تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { ” لِلَّذِيْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِ “} سے مراد زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یہ آیت: «{ وَ تُخْفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ }» زینب بنت جحش اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنھما کے بارے میں نازل ہوئی۔“ [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «و تخفي في نفسک…» : ۴۷۸۷] اللہ تعالیٰ کا اس پر دوسرے بے شمار انعامات کے ساتھ یہ انعام بھی تھا کہ اسے اس کے مشرک خاندان سے نکال کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچایا، پھر غلامی سے آزادی عطا فرمائی۔ اسلام قبول کرنے اور اس میں سبقت کرنے والے چار افراد میں شامل ہونے کی سعادت بخشی۔ قرآن مجید میں تمام صحابہ میں سے صرف اس کا نام صراحت کے ساتھ ذکر فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر دوسرے کئی انعامات کے ساتھ یہ انعام بھی تھا کہ اسے آزاد کیا، اپنا بیٹا بنایا، اپنی پھوپھی زاد کے ساتھ نکاح کیا اور اسے اپنی خاص محبت سے نوازا، چنانچہ اسے اور اس کے بیٹے اسامہ کو حِبّ رسول صلی اللہ علیہ وسلم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب) کہا جاتا تھا۔
➌ {وَ تُخْفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ:} وہ بات کیا تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپاتے تھے اور اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کرنے والا تھا، اس کے متعلق تفاسیر میں متعدد اقوال مذکور ہیں۔ بعض اقوال ایسے بھی ہیں جو شانِ نبوت کے سراسر منافی ہیں، عقل کے بھی صاف خلاف ہیں اور صحیح سند کے ساتھ ثابت بھی نہیں، بعد کے لوگوں کی فضول باتیں ہیں۔ اس لیے حافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں: ”ان کا بیان مناسب نہیں۔“ اور حافظ ابن کثیر نے فرمایا: ”ابن جریر اور ابن ابی حاتم وغیرہ نے یہاں بعض سلف سے کچھ آثار نقل کیے ہیں، جنھیں ذکر کرنے سے ہم نے پہلو تہی اختیار کی ہے، کیونکہ وہ ثابت نہیں ہیں۔“ مگر چونکہ ان اقوال کو لے کر مستشرقین اور اسلام کے مخالفین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر زبانِ طعن دراز کی ہے، اس لیے انھیں بیان کرنا اور ان کی حقیقت کھولنا لازم ہے۔ چنانچہ قتادہ اور ابن زید نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زید رضی اللہ عنہ کی عدم موجودگی میں ان کے گھر گئے، تو زینب رضی اللہ عنھا کو اس کی زینت میں دیکھا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہوا سے اس کے گھر کا پردہ ہٹ گیا اور آپ نے اس کے حسن و جمال کو دیکھا تو آپ کے دل میں اس کی محبت جاگزین ہو گئی اور آپ نے فرمایا: ”سبحان ہی ہے جو دلوں کو پھیرنے والا ہے۔“ جب زید آئے تو زینب نے انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلنے والے الفاظ بتائے، تو زید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: ”مجھے معلوم ہوا کہ آپ میرے گھر آئے، لیکن آپ اندر کیوں تشریف نہیں لائے؟ شاید آپ کو زینب پسند آئی ہے تو کیا میں اسے چھوڑ دوں؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی بیوی اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو۔“ تو یہ آیت اتری۔ تفسیر جلالین میں آیت کا سبب نزول یہی بیان کیا گیا ہے اور مفسر جلال نے اسی کے مطابق تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے: ”تو اپنے دل میں اس کی محبت چھپانے والا تھا، جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور یہ کہ اگر زید اسے طلاق دے دے تو میں اس سے نکاح کر لوں۔“ یہی تفسیر زمخشری، نسفی، ابن جریر اور ثعلبی وغیرہ نے کی ہے۔ ہاں، ابن جریر نے اس باطل تفسیر کے ساتھ وہ تفسیر بھی لکھی ہے جس میں یہ فضول باتیں نہیں ہیں اور یہ باطل روایات بھی نقل کر دی ہیں، اگرچہ سند بیان کرنے کی وجہ سے ان کا نقصان کم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان آثار میں سے کسی کی سند صحیح نہیں، نہ ہی قتادہ یا ابن زید اس واقعہ کے وقت موجود تھے، وہ تابعی ہیں اور اپنی بات کا حوالہ بھی ذکر نہیں کرتے کہ انھوں نے کس سے یہ روایت سنی ہے اور پھر یہ صریح عقل کے بھی خلاف ہے۔ زینب کوئی اجنبی خاتون نہ تھی، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچانک دیکھا ہو۔ وہ آپ کی پھوپھی کی بیٹی تھی، آپ کے سامنے جوان ہوئی، آپ نے اپنے (منہ بولے) بیٹے کے لیے اس کا رشتہ مانگا، اس کے ساتھ نکاح کیا، آپ کے ساتھ اس نے ہجرت کی، اس وقت تک پردے کا نہ رواج تھا، نہ اس کا حکم اترا تھا کہ اتنے سالوں تک آپ نے اسے نہ دیکھا ہو۔ غرض اس قسم کی روایات ہر لحاظ سے باطل اور جھوٹ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بازی اور عفت کو بطور چیلنج ذکر کرنے کا حکم دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: «{ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ }» [یونس: ۱۶] ”پس بے شک میں تم میں اس سے پہلے ایک عمر رہ چکا ہوں، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟“
➍ رہی یہ بات کہ پھر حقیقت میں بات کیا تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دل میں چھپا رہے تھے اور اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کرنے والا تھا، تو اس میں راجح قول وہی ہے جو اس آیت کے پہلے فائدے میں ذکر کیا گیا ہے اور جسے اکثر محقق مفسرین، مثلاً حافظ ابن کثیر اور حافظ ابن حجر وغیرہ نے اختیار کیا ہے اور ہمارے شیخ استاذ محمد عبدہ نے بھی اسی کو صحیح قرار دیا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”اصل بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی پہلے سے خبردار کر دیا گیا تھا کہ زینب آپ کی بیوی ہونے والی ہے، مگر آپ اس کے اظہار سے شرماتے تھے کہ مخالفین الزام لگائیں گے کہ دیکھیے اپنی بہو سے نکاح کر لیا۔ اس لیے جب زید نے آکر شکایت کی تو آپ نے فرمایا: «{ اَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ }» اس پر اللہ تعالیٰ نے عتاب آمیز لہجے میں فرمایا کہ جب میں نے آپ کو پہلے بتا دیا ہے کہ زینب کا نکاح آپ سے ہونے والا ہے تو آپ زید سے یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں، یعنی آپ کی شان کے لائق نہیں، بلکہ بہتر یہ تھا کہ آپ خاموش رہتے، یا زید سے کہہ دیتے کہ تم جو کرنا چاہتے ہو کرو۔ علامہ آلوسی لکھتے ہیں، یہ عتاب ترک اولیٰ پر ہے۔“ (اشرف الحواشی) واضح رہے کہ یہ بات صراحت کے ساتھ کسی حدیث سے ثابت نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے آگاہ کر دیا تھا کہ آپ کا نکاح زینب سے ہو گا، یہ صرف سدی کا قول ہے، یا علی بن حسین (زین العابدین) سے کمزور سند کے ساتھ مروی قول ہے۔ البتہ قرآن مجید کے الفاظ: {” وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا “} اور {” مَا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ “} اور {” وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرًا “} سے اس قول کی تائید ہوتی ہے۔
➎ { فَلَمَّا قَضٰى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا: ” وَطَرًا “} کا معنی حاجت ہے، یعنی جب زید نے کچھ مدت تک اپنے نکاح میں رکھنے کے بعد اسے طلاق دے دی اور اس کی عدت بھی پوری ہو گئی، جس میں انھوں نے رجوع نہیں کیا اور ثابت ہو گیا کہ ان کے دل میں زینب کے متعلق جو خواہش تھی پوری ہو چکی اور اب ان کی کوئی خواہش یا حاجت نہیں رہی، تو ہم نے اے نبی! اس کا نکاح آپ سے کر دیا۔ ابن کثیر فرماتے ہیں: ”زینب کا آپ سے نکاح کرنے والا ولی خود اللہ تعالیٰ تھا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی کہ آپ انسانوں میں سے کسی ولی یا عقد یا مہر یا گواہوں کے بغیر (اس کے خاوند ہیں) اس کے پاس چلے جائیں۔“ (ابن کثیر) انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب زینب رضی اللہ عنھا کی عدت پوری ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ سے کہا: ”ان سے میرا ذکر کرو۔“ زید جب ان کے پاس گئے تو وہ آٹے میں خمیر ملا رہی تھیں، کہتے ہیں کہ جب میں نے انھیں دیکھا تو میرے سینے میں ان کی اتنی عظمت چھا گئی کہ میں ان کی طرف نظر بھر کر نہ دیکھ سکا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر کیا تھا۔ غرض میں نے ان کی طرف پیٹھ کر لی اور ایڑیوں پر پھر گیا اور کہا: ”اے زینب! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے، وہ آپ کو یاد کر رہے ہیں (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی طرف پیغامِ نکاح بھیجا ہے)۔