وَ اِذۡ تَقُوۡلُ لِلَّذِیۡۤ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِ اَمۡسِکۡ عَلَیۡکَ زَوۡجَکَ وَ اتَّقِ اللّٰہَ وَ تُخۡفِیۡ فِیۡ نَفۡسِکَ مَا اللّٰہُ مُبۡدِیۡہِ وَ تَخۡشَی النَّاسَ ۚ وَ اللّٰہُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشٰہُ ؕ فَلَمَّا قَضٰی زَیۡدٌ مِّنۡہَا وَطَرًا زَوَّجۡنٰکَہَا لِکَیۡ لَا یَکُوۡنَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ حَرَجٌ فِیۡۤ اَزۡوَاجِ اَدۡعِیَآئِہِمۡ اِذَا قَضَوۡا مِنۡہُنَّ وَطَرًا ؕ وَ کَانَ اَمۡرُ اللّٰہِ مَفۡعُوۡلًا ﴿۳۷﴾
اور جب تو اس شخص سے جس پر اللہ نے انعام کیا اور جس پر تو نے انعام کیا کہہ رہا تھا کہ اپنی بیوی اپنے پاس روکے رکھ اور اللہ سے ڈر اور تو اپنے دل میں وہ بات چھپاتا تھاجسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تو لوگوں سے ڈرتا تھا، حالانکہ اللہ زیادہ حق دار ہے کہ تو اس سے ڈرے، پھر جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کر لی تو ہم نے تجھ سے اس کا نکاح کر دیا، تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ ہو، جب وہ ان سے حاجت پوری کر چکیں اور اللہ کا حکم پورا کیا جانے والا تھا۔
En
اور جب تم اس شخص سے جس پر خدا نے احسان کیا اور تم نے بھی احسان کیا (یہ) کہتے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دے اور خدا سے ڈر اور تم اپنے دل میں وہ بات پوشیدہ کرتے تھے جس کو خدا ظاہر کرنے والا تھا اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے۔ حالانکہ خدا ہی اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔ پھر جب زید نے اس سے (کوئی) حاجت (متعلق) نہ رکھی (یعنی اس کو طلاق دے دی) تو ہم نے تم سے اس کا نکاح کردیا تاکہ مومنوں کے لئے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (کے ساتھ نکاح کرنے کے بارے) میں جب وہ ان سے اپنی حاجت (متعلق) نہ رکھیں (یعنی طلاق دے دیں) کچھ تنگی نہ رہے۔ اور خدا کا حکم واقع ہو کر رہنے والا تھا
En
(یاد کرو) جب کہ تو اس شخص سے کہہ رہا تھا جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور تو نے بھی کہ تو اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ اور اللہ سے ڈر اور تو اپنے دل میں وه بات چھپائے ہوئے تھا جسے اللہ ﻇاہر کرنے واﻻ تھا اور تو لوگوں سے خوف کھاتا تھا، حاﻻنکہ اللہ تعالیٰ اس کا زیاده حق دار تھا کہ تو اس سے ڈرے، پس جب کہ زید نے اس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی ہم نے اسے تیرے نکاح میں دے دیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالکوں کی بیویوں کے بارے میں کسی طرح کی تنگی نہ رہے جب کہ وه اپنی غرض ان سے پوری کرلیں، اللہ کا (یہ) حکم تو ہو کر ہی رہنے واﻻ تھا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 37) ➊ { وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِيْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ …:} ان آیات کے نزول کا سبب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ حکم نازل کرنے کا ارادہ فرمایا کہ منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹوں کے حکم میں کسی طرح بھی نہیں ہیں اور یہ کہ اگر وہ اپنی بیویوں کو طلاق دے دیں، تو انھیں یعنی منہ بولے بیٹے بنانے والوں کے لیے ان سے نکاح جائز ہے، کیونکہ وہ عورتیں حقیقی بیٹوں کی بیویوں کی طرح ان کی بہو نہیں ہیں۔ تو اس وقت متبنّٰی کی رسم معاشرے میں اس قدر پختہ اور مستحکم ہو چکی تھی کہ بہت بڑے اقدام کے بغیر اس کی اصلاح ممکن نہ تھی اور ضروری تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے علاوہ آپ کے عمل کے ساتھ اس پر کاری ضرب لگائی جائے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے اسباب پیدا فرما دیتا ہے۔ چنانچہ ایسا ہوا کہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ، جنھیں زید بن محمد کہا جاتا تھا (کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں متبنّٰی بنایا تھا، جب آیت {”اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَائِهِمْ “} اتری تو انھیں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کہا جانے لگا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا کے ساتھ کیا تھا۔ مزاج کے اختلاف کی وجہ سے ان دونوں میاں بیوی میں موافقت نہ رہ سکی، اس لیے زید رضی اللہ عنہ بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے رویے کی شکایت کرتے اور طلاق دینے کی اجازت مانگتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہو چکا تھا کہ زید اسے طلاق دیں گے اور وہ آپ کے نکاح میں آئیں گی۔ مگر اس ڈر سے کہ لوگ کہیں گے کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنی بہو سے نکاح کر لیا اور منافقین، یہودی اور مشرکین اسے آپ کی عصمت پر طعن کا ذریعہ بنائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم زید رضی اللہ عنہ کو طلاق سے منع کرتے اور یہی فرماتے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو۔
➋ { ” لِلَّذِيْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِ “} سے مراد زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یہ آیت: «{ وَ تُخْفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ }» زینب بنت جحش اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنھما کے بارے میں نازل ہوئی۔“ [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «و تخفي في نفسک…» : ۴۷۸۷] اللہ تعالیٰ کا اس پر دوسرے بے شمار انعامات کے ساتھ یہ انعام بھی تھا کہ اسے اس کے مشرک خاندان سے نکال کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچایا، پھر غلامی سے آزادی عطا فرمائی۔ اسلام قبول کرنے اور اس میں سبقت کرنے والے چار افراد میں شامل ہونے کی سعادت بخشی۔ قرآن مجید میں تمام صحابہ میں سے صرف اس کا نام صراحت کے ساتھ ذکر فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر دوسرے کئی انعامات کے ساتھ یہ انعام بھی تھا کہ اسے آزاد کیا، اپنا بیٹا بنایا، اپنی پھوپھی زاد کے ساتھ نکاح کیا اور اسے اپنی خاص محبت سے نوازا، چنانچہ اسے اور اس کے بیٹے اسامہ کو حِبّ رسول صلی اللہ علیہ وسلم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب) کہا جاتا تھا۔
