ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 53

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُیُوۡتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنۡ یُّؤۡذَنَ لَکُمۡ اِلٰی طَعَامٍ غَیۡرَ نٰظِرِیۡنَ اِنٰىہُ ۙ وَ لٰکِنۡ اِذَا دُعِیۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡا فَاِذَا طَعِمۡتُمۡ فَانۡتَشِرُوۡا وَ لَا مُسۡتَاۡنِسِیۡنَ لِحَدِیۡثٍ ؕ اِنَّ ذٰلِکُمۡ کَانَ یُؤۡذِی النَّبِیَّ فَیَسۡتَحۡیٖ مِنۡکُمۡ ۫ وَ اللّٰہُ لَا یَسۡتَحۡیٖ مِنَ الۡحَقِّ ؕ وَ اِذَا سَاَلۡتُمُوۡہُنَّ مَتَاعًا فَسۡـَٔلُوۡہُنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ؕ ذٰلِکُمۡ اَطۡہَرُ لِقُلُوۡبِکُمۡ وَ قُلُوۡبِہِنَّ ؕ وَ مَا کَانَ لَکُمۡ اَنۡ تُؤۡذُوۡا رَسُوۡلَ اللّٰہِ وَ لَاۤ اَنۡ تَنۡکِحُوۡۤا اَزۡوَاجَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖۤ اَبَدًا ؕ اِنَّ ذٰلِکُمۡ کَانَ عِنۡدَ اللّٰہِ عَظِیۡمًا ﴿۵۳﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نبی کے گھروں میں مت داخل ہو مگر یہ کہ تمھیں کھانے کی طرف اجازت دی جائے، اس حال میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرنے والے نہ ہو اور لیکن جب تمھیں بلایا جائے تو داخل ہو جائو، پھر جب کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ اور نہ (بیٹھے رہو) اس حال میں کہ بات میں دل لگانے والے ہو۔ بے شک یہ بات ہمیشہ سے نبی کو تکلیف دیتی ہے، تو وہ تم سے شرم کرتا ہے اور اللہ حق سے شرم نہیں کرتا اور جب تم ان سے کوئی سامان مانگو تو ان سے پردے کے پیچھے سے مانگو، یہ تمھارے دلوں اور ان کے دلوں کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے اور تمھارا کبھی بھی حق نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ اس کے بعد کبھی اس کی بیویوں سے نکاح کرو۔ بے شک یہ بات ہمیشہ سے اللہ کے نزدیک بہت بڑی ہے۔ En
مومنو پیغمبر کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لئے اجازت دی جائے اور اس کے پکنے کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے۔ لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھاچکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھ رہو۔ یہ بات پیغمبر کو ایذا دیتی ہے۔ اور وہ تم سے شرم کرتے ہیں (اور کہتے نہیں ہیں) لیکن خدا سچی بات کے کہنے سے شرم نہیں کرتا۔ اور جب پیغمبروں کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر مانگو۔ یہ تمہارے اور ان کے دونوں کے دلوں کے لئے بہت پاکیزگی کی بات ہے۔ اور تم کو یہ شایاں نہیں کہ پیغمبر خدا کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ ان کی بیویوں سے کبھی ان کے بعد نکاح کرو۔ بےشک یہ خدا کے نزدیک بڑا (گناہ کا کام) ہے
En
اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کے لئے ایسے وقت میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو بلکہ جب بلایا جائے جاؤ اور جب کھا چکو نکل کھڑے ہو، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہوجایا کرو۔ نبی کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے۔ تو وه لحاظ کر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ (بیان) حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا، جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کرو۔ تمہارے اور ان کے دلوں کے لئے کامل پاکیزگی یہی ہے، نہ تمہیں یہ جائز ہے کہ تم رسول اللہ کو تکلیف دو اور نہ تمہیں یہ حلال ہے کہ آپ کے بعد کسی وقت بھی آپ کی بیویوں سے نکاح کرو۔ (یاد رکھو) اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا (گناه) ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 53) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ النَّبِيِّ …:} گزشتہ آیات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہرات کے باہمی معاملات کے متعلق راہ نمائی فرمائی گئی، اب امت کو امہات المومنین کے چند آداب بتائے جاتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخلے کے متعلق چند احکام بیان ہوتے ہیں، جو کچھ عرصہ بعد سورۂ نور میں تمام مسلمانوں کے گھروں میں داخلے کے لیے بھی نافذ کر دیے گئے۔ دور جاہلیت میں عرب لوگ بلا تکلف ایک دوسرے کے گھروں میں چلے جاتے تھے، کسی سے ملنے کے لیے اس کے دروازے پر کھڑے ہوکر اجازت لینے یا انتظار کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی تھی، بلکہ ہر شخص گھر کے اندر جا کر عورتوں سے بات کر لیتا اور صاحب خانہ کے متعلق پوچھ لیتا اور عورتیں بھی پردہ نہیں کرتی تھیں۔ بعض اوقات اس سے بہت سی اخلاقی خرابیوں کا آغاز ہوتا تھا، اس لیے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کے لیے یہ قاعدہ مقرر کیا گیا کہ کوئی دوست ہو یا رشتہ دار اجازت کے بغیر آپ کے گھروں میں داخل نہ ہو، پھر سورۂ نور (۲۷) میں تمام گھروں میں داخلے کے لیے اس قاعدے کا اعلان کر دیا گیا۔