“ زینب رضی اللہ عنھا نے کہا: ”میں اس وقت تک کوئی کام نہیں کرتی جب تک اپنے رب سے مشورہ نہ کر لوں (یعنی استخارہ نہ کر لوں)۔“ پھر وہ اپنی جائے نماز پر کھڑی ہو گئیں اور قرآن نازل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس اجازت کے بغیر تشریف لے آئے۔“ [مسلم، النکاح، باب زواج زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا …: ۱۴۲۸] انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [جَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَشْكُوْ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَقُوْلُ اتَّقِ اللّٰهَ، وَ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ، قَالَ أَنَسٌ لَوْ كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا لَكَتَمَ هٰذِهِ، قَالَ فَكَانَتْ زَيْنَبُ تَفْخَرُ عَلٰي أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ تَقُوْلُ زَوَّجَكُنَّ أَهَالِيْكُنَّ، وَ زَوَّجَنِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمٰوَاتٍ] [بخاري، التوحید، باب: «و کان عرشہ علی الماء …» : ۷۴۲۰] ”زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آ کر شکایت کرنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں یہی کہتے رہے: ”اللہ سے ڈر اور اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھ۔“ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی چیز چھپانے والے ہوتے تو اس بات کو ضرور چھپا لیتے۔“ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر زینب رضی اللہ عنھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں پر فخر کرتے ہوئے کہتی تھیں: ”تمھارا نکاح تمھارے گھر والوں نے کیا اور میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے کیا۔“
➏ { لِكَيْ لَا يَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ حَرَجٌ …:} یعنی ہم نے زینب رضی اللہ عنھا کا نکاح آپ سے اس لیے کر دیا کہ جاہلی رسم کے مطابق اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح کو جو حرام سمجھا جاتا تھا، آپ کے عملی اقدام سے یہ رسم ختم کی جائے اور ایمان والوں کو اپنے منہ بولے بیٹوں کی مطلقہ عورتوں کے ساتھ نکاح میں کوئی تنگی نہ رہے اور وہ کسی گناہ یا عار کے احساس کے بغیر ان سے نکاح کر سکیں۔
➐ { وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا:} یعنی اللہ کا یہ فیصلہ پورا ہو کر رہنے والا تھا کہ متبنّٰی حقیقی بیٹا نہیں ہوتا، نہ اسے متبنّٰی بنانے والے کے لیے اس کی مطلقہ سے نکاح حرام ہے اور یہ فیصلہ بھی پورا ہو کر رہنا تھا کہ زینب رضی اللہ عنھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[59] اس جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جب اپنی بیوی سے اپنی نفسانی خواہش پوری کر چکا تو طلاق دے دی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ سیدنا زید کی خواہش ہی یہ تھی کہ اسے طلاق دے دیں۔ چنانچہ انہوں نے طلاق دے دی اور عدت گزر گئی۔
1۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ زید بن حارثہ اپنی بیوی (زینب بنت جحش) کا شکوہ کرنے آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے تھے: اللہ سے ڈر اور اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رہنے دے۔ سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن سے کچھ چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپاتے اور سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ بی بی زینب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں پر فخر کیا کرتیں کہ تم کو تو تمہارے اولیاء نے بیاہا اور مجھے اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے بیاہ دیا۔ [بخاری۔ کتاب التوحید۔ باب قولہ وکان عرشہ علی الماء]
2۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ جب سیدہ زینب کی عدت پوری ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید سے کہا کہ زینب سے میرا ذکر کرو۔ زید کہتے ہیں کہ جب میں ان کے پاس آیا تو وہ اپنے آٹے کا خمیر اٹھا رہی تھیں۔ میں ان کی عظمت کی وجہ سے انھیں نظر بھر کر نہ دیکھ سکا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یاد کیا تھا۔ پھر میں نے ان سے کہا: زینب مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے۔ وہ آپ کو یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں اس وقت تک کوئی بات نہیں کرتی جب تک اپنے پروردگار سے مشورہ نہ کر لوں (استخارہ نہ کر لوں) پھر وہ اپنی جائے نماز پر کھڑی ہوئیں تو قرآن اترا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر اذن کے ان کے پاس چلے گئے۔ [مسلم۔ کتاب النکاح۔ باب زواج زینب بنت جحش]
[61] وہ اللہ کا حکم یہ تھا کہ متبنّیٰ اصل بیٹے کا مقام نہیں رکھتا کہ اس کی مطلقہ بیوی حرام ہو جائے اور اللہ اس غلط رسم کو بہرحال ختم کرنا چاہتا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ان پر احسان تھا کہ انہیں غلامی سے آزاد کر دیا۔ یہ بڑی شان والے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ہی پیارے تھے یہاں تک کہ انہیں سب مسلمان «حِبُّ الرَّسُوْل» کہتے تھے۔ ان کے صاحبزادے اسامہ کو بھی «الْحِبُّ ابْنُ الْحِبِّ» کہتے تھے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ { جس لشکر میں انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھیجتے تھے اس لشکر کا سردار انہی کو بناتے تھے۔ اگر یہ زندہ رہتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ بن جاتے }۔ [مسند احمد:227/6:حسن]
مسند بزار میں ہے { اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں مسجد میں تھا میرے پاس سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما آئے اور مجھ سے کہا جاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے اجازت طلب کرو۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جانتے ہو وہ کیوں آئے ہیں؟ } میں نے کہا نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: { فرمایا لیکن میں جانتا ہوں جاؤ بلا لاؤ }، یہ آئے اور کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذرا بتائیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اہل میں سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میری بیٹی فاطمہ (رضی اللہ عنہا) }۔ انہوں نے کہا ہم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نہیں پوچھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جن پر اللہ نے انعام کیا اور میں نے بھی } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3819، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اپنی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب کی لڑکی زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا اسدیہ سے کرا دیا تھا۔ دس دینار اور سات درہم مہر دیا تھا، ایک ڈوپٹہ ایک چادر ایک کرتا پچاس مد اناج اور دس مد کھجوریں دی تھیں۔
ایک سال یا کچھ اوپر تک تو یہ گھر بسا لیکن پھر ناچاقی شروع ہو گئی۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر شکایت شروع کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سمجھانے لگے کہ { گھر نہ توڑو اللہ سے ڈرو }۔ ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے اس جگہ بہت سے غیر صحیح آثار نقل کئے ہیں جن کا نقل کرنا ہم نامناسب جان کر ترک کرتے ہیں کیونکہ ان میں سے ایک بھی ثابت اور صحیح نہیں۔
مسند احمد میں بھی ایک روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہے لیکن اس میں بھی بڑی غرابت ہے اس لیے ہم نے اسے بھی وارد نہیں کیا۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے دی تھی کہ زینب رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں گی۔ یہی بات تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہر نہ فرمایا اور زید رضی اللہ عنہ کو سمجھایا کہ وہ اپنی بیوی کو الگ نہ کریں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ فرماتی ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر اللہ کی وحی کتاب اللہ میں سے ایک آیت بھی چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپالیتے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:177]