➌ {وَ تُخْفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ:} وہ بات کیا تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپاتے تھے اور اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کرنے والا تھا، اس کے متعلق تفاسیر میں متعدد اقوال مذکور ہیں۔ بعض اقوال ایسے بھی ہیں جو شانِ نبوت کے سراسر منافی ہیں، عقل کے بھی صاف خلاف ہیں اور صحیح سند کے ساتھ ثابت بھی نہیں، بعد کے لوگوں کی فضول باتیں ہیں۔ اس لیے حافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں: ”ان کا بیان مناسب نہیں۔“ اور حافظ ابن کثیر نے فرمایا: ”ابن جریر اور ابن ابی حاتم وغیرہ نے یہاں بعض سلف سے کچھ آثار نقل کیے ہیں، جنھیں ذکر کرنے سے ہم نے پہلو تہی اختیار کی ہے، کیونکہ وہ ثابت نہیں ہیں۔“ مگر چونکہ ان اقوال کو لے کر مستشرقین اور اسلام کے مخالفین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر زبانِ طعن دراز کی ہے، اس لیے انھیں بیان کرنا اور ان کی حقیقت کھولنا لازم ہے۔ چنانچہ قتادہ اور ابن زید نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زید رضی اللہ عنہ کی عدم موجودگی میں ان کے گھر گئے، تو زینب رضی اللہ عنھا کو اس کی زینت میں دیکھا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہوا سے اس کے گھر کا پردہ ہٹ گیا اور آپ نے اس کے حسن و جمال کو دیکھا تو آپ کے دل میں اس کی محبت جاگزین ہو گئی اور آپ نے فرمایا: ”سبحان ہی ہے جو دلوں کو پھیرنے والا ہے۔“ جب زید آئے تو زینب نے انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلنے والے الفاظ بتائے، تو زید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: ”مجھے معلوم ہوا کہ آپ میرے گھر آئے، لیکن آپ اندر کیوں تشریف نہیں لائے؟ شاید آپ کو زینب پسند آئی ہے تو کیا میں اسے چھوڑ دوں؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی بیوی اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو۔“ تو یہ آیت اتری۔ تفسیر جلالین میں آیت کا سبب نزول یہی بیان کیا گیا ہے اور مفسر جلال نے اسی کے مطابق تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے: ”تو اپنے دل میں اس کی محبت چھپانے والا تھا، جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور یہ کہ اگر زید اسے طلاق دے دے تو میں اس سے نکاح کر لوں۔“ یہی تفسیر زمخشری، نسفی، ابن جریر اور ثعلبی وغیرہ نے کی ہے۔ ہاں، ابن جریر نے اس باطل تفسیر کے ساتھ وہ تفسیر بھی لکھی ہے جس میں یہ فضول باتیں نہیں ہیں اور یہ باطل روایات بھی نقل کر دی ہیں، اگرچہ سند بیان کرنے کی وجہ سے ان کا نقصان کم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان آثار میں سے کسی کی سند صحیح نہیں، نہ ہی قتادہ یا ابن زید اس واقعہ کے وقت موجود تھے، وہ تابعی ہیں اور اپنی بات کا حوالہ بھی ذکر نہیں کرتے کہ انھوں نے کس سے یہ روایت سنی ہے اور پھر یہ صریح عقل کے بھی خلاف ہے۔ زینب کوئی اجنبی خاتون نہ تھی، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچانک دیکھا ہو۔ وہ آپ کی پھوپھی کی بیٹی تھی، آپ کے سامنے جوان ہوئی، آپ نے اپنے (منہ بولے) بیٹے کے لیے اس کا رشتہ مانگا، اس کے ساتھ نکاح کیا، آپ کے ساتھ اس نے ہجرت کی، اس وقت تک پردے کا نہ رواج تھا، نہ اس کا حکم اترا تھا کہ اتنے سالوں تک آپ نے اسے نہ دیکھا ہو۔ غرض اس قسم کی روایات ہر لحاظ سے باطل اور جھوٹ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بازی اور عفت کو بطور چیلنج ذکر کرنے کا حکم دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: «{ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ }» [یونس: ۱۶] ”پس بے شک میں تم میں اس سے پہلے ایک عمر رہ چکا ہوں، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟“
➍ رہی یہ بات کہ پھر حقیقت میں بات کیا تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دل میں چھپا رہے تھے اور اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کرنے والا تھا، تو اس میں راجح قول وہی ہے جو اس آیت کے پہلے فائدے میں ذکر کیا گیا ہے اور جسے اکثر محقق مفسرین، مثلاً حافظ ابن کثیر اور حافظ ابن حجر وغیرہ نے اختیار کیا ہے اور ہمارے شیخ استاذ محمد عبدہ نے بھی اسی کو صحیح قرار دیا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”اصل بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی پہلے سے خبردار کر دیا گیا تھا کہ زینب آپ کی بیوی ہونے والی ہے، مگر آپ اس کے اظہار سے شرماتے تھے کہ مخالفین الزام لگائیں گے کہ دیکھیے اپنی بہو سے نکاح کر لیا۔ اس لیے جب زید نے آکر شکایت کی تو آپ نے فرمایا: «{ اَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ }» اس پر اللہ تعالیٰ نے عتاب آمیز لہجے میں فرمایا کہ جب میں نے آپ کو پہلے بتا دیا ہے کہ زینب کا نکاح آپ سے ہونے والا ہے تو آپ زید سے یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں، یعنی آپ کی شان کے لائق نہیں، بلکہ بہتر یہ تھا کہ آپ خاموش رہتے، یا زید سے کہہ دیتے کہ تم جو کرنا چاہتے ہو کرو۔ علامہ آلوسی لکھتے ہیں، یہ عتاب ترک اولیٰ پر ہے۔“ (اشرف الحواشی) واضح رہے کہ یہ بات صراحت کے ساتھ کسی حدیث سے ثابت نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے آگاہ کر دیا تھا کہ آپ کا نکاح زینب سے ہو گا، یہ صرف سدی کا قول ہے، یا علی بن حسین (زین العابدین) سے کمزور سند کے ساتھ مروی قول ہے۔ البتہ قرآن مجید کے الفاظ: {” وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا “} اور {” مَا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ “} اور {” وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرًا “} سے اس قول کی تائید ہوتی ہے۔
➎ { فَلَمَّا قَضٰى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا: ” وَطَرًا “} کا معنی حاجت ہے، یعنی جب زید نے کچھ مدت تک اپنے نکاح میں رکھنے کے بعد اسے طلاق دے دی اور اس کی عدت بھی پوری ہو گئی، جس میں انھوں نے رجوع نہیں کیا اور ثابت ہو گیا کہ ان کے دل میں زینب کے متعلق جو خواہش تھی پوری ہو چکی اور اب ان کی کوئی خواہش یا حاجت نہیں رہی، تو ہم نے اے نبی! اس کا نکاح آپ سے کر دیا۔ ابن کثیر فرماتے ہیں: ”زینب کا آپ سے نکاح کرنے والا ولی خود اللہ تعالیٰ تھا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی کہ آپ انسانوں میں سے کسی ولی یا عقد یا مہر یا گواہوں کے بغیر (اس کے خاوند ہیں) اس کے پاس چلے جائیں۔“ (ابن کثیر) انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب زینب رضی اللہ عنھا کی عدت پوری ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ سے کہا: ”ان سے میرا ذکر کرو۔“ زید جب ان کے پاس گئے تو وہ آٹے میں خمیر ملا رہی تھیں، کہتے ہیں کہ جب میں نے انھیں دیکھا تو میرے سینے میں ان کی اتنی عظمت چھا گئی کہ میں ان کی طرف نظر بھر کر نہ دیکھ سکا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر کیا تھا۔ غرض میں نے ان کی طرف پیٹھ کر لی اور ایڑیوں پر پھر گیا اور کہا: ”اے زینب! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے، وہ آپ کو یاد کر رہے ہیں (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی طرف پیغامِ نکاح بھیجا ہے)۔“ زینب رضی اللہ عنھا نے کہا: ”میں اس وقت تک کوئی کام نہیں کرتی جب تک اپنے رب سے مشورہ نہ کر لوں (یعنی استخارہ نہ کر لوں)۔“ پھر وہ اپنی جائے نماز پر کھڑی ہو گئیں اور قرآن نازل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس اجازت کے بغیر تشریف لے آئے۔