➋ {اِلٰى طَعَامٍ غَيْرَ نٰظِرِيْنَ اِنٰىهُ …: اِنٰىهُ } میں {إِنًي أَنٰي يَأْنِيْ} (ض) کا مصدر ہے، اس کا معنی ہے کسی چیز کا وقت ہو جانا۔ جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ» [الحدید: ۱۶] کیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد کے لیے جھک جائیں۔ یہ لفظ کھانا پک جانے کے معنی میں بھی آتا ہے، کیونکہ پکنے پر اس کے کھانے کا وقت ہو جاتا ہے۔ اہلِ عرب میں جو غیر مہذب عادات پھیلی ہوئی تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ وہ کھانے کے وقت کا اندازہ کر کے کسی کے گھر پہنچ جاتے، یا اس کے گھر آکر بیٹھے رہتے، یہاں تک کہ کھانے کا وقت ہو جاتا۔ اس سے صاحب خانہ مشکل میں پڑ جاتا، نہ یہ کہہ سکتا کہ میرے کھانے کا وقت ہے، آپ تشریف لے جائیں، نہ اس کے بس میں ہوتا کہ اپنے کھانے کے ساتھ آنے والوں کے لیے بھی کھانا تیار کرے۔ بعض اوقات کھانے کے لیے دعوت دی جاتی، مگر مدعو حضرات وقت سے پہلے ہی آکر بیٹھ جاتے، جس سے گھر والے سخت کوفت میں مبتلا ہو جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بے ہودہ عادت سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ کھانا تیار ہونے کے انتظار میں پہلے ہی جا کر نہ بیٹھ جاؤ، بلکہ جب گھر والا کھانے کے لیے بلائے اس وقت جاؤ۔ یہ حکم بھی نمونے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے شروع ہوا، ورنہ ساری امت کے گھروں کے لیے یہی حکم ہے۔
➌ { وَ لَا مُسْتَاْنِسِيْنَ لِحَدِيْثٍ:} یہ ایک اور بے ہودہ عادت کی اصلاح ہے۔ بعض لوگ کھانے کی دعوت میں بلائے جاتے ہیں تو کھانے سے فارغ ہو کر وہیں باتوں کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں، جو ختم ہونے میں نہیں آتا۔ انھیں پروا نہیں ہوتی کہ اس سے گھر والوں کو کس قدر کوفت ہو رہی ہے کہ نہ وہ حیا کی وجہ سے انھیں جانے کو کہہ سکتے ہیں اور نہ آزادی سے اپنا کوئی کام کر سکتے ہیں۔
➍ { اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيٖ مِنْكُمْ:} یعنی کھانے پینے سے فارغ ہو کر تمھارا باتوں میں دل لگا کر بیٹھے رہنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ تکلیف دیتا ہے۔ ہمیشہ کا مفہوم { كَانَ } سے ظاہر ہو رہا ہے۔ پھر وہ تم سے حیا کرتے ہوئے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اب اٹھ جاؤ۔ مگر اللہ تعالیٰ حق کہنے سے نہیں شرماتا، اس لیے اس نے یہ احکام دیے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے طفیلیوں (بن بلائے مہمانوں) اور بوجھ بن جانے والوں کو اپنے نبی کے لیے برداشت نہیں فرمایا، پھر عام آدمی انھیں کیسے برداشت کر سکتا ہے۔
➎ اس آیت میں امہات المومنین کے حجاب کا حکم نازل ہوا، اس لیے اسے آیت حجاب بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی موافقات، یعنی ان باتوں میں سے ہے جن میں ان کی بات کے مطابق قرآن نازل ہوا، مگر ان کا حسن ادب یہ ہے کہ انھوں نے یہ کہنے کے بجائے کہ قرآن نے میری بات کی موافقت کی، یہ کہا کہ میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی۔ چنانچہ ان میں سے ایک یہ ہے: [قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! لَوْ أَمَرْتَ نِسَاءَكَ أَنْ يَحْتَجِبْنَ، فَإِنَّهُ يُكَلِّمُهُنَّ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ] [بخاري، الصلاۃ، باب ما جاء في القبلۃ…: ۴۰۲] میں نے کہا، یا رسول اللہ! آپ کی بیویوں کے پاس اچھے اور برے ہر قسم کے لوگ (دینی یا دنیوی مسائل کے لیے) آتے ہیں کاش! آپ انھیں حجاب کا حکم دے دیں، تو اللہ تعالیٰ نے آیتِ حجاب کو نازل فرمایا۔
➏ اس آیت کا نزول جس موقع پر ہوا اسے انس رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی زینب رضی اللہ عنھا سے ہوئی تو (ولیمے میں) گوشت اور روٹی کھلائی گئی۔ مجھے لوگوں کو دعوت دینے کے لیے بھیجا گیا، لوگ آتے اور کھا کر چلے جاتے، پھر اور لوگ آتے اور کھا کر چلے جاتے۔ میں نے سب کو دعوت دی، حتیٰ کہ کوئی شخص باقی نہ رہا۔ آخر میں میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اب کوئی شخص نہیں ملتا جسے میں دعوت دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا اب کھانا اٹھا دو۔ (سب لوگ کھانا کھا کر چلے گئے) اور تین شخص گھر میں بیٹھے باتیں کرتے رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور عائشہ رضی اللہ عنھا کے حجرے کی طرف چلے گئے اور کہا: اے اہلِ بیت (گھر والو)! { اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ } انھوں نے کہا: [وَ عَلَيْكَ السَّلَامُ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ، كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ] آپ پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو، آپ نے اپنے اہل کو کیسا پایا، اللہ آپ کے لیے برکت کرے۔ اسی طرح آپ اپنی تمام بیویوں کے گھروں میں گئے اور سب کو عائشہ رضی اللہ عنھا کی طرح سلام کیا، سب نے عائشہ رضی اللہ عنھا کی طرح جواب دیا۔ پھر جب لوٹ کر آئے تو دیکھا کہ وہ تین آدمی (ابھی تک) گھر میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سخت حیا والے تھے، آپ پھر عائشہ رضی اللہ عنھا کے حجرے کی طرف چلے گئے۔ مجھے معلوم نہیں کہ میں نے آپ کو جا کر بتایا یا کسی اور نے بتایا کہ وہ لوگ چلے گئے ہیں۔ چنانچہ آپ واپس آئے اور اس حالت میں کہ دروازے کی دہلیز میں آپ کا ایک پاؤں اندر تھا اور دوسرا باہر تھا، آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا اور حجاب کی آیت نازل ہو گئی۔ [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «‏‏‏‏لا تدخلوا بیوت النبي…» : ۴۷۹۳]
➐ { وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا …:} اس آیت کے نزول کے ساتھ حکم ہوا کہ محرم مردوں کے سوا کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر نہ آئے اور جسے بھی خواتین سے کوئی کام ہو وہ پردے کے پیچھے سے بات کرے، خواہ کوئی چیز مانگنے کی ضرورت ہو، یا کوئی بات یا دینی مسئلہ پوچھنے کی۔
➑ { ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ:} اس جملے پر تھوڑی سی توجہ سے بھی یہ بات سمجھ میں آ سکتی ہے کہ جب امہات المومنین، جو دنیا کی پاک باز ترین خواتین تھیں اور صحابہ کرام، جو دنیا کے پاک باز ترین مرد تھے، انھیں دلوں کو پاک رکھنے کے لیے ایک دوسرے سے کوئی بات کرتے وقت حجاب کا حکم ہے تو عام لوگوں کو بلاحجاب ایک دوسرے سے ملنے کی، یعنی گھروں، ہسپتالوں، سکولوں، کالجوں، پارکوں، عدالتوں اور اسمبلیوں میں مردوں اور عورتوں کے بلا تکلف میل جول اور مخلوط معاشرے کی اسلام میں کیا گنجائش ہو سکتی ہے اور ان کے دلوں کی طہارت و پاکیزگی کی کیا ضمانت ہو سکتی ہے۔ اب جو لوگ مسلمان ہونے کے باوجود کہتے ہیں کہ اصل پردہ دل کا ہے، کیونکہ شرم و حیا کا اور برے خیالات کا تعلق دل سے ہے، یہ ظاہر پردہ کچھ ضروری نہیں، ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو دل سے مانا ہی نہیں۔
➒ { وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ:} یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینا، خواہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بلا اجازت داخل ہونا ہو، یا آپ کی خواہش کے بغیر آپ کے گھر میں بیٹھے رہنا ہو، یا حجاب کے بغیر ازواج مطہرات سے گفتگو کرنا ہو، یا منافقین کی طرح کسی قسم کی دل آزار باتیں کرنا ہو، غرض کسی بھی طریقے سے ہو، تمھارے لیے جائز نہیں، نہ ہی یہ تمھیں کبھی زیب دیتا ہے۔
➓ { وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا:} یہ گناہ عظیم اس لحاظ سے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں۔ اگر کوئی آدمی ان سے نکاح کرے تو گویا اس نے اپنی ماں سے نکاح کیا، پھر جو احترام اللہ نے انھیں بخشا ہے وہ کبھی ملحوظ نہ رکھ سکے گا، بلکہ اپنی عاقبت برباد کرے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

53۔ 1 اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر حضرت زینب کے ولیمے میں صحابہ کرام تشریف لائے جن میں سے بعض کھانے کے بعد بیٹھے ہوئے باتیں کرتے رہے جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص تکلیف ہوئی، تاہم حیا اور اخلاق کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں جانے کے لئے نہ کہا (صحیح بخاری) چناچہ اس آیت میں دعوت کے آداب بتلا دیئے گئے کہ ایک تو اس وقت جاؤ جب کھانا تیار ہوچکا ہو پہلے سے ہی جا کر دھرنا مار کر نہ بیٹھ جاؤ۔ دوسرا، کھاتے ہی اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ وہاں بیٹھے ہوئے باتیں مت کرتے رہو۔ کھانے کا ذکر تو سبب نزول کی وجہ سے ہے ورنہ ملطب یہ ہے کہ جب بھی تمہیں بلایا جائے چاہے کھانے کے لیے یا کسی اور کام کے لیے اجازت کے بغیر گھر کے اندر داخل مت ہو۔ 53۔ 2 یہ حکم حضرت عمر ؓ کی خواہش پر نازل ہوا۔ حضرت عمر ؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یارسول اللہ! آپ کے پاس اچھے برے ہر طرح کے لوگ آتے ہیں کاش آپ امہات المؤمنین کو پردے کا حکم دیں تو کیا اچھا ہو جس پر اللہ نے یہ حکم نازل فرمایا (صحیح بخاری) 53۔ 3 یہ پردے کی حکمت اور علت ہے کہ اس سے مرد اور عورت کے دل ریب و شک سے ایک دوسرے کے ساتھ فتنے میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہیں گے۔ 53۔ 4 چا ہے وہ کسی بھی لحاظ سے ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بغیر اجازت داخل ہونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کے بغیر گھر میں بیٹھے رہنا اور بغیر حجاب کے ازواج مطہرات سے گفتگو کرنا یہ امور بھی ایذا کے باعث ہیں ان سے بھی اجتناب کرو۔ 