وَ مَا کَانَ لِمُؤۡمِنٍ وَّ لَا مُؤۡمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَمۡرًا اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہُمُ الۡخِیَرَۃُ مِنۡ اَمۡرِہِمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیۡنًا ﴿ؕ۳۶﴾
اور کبھی بھی نہ کسی مومن مرد کا حق ہے اور نہ کسی مومن عورت کا کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں کہ ان کے لیے ان کے معاملے میں اختیار ہو اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے سو یقینا وہ گمراہ ہوگیا، واضح گمراہ ہونا۔
En
اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں۔ اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہوگیا
En
اور (دیکھو) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا، (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وه صریح گمراہی میں پڑے گا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 36) ➊ {وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ …: ” الْخِيَرَةُ “ ”تَخَيَّرَ يَتَخَيَّرُ“} (تفعّل) کا مصدر ہے، جیسا کہ {”تَطَيَّرَ “} کا مصدر {”اَلطِّيَرَةُ“} ہے۔ اہلِ علم فرماتے ہیں، اس وزن پر اس باب سے یہی دو مصدر آتے ہیں۔ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ اپنی بیویوں کو اپنے ساتھ رہنے کا یا اپنے سے الگ ہونے کا اختیار دیں، تاکہ واضح ہو جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کے لیے کسی کو تکلیف نہیں دینا چاہتے۔ اب فرمایا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ جس طرح بیویوں کو ساتھ رہنے یا جدا ہونے کا اختیار دیا گیا، اس طرح ہر آدمی کو ہر کام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ماننے یا نہ ماننے کا اختیار ہے۔ بلکہ کچھ کام ایسے ہیں جن میں کسی مومن مرد یا مومن عورت کو اپنی مرضی کا اختیار نہیں، یہ وہ کام ہیں جن کا اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول واضح حکم دے دیں اور اسے کرنے یا نہ کرنے کی گنجائش نہ دیں۔ اگر وہ خود ہی گنجائش دے دیں تو الگ بات ہے، جیسا کہ بریرہ رضی اللہ عنھا لونڈی تھیں تو مغیث رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، جب وہ آزاد ہوئیں تو خاوند کے غلام ہونے کی وجہ سے انھیں اس کی زوجیت میں رہنے یا نہ رہنے کا اختیار حاصل ہو گیا۔ بریرہ رضی اللہ عنھا نے اس سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: [يَا عَبَّاسُ! أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيْثٍ بَرِيْرَةَ، وَ مِنْ بُغْضِ بَرِيْرَةَ مُغِيْثًا] ”اے عباس! کیا تمھیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت پر تعجب نہیں ہوتا؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: [لَوْ رَاجَعْتِهِ؟] ”کاش! تو اس سے رجوع کر لیتی؟“ اس نے کہا: ”یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ] ”میں تو صرف سفارش کر رہا ہوں۔“ اس نے کہا: [فَلَا حَاجَةَ لِيْ فِيْهِ] [بخاري، الطلاق، باب شفاعۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم في زوج بریرۃ: ۵۲۸۳] ”مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔“
{” اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا “} کا یہی مطلب ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فیصلہ کن حکم آجائے تو کسی مسلمان کو اپنا اختیار استعمال کرنے کی کسی صورت میں گنجائش باقی نہیں رہتی۔ {” كَانَ “} کے ساتھ {” مَا “} نافیہ کی مزید تاکید ہو رہی ہے، کیونکہ {” كَانَ “} کے ساتھ نفی کا استمرار اور اس کی ہمیشگی مقصود ہے۔ یعنی کسی مومن مرد یا مومن عورت کو کبھی بھی یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول…۔