“ [مسلم، النکاح، باب زواج زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا …: ۱۴۲۸] انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [جَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَشْكُوْ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَقُوْلُ اتَّقِ اللّٰهَ، وَ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ، قَالَ أَنَسٌ لَوْ كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا لَكَتَمَ هٰذِهِ، قَالَ فَكَانَتْ زَيْنَبُ تَفْخَرُ عَلٰي أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ تَقُوْلُ زَوَّجَكُنَّ أَهَالِيْكُنَّ، وَ زَوَّجَنِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمٰوَاتٍ] [بخاري، التوحید، باب: «و کان عرشہ علی الماء …» : ۷۴۲۰] ”زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آ کر شکایت کرنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں یہی کہتے رہے: ”اللہ سے ڈر اور اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھ۔“ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی چیز چھپانے والے ہوتے تو اس بات کو ضرور چھپا لیتے۔“ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر زینب رضی اللہ عنھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں پر فخر کرتے ہوئے کہتی تھیں: ”تمھارا نکاح تمھارے گھر والوں نے کیا اور میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے کیا۔“
➏ { لِكَيْ لَا يَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ حَرَجٌ …:} یعنی ہم نے زینب رضی اللہ عنھا کا نکاح آپ سے اس لیے کر دیا کہ جاہلی رسم کے مطابق اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح کو جو حرام سمجھا جاتا تھا، آپ کے عملی اقدام سے یہ رسم ختم کی جائے اور ایمان والوں کو اپنے منہ بولے بیٹوں کی مطلقہ عورتوں کے ساتھ نکاح میں کوئی تنگی نہ رہے اور وہ کسی گناہ یا عار کے احساس کے بغیر ان سے نکاح کر سکیں۔
➐ { وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا:} یعنی اللہ کا یہ فیصلہ پورا ہو کر رہنے والا تھا کہ متبنّٰی حقیقی بیٹا نہیں ہوتا، نہ اسے متبنّٰی بنانے والے کے لیے اس کی مطلقہ سے نکاح حرام ہے اور یہ فیصلہ بھی پورا ہو کر رہنا تھا کہ زینب رضی اللہ عنھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں گی۔
➋ { ” لِلَّذِيْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِ “} سے مراد زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”یہ آیت: «{ وَ تُخْفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ }» زینب بنت جحش اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنھما کے بارے میں نازل ہوئی۔“ [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «و تخفي في نفسک…» : ۴۷۸۷] اللہ تعالیٰ کا اس پر دوسرے بے شمار انعامات کے ساتھ یہ انعام بھی تھا کہ اسے اس کے مشرک خاندان سے نکال کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچایا، پھر غلامی سے آزادی عطا فرمائی۔ اسلام قبول کرنے اور اس میں سبقت کرنے والے چار افراد میں شامل ہونے کی سعادت بخشی۔ قرآن مجید میں تمام صحابہ میں سے صرف اس کا نام صراحت کے ساتھ ذکر فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر دوسرے کئی انعامات کے ساتھ یہ انعام بھی تھا کہ اسے آزاد کیا، اپنا بیٹا بنایا، اپنی پھوپھی زاد کے ساتھ نکاح کیا اور اسے اپنی خاص محبت سے نوازا، چنانچہ اسے اور اس کے بیٹے اسامہ کو حِبّ رسول صلی اللہ علیہ وسلم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب) کہا جاتا تھا۔
➌ {وَ تُخْفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ:} وہ بات کیا تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپاتے تھے اور اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کرنے والا تھا، اس کے متعلق تفاسیر میں متعدد اقوال مذکور ہیں۔ بعض اقوال ایسے بھی ہیں جو شانِ نبوت کے سراسر منافی ہیں، عقل کے بھی صاف خلاف ہیں اور صحیح سند کے ساتھ ثابت بھی نہیں، بعد کے لوگوں کی فضول باتیں ہیں۔ اس لیے حافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں: ”ان کا بیان مناسب نہیں۔“ اور حافظ ابن کثیر نے فرمایا: ”ابن جریر اور ابن ابی حاتم وغیرہ نے یہاں بعض سلف سے کچھ آثار نقل کیے ہیں، جنھیں ذکر کرنے سے ہم نے پہلو تہی اختیار کی ہے، کیونکہ وہ ثابت نہیں ہیں۔“ مگر چونکہ ان اقوال کو لے کر مستشرقین اور اسلام کے مخالفین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر زبانِ طعن دراز کی ہے، اس لیے انھیں بیان کرنا اور ان کی حقیقت کھولنا لازم ہے۔ چنانچہ قتادہ اور ابن زید نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زید رضی اللہ عنہ کی عدم موجودگی میں ان کے گھر گئے، تو زینب رضی اللہ عنھا کو اس کی زینت میں دیکھا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہوا سے اس کے گھر کا پردہ ہٹ گیا اور آپ نے اس کے حسن و جمال کو دیکھا تو آپ کے دل میں اس کی محبت جاگزین ہو گئی اور آپ نے فرمایا: ”سبحان ہی ہے جو دلوں کو پھیرنے والا ہے۔“ جب زید آئے تو زینب نے انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلنے والے الفاظ بتائے، تو زید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: ”مجھے معلوم ہوا کہ آپ میرے گھر آئے، لیکن آپ اندر کیوں تشریف نہیں لائے؟ شاید آپ کو زینب پسند آئی ہے تو کیا میں اسے چھوڑ دوں؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی بیوی اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو۔“ تو یہ آیت اتری۔ تفسیر جلالین میں آیت کا سبب نزول یہی بیان کیا گیا ہے اور مفسر جلال نے اسی کے مطابق تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے: ”تو اپنے دل میں اس کی محبت چھپانے والا تھا، جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور یہ کہ اگر زید اسے طلاق دے دے تو میں اس سے نکاح کر لوں۔“ یہی تفسیر زمخشری، نسفی، ابن جریر اور ثعلبی وغیرہ نے کی ہے۔ ہاں، ابن جریر نے اس باطل تفسیر کے ساتھ وہ تفسیر بھی لکھی ہے جس میں یہ فضول باتیں نہیں ہیں اور یہ باطل روایات بھی نقل کر دی ہیں، اگرچہ سند بیان کرنے کی وجہ سے ان کا نقصان کم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان آثار میں سے کسی کی سند صحیح نہیں، نہ ہی قتادہ یا ابن زید اس واقعہ کے وقت موجود تھے، وہ تابعی ہیں اور اپنی بات کا حوالہ بھی ذکر نہیں کرتے کہ انھوں نے کس سے یہ روایت سنی ہے اور پھر یہ صریح عقل کے بھی خلاف ہے۔ زینب کوئی اجنبی خاتون نہ تھی، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچانک دیکھا ہو۔ وہ آپ کی پھوپھی کی بیٹی تھی، آپ کے سامنے جوان ہوئی، آپ نے اپنے (منہ بولے) بیٹے کے لیے اس کا رشتہ مانگا، اس کے ساتھ نکاح کیا، آپ کے ساتھ اس نے ہجرت کی، اس وقت تک پردے کا نہ رواج تھا، نہ اس کا حکم اترا تھا کہ اتنے سالوں تک آپ نے اسے نہ دیکھا ہو۔ غرض اس قسم کی روایات ہر لحاظ سے باطل اور جھوٹ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بازی اور عفت کو بطور چیلنج ذکر کرنے کا حکم دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: «{ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ }» [یونس: ۱۶] ”پس بے شک میں تم میں اس سے پہلے ایک عمر رہ چکا ہوں، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟“
➍ رہی یہ بات کہ پھر حقیقت میں بات کیا تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دل میں چھپا رہے تھے اور اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کرنے والا تھا، تو اس میں راجح قول وہی ہے جو اس آیت کے پہلے فائدے میں ذکر کیا گیا ہے اور جسے اکثر محقق مفسرین، مثلاً حافظ ابن کثیر اور حافظ ابن حجر وغیرہ نے اختیار کیا ہے اور ہمارے شیخ استاذ محمد عبدہ نے بھی اسی کو صحیح قرار دیا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”اصل بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی پہلے سے خبردار کر دیا گیا تھا کہ زینب آپ کی بیوی ہونے والی ہے، مگر آپ اس کے اظہار سے شرماتے تھے کہ مخالفین الزام لگائیں گے کہ دیکھیے اپنی بہو سے نکاح کر لیا۔ اس لیے جب زید نے آکر شکایت کی تو آپ نے فرمایا: «{ اَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ }» اس پر اللہ تعالیٰ نے عتاب آمیز لہجے میں فرمایا کہ جب میں نے آپ کو پہلے بتا دیا ہے کہ زینب کا نکاح آپ سے ہونے والا ہے تو آپ زید سے یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں، یعنی آپ کی شان کے لائق نہیں، بلکہ بہتر یہ تھا کہ آپ خاموش رہتے، یا زید سے کہہ دیتے کہ تم جو کرنا چاہتے ہو کرو۔ علامہ آلوسی لکھتے ہیں، یہ عتاب ترک اولیٰ پر ہے۔“ (اشرف الحواشی) واضح رہے کہ یہ بات صراحت کے ساتھ کسی حدیث سے ثابت نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے آگاہ کر دیا تھا کہ آپ کا نکاح زینب سے ہو گا، یہ صرف سدی کا قول ہے، یا علی بن حسین (زین العابدین) سے کمزور سند کے ساتھ مروی قول ہے۔ البتہ قرآن مجید کے الفاظ: {” وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا “} اور {” مَا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ “} اور {” وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرًا “} سے اس قول کی تائید ہوتی ہے۔
➎ { فَلَمَّا قَضٰى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا: ” وَطَرًا “} کا معنی حاجت ہے، یعنی جب زید نے کچھ مدت تک اپنے نکاح میں رکھنے کے بعد اسے طلاق دے دی اور اس کی عدت بھی پوری ہو گئی، جس میں انھوں نے رجوع نہیں کیا اور ثابت ہو گیا کہ ان کے دل میں زینب کے متعلق جو خواہش تھی پوری ہو چکی اور اب ان کی کوئی خواہش یا حاجت نہیں رہی، تو ہم نے اے نبی! اس کا نکاح آپ سے کر دیا۔ ابن کثیر فرماتے ہیں: ”زینب کا آپ سے نکاح کرنے والا ولی خود اللہ تعالیٰ تھا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی کہ آپ انسانوں میں سے کسی ولی یا عقد یا مہر یا گواہوں کے بغیر (اس کے خاوند ہیں) اس کے پاس چلے جائیں۔“ (ابن کثیر) انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب زینب رضی اللہ عنھا کی عدت پوری ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ سے کہا: ”ان سے میرا ذکر کرو۔“ زید جب ان کے پاس گئے تو وہ آٹے میں خمیر ملا رہی تھیں، کہتے ہیں کہ جب میں نے انھیں دیکھا تو میرے سینے میں ان کی اتنی عظمت چھا گئی کہ میں ان کی طرف نظر بھر کر نہ دیکھ سکا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر کیا تھا۔ غرض میں نے ان کی طرف پیٹھ کر لی اور ایڑیوں پر پھر گیا اور کہا: ”اے زینب! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے، وہ آپ کو یاد کر رہے ہیں (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی طرف پیغامِ نکاح بھیجا ہے)۔“ زینب رضی اللہ عنھا نے کہا: ”میں اس وقت تک کوئی کام نہیں کرتی جب تک اپنے رب سے مشورہ نہ کر لوں (یعنی استخارہ نہ کر لوں)۔“ پھر وہ اپنی جائے نماز پر کھڑی ہو گئیں اور قرآن نازل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس اجازت کے بغیر تشریف لے آئے۔“ [مسلم، النکاح، باب زواج زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا …: ۱۴۲۸] انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [جَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَشْكُوْ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَقُوْلُ اتَّقِ اللّٰهَ، وَ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ، قَالَ أَنَسٌ لَوْ كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا لَكَتَمَ هٰذِهِ، قَالَ فَكَانَتْ زَيْنَبُ تَفْخَرُ عَلٰي أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ تَقُوْلُ زَوَّجَكُنَّ أَهَالِيْكُنَّ، وَ زَوَّجَنِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمٰوَاتٍ] [بخاري، التوحید، باب: «و کان عرشہ علی الماء …» : ۷۴۲۰] ”زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آ کر شکایت کرنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں یہی کہتے رہے: ”اللہ سے ڈر اور اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھ۔“ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی چیز چھپانے والے ہوتے تو اس بات کو ضرور چھپا لیتے۔“ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر زینب رضی اللہ عنھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں پر فخر کرتے ہوئے کہتی تھیں: ”تمھارا نکاح تمھارے گھر والوں نے کیا اور میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے کیا۔“
➏ { لِكَيْ لَا يَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ حَرَجٌ …:} یعنی ہم نے زینب رضی اللہ عنھا کا نکاح آپ سے اس لیے کر دیا کہ جاہلی رسم کے مطابق اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح کو جو حرام سمجھا جاتا تھا، آپ کے عملی اقدام سے یہ رسم ختم کی جائے اور ایمان والوں کو اپنے منہ بولے بیٹوں کی مطلقہ عورتوں کے ساتھ نکاح میں کوئی تنگی نہ رہے اور وہ کسی گناہ یا عار کے احساس کے بغیر ان سے نکاح کر سکیں۔
➐ { وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا:} یعنی اللہ کا یہ فیصلہ پورا ہو کر رہنے والا تھا کہ متبنّٰی حقیقی بیٹا نہیں ہوتا، نہ اسے متبنّٰی بنانے والے کے لیے اس کی مطلقہ سے نکاح حرام ہے اور یہ فیصلہ بھی پورا ہو کر رہنا تھا کہ زینب رضی اللہ عنھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
37۔ 1 لیکن چونکہ ان کے مزاج میں فرق تھا، بیوی کے مزاج میں خاندانی نسب و شرف رچا ہوا تھا، جب کہ زید کے دامن میں غلامی کا داغ تھا، ان کی آپس میں ان بن رہتی تھی جس کا تذکرہ حضرت زید نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے رہتے تھے اور طلاق کا عندیہ بھی ظاہر کرتے۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم انکو طلاق دینے سے روکتے اور نباہ کرنے کی تلقین فرماتے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پیش گوئی سے بھی آگاہ فرمادیا تھا کہ زید کی طرف سے طلاق واقع ہو کر رہے گی اور اس کے بعد زینب کا نکاح آپ سے کردیا جائے گا تاکہ جاہلیت کی اس رسم تبنیت پر ایک کاری ضرب لگا کر واضح کردیا جائے کہ منہ بولا بیٹا، احکام شرعیہ میں حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہے اور اسکی مطلقہ سے نکاح جائز ہے۔ اس آیت میں انہی باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ حضرت زید پر اللہ کا انعام یہ تھا کہ انھی قبول اسلام کی توفیق دی اور غلامی سے نجات دلائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان ان پر یہ تھا کہ انکی دینی تربیت کی۔ انکو آزاد کرکے اپنا بیٹا قرار دیا اور اپنی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب کی لڑکی سے ان کا نکاح کرادیا۔ دل میں چھپانے والی بات یہی تھی جو آپ کو حضرت زینب سے نکاح کی بابت بذریعہ وحی بتلائی گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ڈرتے اس بات سے تھے کہ لوگ کہیں گے کہ اپنی بہو سے نکاح کرلیا۔ حالانکہ جب اللہ کو آپ کے ذریعے سے اس رسم کا خاتمہ کرانا تھا تو پھر لوگوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خوف اگرچہ فطری تھا، اسکے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنبیہ فرمائی گئی۔ ظاہر کرنے سے مراد یہی ہے کہ یہ نکاح ہوگا، جس سے یہ بات سب کے علم کے ہی علم میں آجائے گی۔ 37۔ 2 یعنی نکاح کے بعد طلاق دی اور حضرت زینب عدت سے فارغ ہوگئیں۔ 37۔ 3 یعنی یہ نکاح معرفت طریقے کے برعکس اللہ کے حکم سے قرار پا گیا، نکاح خوانی، ولایت، حق مہر اور گواہوں کے بغیر ہی 37۔ 4 یہ حضرت زینب سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کی علت ہے کہ آئندہ کوئی مسلمان اس بارے میں تنگی محسوس نہ کرے اور حسب ضرورت اقتضا لے پالک کی مطلقہ بیوی سے نکاح کیا جاسکے۔ 37۔ 5 یعنی پہلے سے ہی تقدیر الہٰی میں تھا بہر صورت ہو کر رہنا تھا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
37۔ اور جب آپ اس شخص [56] کو، جس پر اللہ نے بھی احسان کیا تھا اور آپ نے بھی، یہ کہہ رہے تھے کہ: ”اپنی بیوی کو اپنے [57] پاس ہی رکھو اور اللہ سے ڈرو“ تو اس وقت آپ ایسی بات اپنے دل میں چھپا [58] رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا۔ آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے، حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔ پھر جب [59] زید اس عورت سے اپنی حاجت پوری کر چکا تو ہم نے آپ [60] سے اس (عورت) کا نکاح کر دیا، تاکہ مومنوں پر ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کر چکے ہوں اور اللہ کا حکم ہو کر رہنے والا [61] ہے۔
[56] آپﷺ کے سیدنا زید بن حارثہ پر احسانات :۔
اس شخص سے مراد زید بن حارثہؓ ہیں۔ ان پر اللہ اور اللہ کے رسول کا احسان یہ تھا کہ آپ قبیلہ کلب کے ایک شخص حارثہ بن شرحبیل کے بیٹے تھے۔ آٹھ سال کے ہی تھے کہ ایک قبائلی جنگ میں گرفتار ہوئے ان حملہ آوروں نے انھیں عکاظ کے میلہ میں جا کر بیچ ڈالا۔ خریدنے والے سیدہ خدیجہؓ کے بھتیجے حکیم بن حزام تھے۔ انہوں نے مکہ آکر اس غلام کو اپنی پھوپھی سیدہ خدیجہؓ کی خدمت میں تحفتاً پیش کر دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ خدیجہؓ سے نکاح ہوا اس وقت زید بن حارثہ 15 سال کے تھے۔ ان کی عادات و اطوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر پسند آئیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہؓ سے اپنے لئے مانگ لیا اور انہوں نے آپ کو دے دیا۔ کچھ عرصہ بعد سیدنا زید کے لواحقین کو آپ کا سراغ مل گیا تو سیدنا زید کے والد، چچا اور بھائی تین افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی کہ آپ جتنا زر فدیہ چاہیں لے لیں اور بچے کو ہمارے ساتھ بھیج دیں۔ آپ نے انھیں کہا میں زر فدیہ کچھ نہیں لیتا۔ البتہ تم زید سے پوچھ لو۔ اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہتا ہے تو مجھے کچھ عذر نہ ہو گا۔ انہوں نے سیدنا زید سے جانے کو کہا تو سیدنا زید نے ہمراہ جانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ مجھے یہاں والدین سے بڑھ کر پیار اور شفقت میسر ہے۔ چنانچہ سیدنا زید کے لواحقین واپس چلے گئے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید کو کعبہ میں لے جا کر سب کے سامنے اعلان کر دیا کہ میں نے زید کو آزاد کر دیا ہے اور اسے اپنا متبنّیٰ بنا لیا ہے۔ لہٰذا یہ میرا وارث ہو گا۔ آپ کے اس اعلان کے بعد لوگ آپ کو زید بن حارثہ کے بجائے زید بن محمد کہنے لگے۔
[57] اللہ اور اس کے رسول کے سیدنا زید پر احسانات :۔
سیدنا زید پر اللہ اور اس کے رسول کا دوسرا احسان یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہی قبیلہ سے جو معاشرتی لحاظ سے بہت اونچے درجے کا شریف قبیلہ شمار ہوتا تھا، سیدنا زید کے لئے رشتہ طلب کر لیا۔ لیکن چونکہ سیدنا زید پر سابقہ غلامی کا داغ موجود تھا۔ لہٰذا سیدہ زینب خود اور اس کے اولیاء نے اس رشتہ کے مطالبہ میں ہی اپنی توہین سمجھی تو اللہ نے ان لوگوں کو بذریعہ وحی بتا دیا کہ یہ نبی کی خواہش نہیں بلکہ میرا حکم ہے۔ اس حکم الٰہی کے سامنے ان لوگوں نے سر تسلیم خم کر دیا۔ ورنہ یہ رشتہ یا نکاح ہو جانا نا ممکن نظر آرہا تھا۔ اللہ کے حکم کے تحت سیدہ زینب سے نکاح تو ہو گیا لیکن معاشرتی تفاوت ذہنوں سے اتنی جلد دور نہ ہو سکا اور نہ ہو سکتا ہے اور سیدہ زینب اپنے شوہر کا وہ احترام نہ کر سکیں جو انھیں کرنا چاہیے تھا۔ اسی لئے سیدنا زید اس بات کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کرتے رہے دریں اثناء آپ کو بذریعہ وحی یہ اشارہ مل چکا تھا کہ زینب کا آپ سے نکاح ہو گا اس اشارہ سے کئی باتیں معلوم ہو رہی تھیں۔ ایک یہ کہ سیدنا زید طلاق دیئے بغیر نہ رہیں گے۔ دوسرے یہ کہ سیدہ زینب نے اور ان کے اولیاء نے اللہ کے حکم کے سامنے اپنی خواہش کی جو قربانی کی ہے اس کا صلہ انھیں اس صورت میں ملے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود اس سے نکاح کر لیں اور تیسرے یہ کہ معاشرہ میں جو متبنّیٰ سے متعلق غلط باتیں رواج پا گئی ہیں ان کا استیصال کیا جائے۔
[58] آپ کونسی بات دل میں چھپاتے تھے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا زید کی شکایت پر ہر بار اسے ہی سمجھاتے رہے کہ جب اس عورت نے اپنی خواہش کی قربانی دے کر تم سے نکاح کر لیا ہے تو آخر تمہیں بھی کچھ برداشت سے کام لینا چاہئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زید کو طلاق سے منع کرنے اور اس طلاق کے معاملہ کو التوا میں ڈالے رکھنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ بھی تھا کہ جب بھی طلاق واقع ہو گئی تو سیدہ زینب کو مجھے اپنے نکاح میں لانا ہو گا۔ اس وقت مجھے تمام دشمنان اسلام کے طعن و تشنیع کا نشانہ بننا پڑے گا۔ یہ تھی وہ بات جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دل میں چھپانا چاہتے تھے۔ جیسا کہ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن سے کوئی آیت چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو ضرور چھپاتے۔ اگرچہ دلوں کے خیالات پر اللہ تعالیٰ مؤاخذہ نہیں فرماتا مگر چونکہ آپ کی عظمت شان کے لحاظ سے دل میں ایسا خیال آنا بھی فروتر تھا۔ اس لئے ایسے خیال پر بھی اللہ کی طرف سے عتاب نازل ہوا۔