53۔ 2 یہ حکم ان ازواج مطہرات کے بارے میں ہے جو وفات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حبالہ عقد میں تھیں۔ تاہم جن کو آپ نے ہم بستری کے بعد زندگی میں طلاق دے کر اپنے سے علیحدہ کردیا ہو وہ اس کے عموم میں داخل ہیں یا نہیں؟ اس میں دو رائے ہیں۔ بعض ان کو بھی شامل سمجھتے ہیں اور بعض نہیں لیکن آپ کی ایسی کوئی بیوی تھی ہی نہیں اس لیے یہ محض ایک فرضی شکل ہے علاوہ ازیں ایک تیسری قسم ان عورتوں کی ہے جن سے آپ کا نکاح ہوا لیکن ہم بستری سے قبل ہی ان کو آپ نے طلاق دے دی دوسرے لوگوں کا نکاح درست ہونے میں کوئی نزاع معلوم نہیں (تفسیر ابن کثیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

53۔ اے ایمان والو! نبی کے گھروں [86] میں نہ جایا کرو الا یہ کہ تمہیں اجازت دی جائے اور کھانے کی تیاری کا انتظار [87] نہ کرنے لگو۔ البتہ جب تمہیں (کھانے پر) بلایا جائے تو آؤ اور جب کھا چکو تو چلے جاؤ اور باتوں [88] میں دل لگائے وہیں نہ بیٹھے رہو۔ تمہاری یہ بات نبی کے لئے تکلیف دہ تھی مگر تم سے شرم کی وجہ سے کچھ نہ کہتے تھے اور اللہ حق بات کہنے سے نہیں شرماتا اور جب تمہیں ازواج نبی سے کوئی چیز [89] مانگنا ہو تو پردہ کے پیچھے رہ کر مانگو۔ یہ بات تمہارے دلوں کے لئے بھی پاکیزہ تر ہے اور ان کے دلوں [90] کے لئے بھی۔ تمہارے لئے یہ جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول [91] کو ایذا دو اور نہ یہ جائز ہے کہ اس (کی وفات) کے بعد کبھی اس کی بیویوں [92] سے نکاح کرو۔ بلا شبہ اللہ کے ہاں یہ بڑے گناہ کی بات ہے۔
[86] گھروں میں داخلہ پر پابندی (استیذان) :۔
اس آیت میں کئی ایک معاشرتی آداب بیان فرمائے جا رہے ہیں۔ اسی سورۃ میں پہلے ازواج النبی کو مخاطب کر کے کہا گیا تھا کہ عورتوں کا اصل مقام گھر ہے۔ انھیں نہ تو بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنا چاہئے اور نہ پہلی جاہلیت کی طرح عورتوں کو بن ٹھن کر باہر نکلنا اور اپنی زیب و زینت کی نمائش کرنا چاہئے اور یہ حکم بس باہر نکلنے تک یا آواز پر پابندی تک موقوف تھا۔ اب بھی لوگ سب گھروں میں حتیٰ کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں بلا روک ٹوک آتے جاتے تھے اور سیدنا عمر کو بالخصوص یہ بات ناگوار تھی کہ نبی کے گھر میں ہر طرح کے لوگ بلا روک ٹوک داخل ہوا کریں۔ چنانچہ انھیں کی اس خواہش کے مطابق وحی الٰہی نازل ہوئی جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے ہاں اچھے اور برے ہر طرح کے لوگ آتے رہتے ہیں۔ کیا اچھا ہو، اگر آپ امہات المؤمنین (اپنی بیویوں) کو پردے کا حکم دیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے پردے کا حکم نازل فرمایا“ [بخاري۔ كتاب التفسير]
اس کے بعد سورۃ نور کی آیات نازل ہوئیں اور آیت نمبر 27 کی رو سے یہ حکم تمام مسلم گھرانوں پر نافذ کر دیا گیا کہ کوئی شخص بھی کسی دوسرے کے گھر میں بلا اجازت داخل نہ ہوا کرے۔
[87] آداب دعوت طعام :۔
اس جملہ میں مزید دو ہدایات دی گئیں۔ ایک یہ کہ اگر صاحب خانہ خود تمہیں بلائے اور بالخصوص کھانے پر مدعو کرے تو تمہیں اس کے ہاں جانا چاہئے اور اس کا یہ بلانا ہی اس کی اجازت ہے۔ دوسری ہدایت یہ تھی کہ جس وقت بلایا جائے اسی وقت آؤ پہلے نہ آؤ۔ ایسا نہ ہونا چاہئے کہ پہلے آکر دعوت پکنے والے اور کھانے والے برتنوں کی طرف دیکھتے رہو کہ کب کھانا پکتا ہے اور ہمیں کھانے کو ملتا ہے یہ بات بھی صاحب خانہ کے لئے پریشانی کا باعث بن جاتی ہے۔
[88] اس ضمن میں چوتھی ہدایت یہ ہے کہ جب کھانا کھا چکو تو وہیں دھرنا مار کر بیٹھ نہ جاؤ اور ادھر ادھر کے حالات اور قصے کہانیاں شروع کر دو۔ بلکہ کھانا کھا چکو تو چلتے بنو۔ اور صاحب خانہ کے لئے انتظار اور پریشانی کا باعث نہ بنو۔ کیونکہ دعوت کے بعد انھیں بھی کئی طرح کے کام ہوتے ہیں۔
[89] آیہ حجاب :۔
یہی وہ آیت ہے جسے آیہ حجاب کہتے ہیں۔ حجاب کے معنی کسی کپڑا یا کسی دوسری چیز سے دو چیزوں کے درمیان ایسی روک بنا دینا ہے جس سے دونوں چیزیں ایک دوسرے سے اوجھل ہو جائیں۔ اس آیت کی رو سے تمام ازواج النبی کے گھروں کے باہر پردہ لٹکا دیا گیا۔ پھر دوسرے مسلمانوں نے بھی اپنے گھروں کے سامنے پردے لٹکا لیے اور یہ دستور اسلامی طرز معاشرت کا ایک حصہ بن گیا۔ اب اگر کسی شخص کو ازواج مطہرات سے کوئی بات پوچھنا یا کوئی ضرورت کی چیز مانگنے کی ضرورت ہوتی تو اسے حکم ہوا کہ پردہ سے باہر رہ کر سوال کرے۔ اب اس آیت کا شان نزول سیدنا انسؓ کی زبانی ملاحظہ فرمائیے:
ولیمہ کی دعوت کھانے کے بعد بیٹھ رہنے والے تین شخص :۔
سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش سے نکاح کیا اور صحبت کی تو (ولیمہ میں) گوشت روٹی تیار کیا گیا مجھے لوگوں کو بلانے کے لئے بھیجا گیا۔ لوگ آتے جاتے، کھانا کھاتے اور چلے جاتے، پھر اور لوگ آتے وہ بھی کھانا کھا کر چلے جاتے۔ میں نے سب کو بلایا حتیٰ کہ کوئی شخص ایسا نہ رہ گیا جسے میں نے بلایا نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اچھا اب کھانا اٹھاؤ (لوگ چلے گئے مگر) تین شخص بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ آپ گھر سے اٹھ کر سیدہ عائشہؓ کے کمرہ کی طرف گئے اور فرمایا: السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ سیدہ عائشہؓ نے جواب دیا: ”وعلیک السلام و رحمۃ اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کو کیسا پایا، اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برکت دے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب بیویوں کے کمروں کا دورہ کیا اور سب کو سیدہ عائشہؓ کی طرح سلام کیا اور انہوں نے بھی ویسا ہی جواب دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ کر گھر آئے تو وہ تین آدمی ابھی تک بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج میں بڑی شرم تھی (لہٰذا انھیں کچھ نہ کہا) اس لئے پھر سیدہ عائشہؓ کے کمرہ کی طرف چلے گئے۔ پھر کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ اب وہ تینوں آدمی چلے گئے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور دروازے کی چوکھٹ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پاؤں اندر تھا اور دوسرا باہر کہ آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا لیا اس وقت اللہ تعالیٰ نے پردے کی آیت اتاری۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
[90] مرد اور عورت کے آزادانہ اختلاط کی روک تھام اور پردہ کا حکم :۔
مردوں اور عورتوں کے آزادانہ اختلاط اور فحاشی کی روک تھام کے لئے یہ ایک موثر اقدام ہے کہ کوئی غیر مرد کسی اجنبی عورت کو نہ دیکھے اور نہ ہی کسی کے دل میں کوئی وسوسہ یا برا خیال پیدا ہو۔ گویا معاشرہ سے بے حیائی اور فحاشی کے خاتمہ کے لئے پردہ نہایت ضروری چیز ہے۔ اب جو لوگ مسلمان ہونے کے باوجود یہ کہتے ہیں کہ اصل پردہ دل کا پردہ ہے کیونکہ شرم و حیا کا اور برے خیالات کا تعلق دل سے ہے یہ ظاہری پردہ کچھ ضروری نہیں۔ ایسے لوگ دراصل اللہ کے احکام کا مذاق اڑاتے ہیں۔
[91] جس بات سے اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچے وہ نا جائز ہے :۔
ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کھانا کھانے کے بعد وہاں سے ہلنے کا نام تک نہ لیتے تھے۔ ان کی اس حرکت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ناگوار اور تکلیف دہ محسوس کیا مگر شرم اور نرمی طبع کی بنا پر انھیں اٹھ کر چلے جانے کو نہ کہہ سکے۔ تاہم یہ حکم عام ہے اور اس کا میدان بڑا وسیع ہے۔ اس میں وہ الزام تراشیاں بھی شامل ہیں جو اس زمانے میں کافروں کے ساتھ منافق بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کر رہے تھے نیز ہر وہ بات بھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناگوار محسوس کریں اس سے مسلمانوں کو اجتناب ضروری ہے مثلاً کوئی شخص اللہ کے رسول کے مقابلہ میں دوسرے کی بات مانے یا سنت رسول کے مقابلہ میں کسی دوسرے کے قول کو ترجیح دے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت چھوڑ کر بدعات کو رائج کرے یا فروغ دے تو ان باتوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوتی ہے اور ایسے تمام امور میں مسلمانوں کو محتاط رہنا چاہئے۔
[92] یہ گناہ عظیم اس لحاظ سے ہے کہ ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی مائیں ہیں۔ اور اگر کوئی آدمی ان سے نکاح کرے تو گویا اس نے اپنی ماں سے نکاح کیا۔ پھر جو احترام انھیں اللہ نے بخشا ہے وہ کبھی ملحوظ نہ رکھ سکے گا۔ اور اپنی عاقبت تباہ کرے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

احکامات پردہ ٭٭
اس آیت میں پردے کا حکم ہے اور شرعی آداب و احکام کا بیان ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق جو آیتیں اتری ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے۔ بخاری مسلم میں آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { تین باتیں میں نے کہیں جن کے مطابق ہی رب العالمین کے احکام نازل ہوئے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کو قبلہ بنائیں تو بہتر ہو۔ اللہ تعالیٰ کا بھی یہی حکم اترا کہ «وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى» ۱؎ [2-البقرة:125]‏‏‏‏، میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تو یہ اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ گھر میں ہر کوئی یعنی چھوٹا بڑا آ جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کو پردے کا حکم دیں تو اچھا ہو۔