھیں اللہ تعالیٰ نے بری قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی جو تعریف فرمائی یہ صاف اس کے الٹ کہتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار کی تعریف کی اور ان کے متعلق بتایا کہ وہ ان سے راضی ہو گیا اور یہ جاہل اور غبی انھیں برا بھلا کہتے، ان کے نقص نکالتے اور ان کے ذمے وہ چیزیں لگاتے ہیں جو حقیقت میں انھوں نے کبھی کی ہی نہیں، یہ الٹے دلوں والے ہیں کہ جو لوگ تعریف کے لائق ہیں ان کی مذمت کرتے ہیں اور جو مذمت کے لائق ہیں ان کی تعریف کرتے ہیں۔ “ (ابن کثیر)
➋ قاسمی نے فرمایا: ”اکلیل میں ہے کہ اس آیت سے مسلمان کو ایذا دینا حرام ثابت ہوا۔ ہاں کسی شرعی وجہ سے ہو تو الگ بات ہے، جیسے کسی گناہ کی سزا اور اس میں وہ تمام چیزیں آ جاتی ہیں جو مسلمان کو ایذا کی وجہ سے حرام کی گئی ہیں، مثلاً دوسرے کی بیع پر بیع یا اس کے خِطبہ (منگنی) پر خِطبہ اور امام شافعی نے صراحت فرمائی کہ کسی شخص کے آگے سے کھانا جب اسے اس سے تکلیف ہوتی ہو، حرام ہے۔“
➋ قاسمی نے فرمایا: ”اکلیل میں ہے کہ اس آیت سے مسلمان کو ایذا دینا حرام ثابت ہوا۔ ہاں کسی شرعی وجہ سے ہو تو الگ بات ہے، جیسے کسی گناہ کی سزا اور اس میں وہ تمام چیزیں آ جاتی ہیں جو مسلمان کو ایذا کی وجہ سے حرام کی گئی ہیں، مثلاً دوسرے کی بیع پر بیع یا اس کے خِطبہ (منگنی) پر خِطبہ اور امام شافعی نے صراحت فرمائی کہ کسی شخص کے آگے سے کھانا جب اسے اس سے تکلیف ہوتی ہو، حرام ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
یعنی ان کو بدنام کرنے کے لیے ان پر بہتان باندھنا ان کی ناجائز تنقیص و توہین کرنا جیسے روافض صحابہ کرام ؓ پر سب وشتم کرتے اور ان کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جن کا ارتکاب انہوں نے نہیں کیا امام ابن کثیر فرماتے ہیں رافضی منکوس القلوب ہیں ممدوح اشخاص کی مذمت کرتے اور مذموم لوگوں کی مدح کرتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
58۔ اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو ان کے کسی قصور کے بغیر دکھ پہنچاتے ہیں تو انہوں [98] نے بہتان اور صریح گناہ کا بار اٹھا لیا۔
[98] جب مسلمان عورتیں رات کو رفع حاجت کے لئے باہر نکلتیں تو کچھ اوباش لونڈے اور منافق ان سے بے ہودہ قسم کی گفتگو اور چھیڑ چھاڑ کرتے اور جب ان سے باز پرس کی جاتی تو کہہ دیتے کہ ہم سمجھے یہ لونڈیاں ہیں۔ پھر کچھ منافق ایسے بھی تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پیچھے بد گوئی کرتے اور ازواج مطہرات پر بے ہودہ قسم کے الزام تراشتے یہ سب قسم کے لوگ تہمت تراش اور بد ترین قسم کے مجرم ہیں۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ملعون و معذب لوگ ٭٭
جو لوگ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کر کے اس کے روکے ہوئے کاموں سے نہ رک کر اس کی نافرمانیوں پر جم کر اسے ناراض کر رہے ہیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے طرح طرح کے بہتان باندھتے ہیں وہ ملعون اور معذب ہیں۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد تصویریں بنانے والے ہیں۔
بخاری و مسلم میں { فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ زمانے کو گالیاں دیتا ہے اور زمانہ میں ہوں میں ہی دن رات کا تغیر و تبدل کر رہا ہوں ‘ } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4826]
مطلب یہ ہے کہ جاہلیت والے کہا کرتے تھے ہائے زمانے کی ہلاکت اس نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور یوں کیا۔ پس اللہ کے افعال کو زمانے کی طرف منسوب کر کے پھر زمانے کو برا کہتے تھے گویا افعال کے فاعل یعنی خود اللہ کو برا کہتے تھے۔
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا تو اس پر بھی بعض لوگوں نے باتیں بنانا شروع کی تھیں۔ بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ آیت اس بارے میں اتری۔ آیت عام ہے کسی طرح بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دے وہ اس آیت کے ماتحت ملعون اور معذب ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دینی گویا اللہ کو ایذاء دینی ہے۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت عین اطاعت الٰہی ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میں تمہیں اللہ کو یاد دلاتا ہوں دیکھو اللہ کو بیچ میں رکھ کر تم سے کہتا ہوں کہ میرے اصحاب رضی اللہ عنہم کو میرے بعد نشانہ نہ بنا لینا میری محبت کی وجہ سے ان سے بھی محبت رکھنا ان سے بغض و بیر رکھنے والا مجھ سے دشمنی کرنے والا ہے۔ انہیں جس نے ایذاء دی اور جس نے اللہ کو ایذاء دی یقین مانو کہ اللہ اس کی بھوسی اڑا دے گا } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3862،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے۔
جو لوگ ایمانداروں کی طرف ان برائیوں کو منسوب کرتے ہیں۔ جن سے وہ بری ہیں وہ بڑے بہتان باز اور زبردست گناہ گار ہیں۔ اس وعید میں سب سے پہلے تو کفار داخل ہیں۔
