تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[95] یعنی اللہ یہ چیز دیکھ رہا ہے کہ جو احکام تمہیں پردہ سے متعلق دیئے جا رہے ہیں۔ اللہ سے ڈر کر ان پر کس قدر عمل پیرا ہوتی ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چچا اور ماموں کا ذکر یہاں اس لیے نہیں کیا گیا کہ ممکن ہے وہ اپنے لڑکوں کے سامنے ان کے اوصاف بیان کریں۔ شعبی اور عکرمہ تو ان دونوں کے سامنے عورت کا دوپٹہ اتارنا مکروہ جانتے تھے۔ «نِسَاۤئِهِنَّ» سے مراد مومن عورتیں ہیں۔ ماتحت سے مراد لونڈی غلام ہیں۔ جیسے کہ پہلے ان کا بیان گزر چکا ہے اور حدیث بھی ہم وہیں وارد کر چکے ہیں۔
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد صرف لونڈیاں ہی ہیں۔“ ’ اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہو، اللہ ہرچیز پر شاہد ہے، چھپا کھلا سب اسے معلوم ہے، اس موجود اور حاضر کا خوف رکھو اور اس کا لحاظ کرتی رہو ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لمَّا ذكر أنهنَّ لا يُسألن متاعاً إلاَّ من وراء حجاب، وكان اللفظُ عامًّا لكلِّ أحدٍ؛ احتيجَ أن يُستثنى منه هؤلاء المذكورون من المحارم، وأنَّه {لا جُناحَ عليهنَّ} في عدم الاحتجاب عنهم، ولم يذكر فيها الأعمام والأخوال؛ لأنَّهنَّ إذا لم يَحْتَجِبْنَ عمَّن هنَّ عماته وخالاته من أبناء الإخوة والأخوات مع رفعتهنَّ عليهم؛ فعدم احتجابهنَّ عن عمِّهنَّ وخالهنَّ من باب أولى، ولأنَّ منطوق الآية الأخرى المصرِّحة بذكر العمِّ والخال مقدَّمة على ما يُفهم من هذه الآية، وقوله: {ولا نسائهنَّ}؛ أي: لا جناح عليهن أن لا يحتجبن عن نسائهنَّ؛ أي: اللاتي من جنسهنَّ في الدين، فيكون ذلك مخرجاً لنساء الكفار، ويُحتمل أنَّ المراد جنس النساء؛ فإنَّ المرأة لا تحتجب عن المرأة، {ولا ما مَلَكَتْ أيمانُهُنَّ}: ما دام العبدُ في ملكها جميعه، ولما رفع الجناح عن هؤلاء؛ شَرَطَ فيه وفي غيره لزومَ تقوى الله، وأنْ لا يكون في ذلك محذورٌ شرعيٌّ، فقال: {واتَّقينَ الله}؛ أي: استعملْنَ تقواه في جميع الأحوال. {إن الله كان على كلِّ شيءٍ شهيداً}: يشهد أعمال العباد ظاهرها وباطنها، ويسمعُ أقوالهم، ويرى حركاتِهِم؛ ثم يجازيهم على ذلك أتمَّ الجزاء وأوفاه.