‏‏‏‏ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے پردے کا حکم نازل ہوا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات غیرت کی وجہ سے کچھ کہنے سننے لگیں تو میں نے کہا کسی غرور میں نہ رہنا اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں چھوڑ دیں تو اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دلوائے گا، چنانچہ یہی آیت قرآن میں نازل ہوئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4483]‏‏‏‏ صحیح مسلم میں ایک چوتھی موافقت بھی مذکور ہے وہ بدر کے قیدیوں کا فیصلہ ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2399]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے سنہ 5 ھجری ماہ ذی قعدہ میں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا ہے۔ جو نکاح خود اللہ تعالیٰ نے کرایا تھا اسی صبح کو پردے کی آیت نازل ہوئی ہے۔ بعض حضرات کہتے ہیں یہ واقعہ سن تین ہجری کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ [2-البقرة:125]‏‏‏‏
صحیح بخاری شریف میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو لوگوں کی دعوت کی وہ کھا پی کر باتوں میں بیٹھے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھنے کی تیاری بھی کی۔ پھر بھی وہ نہ اٹھے یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی کچھ لوگ تو اٹھ کر چل دیئے لیکن پھر بھی تین شخص وہیں بیٹھے رہ گئے اور باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پلٹ کر آئے تو دیکھا کہ وہ ابھی تک باتوں میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر لوٹ گئے۔ جب یہ لوگ چلے گئے تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے گھر میں تشریف لے گئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے بھی جانا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور میرے درمیان پردہ کر لیا اور یہ آیت اتری۱؎ [صحیح بخاری:4791]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقعہ پر گوشت روٹی کھلائی تھی اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا کہ لوگوں کو بلا لائیں لوگ آتے تھے کھاتے تھے اور واپس جاتے تھے۔ جب ایک بھی ایسا نہ بچا کہ جیسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ بلاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب دستر خوان بڑھا دو }۔ لوگ سب چلے گئے مگر تین شخص باتوں میں لگے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے نکل کر ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ» ۔ انہوں نے جواب دیا «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» فرمایئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیوی صاحبہ سے خوش تو ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تمہیں برکت دے }۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے اور سب جگہ یہی باتیں ہوئیں۔ اب لوٹ کر جو آئے تو دیکھا کہ وہ تینوں صاحب اب تک گئے نہیں۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں شرم و حیاء لحاظ و مروت بے حد تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ فرما نہ سکے اور پھر سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی طرف چلے۔ اب نہ جانے میں نے خبر دی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود خبردار کر دیا گیا کہ وہ تینوں بھی چلے گئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر آئے اور چوکھٹ میں ایک قدم رکھتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ڈال دیا اور پردے کی آیت نازل ہوئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4783]‏‏‏‏ ایک روایت میں بجائے تین شخصوں کے دو کا ذکر ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4794]‏‏‏‏
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی نئے نکاح پر ام سلیم رضی اللہ عنہا نے مالیدہ بنا کر ایک برتن میں رکھ کر سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچاؤ اور کہہ دینا کہ یہ تھوڑا سا تحفہ ہماری طرف سے قبول فرمایئے اور میرا سلام بھی کہہ دینا۔ اس وقت لوگ تھے بھی تنگی میں۔
میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ام المؤمنین کا سلام پہنچایا اور پیغام بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور فرمایا: { اچھا اسے رکھ دو }۔ میں نے گھر کے ایک کونے میں رکھ دیا، پھر فرمایا: { جاؤ فلاں اور فلاں کو بلا لاؤ } بہت سے لوگوں کے نام لیے اور پھر فرمایا: { ان کے علاوہ جو مسلمان مل جائے } میں نے یہی کیا۔