مسند احمد میں ہے { سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی عدت پوری ہو چکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ { تم جاؤ اور انہیں مجھ سے نکاح کرنے کا پیغام پہنچاؤ }۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ گئے اس وقت آپ رضی اللہ عنہا آٹا گوندھ رہی تھیں۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ پر ان کی عظمت اس قدر چھائی کہ سامنے پڑ کر بات نہ کر سکے منہ پھیر کر بیٹھ گئے اور ذکر کیا۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”ٹھہرو! میں اللہ تعالیٰ سے استخارہ کر لوں۔“
یہ تو کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگیں ادھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ میں نے ان کا نکاح تجھ سے کر دیا ‘۔ چنانچہ اسی وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بے اطلاع چلے آئے،، پھر ولیمے کی دعوت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سب کو گوشت روٹی کھلائی۔ لوگ کھا پی کر چلے گئے مگر چند آدمی وہیں بیٹھے باتیں کرتے رہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل کر اپنی بیویوں کے حجرے کے پاس گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں السلام علیک کرتے تھے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتی تھیں کہ فرمائیے بیوی صاحبہ سے خوش تو ہیں؟ مجھے یہ یاد نہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خبر دیئے گئے کہ لوگ وہاں سے چلے گئے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھر کی طرف تشریف لے گئے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی جانے کا ارادہ کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ گرا دیا اور میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان حجاب ہو گیا اور پردے کی آیتیں اتریں اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو نصیحت کی گئی اور فرما دیا گیا کہ ’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں بے اجازت نہ جاؤ ‘ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1428]
سورۃ النور کی تفسیر میں ہم یہ روایت بیان کر چکے ہیں کہ ”سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا میرا نکاح آسمان سے اترا اور ان کے مقابلے پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”میری برأت کی آیتیں آسمان سے اتریں“ جس کا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اقرار کیا۔
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے ان سے نکاح کرنا تیرے لیے جائز کر دیا تاکہ مسلمانوں پر ان کے لے پالک لڑکوں کو بیویوں کے بارے میں جب انہیں طلاق دے دی جائے کوئی حرج نہ رہے ‘۔ یعنی وہ اگر چاہیں ان سے نکاح کر سکیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے زید کو اپنا متنبی بنا رکھا تھا۔ عام طور پر انہیں زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا جاتا تھا۔ قرآن نے اس نسبت سے بھی ممانعت کر دی اور حکم دیا کہ ’ انہیں اپنے حقیقی باپ کی طرف نسبت کرکے پکارا کرو ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وكان سببُ نزول هذه الآياتِ أنَّ الله تعالى أراد أن يَشْرَعَ شرعاً عامًّا للمؤمنين أنَّ الأدعياء ليسوا في حكم الأبناء حقيقةً من جميع الوجوه، وأنَّ أزواجَهم لا جُناح على مَنْ تَبَنَّاهُم نكاحهنَّ، وكان هذا من الأمور المعتادة التي لا تكاد تزولُ إلا بحادثٍ كبيرٍ، فأرادَ أن يكون هذا الشرع قولاً من رسوله وفعلاً، وإذا أراد الله أمراً؛ جعل له سبباً، فكان زيد بن حارثة يُدعى زيد بن محمد، قد تبنَّاه النبيُّ - صلى الله عليه وسلم -، فصار يُدعى إليه، حتى نزل {ادْعوهم لآبائِهِم}؛ فقيل له: زيد بن حارثة، وكانت تحته زينب بنت جحش ابنة عمة رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، وكان قد وقع في قلبِ الرسول لو طلَّقها زيدٌ لتزوَّجها، فقدَّر الله أن يكون بينها وبين زيدٍ ما اقتضى أنْ جاء زيد بن حارثة يستأذنُ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - في فراقها؛ قال الله: {وإذْ تقولُ للذي أنعمَ اللهُ عليه}؛ أي: بالإسلام، {وأنعمتَ عليه}: بالعتق والإرشاد والتعليم حين جاءك مشاوراً في فراقها، فقلتَ له ناصحاً له ومخبراً بمصلحتِهِ مقدِّماً لها على رغبتِك مع وقوعها في قلبك: {أمسِكْ عليك زَوْجَكَ}؛ أي: لا تفارِقْها واصبِرْ على ما جاءك منها.
{واتَّقِ الله}: تعالى في أمورك عامَّةً وفي أمر زوجك خاصَّةً؛ فإنَّ التقوى تحثُّ على الصبر وتأمر به، {وتُخفي في نفسِكَ ما الله مُبديه}: والذي أخفاه أنَّه لو طلَّقها زيدٌ؛ لتزوَّجها - صلى الله عليه وسلم -، {وتخشى الناس}: في عدم إبداء ما في نفسك، {والله أحقُّ أن تخشاه}: فإنَّ خشيته جالبةٌ لكلِّ خيرٍ مانعةٌ من كلِّ شرٍّ، {فلما قضى زيدٌ منها وطراً}؛ أي: طابت نفسُه ورغِبَ عنها وفارقها، {زوَّجْناكها}: وإنَّما فَعَلْنا ذلك لفائدةٍ عظيمةٍ، وهي: {لكيلا يكونَ على المؤمنين حرجٌ في أزواج أدعيائِهِم}: حيث رأوك تزوَّجت زوج زيد بن حارثة الذي كان من قَبْلُ يَنْتَسِبُ إليك، ولما كان قولُه: {لِكَيْلا يكونَ على المؤمنين حرجٌ في أزواج أدعيائِهِم}: عامًّا في جميع الأحوال، وكان من الأحوال ما لا يجوز ذلك، وهي قبل انقضاء وطرِهِ منها؛ قيَّد ذلك بقوله: {إذا قَضَوْا منهنَّ وطراً وكان أمرُ الله مفعولاً}؛ أي: لا بدَّ من فعلِهِ ولا عائق له ولا مانع.
وفي هذه الآيات المشتملات على هذه القصة فوائد:
منها: الثناءُ على زيد بن حارثة، وذلك من وجهين: أحدِهما: أنَّ الله سمَّاه في القرآن ولم يسمِّ من الصحابة باسمه غيره. والثاني: أنَّ الله أخبر أنَّه أنعم عليه؛ أيْ: بنعمة الإسلام والإيمان، وهذه شهادةٌ من الله له أنه مسلم مؤمنٌ ظاهراً وباطناً، وإلاَّ؛ فلا وجه لتخصيصه بالنعمة؛ إلاَّ أنَّ المراد بها النعمة الخاصة.
ومنها: أن المُعْتَقَ في نعمة المعتِقِ.
ومنها: جواز تزوج زوجة الدَّعي كما صرح به.
ومنها: أنَّ التعليم الفعليَّ أبلغُ من القولي، خصوصاً إذا اقترن بالقول؛ فإنَّ ذلك نورٌ على نور.
ومنها: أن المحبة التي في قلب العبد لغير زوجته ومملوكته ومحارمه إذا لم يَقْتَرِنْ بها محذورٌ لا يأثم عليها العبد، ولو اقترن بذلك أمنيته أنْ لو طلَّقها زوجُها لتزوَّجها من غير أن يسعى في فرقةٍ بينَهما أو يتسبَّب بأيِّ سبب كان؛ لأنَّ الله أخبر أنَّ الرسول - صلى الله عليه وسلم - أخفى ذلك في نفسه.
ومنها: أنَّ الرسول - صلى الله عليه وسلم - قد بلَّغَ البلاغَ المبين، فلم يدعْ شيئاً مما أوحي إليه إلاَّ وبلَّغه، حتى هذا الأمر الذي فيه عتابه، وهذا يدلُّ على أنَّه رسولُ الله، ولا يقول إلاَّ ما أوحي إليه، ولا يريد تعظيمَ نفسِهِ.
ومنها: أنَّ المستشارَ مؤتمنٌ، يجبُ عليه ـ إذا استُشير في أمر من الأمور ـ أن يُشير بما يعلمُه أصلَح للمستشيرِ ، ولو كان له حظُّ نفس بتقدُّم مصلحة المستشير على هوى نفسه وغرضه.
ومنها: أنَّ من الرأي الحسن لمن استشار في فراق زوجة أن يُؤْمَرَ بإمساكها مهما أمكن صلاحُ الحال؛ فهو أحسن من الفرقة.
ومنها: أنَّه يتعيَّن أن يقدِّم العبد خشية الله على خشية الناس، وأنَّها أحقُّ منها وأولى.
ومنها: فضيلةُ زينب رضي الله عنها أم المؤمنين؛ حيث تولَّى الله تزويجها من رسوله - صلى الله عليه وسلم - من دون خطبة ولا شهودٍ، ولهذا كانت تفتخرُ بذلك على أزواج رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، وتقول: زوَّجَكُنَّ أهاليكنَّ وزوَّجَني الله من فوق سبع سماواتٍ.
ومنها: أنَّ المرأة إذا كانت ذات زوج لا يجوزُ نِكاحها ولا السعيُ فيه وفي أسبابه حتى يقضِيَ زوجُها وَطَرَهُ منها، ولا يقضي وَطَرَهُ حتى تنقضيَ عِدَّتُها؛ لأنَّها قبل انقضاء عدتها وهي في عصمتِهِ أو في حقِّه الذي له وطرٌ إليها ولو من بعض الوجوه.