ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 44

تَحِیَّتُہُمۡ یَوۡمَ یَلۡقَوۡنَہٗ سَلٰمٌ ۖۚ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ اَجۡرًا کَرِیۡمًا ﴿۴۴﴾
ان کی دعا، جس دن وہ اس سے ملیں گے، سلام ہو گی اور اس نے ان کے لیے باعزت اجر تیار کر رکھا ہے۔ En
جس روز وہ اس سے ملیں گے ان کا تحفہ (خدا کی طرف سے) سلام ہوگا اور اس نے ان کے لئے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے
En
جس دن یہ (اللہ سے) ملاقات کریں گے ان کا تحفہ سلام ہوگا، ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے باعزت اجر تیار کر رکھا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 44) ➊ {تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ:} یعنی جس دن اللہ تعالیٰ سے ان کی ملاقات ہو گی اللہ تعالیٰ انھیں سلام کہے گا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ» ‏‏‏‏ [یٰسٓ: ۵۸] سلام ہو، اس رب کی طرف سے کہا جائے گا جو بے حد مہربان ہے۔ فرشتے انھیں سلام کہیں گے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ (23) سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ» ‏‏‏‏ [الرعد: ۲۳، ۲۴] اور فرشتے ہر دروازے میں سے ان پر داخل ہوں گے۔ سلام ہو تم پر اس کے بدلے جو تم نے صبر کیا۔ سو اچھا ہے اس گھر کا انجام۔ اور ایک دوسرے کے لیے ان کی دعا بھی سلام ہو گی، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏دَعْوٰىهُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» ‏‏‏‏ [یونس: ۱۰] ان کی دعا ان میں یہ ہوگیپاک ہے تو اے اللہ! اور ان کی آپس کی دعا ان (باغات) میں سلام ہوگی اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہوگا کہ سب تعریف اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ بلکہ جنت میں ہر طرف سے سنائی دینے والی آواز بھی یہ مبارک کلمہ ہی ہو گا، فرمایا: «‏‏‏‏لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِيْمًا (25) اِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا» ‏‏‏‏ [الواقعۃ: ۲۵، ۲۶] وہ اس میں نہ بے ہودہ گفتگو سنیں گے اور نہ گناہ میں ڈالنے والی بات۔ مگر یہ کہنا کہ سلام ہے، سلام ہے۔
➋ { وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِيْمًا:} یعنی جنت کی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی آدمی کے دل میں ان کا خیال تک آیا۔ مزید دیکھیے سورۂ سجدہ (۱۷)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

44۔ 1 یعنی جنت میں فرشتے اہل ایمان کو یا مومن آپس میں ایک دوسرے کو سلام کریں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

44۔ جس دن وہ اللہ سے ملیں گے ان کا استقبال [71] سلام سے ہو گا اور اس نے ان کے لئے با عزت اجر تیار کر رکھا ہے۔
[71] اس سلام کی بھی تین صورتیں ہیں اور تینوں ہی قرآن کی بعض دوسری آیات سے ثابت ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ خود انھیں سلام کہے گا، دوسرے یہ کہ فرشتے انھیں سلام کہیں گے اور تیسرے یہ کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کہیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