[59] اس جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جب اپنی بیوی سے اپنی نفسانی خواہش پوری کر چکا تو طلاق دے دی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ سیدنا زید کی خواہش ہی یہ تھی کہ اسے طلاق دے دیں۔ چنانچہ انہوں نے طلاق دے دی اور عدت گزر گئی۔
[59] اس جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جب اپنی بیوی سے اپنی نفسانی خواہش پوری کر چکا تو طلاق دے دی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ سیدنا زید کی خواہش ہی یہ تھی کہ اسے طلاق دے دیں۔ چنانچہ انہوں نے طلاق دے دی اور عدت گزر گئی۔
[60] اللہ کا حکم ہی زینب کے لئے نکاح کے قائم مقام تھا :۔
اس کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ یہ نکاح تم نے اپنی مرضی اور اپنی خواہش کے مطابق نہیں کیا تھا بلکہ ہمارے حکم کے مطابق کیا تھا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ نکاح اس دنیا میں ہوا ہی نہیں تھا، بلکہ اللہ کا یہ حکم ہی نکاح کا درجہ رکھتا تھا اور یہی مطلب درج ذیل احادیث کی رو سے راجح معلوم ہوتا ہے:
1۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ زید بن حارثہ اپنی بیوی (زینب بنت جحش) کا شکوہ کرنے آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے تھے: اللہ سے ڈر اور اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رہنے دے۔ سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن سے کچھ چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپاتے اور سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ بی بی زینب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں پر فخر کیا کرتیں کہ تم کو تو تمہارے اولیاء نے بیاہا اور مجھے اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے بیاہ دیا۔ [بخاری۔ کتاب التوحید۔ باب قولہ وکان عرشہ علی الماء]
2۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ جب سیدہ زینب کی عدت پوری ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید سے کہا کہ زینب سے میرا ذکر کرو۔ زید کہتے ہیں کہ جب میں ان کے پاس آیا تو وہ اپنے آٹے کا خمیر اٹھا رہی تھیں۔ میں ان کی عظمت کی وجہ سے انھیں نظر بھر کر نہ دیکھ سکا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یاد کیا تھا۔ پھر میں نے ان سے کہا: زینب مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے۔ وہ آپ کو یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں اس وقت تک کوئی بات نہیں کرتی جب تک اپنے پروردگار سے مشورہ نہ کر لوں (استخارہ نہ کر لوں) پھر وہ اپنی جائے نماز پر کھڑی ہوئیں تو قرآن اترا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر اذن کے ان کے پاس چلے گئے۔ [مسلم۔ کتاب النکاح۔ باب زواج زینب بنت جحش]
[61] وہ اللہ کا حکم یہ تھا کہ متبنّیٰ اصل بیٹے کا مقام نہیں رکھتا کہ اس کی مطلقہ بیوی حرام ہو جائے اور اللہ اس غلط رسم کو بہرحال ختم کرنا چاہتا تھا۔
1۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ زید بن حارثہ اپنی بیوی (زینب بنت جحش) کا شکوہ کرنے آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے تھے: اللہ سے ڈر اور اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رہنے دے۔ سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن سے کچھ چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپاتے اور سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ بی بی زینب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں پر فخر کیا کرتیں کہ تم کو تو تمہارے اولیاء نے بیاہا اور مجھے اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے بیاہ دیا۔ [بخاری۔ کتاب التوحید۔ باب قولہ وکان عرشہ علی الماء]
2۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ جب سیدہ زینب کی عدت پوری ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید سے کہا کہ زینب سے میرا ذکر کرو۔ زید کہتے ہیں کہ جب میں ان کے پاس آیا تو وہ اپنے آٹے کا خمیر اٹھا رہی تھیں۔ میں ان کی عظمت کی وجہ سے انھیں نظر بھر کر نہ دیکھ سکا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یاد کیا تھا۔ پھر میں نے ان سے کہا: زینب مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے۔ وہ آپ کو یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں اس وقت تک کوئی بات نہیں کرتی جب تک اپنے پروردگار سے مشورہ نہ کر لوں (استخارہ نہ کر لوں) پھر وہ اپنی جائے نماز پر کھڑی ہوئیں تو قرآن اترا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر اذن کے ان کے پاس چلے گئے۔ [مسلم۔ کتاب النکاح۔ باب زواج زینب بنت جحش]
[61] وہ اللہ کا حکم یہ تھا کہ متبنّیٰ اصل بیٹے کا مقام نہیں رکھتا کہ اس کی مطلقہ بیوی حرام ہو جائے اور اللہ اس غلط رسم کو بہرحال ختم کرنا چاہتا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
عظمت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ’ اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ہر طرح سمجھایا۔ ان پر اللہ کا انعام تھا کہ اسلام اور متابعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توفیق دی ‘۔
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ان پر احسان تھا کہ انہیں غلامی سے آزاد کر دیا۔ یہ بڑی شان والے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ہی پیارے تھے یہاں تک کہ انہیں سب مسلمان «حِبُّ الرَّسُوْل» کہتے تھے۔ ان کے صاحبزادے اسامہ کو بھی «الْحِبُّ ابْنُ الْحِبِّ» کہتے تھے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ { جس لشکر میں انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھیجتے تھے اس لشکر کا سردار انہی کو بناتے تھے۔ اگر یہ زندہ رہتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ بن جاتے }۔ [مسند احمد:227/6:حسن]
مسند بزار میں ہے { اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں مسجد میں تھا میرے پاس سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما آئے اور مجھ سے کہا جاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے اجازت طلب کرو۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جانتے ہو وہ کیوں آئے ہیں؟ } میں نے کہا نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: { فرمایا لیکن میں جانتا ہوں جاؤ بلا لاؤ }، یہ آئے اور کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذرا بتائیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اہل میں سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میری بیٹی فاطمہ (رضی اللہ عنہا) }۔ انہوں نے کہا ہم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نہیں پوچھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جن پر اللہ نے انعام کیا اور میں نے بھی } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3819، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اپنی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب کی لڑکی زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا اسدیہ سے کرا دیا تھا۔ دس دینار اور سات درہم مہر دیا تھا، ایک ڈوپٹہ ایک چادر ایک کرتا پچاس مد اناج اور دس مد کھجوریں دی تھیں۔
ایک سال یا کچھ اوپر تک تو یہ گھر بسا لیکن پھر ناچاقی شروع ہو گئی۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر شکایت شروع کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سمجھانے لگے کہ { گھر نہ توڑو اللہ سے ڈرو }۔ ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے اس جگہ بہت سے غیر صحیح آثار نقل کئے ہیں جن کا نقل کرنا ہم نامناسب جان کر ترک کرتے ہیں کیونکہ ان میں سے ایک بھی ثابت اور صحیح نہیں۔
مسند احمد میں بھی ایک روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہے لیکن اس میں بھی بڑی غرابت ہے اس لیے ہم نے اسے بھی وارد نہیں کیا۔
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ان پر احسان تھا کہ انہیں غلامی سے آزاد کر دیا۔ یہ بڑی شان والے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ہی پیارے تھے یہاں تک کہ انہیں سب مسلمان «حِبُّ الرَّسُوْل» کہتے تھے۔ ان کے صاحبزادے اسامہ کو بھی «الْحِبُّ ابْنُ الْحِبِّ» کہتے تھے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ { جس لشکر میں انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھیجتے تھے اس لشکر کا سردار انہی کو بناتے تھے۔ اگر یہ زندہ رہتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ بن جاتے }۔ [مسند احمد:227/6:حسن]
مسند بزار میں ہے { اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں مسجد میں تھا میرے پاس سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما آئے اور مجھ سے کہا جاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے لیے اجازت طلب کرو۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جانتے ہو وہ کیوں آئے ہیں؟ } میں نے کہا نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: { فرمایا لیکن میں جانتا ہوں جاؤ بلا لاؤ }، یہ آئے اور کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذرا بتائیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اہل میں سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میری بیٹی فاطمہ (رضی اللہ عنہا) }۔ انہوں نے کہا ہم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نہیں پوچھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جن پر اللہ نے انعام کیا اور میں نے بھی } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3819، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اپنی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب کی لڑکی زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا اسدیہ سے کرا دیا تھا۔ دس دینار اور سات درہم مہر دیا تھا، ایک ڈوپٹہ ایک چادر ایک کرتا پچاس مد اناج اور دس مد کھجوریں دی تھیں۔
ایک سال یا کچھ اوپر تک تو یہ گھر بسا لیکن پھر ناچاقی شروع ہو گئی۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر شکایت شروع کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سمجھانے لگے کہ { گھر نہ توڑو اللہ سے ڈرو }۔ ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے اس جگہ بہت سے غیر صحیح آثار نقل کئے ہیں جن کا نقل کرنا ہم نامناسب جان کر ترک کرتے ہیں کیونکہ ان میں سے ایک بھی ثابت اور صحیح نہیں۔
مسند احمد میں بھی ایک روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہے لیکن اس میں بھی بڑی غرابت ہے اس لیے ہم نے اسے بھی وارد نہیں کیا۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { یہ آیت زینب بنت جحش اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4787]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے دی تھی کہ زینب رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں گی۔ یہی بات تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہر نہ فرمایا اور زید رضی اللہ عنہ کو سمجھایا کہ وہ اپنی بیوی کو الگ نہ کریں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ فرماتی ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر اللہ کی وحی کتاب اللہ میں سے ایک آیت بھی چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپالیتے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:177]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے دی تھی کہ زینب رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں گی۔ یہی بات تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہر نہ فرمایا اور زید رضی اللہ عنہ کو سمجھایا کہ وہ اپنی بیوی کو الگ نہ کریں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ فرماتی ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر اللہ کی وحی کتاب اللہ میں سے ایک آیت بھی چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپالیتے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:177]
«وَطَرْ» کے معنی حاجت کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب سیدہ زید رضی اللہ عنہ ان سے سیر ہوگئے اور باوجود سمجھانے بجھانے کے بھی میل ملاپ قائم نہ رہ سکا بلکہ طلاق ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے زینب رضی اللہ عنہا کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں دے دیا۔ اس لیے ولی کے ایجاب و قبول سے مہر اور گواہوں کی ضرورت نہ رہی۔
مسند احمد میں ہے { سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی عدت پوری ہو چکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ { تم جاؤ اور انہیں مجھ سے نکاح کرنے کا پیغام پہنچاؤ }۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ گئے اس وقت آپ رضی اللہ عنہا آٹا گوندھ رہی تھیں۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ پر ان کی عظمت اس قدر چھائی کہ سامنے پڑ کر بات نہ کر سکے منہ پھیر کر بیٹھ گئے اور ذکر کیا۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”ٹھہرو! میں اللہ تعالیٰ سے استخارہ کر لوں۔“