جو ملا اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کھانے کے لیے بھیجتا رہا واپس لوٹا تو دیکھا کہ گھر اور انگنائی اور بیٹھک سب لوگوں سے بھرے ہوئے ہے تقریباً تین سو آدمی جمع ہو گئے تھے۔ اب مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { آؤ وہ پیالہ اٹھا لاؤ }۔ میں لایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس پر رکھ کر دعا کی اور جو اللہ نے چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان سے کہا، پھر فرمایا: { چلو دس دس آدمی حلقہ کر کے بیٹھ جاؤ اور ہر ایک بسم اللہ کہہ کر اپنے اپنے آگے سے کھانا شروع کرو }۔ اسی طرح کھانا شروع ہوا اور سب کے سب کھا چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پیالہ اٹھالو }۔
{ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے پیالہ اٹھا کر دیکھا تو میں نہیں کہہ سکتا کہ جس وقت رکھا اس وقت اس میں زیادہ کھانا تھا یا اب؟ چند لوگ آپ کے گھر میں ٹھہر گئے ان میں باتیں ہو رہی تھیں اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا دیوار کی طرف منہ پھیرے بیٹھی ہوئی تھیں ان کا اتنی دیر تک نہ ہٹنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر شاق گزر رہا تھا لیکن شرم و لحاظ کی وجہ سے کچھ فرماتے نہ تھے۔
اگر انہیں اس بات کا علم ہو جاتا تو وہ نکل جاتے لیکن وہ بے فکری سے بیٹھتے ہی رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر اور ازواج مطہرات کے حجروں کے پاس چلے گئے پھر واپس آئے تو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو یہ بھی سمجھ گئے بڑے نادم ہوئے اور جلدی سے نکل لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر بڑھے اور پردہ لٹکا دیا۔ میں بھی حجرے میں ہی تھا جب یہ آیت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرتے ہوئے باہر آئے سب سے پہلے اس آیت کو عورتوں نے سنا اور میں تو سب سے اول ان کا سننے والا ہوں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1428]‏‏‏‏
پہلے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مانگا لے جانے کی روایت آیت «فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ أَمْرُ اللَّـهِ مَفْعُولًا» [33-الأحزاب:37]‏‏‏‏، کی تفسیر میں گزر چکی ہے اس کے آخر میں بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ پھر لوگوں کو نصیحت کی گئی اور ہاشم کی اس حدیث میں اس آیت کا بیان بھی ہے۔
ابن جریر میں ہے کہ { رات کے وقت ازواج مطہرات قضائے حاجت کے لیے جنگل کو جایا کرتی تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ پسند نہ تھا آپ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ انہیں اس طرح نہ جانے دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر توجہ نہیں فرماتے تھے ایک مرتبہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نکلیں تو چونکہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی منشا یہ تھی کہ کسی طرح ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کا یہ نکلنا بند ہو اس لیے انہیں ان کے قد و قامت کی وجہ سے پہچان کر با آواز بلند کہا کہ ہم نے تمہیں اے سودہ (‏‏‏‏رضی اللہ عنہا) پہچان لیا۔‏‏‏‏ اس کے بعد پردے کی آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28619:]‏‏‏‏ اس روایت میں یونہی ہے لیکن مشہور یہ ہے کہ یہ واقعہ نزول حجاب کے بعد کا ہے۔
چنانچہ مسند احمد میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ { حجاب کے حکم کے بعد سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نکلیں اس میں یہ بھی ہے کہ یہ اسی وقت واپس آ گئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شام کا کھانا تناول فرما رہے تھے۔ ایک ہڈی ہاتھ میں تھی آ کر واقعہ بیان کیا اسی وقت وحی نازل ہوئی جب ختم ہوئی اس وقت بھی ہڈی ہاتھ میں ہی تھی اسے چھوڑی ہی نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اللہ تعالیٰ تمہاری ضرورتوں کی بناء پر باہر نکلنے کی اجازت دیتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4895]‏‏‏‏
آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس عادت سے روکتا ہے جو جاہلیت میں اور ابتداء اسلام میں ان میں تھی کہ بغیر اجازت دوسرے کے گھر میں چلے جانا۔ پس اللہ تعالیٰ اس امت کا اکرام کرتے ہوئے اسے یہ ادب سکھاتا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں بھی یہ مضمون ہے کہ { خبردار عورتوں کے پاس نہ جاؤ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5232]‏‏‏‏
پھر اللہ نے انہیں مستثنیٰ کر لیا جنہیں اجازت دے دی جائے، تو فرمایا، ’ مگر یہ کہ تمہیں اجازت دیجائے، کھانے کے لیے ایسے وقت پر نہ جاؤ کہ تم اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو ‘۔
مجاہد اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ کھانے کے پکنے اور اس کے تیار ہونے کے وقت ہی نہ پہنچو۔ جب سمجھا کہ کھانا تیار ہوگا، جا گھسے یہ خصلت اللہ کو پسند نہیں۔ یہ دلیل ہے طفیلی بننے کی حرمت پر۔ امام خطیب بغدادی نے اس کی مذمت میں پوری ایک کتاب لکھی ہے۔
