نبی پر اس کام میں کبھی کوئی تنگی نہیں جو اللہ نے اس کے لیے فرض کر دیا۔ یہی اللہ کا طریقہ ہے ان لوگوں میں جو پہلے گزرے اور اللہ کا حکم ہمیشہ سے اندازے کے مطابق ہے، جو طے کیا ہوا ہے۔
En
پیغمبر پر اس کام میں کچھ تنگی نہیں جو خدا نے ان کے لئے مقرر کردیا۔ اور جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان میں بھی خدا کا یہی دستور رہا ہے۔ اور خدا کا حکم ٹھیر چکا ہے
جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے مقرر کی ہیں ان میں نبی پر کوئی حرج نہیں، (یہی) اللہ کا دستور ان میں بھی رہا جو پہلے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے کام اندازے پر مقرر کئے ہوئے ہیں
En
(آیت 38) ➊ { مَاكَانَعَلَىالنَّبِيِّمِنْحَرَجٍ …:} یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جو کام طے کر دیا اور اس کا حکم دے دیا اس کے ادا کرنے میں اس پر کوئی تنگی نہ پہلے تھی، نہ اب ہے، نہ آئندہ ہونی چاہیے۔ {”كَانَ“} نفی کے استمرار کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”کبھی کوئی تنگی نہیں۔“ اس لیے اسے وہ بات بتانے میں یا اس پر عمل کرنے میں کسی طعن و تشنیع یا ملامت کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ طے فرمایا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں، اسی طرح یہ بھی طے فرما دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے متبنّٰی کی مطلقہ سے نکاح کریں گے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے اظہار یا اس پر عمل کے سلسلے میں منافقین یا یہود کے طعن کی پروا نہیں کرنی چاہیے تھی۔ یہ وہی بات ہے جو سدی اور زین العابدین نے فرمائی ہے۔ اس آیت سے یہ بھی ظاہر ہے کہ عام مسلمانوں کے لیے اپنے متبنّٰی کی مطلقہ سے نکاح محض مباح ہے، مگر بہت سی مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے طے کرنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھا۔ ➋ { سُنَّةَاللّٰهِفِيالَّذِيْنَخَلَوْامِنْقَبْلُ:} لفظ {”سُنَّةَ“} پر نصب یا تو اس لیے ہے کہ اس سے پہلے حرف جر ”کاف“ محذوف ہے، جس کے حذف ہونے کی وجہ سے یہ منصوب ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو کچھ طے فرمایا اسے ادا کرنے میں اس پر اسی طرح کوئی حرج نہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا پہلے انبیاء کے بارے میں طریقہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے جو طے کر دیتا وہ اس کی ادائیگی میں کوئی تنگی محسوس نہیں کرتے تھے۔ یا یہ فعل محذوف کا مصدر ہے، یعنی {”سَنَّاللّٰهُهٰذَاسُنَّةًفِيالَّذِيْنَخَلَوْامِنْقَبْلُ“} مطلب ایک ہی ہے کہ گزشتہ انبیاء بھی ایسے کاموں کے کرنے میں حرج محسوس نہیں کرتے تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر فرض کر دیے جاتے تھے، چاہے ان کی اقوام اور زمانے کے رسم و رواج ان کے خلاف ہوتے تھے۔ ➌ {وَكَانَاَمْرُاللّٰهِقَدَرًامَّقْدُوْرًا:} یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام خاص طور پر حکمت اور مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں، دنیاوی حکمرانوں کی طرح وقتی اور فوری ضرورت پر مشتمل نہیں ہوتے، اسی طرح ان کا وقت بھی مقرر ہوتا ہے جس کے مطابق وہ وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
38۔ 1 یہ اسی واقعہ نکاح زینب کی طرف سے اشارہ ہے، چونکہ یہ نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے حلال تھا، اس لئے اس میں کوئی گناہ اور تنگی والی بات نہیں ہے۔ 38۔ 2 یعنی گزشتہ انبیاء (علیہم السلام) بھی ایسے کاموں کے کرنے میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر فرض قرار دیئے جاتے تھے چاہے قومی اور عوامی رسم و رواج ان کے خلاف ہی ہوتے۔ 38۔ 3 یعنی خاص حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں دنیاوی حکمرانوں کی طرح وقتی اور فوری ضرورت پر مشتمل نہیں ہوتے اسی طرح ان کا وقت بھی مقرر ہوتا ہے جس کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
38۔ جو بات اللہ نے نبی کے لئے مقرر کر دی ہے اس میں نبی پر کوئی تنگی نہیں۔ یہی اللہ کی سنت ہے جو ان نبیوں میں بھی جاری رہی جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک طے شدہ فیصلہ [62] ہوتا ہے۔
[62] یعنی اللہ کا یہ حکم ایسا تھا۔ جس کا اللہ پہلے ہی فیصلہ کر چکا تھا اور یہ نکاح کرنا نبی پر فرض کیا گیا تھا۔ کیونکہ اللہ اپنے نبی کے ذریعہ ہی اس رسم کو مٹانا چاہتا تھا۔ اور یہ کام بہرحال ہو کر ہی رہنا تھا۔ سابقہ انبیاء میں بھی اللہ کی سنت یہی رہی ہے کہ اللہ کا حکم بہرحال انھیں سرانجام دینا ہوتا تھا خواہ اس سلسلہ میں کتنی ہی مشکلات پیش آئیں اور پریشانیاں لا حق ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
لے پالک کی بیوی سے متعلق حکم ٭٭
فرماتا ہے کہ ’ جب اللہ کے نزدیک اپنے لے پالک متبنی کی بیوی سے اس کی طلاق کے بعد نکاح کرنا حلال ہے پھر اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا حرج ہے اگلے نبیوں پر جو جو حکم اللہ نازل فرماتے تھے۔ ان پر عمل کرنے میں ان پر کوئی حرج نہ تھا ‘۔ اس سے منافقوں کے اس قول کا رد کرنا ہے کہ دیکھو اپنے آزاد کردہ غلام اور لے پالک لڑکے کی بیوی سے نکاح کر لیا۔ اس اللہ کے مقدر کردہ امور ہو کر ہی رہتے ہیں، وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں