ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 45

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿ۙ۴۵﴾
اے نبی! بے شک ہم نے تجھے گواہی دینے والا اور خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ۔ En
اے پیغمبر ہم نے تم کو گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے
En
اے نبی! یقیناً ہم نے ہی آپ کو (رسول بنا کر) گواہیاں دینے واﻻ، خوشخبریاں سنانے واﻻ، آگاه کرنے واﻻ بھیجا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 45) ➊ { يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا:} ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پانچ صفات بیان فرمائیں، جن سے وہ عظیم الشان مراتب معلوم ہوتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فائز فرمایا اور ان ذمہ داریوں پر روشنی پڑتی ہے جو رسول کی حیثیت سے آپ پر عائد ہوتی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے آپ کو اتنے عالی مراتب عطا فرمائے ہیں کہ آپ کے مخالفین جتنے بہتان باندھ لیں اور جتنی زبان درازی کر لیں، آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اس لیے آپ اپنا فرضِ منصبی ادا کرتے رہیں اور ان کی باتوں کی پروا مت کریں۔ ان میں سب سے پہلی صفت { شَاهِدًا } ہے۔ یہ شہادت دو طرح سے ہے، ایک دنیا میں اس بات کی شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور سچا دین صرف اسلام ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ (18) اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ ‏‏‏‏ [آل عمران: ۱۸، ۱۹] اللہ نے گواہی دی کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ بے شک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری دنیا کے سامنے اپنے قول اور عمل کے ساتھ اس بات کی شہادت دی۔ دوسری آخرت کو شہادت، یعنی قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی شہادت دیں گے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کے تمام پیغام امت کو پہنچا دیے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِيْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِيْدًا [النساء: ۴۱] پھر کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ اور فرمایا: «{ وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا [البقرۃ: ۱۴۳] اور اسی طرح ہم نے تمھیں سب سے بہتر امت بنایا، تاکہ تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو اور رسول تم پر شہادت دینے والا بنے۔
➋ بعض حضرات نے { شَاهِدًا } کے لفظ کو یہ معنی پہنانے کی کوشش کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے تمام اعمال دیکھ رہے ہیں اور ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں۔ ورنہ دیکھے بغیر شہادت کیسے دے سکتے ہیں؟ مگر یہ بات غلط ہے، کیونکہ انبیاء علیھم السلام کا کام بندوں کے اعمال پر شہادت دینا نہیں کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں، بلکہ ان کا کام اس بات کی گواہی دینا ہے کہ بندوں تک حق پہنچا دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا: «{ يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ [المائدۃ: ۱۰۹] جس دن اللہ رسولوں کو جمع کرے گا، پھر کہے گا تمھیں کیا جواب دیا گیا؟ وہ کہیں گے ہمیں کچھ علم نہیں، بے شک تو ہی چھپی باتوں کو بہت خوب جاننے والا ہے۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھیں گے کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود بنا لینا؟ تو وہ عرض کریں گے: «{ وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ [المائدۃ: ۱۱۷] اور میں ان پر گواہ تھا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔
یہ آیات اس بات کی صریح دلیل ہیں کہ انبیاء لوگوں کے اعمال پر گواہ نہیں ہوں گے، پھر وہ کس چیز کے گواہ ہوں گے؟ اللہ تعالیٰ نے خود اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: «{ وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا [البقرۃ: ۱۴۳] اور اسی طرح ہم نے تمھیں سب سے بہتر امت بنایا، تاکہ تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو اور رسول تم پر شہادت دینے والا بنے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امت پر شہادت دیں گے اور آپ کی امت لوگوں پر شہادت دے گی۔ اگر یہ شہادت اعمال کی ہو تو شہادت دینے کے لیے پوری امت کا حاضر و ناظر ہونا لازم آتا ہے اور اگر امت کے لوگ صرف اس شہادت کے لیے بلائے جائیں گے کہ خالق کا پیغام اس کی مخلوق تک پہنچ گیا تو یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی بات کی شہادت دیں گے۔ مزید دلائل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۴۳)اور سورۂ مائدہ (۱۱۷) کی تفسیر۔
