ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 56

اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا ﴿۵۶﴾
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اس پر صلوٰۃ بھیجو اور سلام بھیجو، خوب سلام بھیجنا۔ En
خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو
En
اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 56) ➊ {اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىِٕكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ …:} لفظ {صلاة} کی تفسیر اس سے پہلے آیت (۴۳) میں گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت سے اور فرشتوں اور مومنوں کی نسبت سے {صلاة} کا کیا معنی ہے۔ اس سورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہونے والی کئی خصوصیات کا ذکر فرمایا، مثلاً آپ کا مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھنا، آپ کے لیے چار سے زیادہ بیویوں کا حلال ہونا، آپ کا خاتم النّبیین ہونا، آپ کی بیویوں کا امہات المومنین ہونا، ان کے حجاب و احترام کا خصوصی اہتمام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی ازواج سے نکاح کی حرمت وغیرہ۔{ اِنَّ } کا لفظ عموماً تعلیل کے لیے، یعنی پہلی باتوں کی علت بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔ زیر تفسیر آیت میں مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان بلند مراتب کا خاص خیال رکھنے اور ان کے تحفظ و احترام کا حکم دینے کی وجہ ذکر فرمائی۔ ابن کثیر فرماتے ہیں: مقصود اس آیت سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ملأ اعلیٰ یعنی آسمانوں کی بلند مجلس میں اپنے بندے اور نبی کے مرتبہ و منزلت کی بلندی کی خبر دے رہا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ آپ کی تعریف و ثنا کرتا اور آپ پر رحمتیں اور برکتیں نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے بھی آپ کے لیے رحمت و مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کرتے ہیں۔ آسمانوں والوں کی خبر دے کر اب زمین والوں کو حکم دیتا ہے کہ تم بھی آپ پر صلاۃ و سلام بھیجو، تاکہ آپ کی تعریف و ثنا پر اور آپ کے لیے مغفرت و رحمت اور برکت کی دعا پر عالم علوی (آسمانوں والے) اور عالم سفلی (زمین والے) سب متحد ہو جائیں۔
➋ آیت کے آخری الفاظ سے ظاہر ہے کہ کلام میں کچھ الفاظ حذف ہیں، جو خود بخود معلوم ہو رہے ہیں، یعنی { صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا } سے ظاہر ہے کہ آیت کی ابتدا اس طرح ہے: { إِنَّ اللّٰهَ وَ مَلَائِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَي النَّبِيِّ وَ يُسَلِّمُوْنَ} اسے احتباک کہتے ہیں اور یہ کلامِ الٰہی کے حسن کا ایک مظہر ہے۔ (بقاعی) انبیاء علیھم السلام پر اللہ تعالیٰ کے سلام کا ذکر قرآن میں الگ الگ بھی آیا ہے، جیسے: «‏‏‏‏سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِي الْعٰلَمِيْنَ» ‏‏‏‏، «‏‏‏‏وَ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِيْمَ» ‏‏‏‏ وغیرہ اور اکٹھا بھی آیا ہے، جیسے: «‏‏‏‏وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ» ‏‏‏‏ [دیکھیے الصافات: ۷۹، ۱۰۹، ۱۸۱]
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ پر صلاۃ کے لیے کئی الفاظ مروی ہیں، جو سبھی اس مقصد کے لیے پڑھے جا سکتے ہیں۔ ان میں زیادہ مشہور کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں: [سَأَلْنَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَقُلْنَا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! كَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ؟ فَإِنَّ اللّٰهَ قَدْ عَلَّمَنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ، قَالَ قُوْلُوْا اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی إِبْرَاهِيْمَ وَ عَلٰی آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ، اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب: ۳۳۷۰] ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: ہم نے کہا: آپ اہلِ بیت (گھر والوں) پر صلاۃ کس طرح ہے؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ تو سکھا دیا ہے کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یوں کہو کہ اے اللہ! محمد اور آل محمد پر صلاۃ بھیج، جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر صلاۃ بھیجی، بے شک تو تعریف کیا ہوا بزرگی والا ہے اور اے اللہ! محمد اور آل محمد پر برکتیں نازل فرما، جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائیں، بے شک تو تعریف کیا ہوا ہے، بزرگی والا ہے۔ اس حدیث اور دوسری احادیث میں صحابہ کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سکھا دیا ہے کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں، اس سلام سے مراد نماز کے تشہد میں سلام کی تعلیم ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [عَلَّمَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ، وَ كَفِّيْ بَيْنَ كَفَّيْهِ، التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّوْرَةَ مِنَ الْقُرْآنِ: اَلتَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا النَّبِيُّ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَكَاتُهُ، اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَ عَلٰی عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْنَ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ] [بخاري، الاستئذان، باب الأخذ بالیدین: ۶۲۶۵] مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد اس طرح سکھایا جس طرح مجھے قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے، اس وقت میری ہتھیلی آپ کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تھی: تمام قولی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں اور تمام بدنی عبادتیں اور تمام مالی عبادتیں، سلام ہو تجھ پر اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے صالح بندوں پر، میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اس کا بندہ اور اس کا رسول ہے۔
جس طرح اس حدیث سے ظاہر ہے کہ آیت میں { سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا } پر عمل کی تعلیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں تشہد کے اندر سلام کے الفاظ کے ساتھ دی ہے، اسی طرح صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلاۃ کے بھی وہی الفاظ سیکھنے کی درخواست کی جو نماز میں پڑھے جائیں۔ چنانچہ ابو مسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتّٰی جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَ نَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! اَمَّا السَّلَامُ عَلَيْكَ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ فَكَيْفَ نُصَلِّيْ عَلَيْكَ إِذَا نَحْنُ صَلَّيْنَا فِيْ صَلَاتِنَا صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْكَ؟ قَالَ فَصَمَتَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ حَتّٰی أَحْبَبْنَا أَنَّ الرَّجُلَ لَمْ يَسْأَلْهُ فَقَالَ إِذَا أَنْتُمْ صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ فَقُوْلُوْا اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی إِبْرَاهِيْمَ وَ آلِ إِبْرَاهِيْمَ وَ بَارِكْ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ كَمَا بَارَكْتَ عَلیٰ إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ] [مسند أحمد: 119/4، ح: ۱۷۰۷۶، مسند احمد کے محقق نے بارہ کتب حدیث سے اس حدیث کا حوالہ نقل کر کے اس کی صحت بیان فرمائی ہے] ایک آدمی آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپ پر سلام کو تو ہم جان چکے، اب ہم آپ پر صلاۃ کیسے بھیجیں، جب ہم اپنی نماز میں صلاۃ بھیجیں، اللہ تعالیٰ آپ پر صلاۃ نازل فرمائے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے، حتیٰ کہ ہم نے چاہا کہ یہ شخص یہ سوال نہ کرتا کہ اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مجھ پر صلاۃ بھیجو تو اس طرح کہو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃ کے ان الفاظ کی تعلیم دی جو اوپر حدیث میں مذکور ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے حکم {صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا } سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پر عمل کے لیے تشہد میں سلام اور صلاۃ کے الفاظ کی بہ نفس نفیس تعلیم سے ظاہر ہے کہ کم از کم نماز میں یہ صلاۃ و سلام پڑھنا ضروری ہے۔ بعض حضرات کی اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ صلاۃ و سلام زندگی میں صرف ایک دفعہ فرض ہے۔ بلکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ کلمۂ شہادت بھی زندگی میں صرف ایک دفعہ قبولِ اسلام کے وقت پڑھنا فرض ہے۔ حالانکہ صلاۃ کے علاوہ کلمہ شہادت پڑھنے کا حکم بھی ہر تشہد میں، اذان کا جواب دینے میں اور دوسرے کئی مقامات پر آیا ہے۔ اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ یہ لوگ زندگی میں صرف ایک دفعہ کلمہ اور درود پڑھنا فرض ہونے پر امت کے اجماع کا دعویٰ کرتے ہیں، حالانکہ انھیں خوب معلوم ہے کہ کتنے جلیل القدر ائمہ نے نماز میں درود و سلام کو فرض تسلیم کیا ہے، پھر بھی اپنے غلط دعویٔ اجماع پر اصرار کرتے چلے جاتے ہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں ایسے کئی مواقع مذکور ہیں جہاں درود پڑھنے کا حکم ہے۔
➍ بہت سی احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر آنے پر صلاۃ بھیجنے کی تاکید آئی ہے۔ علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْبَخِيْلُ الَّذِيْ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ] [ترمذي، الدعوات، باب رغم أنف رجل ذکرت عندہ…: ۳۵۴۶] بخیل وہ ہے جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے تو وہ مجھ پر صلاۃ نہ پڑھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ وَ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ وَ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ عِنْدَهُ أَبَوَاهُ الْكِبَرَ فَلَمْ يُدْخِلاَهُ الْجَنَّةَ] [ترمذي، الدعوات، باب رغم أنف رجل ذکرت عندہ…: ۳۵۴۵، و قال الألباني حسن صحیح] اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے تو وہ مجھ پر صلاۃ نہ بھیجے اور اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس پر ماہ رمضان آئے، پھر وہ اس کی بخشش ہونے سے پہلے گزر جائے اور اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے والدین اس کے پاس بڑھاپے کو پائیں پھر وہ اسے جنت میں داخل نہ کروائیں۔ ان احادیث کی رو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر پر صلاۃ پڑھنا لازم ہے، اگرچہ آپ کا نام آنے پر ہر مرتبہ صلاۃ پڑھنی چاہیے اور محدثین کا یہی قول ہے، تاہم کسی مجلس میں آپ کا نام آنے پر اگر ایک مرتبہ صلاۃ پڑھ لے تو امید ہے کہ صلاۃ نہ پڑھنے کی وعید سے بچ جائے گا۔ جیسا کہ امام ترمذی نے بعض اہلِ علم سے نقل فرمایا ہے، کیونکہ حدیث کے الفاظ میں اس کی گنجائش موجود ہے اور آگے فائدہ (۶) میں مذکور دوسری حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
➎ نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جن الفاظ میں صلاۃ پڑھی جاتی ہے نماز کے علاوہ بھی انھی الفاظ میں پڑھی جائے گی، مگر اس کے علاوہ مختصر الفاظ میں بھی پڑھی جا سکتی ہے، جیسا کہ تمام صحابہ کرام جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے یا آپ کا نام لیتے تھے تو {صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ} کے الفاظ ادا کرتے تھے، جیسا کہ تمام کتب احادیث کی تمام احادیث سے ثابت ہے۔ اگر ہر محدث نے اپنے استاذ سے حتیٰ کہ تابعی نے صحابی سے یہ الفاظ نہ سنے ہوتے تو وہ نقل نہ فرماتے، کیونکہ وہ نقل میں نہایت امین تھے، بلکہ ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گزرے ہوئے کسی وقت کو یاد کرتے تو یہی مختصر صلاۃ پڑھتے تھے۔ چنانچہ بخاری میں ہے کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنھما کے مولیٰ عبداللہ نے بیان کیا: [أَنَّهُ كَانَ يَسْمَعُ أَسْمَاءَ تَقُوْلُ كُلَّمَا مَرَّتْ بِالْحَجُوْنِ: صَلَّی اللّٰهُ عَلٰی رَسُوْلِهِ مُحَمَّدٍ لَقَدْ نَزَلْنَا مَعَهُ هَاهُنَا، وَ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خِفَافٌ] [بخاري، العمرۃ، باب متی یحل المعتمر؟: ۱۷۹۶] اسماء رضی اللہ عنھا جب بھی حجون کے پاس سے گزرتیں تو یہ کہتیں {صَلَّي اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهِ مُحَمَّدٍ} ہم آپ کے ساتھ یہاں اترے تھے، ان دنوں ہم ہلکی پھلکی تھیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر خیر کے وقت {صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ} کے الفاظ پر صحابہ کرام کا اجماع ہے۔ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کے صیغے کے ساتھ {الصلاة} کا لفظ، مثلاً {اَلصَّلَاةُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا کسی صحابی سے ثابت نہیں، کیونکہ مخلوق کے پاس صلاۃ (رحمت و برکت) ہے ہی نہیں، اس لیے وہ اللہ تعالیٰ ہی سے اسے نازل کرنے کی دعا کر سکتے ہیں۔
➏ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ کی فضیلت اور نہ پڑھنے کی وعید میں بہت سی احادیث مروی ہیں، یہاں دو حدیثیں نقل کی جاتی ہیں: (1) عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا يَقُوْلُ ثُمَّ صَلُّوْا عَلَيَّ فَإِنَّهُ مَنْ صَلّٰی عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا] [مسلم، الصلاۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن…: ۳۸۴] جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے، پھر مجھ پر صلاۃ پڑھو، کیونکہ جو مجھ پر ایک بار صلاۃ پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس پر دس دفعہ صلاۃ بھیجتا ہے۔ (2) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللّٰهَ فِيْهِ وَ لَمْ يُصَلُّوْا عَلٰی نَبِيِّهِمْ إِلاَّ كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ] [ترمذي، الدعوات، باب ما جاء في القوم یجلسون…: ۳۳۸۰، و قال الألباني صحیح] کوئی قوم کسی مجلس میں نہیں بیٹھی جس میں انھوں نے نہ اللہ کا ذکر کیا اور نہ اپنے نبی پر صلاۃ بھیجی، مگر وہ (مجلس) قیامت کے دن ان کے لیے باعث حسرت ہو گی، پھر اگر اس نے چاہا تو انھیں سزا دے گا اور اگر چاہا تو انھیں بخش دے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

56۔ 1 اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مرتبہ و منزلت کا بیان ہے جو (آسمانوں) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے اور یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ثنا و تعریف کرتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں بھیجتا ہے اور فرشتے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بلندی درجات کی دعا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے عالم سفلی (اہل زمین) کو حکم دیا کہ وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ اور سلام بھیجیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں علوی اور سفلی دونوں عالم متحد ہوجائیں۔ حدیث میں آیا ہے صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ! سلام کا طریقہ تو ہم جانتے ہیں (یعنی التحیات میں السلام علیک ایھا النبی! پڑھتے ہیں) ہم درود کس طرح پڑھیں؟ اس پر آپ نے وہ درود ابراہیمی بیان فرمایا جو نماز میں پڑھا جاتا ہے (صحیح بخاری) علاوہ ازیں احادیث میں درود کے اور بھی صیغے آتے ہیں جو پڑھے جاسکتے ہیں۔ نیز مختصرا صلی اللہ علی رسول اللہ وسلم بھی پڑھا جاسکتا ہے تاہم الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اللہ وسلم! پڑھنا اس لیے صحیح نہیں کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب ہے اور یہ صیغہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عام درود کے وقت منقول نہیں ہے اور تحیات میں السلام علیک ایھا النبی! چونکہ آپ سے منقول ہے اس وجہ سے اس وقت میں پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں مزید برآں اس کا پڑھنے والا اس فاسد عقیدے سے پڑھتا ہے کہ آپ اسے براہ راست سنتے ہیں یہ عقیدہ فاسدہ قرآن و حدیث کے خلاف ہے اور اس عقیدے سے مذکورہ خانہ ساز درود پڑھنا بھی بدعت ہے جو ثواب نہیں گناہ ہے احادیث میں درود کی بڑی فضیلت وارد ہے نماز میں اس کا پڑھنا واجب ہے یا سنت؟ جمہور علماء اسے سنت سمجھتے ہیں اور امام شافعی اور بہت سے علماء واجب اور احادیث سے اس کے وجوب ہی کی تائید ہوتی ہے اسی طرح احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح آخری تشہد میں درود پڑھنا واجب ہے پہلے تشہد میں بھی درود پڑھنے کی وہی حیثیت ہے اس لیے نماز کے دونوں تشہد میں درود پڑھنا ضروری اس کے دلائل مختصراحسب ذیل ہیں ایک دلیل یہ ہے کہ مسند احمد میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یارسول اللہ آپ پر سلام کس طرح پڑھنا ہے یہ تو ہم نے جان لیا (کہ ہم تشہد میں السلام علیک پڑھتے ہیں) لیکن جب ہم نماز میں ہوں تو آپ پر درود کس طرح پڑھیں؟ تو آپ نے درود ابراہیمی کی تلقین فرمائی (الفتح الربانی) مسند احمد کے علاوہ یہ روایت صحیح ابن حبان، سنن کبری بیہقی، مستدرک حاکم اور ابن خزیمہ میں بھی ہے اس میں صراحت ہے کہ جس طرح سلام نماز میں پڑھا جاتا ہے یعنی تشہد میں اسی طرح یہ سوال بھی نماز کے اندر درود پڑھنے سے متعلق تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درود ابراہیمی پڑھنے کا حکم فرمایا۔ جس سے معلوم ہوا کہ نماز میں سلام کے ساتھ درود بھی پڑھنا چاہیے اور اس کا مقام تشہد ہے اور حدیث میں یہ عام ہے اسے پہلے یا دوسرے تشہد کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا ہے جس سے یہ استدلال کرنا صحیح ہے کہ (پہلے اور دوسرے) دونوں تشہد میں سلام اور درود پڑھا جائے اور جن روایات میں تشہد کا بغیر درود کے ذکر ہے انھیں سورة احزاب کی آیت صلوا علیہ وسلم وا کے نزول سے پہلے پر محمول کیا جائے گا لیکن اس آیت کے نزول یعنی 5 ہجری کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے استفسار پر درود کے الفاظ بھی بیان فرمادیئے تو اب نماز میں سلام کے ساتھ صلوۃ (درودشریف) کا پڑھنا بھی ضروری ہوگیا چاہے وہ پہلا تشہد ہو یا دوسرا اس کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ حضرت عائشہ نے بیان فرمایا کہ (بعض دفعہ) رات کو 9 رکعات ادا فرماتے آٹھویں رکعت میں تشہد بیٹھتے تو اس میں اپنے رب سے دعا کرتے اور اس کے پیغمبر پر درود پڑھتے پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہوجاتے اور نویں رکعت پوری کر کے تشہد میں بیٹھتے تو اپنے رب سے دعا کرتے اور اس کے پیغمبر پر درود پڑھتے اور پھر دعا کرتے پھر سلام پھیر دیتے (السنن الکبری مزید ملائظہ ہو صفۃ صلات النبی للألبانی) اس میں بالکل صراحت ہے کہ نبی نے اپنی رات کی نماز میں پہلے اور آخری دونوں تشہد میں درود پڑھا ہے یہ اگرچہ نفلی نماز کا واقعہ ہے لیکن مذکورہ عمومی دلائل کی آپ کے اس عمل سے تائید ہوجاتی ہے اس لیے اسے صرف نفلی نماز تک محدود کردینا صحیح نہیں ہوگا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

56۔ اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود و سلام [96] بھیجا کرو۔
[96] اس زمانہ میں کفار اور منافقین آپ پر طرح طرح کی الزام تراشیاں کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ خود اپنے نبی پر رحمتوں کی بارش کر رہا ہے۔ فرشتے بھی اس کے حق میں دعائے رحمت و برکت کرتے ہیں۔ تو پھر ان لوگوں کے بے ہودہ بکواس سے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ساتھ ہی مومنوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس نبی پر بکثرت درود یا دعائے رحمت و مغفرت اور سلامتی کی دعا کیا کرو۔ وہ الزام تراشیاں تو وقتی اور عارضی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسا طریقہ بتا دیا کہ تا قیامت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلامتی اور رحمت و مغفرت کی دعائیں مانگی جایا کریں۔ اور ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند رہا کرے۔ اس سلسلہ میں درج ذیل دو احادیث بھی ملاحظہ فرما لیجئے: آپ پر درود و سلام کیوں ضروری ہے؟
1۔ ابو العالیہ نے کہا کہ اللہ کی صلوٰۃ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں میں آپ کی تعریف کرتا ہے اور فرشتوں کی صلوٰۃ سے دعا مراد ہے۔ اور ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ یصلون کا معنی یہ ہے کہ برکت کی دعا کرتے ہیں۔ [بخاري۔ كتاب التفسير۔ عنوان باب]
2۔ سیدنا کعبؓ بن عجرہ کہتے ہیں کہ صحابہؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ پر سلام کرنا تو ہم کو معلوم ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کیسے بھیجیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوں کہو: (اللھم صل علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کما صلیت علیٰ ابراہیم انک حمید مجید۔ اللھم بارک علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کما بارکت علیٰ ابراہیم انک حمید مجید) اور یزید بن ھاد کی روایت میں علی ابراہیم کے بعد دونوں جگہ علیٰ آل ابراہیم کے الفاظ بھی ہیں۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
درود و سلام کی اصل بنیاد یہ ہے کہ ہر مومن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہی ایمان کی نعمت نصیب ہوئی۔ اور ایمان اتنی بڑی نعمت ہے کہ دین و دنیا کی کوئی نعمت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور اس نعمت کا احسان مومن کبھی اتار نہیں سکتے۔ تاہم ایمانداروں کو اتنا ضرور کرنا چاہئے کہ وہ اپنے اس محسن اعظم کی محبت سے سرشار ہوں اور اس کے حق میں دعائے رحمت و برکت اور مغفرت کیا کریں۔ اس سے ان کے اپنے بھی درجات بلند ہوں گے اور ہر دفعہ درود پڑھنے کے عوض اللہ ان پر دس گناہ درود یا اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا۔ [مسلم۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب الصلوٰۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعد التشہد]
سلموا تسلیما کے دو مطلب :۔
سلّموا تسلیما کے بھی دو معنے ہیں۔ ایک تو درج بالا حدیث سے واضح ہے کہ اس کے لئے سلامتی کی دعا کیا کریں۔ اور اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ دل و جان سے اس کے آگے سر تسلیم خم کر دیں۔ جیسا کہ سورۃ نساء کی آیت نمبر 65 میں ان الفاظ کے یہی معنی مراد ہیں۔
صلوٰۃ و سلام کے فضائل :۔
درود و سلام پڑھنے کے فضائل میں اب چند مزید احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایک بار مجھ پر درود بھیجے گا تو اللہ اس پر دس رحمتیں بھیجے گا۔ اس کے دس گناہ معاف کئے جائیں گے اور دس درجے بلند کئے جائیں گے۔ [حواله ايضاً]
2۔ سیدنا ابیؓ بن کعب فرماتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ پر بکثرت درود بھیجتا ہوں۔ میں اپنی دعا کا کتنا حصہ درود کے لئے مقرر کروں؟ فرمایا: جتنا تو چاہے۔ میں نے کہا: ایک چوتھائی؟ فرمایا ”جتنا تو چاہے اور اگر زیادہ کرے تو تیرے حق میں بہتر ہے“ میں نے کہا: آدھا حصہ؟ فرمایا: ”جتنا تو چاہے اور اگر زیادہ کر لے تو تیرے حق میں بہتر ہے“ پھر میں نے پوچھا: ”دو تہائی؟“ فرمایا: ”جتنا تو چاہے اور اگر زیادہ کرے تو تیرے لئے بہتر ہے“ پھر میں نے کہا: میں اپنی دعا کا سارا وقت آپ پر درود کے لئے مقرر کر لیتا ہوں۔ فرمایا: ”اب تو اپنے غم سے کفایت کیا جائے گا اور تیرے گناہ تجھ سے دور کر دیئے جائیں گے“ [ترمذی۔ بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب الصلوٰۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فصل ثانی]
3۔ سیدنا عمر بن خطابؓ فرماتے ہیں: جب تک تو اپنے نبی پر درود نہ بھیجے دعا زمین و آسمان کے درمیان موقوف رہتی ہے اور اوپر نہیں چڑھتی۔ [ترمذی۔ بحوالہ مشکوٰۃ۔ باب الصلوٰۃ علی النبی۔ فصل ثانی]
4۔ سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص بڑا بخیل ہے جس کے پاس میرا ذکر ہوا پھر اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا“ [ترمذي۔ بحواله مشكوٰة ايضاً]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

صلوۃ و سلام کی فضیلت ٭٭
صحیح بخاری شریف میں ابوالعالیہ سے مروی ہے کہ اللہ کا اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا اپنے فرشتوں کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ثناء و صفت کا بیان کرنا ہے اور فرشتوں کا درود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعا کرنا ہے۔‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی برکت کی دعا۔‏‏‏‏ اکثر اہل علم کا قول ہے کہ اللہ کا درود رحمت ہے فرشتوں کا درود استغفار ہے۔‏‏‏‏ عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کی صلوٰۃ «سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ , سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي» ہے۔
مقصود اس آیت شریفہ سے یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر و منزلت عزت و مرتبت لوگوں کی نگاہوں میں جچ جائے وہ جان لیں کہ خود اللہ تعالیٰ آپ کا ثناء خواں ہے اور اس کے فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ ملاء اعلیٰ کی یہ خبر دے کر اب زمین والوں کو حکم دیتا ہے کہ ’ تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجا کرو تاکہ عالم علوی اور عالم سفلی کے لوگوں کا اس پر اجتماع ہو جائے ‘۔