یہ تو کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگیں ادھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ میں نے ان کا نکاح تجھ سے کر دیا ‘۔ چنانچہ اسی وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بے اطلاع چلے آئے،، پھر ولیمے کی دعوت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سب کو گوشت روٹی کھلائی۔ لوگ کھا پی کر چلے گئے مگر چند آدمی وہیں بیٹھے باتیں کرتے رہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل کر اپنی بیویوں کے حجرے کے پاس گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں السلام علیک کرتے تھے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتی تھیں کہ فرمائیے بیوی صاحبہ سے خوش تو ہیں؟ مجھے یہ یاد نہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خبر دیئے گئے کہ لوگ وہاں سے چلے گئے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھر کی طرف تشریف لے گئے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی جانے کا ارادہ کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ گرا دیا اور میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان حجاب ہو گیا اور پردے کی آیتیں اتریں اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو نصیحت کی گئی اور فرما دیا گیا کہ ’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں بے اجازت نہ جاؤ ‘ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1428]
مسند احمد میں ہے { سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی عدت پوری ہو چکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ { تم جاؤ اور انہیں مجھ سے نکاح کرنے کا پیغام پہنچاؤ }۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ گئے اس وقت آپ رضی اللہ عنہا آٹا گوندھ رہی تھیں۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ پر ان کی عظمت اس قدر چھائی کہ سامنے پڑ کر بات نہ کر سکے منہ پھیر کر بیٹھ گئے اور ذکر کیا۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”ٹھہرو! میں اللہ تعالیٰ سے استخارہ کر لوں۔“
یہ تو کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگیں ادھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ میں نے ان کا نکاح تجھ سے کر دیا ‘۔ چنانچہ اسی وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بے اطلاع چلے آئے،، پھر ولیمے کی دعوت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سب کو گوشت روٹی کھلائی۔ لوگ کھا پی کر چلے گئے مگر چند آدمی وہیں بیٹھے باتیں کرتے رہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل کر اپنی بیویوں کے حجرے کے پاس گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں السلام علیک کرتے تھے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتی تھیں کہ فرمائیے بیوی صاحبہ سے خوش تو ہیں؟ مجھے یہ یاد نہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خبر دیئے گئے کہ لوگ وہاں سے چلے گئے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھر کی طرف تشریف لے گئے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی جانے کا ارادہ کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ گرا دیا اور میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان حجاب ہو گیا اور پردے کی آیتیں اتریں اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو نصیحت کی گئی اور فرما دیا گیا کہ ’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں بے اجازت نہ جاؤ ‘ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1428]
صحیح بخاری شریف میں ہے { سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اور ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» سے فخراً کہا کرتی تھیں کہ ”تم سب کے نکاح تمہارے ولی وارثوں نے کئے اور میرا نکاح خود اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان پر کرا دیا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7420]
سورۃ النور کی تفسیر میں ہم یہ روایت بیان کر چکے ہیں کہ ”سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا میرا نکاح آسمان سے اترا اور ان کے مقابلے پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”میری برأت کی آیتیں آسمان سے اتریں“ جس کا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اقرار کیا۔
سورۃ النور کی تفسیر میں ہم یہ روایت بیان کر چکے ہیں کہ ”سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا میرا نکاح آسمان سے اترا اور ان کے مقابلے پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”میری برأت کی آیتیں آسمان سے اتریں“ جس کا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اقرار کیا۔
ابن جریر میں ہے { ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ کہا ”مجھ میں اللہ تعالیٰ نے تین خصوصیتیں رکھی ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور بیویوں میں نہیں ایک تو یہ کہ میرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دادا ایک ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں دیا۔ تیسرے یہ کہ ہمارے درمیان سفیر جبرائیل علیہ السلام تھے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28526:ضعیف و مرسل]
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے ان سے نکاح کرنا تیرے لیے جائز کر دیا تاکہ مسلمانوں پر ان کے لے پالک لڑکوں کو بیویوں کے بارے میں جب انہیں طلاق دے دی جائے کوئی حرج نہ رہے ‘۔ یعنی وہ اگر چاہیں ان سے نکاح کر سکیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے زید کو اپنا متنبی بنا رکھا تھا۔ عام طور پر انہیں زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا جاتا تھا۔ قرآن نے اس نسبت سے بھی ممانعت کر دی اور حکم دیا کہ ’ انہیں اپنے حقیقی باپ کی طرف نسبت کرکے پکارا کرو ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ ہم نے ان سے نکاح کرنا تیرے لیے جائز کر دیا تاکہ مسلمانوں پر ان کے لے پالک لڑکوں کو بیویوں کے بارے میں جب انہیں طلاق دے دی جائے کوئی حرج نہ رہے ‘۔ یعنی وہ اگر چاہیں ان سے نکاح کر سکیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے زید کو اپنا متنبی بنا رکھا تھا۔ عام طور پر انہیں زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا جاتا تھا۔ قرآن نے اس نسبت سے بھی ممانعت کر دی اور حکم دیا کہ ’ انہیں اپنے حقیقی باپ کی طرف نسبت کرکے پکارا کرو ‘۔
پھر سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تو اللہ پاک نے انہیں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں دے کر یہ بات بھی ہٹادی۔ جس آیت میں حرام عورتوں کا ذکر کیا ہے وہاں بھی یہی فرمایا کہ ’ تمہارے اپنے صلبی لڑکوں کی بیویاں تم پر حرام ہیں ‘۔ تاکہ لے پالک لڑکوں کی لڑکیاں اس حکم سے خارج رہیں۔ کیونکہ ایسے لڑکے عرب میں بہت تھے۔ یہ امر اللہ کے نزدیک مقرر ہو چکا تھا۔ اس کا ہونا حتمی، یقینی اور ضروری تھا۔ اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو یہ شرف ملنا پہلے ہی سے لکھا جا چکا تھا کہ وہ ازواج مطہرات امہات المؤمنین میں داخل ہوں رضی اللہ عنہا۔