بخاری و مسلم میں { فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ زمانے کو گالیاں دیتا ہے اور زمانہ میں ہوں میں ہی دن رات کا تغیر و تبدل کر رہا ہوں ‘ } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4826]
مطلب یہ ہے کہ جاہلیت والے کہا کرتے تھے ہائے زمانے کی ہلاکت اس نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور یوں کیا۔ پس اللہ کے افعال کو زمانے کی طرف منسوب کر کے پھر زمانے کو برا کہتے تھے گویا افعال کے فاعل یعنی خود اللہ کو برا کہتے تھے۔
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا تو اس پر بھی بعض لوگوں نے باتیں بنانا شروع کی تھیں۔ بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ آیت اس بارے میں اتری۔ آیت عام ہے کسی طرح بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دے وہ اس آیت کے ماتحت ملعون اور معذب ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دینی گویا اللہ کو ایذاء دینی ہے۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت عین اطاعت الٰہی ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میں تمہیں اللہ کو یاد دلاتا ہوں دیکھو اللہ کو بیچ میں رکھ کر تم سے کہتا ہوں کہ میرے اصحاب رضی اللہ عنہم کو میرے بعد نشانہ نہ بنا لینا میری محبت کی وجہ سے ان سے بھی محبت رکھنا ان سے بغض و بیر رکھنے والا مجھ سے دشمنی کرنے والا ہے۔ انہیں جس نے ایذاء دی اور جس نے اللہ کو ایذاء دی یقین مانو کہ اللہ اس کی بھوسی اڑا دے گا } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3862،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے۔
جو لوگ ایمانداروں کی طرف ان برائیوں کو منسوب کرتے ہیں۔ جن سے وہ بری ہیں وہ بڑے بہتان باز اور زبردست گناہ گار ہیں۔ اس وعید میں سب سے پہلے تو کفار داخل ہیں۔
پھر رافضی شیعہ جو صحابہ رضی اللہ عنہم پر عیب گیری کرتے ہیں اور اللہ نے جن کی تعریفیں کی ہیں یہ انہیں برا کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ ’ وہ انصار و مہاجرین سے خوش ہے ‘۔
قرآن کریم میں جگہ جگہ ان کی مدح و ستائش موجود ہے۔ لیکن یہ بے خبر کند ذہن انہیں برا کہتے ہیں ان کی مذمت کرتے ہیں اور ان میں وہ باتیں بتاتے ہیں جن سے وہ بالکل الگ ہیں۔ حق یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کے دل اوندھے ہو گئے ہیں اس لیے ان کی زبانیں بھی الٹی چلتی ہیں۔ قابل مدح لوگوں کی مذمت کرتے ہیں اور مذمت والوں کی تعریفیں کرتے ہیں۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ غیبت کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { تیرا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا جسے اگر وہ سنے تو اسے برا معلوم ہو }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ اگر وہ بات اس میں ہو تب؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جبھی تو غیبت ہے ورنہ بہتان ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4874،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے سوال کیا کہ { سب سے بڑی سود خوری کیا ہے؟ } انہوں نے کہا کہ اللہ جانے اور اللہ کا رسول۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سب سے بڑا سود اللہ کے نزدیک کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا» کی تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [شعب الإيمان:393/4]
قرآن کریم میں جگہ جگہ ان کی مدح و ستائش موجود ہے۔ لیکن یہ بے خبر کند ذہن انہیں برا کہتے ہیں ان کی مذمت کرتے ہیں اور ان میں وہ باتیں بتاتے ہیں جن سے وہ بالکل الگ ہیں۔ حق یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کے دل اوندھے ہو گئے ہیں اس لیے ان کی زبانیں بھی الٹی چلتی ہیں۔ قابل مدح لوگوں کی مذمت کرتے ہیں اور مذمت والوں کی تعریفیں کرتے ہیں۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ غیبت کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { تیرا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا جسے اگر وہ سنے تو اسے برا معلوم ہو }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ اگر وہ بات اس میں ہو تب؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جبھی تو غیبت ہے ورنہ بہتان ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4874،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے سوال کیا کہ { سب سے بڑی سود خوری کیا ہے؟ } انہوں نے کہا کہ اللہ جانے اور اللہ کا رسول۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سب سے بڑا سود اللہ کے نزدیک کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا» کی تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [شعب الإيمان:393/4]