موسیٰ علیہ السلام سے بنی اسرائیل نے پوچھا تھا کہ کیا اللہ تم پر صلٰواۃ بھیجتا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ ’ ان سے کہدو کہ ہاں اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں اور رسولوں پر رحمت بھیجتا رہتا ہے ‘۔ اسی کی طرف اس آیت میں بھی اشارہ ہے دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ’ یہی رحمت اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر بھی نازل فرماتا ہے ‘، ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا» [33-الأحزاب:41-43]‏‏‏‏، یعنی ’ اے ایمان والو تم اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرتے رہا کرو اور صبح شام اس کی تسبیح بیان کیا کرو وہ خود تم پر درود بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی ‘۔
اور آیت میں ہے «وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أُولَـٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ» ۱؎ [2-البقرة:155-157]‏‏‏‏، ’ صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے۔ جنہیں جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ۱؎ [2-البقرة:156]‏‏‏‏، پڑھتے ہیں۔ ان پر ان کے رب کی طرف سے درود نازل ہوتے ہیں ‘۔
حدیث شریف میں ہے { اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے صفوں کی داہنی طرف والوں پر صلٰواۃ بھیجتے رہتے ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:676، قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏ دوسری حدیث میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک شخص کے لیے یہ دعا مروی ہے کہ { «اللَّهُمَّ، صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى» اے اللہ آلِ ابی اوفی پر اپنی رحمت نازل فرما } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1497]‏‏‏‏
{ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ میرے لیئے اور میرے خاوند کے لیے صلٰواۃ بھیجئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ، وَعَلَى زَوْجِكَ» اللہ تجھ پر اور تیرے خاوند پر درود نازل فرمائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1533، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
درود شریف کے بیان کی بہت سی حدیثیں ہیں جن میں تھوڑی ہم یہاں وارد کرتے ہیں۔ «وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ» بخاری شریف میں ہے، { آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام کرنا تو جانتے ہیں، صلٰواۃ کا طریقہ کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { التحیات کے بعد کے دونوں درود بتلائے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6357]‏‏‏‏ لیکن دونوں میں «وَعَلَى آَلِ إِبْرَاهِيْمَ» کا لفظ نہیں ہے۔ ایک اور روایت میں ہے «آَلِ إِبْرَاهِيْمَ» کا لفظ نہیں۔
اور روایت میں پہلا درود تو پہلے لفظوں کے ساتھ ہے اور دوسرا کچھ تغیر کے ساتھ۔ عبدالرحمٰن بن ابی لیلی آخر میں «وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ» بھی کہتے تھے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:483،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏۔
جس سلام کی یہاں ذکر ہے، وہ التحیات میں «اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُهَا النَّبِيُ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَبَرَکَاتُهُ» ہے۔ یہ التحیات آپ صلی اللہ علیہ وسلم مثل قرآن کی سورت سکھایا کرتے تھے۔ ایک روایت میں { «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَ نَبِیِّکَ وَ رَسُوْلِکَ» بھی ہے اور پچھلے درود میں قدرے تغیر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4798]‏‏‏‏
ایک روایت میں درود کے الفاظ یہ ہیں { «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ»۱؎ [صحیح بخاری:3369]‏‏‏‏ بعض روایتوں میں «عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ» کے بعد «فِي الْعَالَمِينَ» کا لفظ بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:906]‏‏‏‏
ایک روایت میں سوال میں یہ لفظ بھی ہیں کہ درود نماز میں ہم کس طرح پڑھیں۔ ۱؎ [مسند احمد:119/4:صحیح]‏‏‏‏
امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ نماز کے آخری تشہد میں اگر کسی نے درود نہیں پڑھا تو اس کی نماز صحیح نہیں ہوگی۔ درود کا پڑھنا اس جگہ واجب ہے۔‏‏‏‏
بعض متاخرین نے اس مسئلے میں امام صاحب کا رد کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ صرف انہی کا قول اور اس کے خلاف اجماع ہے حالانکہ یہ غلط ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے یہی کہا ہے مثلاً سیدنا ابن مسعود، سیدنا ابومسعود بدری، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم۔
تابعین میں بھی اس مذہب کے لوگ گزرے ہیں جیسے شعمی، ابو جعفر باقر، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم وغیرہ اور شافعیہ کا سب کا تو یہی مذہب ہے۔ امام احمدرحمہ اللہ کا بھی آخری قول یہی ہے۔ جیسے ابوزرعہ دمشقی رحمہ اللہ کا بیان ہے، اسحٰق بن راہویہ رحمہ اللہ، امام محمد بن ابراہیم فقیہ رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں۔ بلکہ بعض حنبلی آئمہ نے یہی کہا ہے کہ کم از کم «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» کا نماز میں کہنا واجب ہے جیسے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے سوال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی اور ہمارے بعض ساتھیوں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر درود بھیجنا بھی واجب کہا ہے۔
الغرض درود کا نماز میں واجب ہونے کا قول بہت ظاہر ہے اور حدیث میں اس کی دلیل بھی موجود ہے اور سلف و خلف میں امام شافعی رحمہ اللہ کے علاوہ اور آئمہ بھی اس کے قائل رہے ہیں۔ پس یہ کہنا کسی طرح صحیح نہیں کہ امام صاحب ہی کا یہ قول ہے اور یہ خلاف اجماع ہے۔ اس کی تائید اس صحیح حدیث سے بھی ہوتی ہے جو مسند احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابنِ خزیمہ، ابنِ حبان وغیرہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے تھے۔ ایک شخص نے بغیر اللہ کی حمد و ثنأ کیئے اور بغیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم درود پڑھے اپنی نماز میں دعا کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس نے بہت جلدی کی }، پھر اسے بلا کر فرمایا: یا کسی اور کو فرمایا کہ { جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو پہلے اللہ کی تعریفیں بیان کرے، پھر درود پڑھے، پھر جو چاہے دعا مانگے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1481،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ابنِ ماجہ میں ہے کہ { جس کا وضو نہیں، اس کی نماز نہیں۔ جو وضو میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» نہ کہے، اس کا وضو نہیں۔ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھے، اس کی نماز نہیں۔ جو انصار سے محبت نہ رکھے، اس کی نماز نہیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:400،قال الشيخ الألباني:منکر]‏‏‏‏ اس کی سند میں عبدالمہیمن نامی راوی متروک ہے۔