پھر فرمایا ’ جب بلائے جاؤ تم پھر جاؤ اور جب کھا چکو تو نکل جاؤ ‘۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { تم میں سے کسی کو جب اس کا بھائی بلائے تو اسے دعوت قبول کرنی چاہیئے خواہ نکاح کی ہو یا کوئی اور اور }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1429]‏‏‏‏
حدیث میں ہے { اگر مجھے فقط ایک کھر کی دعوت دی جائے تو بھی میں اسے قبول کروں گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2568]‏‏‏‏
دستور دعوت بھی بیان فرمایا کہ ’ جب کھا چکو تو اب میزبان کے ہاں چوکڑی مار کر نہ بیٹھ جاؤ۔ بلکہ وہاں سے چلے جاؤ۔ باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو ‘۔
جیسے ان تین شخصوں نے کیا تھا۔ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوئی لیکن شرمندگی اور لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہ بولے، اسی طرح مطلب یہ بھی ہے کہ ’ تمہارا بے اجازت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں چلے جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر شاق گزرتا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوجہ شرم و حیاء کے تم سے کہہ نہیں سکتے ‘۔ اللہ تعالیٰ تم سے صاف صاف فرما رہا ہے کہ ’ اب سے ایسا نہ کرنا۔ وہ حق حکم سے حیاء نہیں کرتا۔ تمہیں جس طرح بے اجازت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے پاس جانا منع ہے اسی طرح ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی حرام ہے۔ اگر تمہیں ان سے کوئی ضروری چیز لینی دینی بھی ہو تو پس پردہ لین دین ہو ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مالیدہ کھا رہے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لیا آپ رضی اللہ عنہ بھی کھانے بیٹھ گئے۔ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پہلے ہی سے کھانے میں شریک تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» کے پردے کی تمنا میں تھے کھاتے ہوئے انگلیوں سے انگلیاں لگ گئیں تو بےساختہ فرمانے لگے کاش کہ میری مان لی جاتی اور پردہ کرایا جاتا تو کسی کی نگاہ بھی نہ پڑتی اس وقت پردے کا حکم اترا }۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:11419:ضعیف]‏‏‏‏
پھر پردے کی تعریف فرما رہا ہے کہ ’ مردوں عورتوں کے دلوں کی پاکیزگی کا یہ ذریعہ ہے ‘۔ کسی شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نکاح کرنے کا ارادہ کیا ہوگا اس آیت میں یہ حرام قرار دیا گیا۔ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں زندگی میں اور جنت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں اور جملہ مسلمانوں کی وہ مائیں ہیں اس لیے مسلمانوں پر ان سے نکاح کرنا محض حرام ہے۔
یہ حکم ان بیویوں کے لیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے وقت تھیں سب کے نزدیک اجماعاً ہے لیکن جس بیوی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں طلاق دے دی اور اس سے میل ہو چکا ہو تو اس سے کوئی اور نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس میں دو مذہب میں اور جس سے دخول نہ کیا اور طلاق دے دی ہو اس سے دوسرے لوگ نکاح کر سکتے ہیں۔
قیلہ بنت اشعث بن قیس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں آ گئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد اس نے عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابوجہل سے نکاح کر لیا۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر یہ گراں گزرا لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سمجھایا کہ اے خلیفہ رسول یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی نہ تھی نہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا نہ اسے پردہ کا حکم دیا اور اس کی قوم کے ارتداد کے ساتھ ہیں اس کے ارتداد کی وجہ سے اللہ نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بری کر دیا، یہ سن کر سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کا اطمینان ہو گیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28624:مرسل]‏‏‏‏
پس ان دونوں باتوں کی برائی بیان فرماتا ہے کہ ’ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دینا ان کی بیویوں سے ان کے بعد نکاح کر لینا یہ دونوں گناہ اللہ کے نزدیک بہت بڑے ہیں، «يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ» ۱؎ [40-غافر:19]‏‏‏‏ تمہاری پوشیدگیاں اور علانیہ باتیں سب اللہ پر ظاہر ہیں، اس پر کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔ آنکھوں کی خیانت کو، سینے میں چھپی ہوئی باتوں اور دل کے ارادوں کو وہ جانتا ہے ‘۔