➋ اکثر مفسرین نے اس آیت کی شان نزول یہ لکھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی امیمہ بنت عبد المطلب کی بیٹی زینت بنت جحش رضی اللہ عنھا کو اپنے متبنٰی اور آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کے لیے کہا تو انھوں نے یہ کہہ کر کہ میں حسب میں اس سے بہتر ہوں، انکار کر دیا۔ اس پر یہ آیت اتری تو وہ نکاح پر رضا مند ہو گئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کا نکاح کر دیا۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس شان نزول کی دو روایتیں ذکر فرمائی ہیں، پہلی عوفی عن ابن عباس رضی اللہ عنھما ہے، جو طبری نے روایت کی ہے، اس کی سند ضعیف ہے۔ دوسری ابن لہیعہ عن ابن ابی عمرہ عن عکرمہ عن ابن عباس رضی اللہ عنھما ہے، اسے بھی طبری نے روایت کیا ہے اور یہ بھی ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی یقینی نہیں کہ زینب رضی اللہ عنھا کا نکاح زید رضی اللہ عنہ سے ہجرت کے بعد ہوا تھا، جب کہ یہ سورت مدنی ہے۔ ابن عاشور نے اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ یہ نکاح ہجرت سے پہلے مکہ میں ہو چکا تھا اور ابن کثیر نے مقاتل بن حیان کا جو قول نقل کیا ہے کہ زینب رضی اللہ عنھا زید رضی اللہ عنہ کے پاس ایک سال کے قریب رہیں، ثابت نہیں، کیونکہ مقاتل تبع تابعی ہیں، انھوں نے اس بات کو نقل کرنے والے تابعی کا ذکر کیا ہے نہ صحابی کا۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اصول شریعت کی رُو سے دیکھا جائے تو گو نکاح کرنا ایک شرعی حکم ہے، مگر یہ بات کہ نبی کسی خاص عورت کو کسی خاص مرد، یا کسی خاص مرد کو کسی خاص عورت سے نکاح کرنے پر شرعی طور پر مامور کرے صحیح نہیں، یعنی نبی یہ نہیں کہہ سکتا کہ تو فلاں مرد سے شادی کر اور اگر وہ عورت نہ مانے تو نافرمان قرار پائے۔ ہمارے اس دعویٰ پر بریرہ رضی اللہ عنھا کی حدیث قوی شہادت ہے (جو اسی آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہے)۔“ (تفسیر ثنائی) اس لیے بہتر یہی ہے کہ یہ کہنے کے بجائے کہ زینب رضی اللہ عنھا نے اس آیت کے نزول سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا، اس آیت کو اسی طرح اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی اطاعت کی تاکید سمجھا جائے، جس طرح یہ تاکید اسی سورت کے شروع میں اس سے بھی جامع الفاظ میں گزر چکی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ }» [الأحزاب: ۶] ”یہ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہے۔“
➌ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ آیت تمام احکام کے لیے عام ہے کہ اللہ اور اس کا رسول جب کسی چیز کا فیصلہ فرما دیں تو نہ کسی کے لیے اس کی ممانعت جائز ہے، نہ اسے ماننے یا نہ ماننے کا اختیار کسی کو باقی رہتا ہے، نہ اس کے مقابلے میں کسی قیاس یا رائے یا قول اقوال کی کوئی حیثیت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا }» [النساء: ۶۵] ”پس نہیں! تیرے رب کی قسم ہے! وہ مومن نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ تجھے اس میں فیصلہ کرنے والا مان لیں جو ان کے درمیان جھگڑا پڑ جائے، پھر اپنے دلوں میں اس سے کوئی تنگی محسوس نہ کریں جو تو فیصلہ کرے اور تسلیم کرلیں، پوری طرح تسلیم کرنا۔“
➍ { وَ مَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ …:} اس میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی شدید وعید ہے۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ}» [النور: ۶۳] ”سو لازم ہے کہ وہ لوگ ڈریں جو اس کا حکم ماننے سے پیچھے رہتے ہیں کہ انھیں کوئی فتنہ آپہنچے، یا انھیں دردناک عذاب آ پہنچے۔“
{” اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا “} کا یہی مطلب ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فیصلہ کن حکم آجائے تو کسی مسلمان کو اپنا اختیار استعمال کرنے کی کسی صورت میں گنجائش باقی نہیں رہتی۔ {” كَانَ “} کے ساتھ {” مَا “} نافیہ کی مزید تاکید ہو رہی ہے، کیونکہ {” كَانَ “} کے ساتھ نفی کا استمرار اور اس کی ہمیشگی مقصود ہے۔ یعنی کسی مومن مرد یا مومن عورت کو کبھی بھی یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول…۔