طبرانی میں یہ روایت ان کے بھائی سے مروی ہے لیکن اس میں بھی نظر ہے اور معروف روایت پہلی ہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مسند میں ہے کہ { ہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام کہنا تو جانتے ہیں درود سکھا دیجیئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یوں کہو «اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا جَعَلْتَهَا عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» } }۔ ۱؎ [مسند احمد:353/3:ضعیف]‏‏‏‏ اس کا ایک راوی ابوداؤد اعمیٰ جس کا نام نفیع بن حارث ہے وہ متروک ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے لوگوں کو اس دعا کا سکھانا بھی مروی ہے، «اللَّهُمَّ دَاحِي الْمَدْحُوَّات وَبَارِئ الْمَسْمُوكَات وَجَبَّار الْقُلُوب عَلَى فِطْرَتهَا شَقِيّهَا وَسَعِيدهَا اِجْعَلْ شَرَائِف صَلَوَاتك وَنَوَامِي بَرَكَاتك وَرَأْفَة تَحَنُّنِك عَلَى مُحَمَّد عَبْدك وَرَسُولِك الْفَاتِح لِمَا أُغْلِقَ وَالْخَاتَم لِمَا سَبَقَ وَالْمُعْلِن الْحَقّ بِالْحَقِّ وَالدَّامِغ لِجَيْشَاتِ الْأَبَاطِيل كَمَا حَمَلَ فَاضْطَلَعَ بِأَمْرِك بِطَاعَتِك مُسْتَوْفِزًا فِي مَرْضَاتك غَيْر نَكِل فِي قَدَم وَلَا وَهَن فِي عَزْم وَاعِيًا لِوَحْيِك حَافِظًا لِعَهْدِك مَاضِيًا عَلَى نَفَاذ أَمْرك حَتَّى أَوْرَى قَبَسًا لِقَابِس , آلَاء اللَّه تَصِل بِأَهْلِهِ أَسْبَابه بِهِ هُدِيَتْ الْقُلُوب بَعْد خَوْضَات الْفِتَن وَالْإِثْم وَأَبْهَج مُوَضِّحَات الْأَعْلَام وَنَائِرَات الْأَحْكَام وَمُنِيرَات الْإِسْلَام فَهُوَ أَمِينك الْمَأْمُون وَخَازِن عِلْمك الْمُخْزُونَ وَشَهِيدك يَوْم الدِّين وَبَعِيثُك نِعْمَة وَرَسُولُك بِالْحَقِّ رَحْمَة , اللَّهُمَّ أَفْسِحْ لَهُ فِي عَدْنك وَاجْزِهِ مُضَاعَفَات الْخَيْر مِنْ فَضْلِك مُهَنَّآت غَيْر مُكَدَّرَات مِنْ فَوْز ثَوَابك الْمَحْلُول وَجَزِيل عَطَائِك الْمَلُول اللَّهُمَّ أَعْلِ عَلَى بِنَاء النَّاس بِنَاءَهُ وَأَكْرِمْ مَثْوَاهُ لَدَيْك وَنُزُله وَأَتْمِمْ لَهُ نُوره وَاجْزِهِ مِنْ اِبْتِعَاثك لَهُ مَقْبُول الشَّهَادَة مَرَضِيّ الْمَقَالَة ذَا مَنْطِق عَدْل وَخُطَّة فَصْل . وَحُجَّة وَبُرْهَان عَظِيم» مگر اس کی سند ٹھیک نہیں اس کا راوی ابو الحجاج مزی سلامہ کندی نہ تو معروف ہے نہ اس کی علامات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔۱؎ [التاریخ الکبیر للبخاری:195/4:ضعیف]‏‏‏‏
ابن ماجہ میں ہے { سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو تو بہت اچھا درود پڑھا کرو۔ بہت ممکن ہے کہ تمہارا یہ درود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا جائے۔ لوگوں نے کہا پھر آپ رضی اللہ عنہ ہی ہمیں کوئی ایسا درود سکھائیے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بہتر ہے یہ پڑھو «اللَّهُمَّ اِجْعَلْ صَلَوَاتك وَرَحْمَتك وَبَرَكَتك عَلَى سَيِّد الْمُرْسَلِينَ وَإِمَام الْمُتَّقِينَ وَخَاتَم النَّبِيِّينَ مُحَمَّد عَبْدك وَرَسُولك إِمَام الْخَيْر وَقَائِد الْخَيْر وَرَسُول الرَّحْمَة اللَّهُمَّ اِبْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا يَغْبِطهُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ» اس کے بعد التحیات کے بعد کے دونوں درود (‏‏‏‏درود ابراھیمی) ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:906،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ یہ روایت بھی موقف ہے۔
ابن جریر کی ایک روایت میں ہے کہ { یونس بن خباب رحمہ اللہ نے اپنے فارس کے ایک خطبے میں اس آیت کی تلاوت کی، پھر لوگوں کے درود کے طریقے کے سوال کو بیان فرما کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب میں «وَارْحَمْ مُحَمَّدًا وَآلَ مُحَمَّد كَمَا رَحِمْت آلَ إِبْرَاهِيم» کو بھی بیان فرمایا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28635:]‏‏‏‏ اس سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رحم کی دعا بھی ہے۔ جمہور کا یہی مذہب ہے۔
اس کی مزید تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ { ایک اعرابی نے اپنی دعا میں کہا تھا اے اللہ مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کر۔‏‏‏‏ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: { تو نے بہت ہی زیادہ کشادہ چیز تنگ کر دی } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6010]‏‏‏‏ قاضی عیاض نے جمہور مالکیہ سے اس کا عدم جواز نقل کیا ہے۔ ابو محمد بن ابوزید بھی اس کے جواز کی طرف گئے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { جب تک کوئی شخص مجھ پر درد بھیجتا رہتا ہے تب تک فرشتے بھی اس کے لیے دعا رحم کرتے رہتے ہیں۔ اب تمہیں اختیار ہے کہ کمی کرو یا زیادتی کرو }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:907،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے قریب روز قیامت مجھ سے وہ ہو گا جو سب سے زیادہ مجھ پر درود پڑھا کرتا تھا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:484،قال الشيخ الألباني:حسن لغیره]‏‏‏‏
فرمان ہے { مجھ پر جو ایک مرتبہ درود بھیجے اللہ تعالیٰ اس پر اپنی دس رحمتیں بھیجتا ہے۔ اس پر ایک شخص نے کہا پھر میں اپنی دعا کا آدھا وقت درود میں ہی خرچ کروں گا۔ فرمایا: { جیسی تیری مرضی }۔ اس نے کہا پھر میں دو تہائیاں کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر چاہے }۔ اس نے کہا پھر تو میں اپنا سارا وقت اس کے لیے ہی کر دیتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس وقت اللہ تعالیٰ تجھے دین و دنیا کے غم سے نجات دیدے گا اور تیرے گناہ معاف فرما دے گا } }۔ [ترمذی]‏‏‏‏
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { آدھی رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلتے اور فرماتے ہیں { ہلا دینے والی آ رہی ہے اور اس کے پیچھے ہی پیچھے لگنے والی بھی ہے }۔ ابی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں رات کو کچھ نماز پڑھا کرتا ہوں، تو اس کا تہائی حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتا رہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { آدھا حصہ }۔ انہوں نے کہا کہ آدھا کر لوں؟ فرمایا: { دو تہائی } کہا اچھا میں پورا وقت اسی میں گزاروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تب تو اللہ تیرے تمام گناہ معاف فرما دے گا } } [ترمذی]‏‏‏‏
اسی روایت کی ایک اور سند میں ہے { دو تہائی رات گزرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لوگو اللہ کی یاد کرو۔ لوگو ذکر الٰہی کرو۔ دیکھو کپکپا دینے والی آ رہی ہے اور اس کے پیچھے ہی پیچھے لگنے والی آ رہی ہے۔ موت اپنے ساتھ کی کل مصیبتوں اور آفتوں کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے }۔ ابی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بکثرت درود پڑھتا ہوں پس کتنا وقت اس میں گزاروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جتنا تو چاہے }۔ کہا چوتھائی؟ فرمایا: { جتنا چاہو اور زیادہ کرو تو اور اچھا ہے }۔ کہا آدھا تو یہی جواب دیا پوچھا دو تہائی تو یہی جواب ملا۔ کہا تو بس میں سارا ہی وقت اس میں گزاروں گا۔ فرمایا: { پھر اللہ تعالیٰ تجھے تیرے تمام ہم و غم سے بچا لے گا اور تیرے گناہ معاف فرما دے گا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
{ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں اپنی تمام تر صلوۃ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی پر کر دوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دنیا اور آخرت کے تمام مقاصد پورے ہو جائیں گے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:136/5:حسن]‏‏‏‏
سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ گھر سے نکلے۔ میں ساتھ ہو لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کے ایک باغ میں گئے وہاں جا کر سجدے میں گرگئے اور اتنا لمبا سجدہ کیا، اس قدر دیر لگائی کہ مجھے تو یہ کھٹکا گزرا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پرواز نہ کر گئی ہو۔ قریب جا کر غور سے دیکھنے لگا، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا مجھ سے پوچھا { کیا بات ہے؟ } تو میں نے اپنی حالت ظاہر کی۔ فرمایا: { بات یہ تھی کہ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھ سے فرمایا تمہیں بشارت سناتا ہوں کہ جناب باری عزاسمہ فرماتا ہے ’ جو تجھ پر درود بھیجے گا میں بھی اس پر درود بھیجوں گا اور جو تجھ پر سلام بھیجے گا میں بھی اس پر سلام بھیجوں گا ‘ }۔ ۱؎ [مسند احمد:191/1:حسن لغیرہ]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { یہ سجدہ اس امر پر اللہ کے شکریے کا تھا }۔ ۱؎ [مسند احمد:191/5:حسن لغیره]‏‏‏‏
{ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام کے لیے نکلے کوئی نہ تھا جو آپ کے ساتھ جاتا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جلدی سے پیچھے پیچھے گئے۔ دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں ہیں، دور ہٹ کر کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھ کر فرمایا: { تم نے یہ بہت اچھا کیا کہ مجھے سجدے میں دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے۔ سنو میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا آپ کی امت میں سے جو ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے گا۔ اللہ اس پر دس رحمتیں اتارے گا اور اس کے دس درجے بلند کرے گا[طبرانی]‏‏‏‏
{ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس آئے، چہرے سے خوشی ظاہر ہورہی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے سبب دریافت فرمایا کیا تو تو فرمایا: { ایک فرشتے نے آکر مجھے یہ بشارت دی کہ میرا امتی جب مجھ پر درود بھیجے گا تو اللہ تعالیٰ کی دس رحمتیں اس پر اتریں گی۔ اسی طرح ایک سلام کے بدلے دس سلام } }۔ ۱؎ [سنن نسائی:1284،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { ایک درود کے بدلے دس نیکیاں ملیں گی، دس گناہ معاف ہوں گے، دس درجے بڑھیں گے اور اسی کے مثل اس پر لوٹایا جائے گا }۔ [مسند احمد:29/4:حسن]‏‏‏‏ { جو شخص مجھ پر ایک درود بھیجے گا اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:408]‏‏‏‏
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مجھ پر درود بھیجا کرو وہ تمہارے لیے زکوٰۃ ہے اور میرے لیے وسیلہ طلب کیا کرو وہ جنت میں ایک اعلیٰ درجہ ہے جو ایک شخص کو ہی ملے گا کیا عجب کہ وہ میں ہی ہوں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:365/2:ضعیف]‏‏‏‏
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وسلم پر جو درود بھیجتا ہے اللہ اور اس کے فرشتے اس پر ستر درود بھیجتے ہیں۔ اب جو چاہے کم کرے اور جو چاہے اس میں زیادتی کرے سنو ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ایسے کہ گویا کوئی کسی کو رخصت کر رہا ہو، تین بار فرمایا کہ { میں امی نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ مجھے نہایت کھلا بہت جامع اور ختم کر دینے والا کلام دیا گیا ہے۔ مجھے جہنم کے داروغوں کی عرش کے اٹھانے والوں کی گنتی بتادی گئی ہے۔ مجھ پر خاص عنایت کی گئی ہے اور مجھے اور میری امت کو عافیت عطا فرمائی گئی ہے۔ جب تک میں تم میں موجود ہوں سنتے اور مانتے رہو۔ جب مجھے میرا رب لے جائے تو تم کتاب اللہ کو مضبوط تھامے رہنا اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھنا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:172/2:ضعیف]‏‏‏‏
فرماتے ہیں { جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اسے چاہیئے کہ مجھ پر درود بھیجے۔ ایک مرتبہ کے درود بھیجنے سے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:9889:جید]‏‏‏‏
{ ایک درود دس رحمتیں دلواتا ہے اور دس گناہ معاف کراتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:384]‏‏‏‏
{ بخیل ہے وہ جس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ پڑھا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3546،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے { ایسا شخص سب سے بڑا بخیل ہے }۔ ۱؎ [فضل الصلواۃ علی النبی:37]‏‏‏‏
ایک مرسل حدیث میں ہے { انسان کو یہ بخل کافی ہے کہ میرا نام سن کر درود نہ پڑھے }۔ فرماتے ہیں { وہ شخص برباد ہوا جس کے پاس میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا۔ وہ برباد ہوا جس کی زندگی میں رمضان آیا اور نکل جانے تک اس کے گناہ معاف نہ ہوئے۔ وہ بھی برباد ہوا جس نے اپنے ماں باپ کے بڑھاپے کے زمانے کو پا لیا پھر بھی انہوں نے اسے جنت میں نہ پہنچایا }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3535،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
یہ حدیثیں دلیل ہیں اس امر پر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا واجب ہے۔ علماء کی ایک جماعت کا بھی یہی قول ہے۔ جیسے طحاوی حلیمی رحمہ اللہ علیہم وغیرہ۔
ابن ماجہ میں ہے { جو مجھ پر درود پڑھنا بھول گیا اس نے جنت کی راہ سے خطا کی }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:908،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]‏‏‏‏ یہ حدیث مرسل ہے۔ لیکن پہلی احادیث سے اس کی پوری تقویت ہو جاتی ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں مجلس میں ایک دفعہ تو واجب ہے پھر مستحب ہے۔ چنانچہ ترمذی کی ایک حدیث میں ہے { جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اللہ کے ذکر اور درود کے بغیر اٹھ کھڑے ہوں وہ مجلس قیامت کے دن ان پر وبال ہو جائے گی۔ اگر اللہ چاہے تو انہیں عذاب کرے چاہے معاف کر دے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3380،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اور روایت میں ذکر اللہ کا ذکر نہیں، اس میں یہ بھی ہے کہ { گو وہ جنت میں جائیں لیکن محرومی ثواب کے باعث انہیں سخت افسوس رہے گا }۔ ۱؎ [فضل الصلواۃ علی النبی:55]‏‏‏‏
بعض کا قول ہے کہ عمر بھر میں ایک مرتبہ آپ پر درود واجب ہے پھر مستحب ہے تاکہ آیت کی تعمیل ہو جائے۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے وجوب کو بیان فرما کر اسی قول کی تائید کی ہے۔ لیکن طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آیت سے تو استحاب ہی ثابت ہوتا ہے اور اس پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ان کا مطلب بھی یہی ہو کہ ایک مرتبہ واجب پھر مستحب جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی گواہی۔ لیکن میں کہتا ہوں بہت سے ایسے اوقات ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کا ہمیں حکم ملا ہے لیکن بعض وقت واجب ہے اور بعض جگہ واجب نہیں۔ چنانچہ
[1]‏‏‏‏ اذان سن کر۔ دیکھئیے مسند کی حدیث میں ہے { جب تم اذان سنو تو جو مؤذن کہہ رہا ہو تم بھی کہو پھر مجھ پر درود بھیجو ایک کے بدلے دس درود اللہ تم پر بھیجے گا پھر میرے لیے وسیلہ مانگو جو جنت کی ایک منزل ہے اور ایک ہی بندہ اس کا مستحق ہے مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہوں سنو جو میرے لیے وسیلہ کی دعا کرتا ہے اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو جاتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:384]‏‏‏‏
پہلے درود کے زکوٰۃ ہونے کی حدیث میں بھی اس کا بیان گزر چکا ہے۔ فرمان ہے کہ { جو شخص درود بھیجے اور کہے «اَللّٰهُمَّ أَنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَکَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» اس کے لیے میری شفاعت قیامت کے دن واجب ہو جائے گی }۔ ۱؎ [مسند احمد:108/4:ضعیف]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ دعا منقول ہے «اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ شَفَاعَةَ مُحَمَّدٍ الْکُبْرٰی وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ الْعُلْيَا وَآتِه سُؤْلَه فِي الْأخِرَةِ وَالْأَوْلٰی کَمَا آتَيْتَ إِبْرَاهيْمَ وَمُوْسٰی عليهما السّلام» ۔
[2]‏‏‏‏ مسجد میں جانے اور مسجد سے نکلنے کے وقت۔ چنانچہ مسند میں ہے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں جاتے تو درود و سلام پڑھ کر «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» پڑھتے اور جب مسجد سے نکلتے تو درود و سلام کے بعد «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ» پڑھتے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:314، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے جب مسجدوں میں جاؤ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھا کرو۔‏‏‏‏
[3]‏‏‏‏ نماز کے آخری قعدہ میں التحیات کا دورد۔ اس کی بحث پہلی گزر چکی۔ ہاں اول تشہد میں اسے کسی نے واجب نہیں کہا۔ البتہ مستحب ہونے کا ایک قول شافعی کا ہے۔ گو دوسرا قول اس کے خلاف بھی انہی سے مروی ہے۔
[4]‏‏‏‏ جنازے کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا۔ چنانچہ سنت طریقہ یہ ہے کہ پہلی تکبیر میں سورۃ فاتحہ پڑھے۔ دوسری میں درود پڑھ۔ تیسری میں میت کے لیے دعا کرے چوتھی میں «اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تَفْتِنَا بَعْدَهُ» پڑھے۔
ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ { مسنون نماز جنازہ یوں ہے کہ امام تکبیر کہہ کر آہستہ سلام پھیر دے }۔ ۱؎ [بیهقی فی السنن الکبری:39/4]‏‏‏‏
[5]‏‏‏‏ عید کی نماز میں۔ سیدنا ابن مسعود، ابوموسیٰ اور حذیفہ رضی اللہ عنہم کے پاس آ کر ولید بن عقبہ کہتا ہے عید کا دن ہے بتلاؤ تکبیروں کی کیا کفیت ہے؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تکبیر تحریمہ کہہ کر اللہ کی حمد کر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج، دعا مانگ پھر تکبیر کہہ کر یہی کر۔ پھر تکبیر کہہ کر یہی کر۔ پھر تکبیر کہہ کر یہی کر۔ پھر تکبیر کہہ کر یہی کر پھر قرأت کر پھر تکبیر کہہ کر رکوع کر پھر کھڑا ہو کر پڑھ اور اپنے رب کی حمد بیان کر اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر صلواۃ پڑھ اور دعا کر اور تکبیر کہہ اور اسی طرح کر پھر رکوع میں جا۔ حذیفہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہم نے بھی اس کی تصدیق کی۔ ۱؎ [اسماعیل القاضی:88]‏‏‏‏