➌ { وَ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا:} یہ دوسری اور تیسری صفت ہے، یعنی آپ ایمان والوں کو یہ بشارت دینے والے ہیں کہ عنقریب ان سے مصائب کے بادل چھٹ جانے والے ہیں اور جلد ہی اللہ تعالیٰ انھیں اپنی فتح و نصرت سے سرفراز فرمائے گا اور مرنے کے بعد انھیں جنت کی ابدی نعمتیں اور اللہ کا دیدار میسر ہونے والا ہے۔ اسی طرح آپ حق کا انکار کرنے والوں کو دنیا میں ان کے برے انجام اور ذلت و خواری سے ڈرانے والے ہیں اور آخرت میں جہنم کے دائمی عذاب سے بھی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

45۔ 1 بعض لوگ شاہد کے معنی حاضر و ناظر کے کرتے ہیں جو قرآن کے اصل لفظ سے معنوی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی گواہی دیں گے، ان سے بھی جو آپ پر ایمان لائے اور ان کی بھی جنہوں نے تکذیب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت والے دن اہل ایمان کو ان کے اعضائے وضو سے پہچان لیں گے جو چمکتے ہونگے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیگر انبیاء (علیہم السلام) کی گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنی اپنی قوموں کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا اور یہ گواہی اللہ کے دیئے ہوئے یقینی علم کی بنیاد پر ہوگی۔ اس لئے نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء (علیہم السلام) کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے ہیں، یہ عقیدہ تو احکام قرآنی کے خلاف ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

45۔ اے نبی! ہم نے آپ کو گواہی [72] دینے والا بشارت دینے والا اور ڈرانے والا [73] بنا کر بھیجا ہے۔
[72] نبی کی شہادت کی تین صورتیں :۔
وہ گواہی یہ ہے کہ اس کائنات کا خالق و مالک اور معبود برحق صرف ایک اللہ ہے دوسرا کوئی اس الوہیت اور حاکمیت میں شریک نہیں۔ اور نبی کی یہ گواہی تین طرح سے ہوتی ہے ایک یہ کہ نظام کائنات کے مطالعہ سے وہ خود اس نتیجہ پر پہنچتا ہے اور بعض انبیاء کو ﴿ملكوت السمٰوات والارض﴾ دکھائی اور اس کی سیر بھی کرائی جاتی ہے تاکہ جس شہادت کے وہ داعی بننے والے ہیں اس کا انھیں عین الیقین حاصل ہو۔ دوسری گواہی ان کی دعوت پر سب سے پہلے ان کا اپنا عمل ہوتا ہے۔ یعنی ان کی عملی زندگی اس بات پر گواہ ہوتی ہے کہ نبی جو شہادت دے رہا ہے وہ درست اور برحق ہے۔ اور تیسری شہادت وہ قیامت کے دن اپنی امت کے حق میں اور منکروں کے خلاف دیں گے۔
[73] یعنی ایمان لانے والوں کو یہ بشارت دیتا ہے کہ ان سے مصائب کے بادل چھٹ جانے والے ہیں اور عنقریب اللہ تعالیٰ مومنوں کو اپنی فتح و نصرت سے سرفراز فرمائے گا اور مرنے کے بعد انھیں جنت اور اس کی نعمتیں میسر آنے والی ہیں۔ اسی طرح وہ دعوت حق کے مخالفین کو دنیا میں بھی ان کے برے انجام اور ذلت و خواری سے ڈراتا ہے اور آخرت میں جہنم کے عذاب سے بھی۔ اور یہ بشارت اور وعید وہ اپنی طرف سے نہیں دے رہا بلکہ وہ ہماری طرف سے اس بات پر مامور ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

تورات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات ٭٭
عطابن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں { میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں تورات میں کیا ہیں؟ فرمایا جو صفتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآن میں ہیں انہی میں بعض اوصاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تورات میں بھی ہیں۔ تورات میں ہے ’ اے نبی ہم نے تجھے گواہ اور خوشی سنانے والا، ڈرانے والا، امتیوں کو بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے تو بدگو اور فحش کلام نہیں ہے، نہ بازاروں میں شور مچانے والا۔ وہ برائی کے بدلے برائی نہیں کرتا بلکہ در گزر کرتا ہے، اور معاف فرماتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ قبض نہیں کرے گا، جب تک لوگوں کو ٹیڑھا کر دئیے ہوئے دین کو اس کی ذات سے بالکل سیدھا نہ کر دے اور وہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے قائل نہ ہو جائیں، جس سے اندھی آنکھیں روشن ہو جائیں، اور بہرے کان سننے والے بن جائیں، اور پردوں والے دلوں کے زنگ چھوٹ جائیں ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4838]‏‏‏‏
ابن ابی حاتم میں ہے وہیب بن منبہ فرماتے ہیں بنی اسرائیل کے ایک نبی شعیب علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ ’ اپنی قوم بنی اسرائیل میں کھڑے ہو جاؤ، میں تمہاری زبان سے اپنی باتیں کہلواؤں گا۔ میں امیوں میں سے ایک نبی امی کو بھیجنے والا ہوں جو نہ بدخلق ہے نہ بد گو۔ نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والا۔ اس قدر سکون و امن کا حامل ہے کہ اگر چراغ کے پاس سے بھی گزر جائے تو وہ نہ بجھے اور اگر بانسوں پر بھی چلے تو پیر کی چاپ نہ معلوم ہو۔ میں اسے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجوں گا۔