➋ اکثر مفسرین نے اس آیت کی شان نزول یہ لکھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی امیمہ بنت عبد المطلب کی بیٹی زینت بنت جحش رضی اللہ عنھا کو اپنے متبنٰی اور آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کے لیے کہا تو انھوں نے یہ کہہ کر کہ میں حسب میں اس سے بہتر ہوں، انکار کر دیا۔ اس پر یہ آیت اتری تو وہ نکاح پر رضا مند ہو گئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کا نکاح کر دیا۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس شان نزول کی دو روایتیں ذکر فرمائی ہیں، پہلی عوفی عن ابن عباس رضی اللہ عنھما ہے، جو طبری نے روایت کی ہے، اس کی سند ضعیف ہے۔ دوسری ابن لہیعہ عن ابن ابی عمرہ عن عکرمہ عن ابن عباس رضی اللہ عنھما ہے، اسے بھی طبری نے روایت کیا ہے اور یہ بھی ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی یقینی نہیں کہ زینب رضی اللہ عنھا کا نکاح زید رضی اللہ عنہ سے ہجرت کے بعد ہوا تھا، جب کہ یہ سورت مدنی ہے۔ ابن عاشور نے اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ یہ نکاح ہجرت سے پہلے مکہ میں ہو چکا تھا اور ابن کثیر نے مقاتل بن حیان کا جو قول نقل کیا ہے کہ زینب رضی اللہ عنھا زید رضی اللہ عنہ کے پاس ایک سال کے قریب رہیں، ثابت نہیں، کیونکہ مقاتل تبع تابعی ہیں، انھوں نے اس بات کو نقل کرنے والے تابعی کا ذکر کیا ہے نہ صحابی کا۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اصول شریعت کی رُو سے دیکھا جائے تو گو نکاح کرنا ایک شرعی حکم ہے، مگر یہ بات کہ نبی کسی خاص عورت کو کسی خاص مرد، یا کسی خاص مرد کو کسی خاص عورت سے نکاح کرنے پر شرعی طور پر مامور کرے صحیح نہیں، یعنی نبی یہ نہیں کہہ سکتا کہ تو فلاں مرد سے شادی کر اور اگر وہ عورت نہ مانے تو نافرمان قرار پائے۔ ہمارے اس دعویٰ پر بریرہ رضی اللہ عنھا کی حدیث قوی شہادت ہے (جو اسی آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہے)۔“ (تفسیر ثنائی) اس لیے بہتر یہی ہے کہ یہ کہنے کے بجائے کہ زینب رضی اللہ عنھا نے اس آیت کے نزول سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا، اس آیت کو اسی طرح اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی اطاعت کی تاکید سمجھا جائے، جس طرح یہ تاکید اسی سورت کے شروع میں اس سے بھی جامع الفاظ میں گزر چکی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ }» [الأحزاب: ۶] ”یہ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہے۔“
➌ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ آیت تمام احکام کے لیے عام ہے کہ اللہ اور اس کا رسول جب کسی چیز کا فیصلہ فرما دیں تو نہ کسی کے لیے اس کی ممانعت جائز ہے، نہ اسے ماننے یا نہ ماننے کا اختیار کسی کو باقی رہتا ہے، نہ اس کے مقابلے میں کسی قیاس یا رائے یا قول اقوال کی کوئی حیثیت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا }» [النساء: ۶۵] ”پس نہیں! تیرے رب کی قسم ہے! وہ مومن نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ تجھے اس میں فیصلہ کرنے والا مان لیں جو ان کے درمیان جھگڑا پڑ جائے، پھر اپنے دلوں میں اس سے کوئی تنگی محسوس نہ کریں جو تو فیصلہ کرے اور تسلیم کرلیں، پوری طرح تسلیم کرنا۔“
➍ { وَ مَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ …:} اس میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی شدید وعید ہے۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ}» [النور: ۶۳] ”سو لازم ہے کہ وہ لوگ ڈریں جو اس کا حکم ماننے سے پیچھے رہتے ہیں کہ انھیں کوئی فتنہ آپہنچے، یا انھیں دردناک عذاب آ پہنچے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
36-1یہ آیت حضرت زینب ؓ کے نکاح کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی۔ حضرت زید بن حارثہ ؓ، جو کہ اصلا عرب تھے، لیکن کسی نے انھیں بچپن میں زبردستی پکڑ کر بطور غلام بیچ دیا تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت خدیجہ کے نکاح کے بعد حضرت خدیجہ نے انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کردیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں آزاد کر کے اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کے لئے اپنی پھوپھی زاد حضرت زینب کو نکاح کا پیغام بیجھا، جس پر انھیں اور ان کے بھائی کو خاندانی وضاحت کی بنا پر تامل ہوا، کہ زید ایک آزاد کردہ غلام ہیں اور ہمارا تعلق ایک اونچے خاندان سے ہے۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور رسول کے فیصلے کے بعد کسی مومن مرد اور عورت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنا اختیار بروئے کار لائے۔ بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ سر تسلیم خم کردے چناچہ یہ آیت سننے کے بعد حضرت زینب وغیرہ نے اپنی رائے پر اصرار نہیں کیا باہم نکاح ہوگیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
36۔ کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا فیصلہ کر دے تو ان کے لئے اپنے معاملہ میں کچھ اختیار باقی رہ جائے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی [55] کرے تو وہ یقیناً صریح گمراہی میں جا پڑا۔
[55] آزاد شدہ غلاموں کا معاشرہ میں مقام :۔
اس سورۃ کے آغاز میں پہلے بتایا جا چکا ہے کہ عرب معاشرہ میں کثیر تعداد غلاموں کی تھی۔ اور غلاموں کو ایک حقیر اور دوسرے درجہ کی مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ اگر کوئی غلام آزاد کر دیا جاتا، جسے مولیٰ کہا جاتا تھا، تو بھی آزاد لوگوں کا معاشرہ اسے اپنے آپ میں جذب کرنے کے لئے تیار نہ ہوتا تھا۔ اسلام اس معاشرتی بگاڑ کی اصلاح کرنا چاہتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا کہ اس اصلاح کا آغاز نبی کی ذات اور اس کے گھرانہ سے کیا جائے۔
سیدہ زینب کا اللہ اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنا :۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام زید بن حارثہ تھا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کرنے کے بعد اسے اپنا متبنّیٰ بھی بنا لیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود آزاد لوگ اسے معاشرتی لحاظ سے اپنے برابر کا درجہ دینے کو تیار نہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کے لئے اپنی پھوپھی زاد بہن زینب کا رشتہ طلب کیا۔ تو ان لوگوں کو یہ بات توہین آمیز معلوم ہوئی اور سخت ناگوار گزری۔ اسی وجہ سے ان لوگوں نے رشتہ دینے سے انکار کر دیا۔ مگر اللہ کو منظور تھا کہ یہ کام ضرور ہونا چاہئے۔ اسی ضمن میں یہ آیت نازل ہوئی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت سیدہ زینب بنت جحش کو سنائی تو انہوں نے اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور یہ رشتہ قبول کر لیا۔ اور سیدنا زید کا زینب بنت جحش سے نکاح ہو گیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو رد کرنا گناہ عظیم ہے ٭٭
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا زید بن حارث رضی اللہ عنہ کا پیغام لے کر زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ انہوں نے کہا ”میں اس سے نکاح نہیں کروں گی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ایسا نہ کہو اور ان سے نکاح کر لو }۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ ”اچھا پھر کچھ مہلت دیجئیے میں سوچ لوں۔“ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ وحی نازل ہوئی اور یہ آیت اتری۔ اسے سن کر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نکاح سے رضامند ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں }۔ تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ ”بس پھر مجھے کوئی انکار نہیں، میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کروں گی۔ میں نے اپنا نفس ان کے نکاح میں دے دیا“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28513:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ وجہ انکار یہ تھی کہ نسب کے اعتبار سے یہ بہ نسبت سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے زیادہ شریف تھیں۔ زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28516:]
عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”یہ آیت عقبہ بن ابومعیط کی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ صلح حدیبیہ کے بعد سب سے پہلے مہاجر عورت یہی تھی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنا نفس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھے قبول ہے }۔ پھر زید بن حارث رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کرا دیا۔ غالباً یہ نکاح زینب رضی اللہ عنہا کی علیحدگی کے بعد ہوا ہوگا۔ اس سے ام کلثوم رضی اللہ عنہا ناراض ہوئیں اور ان کے بھائی بھی بگڑ بیٹھے کہ ہمارا اپنا ارادہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کا تھا نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سے نکاح کرنے کا، اس پر یہ آیت اتری بلکہ اس سے بھی زیادہ معاملہ صاف کر دیا گیا اور فرما دیا گیا کہ «اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا» ۱؎ [33-الأحزاب:6] ’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ اولیٰ ہیں ‘۔
پس آیت «وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا» ۱؎ [33-الأحزاب:36] خاص ہے اور اس سے بھی جامع آیت یہ ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28517:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ { ایک انصاری کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم اپنی لڑکی کا نکاح جلیبیب رضی اللہ عنہ سے کر دو }۔ انہوں نے جواب دیا کہ اچھی بات ہے۔ میں اس کی ماں سے بھی مشورہ کر لوں۔ جا کر ان سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا یہ نہیں ہوسکتا، ہم نے فلاں فلاں ان سے بڑے بڑے آدمیوں کے پیغام کو رد کر دیا اور اب جلیبیب رضی اللہ عنہ سے نکاح کر دیں۔ انصاری اپنی بیوی کا یہ جواب سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جانا چاہتے ہی تھے کہ لڑکی جو پردے کے پیچھے سے یہ تمام گفتگو سن رہی تھی بول پڑی کہ ”تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کورد کرتے ہو؟ جب حضور اس سے خوش ہیں تو تمہیں انکار نہ کرنا چاہیے۔“ اب دونوں نے کہا کہ بچی ٹھیک کہہ رہی ہے۔ بیچ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس نکاح سے انکار کرنا گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام اور خواہش کو رد کرنا ہے، یہ ٹھیک نہیں۔
چنانچہ انصاری سیدھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ”کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے خوش ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں میں تو اس سے رضامند ہوں }۔ کہا ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکاح کر دیجئیے“، چنانچہ نکاح ہو گیا۔ ایک مرتبہ اہل اسلام مدینہ والے دشمنوں کے مقابلے کے لیے نکلے، لڑائی ہوئی جس میں جلبیب رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے انہوں نے بھی بہت سے کافروں کو قتل کیا تھا جن کی لاشیں ان کے آس پاس پڑی ہوئی تھیں۔ انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”میں نے خود دیکھا ان کا گھر بڑا آسودہ حال تھا۔ تمام مدینے میں ان سے زیادہ خرچیلا کوئی نہ تھا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:136/3:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ وجہ انکار یہ تھی کہ نسب کے اعتبار سے یہ بہ نسبت سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے زیادہ شریف تھیں۔ زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28516:]
عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”یہ آیت عقبہ بن ابومعیط کی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ صلح حدیبیہ کے بعد سب سے پہلے مہاجر عورت یہی تھی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنا نفس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مجھے قبول ہے }۔ پھر زید بن حارث رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کرا دیا۔ غالباً یہ نکاح زینب رضی اللہ عنہا کی علیحدگی کے بعد ہوا ہوگا۔ اس سے ام کلثوم رضی اللہ عنہا ناراض ہوئیں اور ان کے بھائی بھی بگڑ بیٹھے کہ ہمارا اپنا ارادہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کا تھا نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سے نکاح کرنے کا، اس پر یہ آیت اتری بلکہ اس سے بھی زیادہ معاملہ صاف کر دیا گیا اور فرما دیا گیا کہ «اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا» ۱؎ [33-الأحزاب:6] ’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ اولیٰ ہیں ‘۔
پس آیت «وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا» ۱؎ [33-الأحزاب:36] خاص ہے اور اس سے بھی جامع آیت یہ ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28517:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ { ایک انصاری کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم اپنی لڑکی کا نکاح جلیبیب رضی اللہ عنہ سے کر دو }۔ انہوں نے جواب دیا کہ اچھی بات ہے۔ میں اس کی ماں سے بھی مشورہ کر لوں۔ جا کر ان سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا یہ نہیں ہوسکتا، ہم نے فلاں فلاں ان سے بڑے بڑے آدمیوں کے پیغام کو رد کر دیا اور اب جلیبیب رضی اللہ عنہ سے نکاح کر دیں۔ انصاری اپنی بیوی کا یہ جواب سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جانا چاہتے ہی تھے کہ لڑکی جو پردے کے پیچھے سے یہ تمام گفتگو سن رہی تھی بول پڑی کہ ”تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کورد کرتے ہو؟ جب حضور اس سے خوش ہیں تو تمہیں انکار نہ کرنا چاہیے۔“ اب دونوں نے کہا کہ بچی ٹھیک کہہ رہی ہے۔ بیچ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس نکاح سے انکار کرنا گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام اور خواہش کو رد کرنا ہے، یہ ٹھیک نہیں۔
چنانچہ انصاری سیدھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ”کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے خوش ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں میں تو اس سے رضامند ہوں }۔ کہا ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکاح کر دیجئیے“، چنانچہ نکاح ہو گیا۔ ایک مرتبہ اہل اسلام مدینہ والے دشمنوں کے مقابلے کے لیے نکلے، لڑائی ہوئی جس میں جلبیب رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے انہوں نے بھی بہت سے کافروں کو قتل کیا تھا جن کی لاشیں ان کے آس پاس پڑی ہوئی تھیں۔ انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”میں نے خود دیکھا ان کا گھر بڑا آسودہ حال تھا۔ تمام مدینے میں ان سے زیادہ خرچیلا کوئی نہ تھا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:136/3:صحیح]
ایک اور روایت میں سیدنا ابوبردہ اسلمی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { سیدنا جلبیب رضی اللہ عنہ کی طبیعت خوش مذاق تھی اس لیے میں نے اپنے گھر میں کہہ دیا تھا کہ یہ تمہارے پاس نہ آئیں۔ انصاریوں کی عادت تھی کہ وہ کسی عورت کا نکاح نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ یہ معلوم کر لیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بابت کچھ نہیں فرماتے۔“ پھر وہ واقعہ بیان فرمایا جو اوپر مذکور ہوا }۔
اس میں یہ بھی ہے کہ { جلیبیب رضی اللہ عنہ نے سات کافروں کو اس غزوے میں قتل کیا تھا۔ پھر کافروں نے یک مشت ہو کر آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو تلاش کرتے ہوئے جب ان کی نعش کے پاس آئے تو فرمایا: { سات کو مار کر پھر شہید ہوئے ہیں۔ یہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں }۔ دو یا تین مرتبہ یہی فرمایا پھر قبر کھدوا کر اپنے ہاتھوں پر انہیں اٹھا کر قبر میں اتارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک ہی ان کا جنازہ تھا اور کوئی چارپائی وغیرہ نہ تھی۔ یہ بھی مذکور نہیں کہ انہیں غسل دیا گیا ہو۔ اس نیک بخت انصاریہ عورت کے لیے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی عزت رکھ کر اپنے ماں باپ کو سمجھایا تھا کہ ”انکار نہ کرو۔“ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی کہ { اللہ اس پر اپنی رحمتوں کی بارش برسا اور اسے زندگی کے پورے لطف عطا فرما }۔ تمام انصار میں ان سے زیادہ خرچ کرنے والی عورت نہ تھی۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2472] انہوں نے جب پردے کے پیچھے سے اپنے والدین سے کہا تھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات رد نہ کرو“ اس وقت یہ آیت «وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا» ۱؎ [33-الأحزاب:36]، نازل ہوئی تھی }۔