[6]‏‏‏‏ دعا کے خاتمے پر۔ ترمذی میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ { دعا آسمان و زمین میں معلق رہتی ہے یہاں تک کہ تو درود پڑھے تب چڑھتی ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:486،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
ایک روایت مرفوع بھی اسی طرح کی آئی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ { دعا کے اول میں، درمیان میں اور آخر میں درود پڑھ لیا کرو }۔
ایک غریب اور ضعیف حدیث میں ہے کہ { مجھے سوار کے پیالے کی طرح نہ کر لو کہ جب وہ اپنی تمام ضروری چیزیں لے لیتا ہے تو پانی کا کٹورہ بھی بھر لیتا ہے اگر وضو کی ضرورت پڑی تو وضو کر لیا، پیاس لگی تو پانی پی لیا ورنہ پانی بہاد دیا۔ دعا کی ابتداء میں دعا کے درمیان میں اور دعا کے آخر میں مجھ پر درود پڑھا کرو }۔ ۱؎ [ذكره ابن الاثير في جامع الاصول:155/4:]‏‏‏‏ خصوصاً دعائے قنوت میں درود کی زیادہ تاکید ہے۔
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کلمات سکھائے جنہیں میں وتروں میں پڑھا کرتا ہوں۔ «اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّمَا قْضَيْتَ، إِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ»۱؎ [سنن ابوداود:1425،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
نسائی کی روایت میں آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ «وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ» ۔ ۱؎ [سنن نسائی:1747،قال الشيخ الألباني:ضعیف و منقطع]‏‏‏‏
[7]‏‏‏‏ جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات میں۔ مسند احمد میں ہے { سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے، اسی میں قبض کئے گئے، اسی میں نفخہ ہے، اسی میں بیہوشی ہے۔ پس تم اس دن مجھ پر بکثرت درود پڑھا کرو۔ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو زمین میں دفنا دیئے گئے ہوں گے پھر ہمارے درود آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسے پیش کئے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تعالیٰ نے نبیوں کے جسموں کا کھانا زمین پر حرام کر دیا } }۔ ابوداؤد نسائی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1047،قال الشيخ الألباني:]‏‏‏‏
ابن ماجہ میں ہے { { جمعہ کے دن بکثرت درود پڑھو اس دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ جب کوئی مجھ پر درود پڑھتا ہے اس کا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے جب تک کہ وہ فارغ ہو }۔ پوچھا گیا موت کے بعد بھی؟ فرمایا: { اللہ تعالیٰ نے زمین پر نبیوں کے جسموں کا گلانا سڑانا حرام کر دیا ہے نبی اللہ زندہ ہیں روزی دیئے جاتے ہیں } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:1637،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏ یہ حدیث غریب ہے اور اس میں انتقطاع ہے۔ عبادہ بن نسی نے ابوالدرداء کو پایا نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بیہقی میں بھی حدیث ہے کہ { جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات مجھ پر بکثرت درود بھیجو } لیکن وہ بھی ضعیف ہے۔ ایک روایت میں ہے { اس کا جسم زمین نہیں کھاتی جس سے روح القدس نے کلام کیا ہو }۔ لیکن یہ حدیث مرسل ہے۔ ایک مرسل حدیث میں بھی جمعہ کے دن اور رات میں درود کی کثرت کا حکم ہے۔
[8]‏‏‏‏ اسی طرح خطیب پر بھی دونوں خطبوں میں درود و واجب ہے اس کے بغیر صحیح نہ ہوں گے، اس لیے کہ یہ عبادت ہے اور اس میں ذکر اللہ واجب ہے پس ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی واجب ہوگا۔ جیسے اذان و نماز شافعی رحمہ اللہ اور احمد رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے۔
[9]‏‏‏‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کی زیارت کے وقت ابوداؤد میں ہے { جو مسلمان مجھ پر سلام پڑھتا ہے۔ اللہ میری روح کو لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دوں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2041،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
ابوداؤد میں ہے { اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ میری قبر پر عرس میلہ نہ لگاؤ۔ ہاں مجھ پر درود پڑھو گو تم کہیں بھی ہو لیکن تمہارا درود مجھ تک پہنچایا جاتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2042،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
قاضی اسماعیل بن اسحاق اپنی کتاب فضل الصلوۃ میں ایک روایت لائے ہیں کہ { ایک شخص ہر صبح روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آتا تھا اور درود سلام پڑھتا تھا۔ ایک دن اس سے سیدنا علی بن حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے کہا تم روز ایسا کیوں کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام کرنا مجھے بہت مرغوب ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو میں تمہیں ایک حدیث سناؤں میں نے اپنے باپ سے انہوں نے میرے دادا سے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میری قبر کو عید نہ بناؤ۔ نہ اپنے گھروں کو قبریں بناؤ جہاں کہیں تم ہو وہیں سے مجھ پر درود و سلام بھیجو وہ مجھے پہنچ جاتے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:469:ال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ اس کی اسناد میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام مذکور نہیں اور سند سے یہ روایت مرسل مروی ہے۔
سیدنا حسن بن حسن بن علی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ { انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس کچھ لوگوں کو دیکھ کر انہیں یہ حدیث سنائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر میلہ لگانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا ہے }۔ ممکن ہے ان کی کسی بے ادبی کی وجہ سے یہ حدیث آپ کو سنانے کی ضرورت پڑی ہو مثلاً وہ بلند آواز سے بول رہے ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ { آپ رحمہ اللہ نے ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ پر پے در پے آتے ہوئے دیکھ کر فرمایا کہ { تو اور جو شخص اندلس میں ہے جہاں کہیں تم ہو وہیں سے سلام بھیجو تمہارے سلام مجھے پہنچا دیئے جاتے ہیں } }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:367:صحیح بالشواهد]‏‏‏‏
طبرانی میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ { یہ خاص راز ہے اگر تم مجھ سے نہ پوچھتے تو میں بھی نہ بتاتا۔ سنو میرے ساتھ دو فرشتے مقرر ہیں جب میرا ذکر کسی مسلمان کے سامنے کیا جاتا ہے اور وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے تو وہ فرشتے کہتے ہیں اللہ تجھے بخشے۔ اور خود اللہ اور اس کے فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں } }۔ ۱؎ [طبرانی:2753:موضوع]‏‏‏‏ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کی سند بہت ہی ضعیف ہے۔
مسند احمد میں ہے { اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں جو زمین میں چلتے پھرتے رہتے ہیں میری امت کے سلام مجھ تک پہنچاتے رہتے ہیں }۔ ۱؎ [سنن نسائی:1283،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ نسائی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ { جو میری قبر کے پاس سے مجھ پر سلام پڑھتا ہے اسے میں سنتا ہوں اور جو دور سے سلام بھیجتا ہے اسے میں پہنچایا جاتا ہوں }۔ ۱؎ [العقیلی فی الضعفاء:136/4:ضعیف]‏‏‏‏ یہ حدیث سنداً صحیح نہیں محمد بن مروان سدی صغیر متروک ہے۔
[10]‏‏‏‏ ہمارے ساتھیوں کا قول ہے کہ احرام والا جب لبیک پکارے تو اسے بھی درود پڑھنا چاہیئے۔ دارقطنی وغیرہ میں قاسم بن محمد بن ابوکر صدیق رحمہ اللہ کا فرمان مروی ہے کہ لوگوں کو اس بات کا حکم کیا جاتا تھا۔‏‏‏‏
صحیح سند سے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا قول مروی ہے کہ { جب تم مکہ پہنچو تو سات مرتبہ طواف کرو، مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز ادا کرو۔ پھر صفا پر چڑھو اتنا کہ وہاں سے بیت اللہ نظر آئے وہاں کھڑے رہ کر سات تکبیریں کہو ان کے درمیان اللہ کی حمد و ثناء بیان کرو اور درود پڑھو۔ اور اپنے لیے دعا کرو پھر مروہ پر بھی اسی طرح کرو }۔