جو حق گو ہو گا اور میں اس کی وجہ سے اندھی آنکھوں کو کھول دوں گا اور بہرے کانوں کو سننے والا کروں گا اور زنگ آلود دلوں کو صاف کردوں گا۔ ہر بھلائی کی طرف اس کی ضمیر ہوگی۔ حکمت اس کی گویائی ہوگی۔ صدق و وفا اس کی عادت ہوگی۔ عفو و در گزر اس کا خلق ہوگا۔ حق اس کی شریعت ہوگی۔ عدل اس کی سیرت ہو گی۔ ہدایت اس کی امام ہوگی اسلام اس کا دین ہوگا۔ احمد اس کا نام ہوگا۔
گمراہوں کو میں اس کی وجہ سے ہدایت دوں گا۔ جاہلوں کو اس کی بدولت علماء بنا دوں گا۔ تنزل والوں کو ترقی پر پہنچا دوں گا۔ انجانوں کو مشہور و معروف کر دوں گا۔ مختلف اور متضاد دلوں کو متفق اور متحد کر دوں گا۔ جداگانہ خواہشوں کو یکسو کر دوں گا۔ دنیا کو اس کی وجہ سے ہلاکت سے بچا لوں گا۔ تمام امتوں سے اس کی امت کو اعلیٰ اور افضل بنا دوں گا۔ وہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے دنیا میں پیدا کئے جائیں گے۔ ہر ایک کو نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ وہ موحد ہوں گے، مومن ہوں گے، اخلاص والے ہوں گے، رسولوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے سب کو سچ ماننے والے ہوں گے۔
وہ اپنی مسجدوں مجلسوں اور بستروں پر چلتے پھرتے بیٹھے اٹھتے میری تسبیح حمد و ثنا بزرگی اور بڑائی بیان کرتے رہیں گے۔ کھڑے اور بیٹھے نمازیں ادا کرتے رہیں گے۔ دشمنان اللہ سے صفیں باندھ کر حملہ کر کے جہاد کریں گے۔ ان میں سے ہزارہا لوگ میری رضا مندی کی جستجو میں اپنا گھربار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوں گے۔ منہ ہاتھ وضو میں دھویا کریں گے۔ تہمد آدھی پنڈلی تک باندھیں گے۔ میری راہ میں قربانیاں دیں گے۔ میری کتاب ان کے سینوں میں ہوگی۔ راتوں کو عابد اور دنوں کو مجاہد ہوں گے۔ میں اس نبی کی اہل بیت اور اولاد میں سبقت کرنے والے صدیق شہید اور صالح لوگ پیدا کر دوں گا ‘۔
’ اس کی امت اس کے بعد دنیا کو حق کی ہدایت کرے گی، اور حق کے ساتھ عدل و انصاف کرے گی۔ ان کی امداد کرنے والوں کو میں عزت والا کروں گا۔ اور ان کو بلانے والوں کی مدد کروں گا۔ ان کے مخالفین اور ان کے باغی اور ان کے بدخواہوں پر میں برے دن لاؤں گا۔ میں انہیں ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث کر دوں گا۔ جو اپنے رب کی طرف لوگوں کو دعوت دیں گے۔ نیکیوں کی باتیں بتائیں گے، برائیوں سے روکیں گے، نماز ادا کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، وعدے پورے کریں گے، اس خیر کو میں ان کے ہاتھوں پوری کروں گا جو ان سے شروع ہوئی تھی۔ یہ ہے میرا فضل جسے چاہوں دوں۔ اور میں بہت بڑے فضل و کرم کا مالک ہوں ‘۔
ابن ابی خاتم میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیج رہے تھے جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: { جاؤ خوشخبریاں سنانا نفرت نہ دلانا، آسانی کرنا سختی نہ کرنا، دیکھو مجھ پر یہ آیت اتری ہے } }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:11841:ضعیف]‏‏‏‏
طبرانی میں یہ بھی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھ پر یہ اترا ہے کہ ’ اے نبی ہم نے تجھے تیری امت پر گواہ بنا کر جنت کی خوشخبری دینے والا بنا کر جہنم سے ڈرانے والا بنا کر اور اللہ کے حکم سے اس کی توحید کی شہادت کی طرف لوگوں کو بلانے والا بنا کر اور روشن چراغ قرآن کے ساتھ بنا کر بھیجا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی وحدانیت پر کہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود نہیں گواہ ہیں، اور قیامت کے دن آپ لوگوں کے اعمال پر گواہ ہوں گے ‘ } }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:92/7:ضعیف]‏‏‏‏
جیسے ارشاد ہے «وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاءِ شَهِيْدًا» ۱؎ [4-النساء:41]‏‏‏‏ یعنی ’ ہم تجھے ان پر گواہ بنا کر لائیں گے ‘۔
اور آیت میں ہے کہ «لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا» ۱؎ [2-البقرة:143]‏‏‏‏ ’ تم لوگوں پر گواہ ہو اور تم پر یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کو بہترین اجر کی بشارت سنانے والے اور کافروں کو بدترین عذاب کاڈر سنانے والے ہیں ‘۔
اور چونکہ اللہ کا حکم ہے اس کی بجا آوری کے ماتحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کو خالق کی عبادت کی طرف بلانے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اس طرح ظاہر ہے جیسے سورج کی روشنی۔ ہاں کوئی ضدی اڑ جائے تو اور بات ہے۔
’ اے نبی! کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو نہ ان کی طرف کان لگاؤ اور ان سے در گزر کرو۔ یہ جو ایذائیں پہنچاتے ہیں انہیں خیال میں بھی نہ لاؤ اور اللہ پر پورا بھروسہ کرو وہ کافی ہے ‘۔