اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ مانیئے! اور جو ایذا (ان کی طرف سے پہنچے) اس کا خیال بھی نہ کیجیئے اللہ پر بھروسہ کئے رہیں، اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کام بنانے واﻻ
En
(آیت 48) ➊ {وَلَاتُطِعِالْكٰفِرِيْنَوَالْمُنٰفِقِيْنَ:} یعنی کفار و منافقین جو آپ کو مداہنت کے لیے کہتے ہیں، لوگوں کے کفر و شرک پر خاموش رہنے کے لیے اصرار کرتے ہیں اور جاہلیت کی رسوم توڑنے سے روکتے ہیں، ان کا کہنا مت مان، بلکہ دعوت حق پر استقامت اختیار کر۔ اس سورت کے شروع میں یہی حکم دیا تھا، یعنی: «يٰۤاَيُّهَاالنَّبِيُّاتَّقِاللّٰهَوَلَاتُطِعِالْكٰفِرِيْنَوَالْمُنٰفِقِيْنَ» اب تاکید کے لیے اسے دوبارہ ذکر فرمایا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ قلم (۸ تا ۱۵) اور شوریٰ (۱۵)۔ ➋ { وَدَعْاَذٰىهُمْ:} یعنی دعوت دین کی وجہ سے وہ آپ کو جو تکلیف پہنچاتے ہیں اس کی پروا مت کریں، جیسا کہ فرمایا: «لَتُبْلَوُنَّفِيْۤاَمْوَالِكُمْوَاَنْفُسِكُمْوَلَتَسْمَعُنَّمِنَالَّذِيْنَاُوْتُواالْكِتٰبَمِنْقَبْلِكُمْوَمِنَالَّذِيْنَاَشْرَكُوْۤااَذًىكَثِيْرًاوَاِنْتَصْبِرُوْاوَتَتَّقُوْافَاِنَّذٰلِكَمِنْعَزْمِالْاُمُوْرِ» [آل عمران: ۱۸۶]”یقینا تم اپنے مالوں اور اپنی جانوں میں ضرور آزمائے جاؤ گے اور یقینا تم ان لوگوں سے جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان لوگوں سے جنھوں نے شرک کیا، ضرور بہت سی ایذا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور متقی بنو تو بلاشبہ یہ ہمت کے کاموں سے ہے۔“ ➌ { وَتَوَكَّلْعَلَىاللّٰهِ …:} یعنی آپ اپنے سب کام اللہ کے سپرد کر دیں، کیونکہ جو کام اللہ کے سپرد کر دیا جائے وہ اس کے لیے کافی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
48۔ نیز آپ کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانیے اور ان کی ایذا رسانی کی پروا [76] نہ کیجئے اور اللہ پر بھروسہ کیجئے اور کام بنانے کو اللہ ہی کافی ہے۔
[76] یعنی جن لوگوں نے طعن و تشنیع سے یہ طوفان بدتمیزی اٹھا رکھا ہے ان کی نہ پروا کیجئے اور نہ ان سے بدلہ لینے کی فکر کیجئے۔ ورنہ یہ لوگ آپ کی منزل کھوٹی کر دیں گے۔ آپ پوری توجہ سے اپنا کام کرتے جائیے اور انھیں خائب و خاسر بنانے کے لئے آپ کی طرف سے اللہ ہی کافی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