[11]‏‏‏‏ ہمارے ساتھیوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ذبح کے وقت بھی اللہ کے نام کے ساتھ درود پڑھنا چاہیئے۔ آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» [94-سورةالشرح:4]‏‏‏‏ سے انہوں نے تائید چاہی ہے کیونکہ اس کی تفسیر میں ہے کہ جہاں اللہ کا ذکر کیا جائے وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی لیا جائے گا۔ جمہور اس کے مخالف ہیں وہ کہتے ہیں یہاں صرف ذکر اللہ کافی ہے۔ جیسے کھانے کے وقت اور جماع کے وقت وغیرہ وغیرہ کہ ان اوقات میں درود کا پڑھنا سنت سے ثابت نہیں ہوا۔
ایک حدیث میں ہے کہ { اللہ کے تمام انبیاء اور رسولوں علیہم السلام پر بھی صلوٰۃ و سلام بھیجو وہ بھی میری طرح اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں }، ۱؎ [اسماعیل القاضی:435:ضعیف]‏‏‏‏ لیکن اس کی سند میں دو ضعیف راوی ہیں عمر بن ہارون اور ان کے استاد۔
کان کی سنسناہٹ کے وقت بھی درود پڑھنا ایک حدیث میں ہے، اگر اس کی اسناد صحیح ثابت ہو جائے تو۔
صحیح ابن خزیمہ میں ہے { جب تم میں سے کسی کے کان میں سرسراہٹ ہو تو مجھے ذکر کر کے درود پڑھے اور کہے کہ جس نے مجھے بھلائی سے یاد کیا اسے اللہ بھی یاد کرے }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:120/2:ضعیف]‏‏‏‏ اس کی سند غریب ہے اور اس کے ثبوت میں نظر ہے۔
مسئلہ ٭٭
مسئلہ: اہل کتاب اس بات کو مستحب جانتے ہیں کہ کاتب جب کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لکھے صلی اللہ علیہ وسلم لکھے۔ ایک حدیث میں ہے { جو شخص کسی کتاب میں مجھ پر درود لکھے اس کے درود کا ثواب اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک وہ کتاب رہے }۔ ۱؎ [ابو القاسم الاصبهاني في الترغيب والترهيب:205/1:ضعیف و باطل]‏‏‏‏ لیکن کئی وجہ سے یہ حدیث صحیح نہیں بلکہ امام ذہبی کے استاد تو اسے موضوع کہتے ہیں۔ یہ حدیث بہت سے طریق سے مروی ہے لیکن ایک سند بھی صحیح نہیں۔
امام خطیب بغدادی رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب آداب الرادی والسامع میں لکھتے ہیں میں نے امام احمد کی دستی لکھی ہوئی کتاب میں بہت جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دیکھا جہاں درود لکھا ہوا نہ تھا آپ رحمہ اللہ زبانی درود پڑھ لیا کرتے تھے۔
فصل ٭٭
نبیوں کے سوا غیر نبیوں پر صلوٰۃ بھیجنا اگر تبعاً ہو تو بیشک جائز ہے۔ جیسے حدیث میں ہے { «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ» }۔ ہاں صرف غیر نبیوں پر صلوٰۃ بھیجنے میں اختلاف ہے۔
بعض تو اسے جائز بتاتے ہیں اور دلیل میں آیت «هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِوَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:43]‏‏‏‏، اور «أُولَـٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ» ۱؎ [2-البقرة:157]‏‏‏‏ اور «وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ» ۱؎ [9-التوبة:103]‏‏‏‏ پیش کرتے ہیں اور یہ حدیث بھی کہ { جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی قوم کا صدقہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ»۱؎ [صحیح مسلم:1798]‏‏‏‏
چنانچہ عبداللہ بن ابی اوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں { جب میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا صدقے کا مال لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { «اللَّهُمَّ، صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى» } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1078]‏‏‏‏۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک عورت نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر اور میرے خاوند پر صلواۃ بھیجئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ عَلی زَوْجِكِ» } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1533،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ لیکن جمہور علماء اس کے خلاف ہیں اور کہتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کے سوا اوروں پر خاصتہ صلوٰۃ بھیجنا ممنوع ہے۔
اس لیے کہ اس لفظ کا استعمال انبیاء علیہم الصلٰوۃ السلام کیلئے اس قدر بکثرت ہو گیا ہے کہ سنتے ہی ذہن میں یہی خیال آتا ہے کہ یہ نام کسی نبی علیہ السلام کا ہے تو احتیاط اسی میں ہے کہ غیر نبی کیلئے یہ الفاظ نہ کہے جائیں۔
مثلاً ابوبکر صل اللہ علیہ یا علی صلی اللہ علیہ نہ کہا جائے گو معنی اس میں کوئی قباحت نہیں جیسے محمد عزوجل نہیں کہا جاتا۔ حالانکہ ذی عزت اور ذی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں اس لیے کہ یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کی ذات کیلئے مشہور ہو چکے ہیں اور کتاب و سنت میں صلوٰۃ کا جو استعمال غیر انبیاء کیلئے ہوا ہے وہ بطور دعا کے ہے۔ اسی وجہ سے آل ابی اوفی کو اس کے بعد کسی نے ان الفاظ سے یاد نہیں کیا نہ جابر رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی رضی اللہ عنہا کو۔ یہی مسلک ہمیں بھی اچھا لگتا ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
بعض ایک اور وجہ بھی بیان کرتے ہیں یعنی یہ کہ غیر انبیاء کیلئے یہ الفاظ صلوٰۃ استعمال کرنا بددینوں کا شیوہ ہو گیا ہے۔ وہ اپنے بزرگوں کے حق میں یہی الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ پس ان کی اقتداء ہمیں نہ کرنی چاہیئے۔
اس میں بھی اختلاف ہے کہ یہ مخالفت کس درجے کی ہے حرمت کے طور پر یا کراہیت کے طور پر یا خلاف اولیٰ۔ صحیح یہ ہے کہ یہ مکروہ تنزیہی ہے۔ اس لیے کہ بدعتیوں کا طریقہ ہے جس پر ہمیں کاربند ہونا ٹھیک نہیں اور مکروہ وہی ہوتا ہے جس میں نہی مقصود ہو۔
زیادہ تر اعتبار اس میں اسی پر ہے کہ صلوٰۃ کا لفظ سلف میں نبیوں پر ہی بولا جاتا رہا جیسے کہ عزوجل کا لفظ اللہ تعالیٰ ہی کیلئے بولا جاتا رہا۔ اب رہا سلام سو اس کے بارے میں شیخ ابو محمد جوینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بھی صلوٰۃ کے معنی میں ہے پس غائب پر اس کا استعمال نہ کیا جائے اور جو نبی نہ ہو اس کیلئے خاصتہً اسے بھی نہ بولا جائے۔ پس علی علیہ السلام نہ کہا جائے۔ زندوں اور مردوں کا یہی حکم ہے۔ ہاں جو سامنے موجود ہو اس سے خطاب کر کے «سَلَامٌ عَلَیْكَ یَا سَلَامٌ عَلَیْکُمْ یَا السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا عَلَیْکُمْ» کہنا جائز ہے اور اس پر اجماع ہے۔
یہاں پر یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ عموماً مصنفین کے قلم سے علی علیہ السلام نکلتا ہے یا علی کرم اللہ وجہہ نکلتا ہے گو معنی اس میں کوئی حرج نہ ہو لیکن اس سے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی جناب میں ایک طرح کی سوء ادبی پائی جاتی ہے۔ ہمیں سب صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ حسن عقیدت رکھنی چاہیئے۔ یہ الفاظ تعظیم و تکریم کے ہیں اس لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ مستحق ان کے سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور پر صلوٰۃ نہ بھیجنی چاہیئے۔ ہاں مسلمان مردوں عورتوں کیلئے دعا مغفرت کرنی چاہیئے۔‏‏‏‏
عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے ایک خط میں لکھا تھا کہ بعض لوگ آخرت کے اعمال سے دنیا کے جمع کرنے کی فکر میں ہیں اور بعض مولوی واعظ اپنے خلیفوں اور امیروں کیلئے صلوٰۃ کے ہی الفاظ بولتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے تھے۔ جب تیرے پاس میرا یہ خط پہنچے تو انہیں کہہ دینا کہ صلوٰۃ صرف نبیوں کیلئے ہیں اور عام مسلمانوں کیلئے اس کے سوا جو چاہیں دعا کریں۔‏‏‏‏
کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں ہر صبح ستر ہزار فرشتے اتر کر قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیتے ہیں اور اپنے پر سمیٹ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے دعا رحمت کرتے رہتے ہیں اور ستر ہزار رات کو آتے ہیں یہاں تک کہ قیامت کے دن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک شق ہو گی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ [فرع]‏‏‏‏
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضور پر صلوٰۃ و سلام ایک ساتھ بھیجنے چاہئیں صرف صلی اللہ علیہ وسلم یا صرف علیہ السلام نہ کہے۔‏‏‏‏ اس آیت میں بھی دونوں ہی کا حکم ہے پس اولیٰ یہ ہے کہ یوں کہا جائے «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْلِیْماً» ۔