اس میں یہ بھی ہے کہ { جلیبیب رضی اللہ عنہ نے سات کافروں کو اس غزوے میں قتل کیا تھا۔ پھر کافروں نے یک مشت ہو کر آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو تلاش کرتے ہوئے جب ان کی نعش کے پاس آئے تو فرمایا: { سات کو مار کر پھر شہید ہوئے ہیں۔ یہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں }۔ دو یا تین مرتبہ یہی فرمایا پھر قبر کھدوا کر اپنے ہاتھوں پر انہیں اٹھا کر قبر میں اتارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک ہی ان کا جنازہ تھا اور کوئی چارپائی وغیرہ نہ تھی۔ یہ بھی مذکور نہیں کہ انہیں غسل دیا گیا ہو۔ اس نیک بخت انصاریہ عورت کے لیے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی عزت رکھ کر اپنے ماں باپ کو سمجھایا تھا کہ ”انکار نہ کرو۔“ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی کہ { اللہ اس پر اپنی رحمتوں کی بارش برسا اور اسے زندگی کے پورے لطف عطا فرما }۔ تمام انصار میں ان سے زیادہ خرچ کرنے والی عورت نہ تھی۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2472] انہوں نے جب پردے کے پیچھے سے اپنے والدین سے کہا تھا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات رد نہ کرو“ اس وقت یہ آیت «وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا» ۱؎ [33-الأحزاب:36]، نازل ہوئی تھی }۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے طاؤس رحمہ اللہ نے پوچھا کہ عصر کے بعد دو رکعت پڑھ سکتے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے منع فرمایا اور اسی آیت کی تلاوت کی۔
پس یہ آیت گو شان نزول کے اعتبار سے مخصوص ہے لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کے ہوتے ہوئے نہ تو کوئی مخالفت کر سکتا ہے نہ اسے ماننے نہ ماننے کا اختیار کسی کو باقی رہتا ہے۔ نہ رائے اور قیاس کرنے کا حق، نہ کسی اور بات کا۔ جیسے فرمایا «فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا» ۱؎ [4-النساء:65]، یعنی ’ قسم ہے تیرے رب کی لوگ ایماندار نہ ہوں گے جب تک کہ وہ آپس کے تمام اختلافات میں تجھے حاکم نہ مان لیں۔ پھر تیرے فرمان سے اپنے دل میں کسی قسم کی تنگی نہ رکھیں بلکہ کھلے دل سے تسلیم کر لیا ‘۔
صحیح حدیث میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو گا جب تک کہ اس کی خواہش اس چیز کی تابعدار نہ بن جائے جسے میں لایا ہوں }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:167،]
اسی لیے یہاں بھی اس کی نافرمانی کی برائی بیان فرما دی کہ ’ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرنے والا کھلم کھلا گمراہ ہے ‘۔
جیسے فرمان ہے «فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖٓ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» ۱؎ [24-النور:63] یعنی ’ جو لوگ ارشاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلاف کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ ایسا نہ ہو ان پر کوئی فتنہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب ہو ‘۔
پس یہ آیت گو شان نزول کے اعتبار سے مخصوص ہے لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کے ہوتے ہوئے نہ تو کوئی مخالفت کر سکتا ہے نہ اسے ماننے نہ ماننے کا اختیار کسی کو باقی رہتا ہے۔ نہ رائے اور قیاس کرنے کا حق، نہ کسی اور بات کا۔ جیسے فرمایا «فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا» ۱؎ [4-النساء:65]، یعنی ’ قسم ہے تیرے رب کی لوگ ایماندار نہ ہوں گے جب تک کہ وہ آپس کے تمام اختلافات میں تجھے حاکم نہ مان لیں۔ پھر تیرے فرمان سے اپنے دل میں کسی قسم کی تنگی نہ رکھیں بلکہ کھلے دل سے تسلیم کر لیا ‘۔
صحیح حدیث میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو گا جب تک کہ اس کی خواہش اس چیز کی تابعدار نہ بن جائے جسے میں لایا ہوں }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:167،]
اسی لیے یہاں بھی اس کی نافرمانی کی برائی بیان فرما دی کہ ’ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرنے والا کھلم کھلا گمراہ ہے ‘۔
جیسے فرمان ہے «فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖٓ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» ۱؎ [24-النور:63] یعنی ’ جو لوگ ارشاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلاف کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیئے کہ ایسا نہ ہو ان پر کوئی فتنہ آ پڑے یا انہیں درد ناک عذاب ہو ‘۔