اِنَّ الۡمُسۡلِمِیۡنَ وَ الۡمُسۡلِمٰتِ وَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ وَ الۡقٰنِتِیۡنَ وَ الۡقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیۡنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیۡنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الۡخٰشِعِیۡنَ وَ الۡخٰشِعٰتِ وَ الۡمُتَصَدِّقِیۡنَ وَ الۡمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیۡنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الۡحٰفِظِیۡنَ فُرُوۡجَہُمۡ وَ الۡحٰفِظٰتِ وَ الذّٰکِرِیۡنَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا وَّ الذّٰکِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۳۵﴾
بے شک مسلم مرد اور مسلم عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرماںبردار مرد اور فرماںبردار عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرداور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کا بہت ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں ، ان کے لیے اللہ نے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔
En
(جو لوگ خدا کے آگے سر اطاعت خم کرنے والے ہیں یعنی) مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور فروتنی کرنے والے مرد اور فروتنی کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور خدا کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں۔ کچھ شک نہیں کہ ان کے لئے خدا نے بخشش اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے
En
بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں مومن مرد اور مومن عورتیں فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرمانبردار عورتیں راست باز مرد اور راست باز عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اپنی شرمگاه کی حفاﻇت کرنے والے مرد اور حفاﻇت کرنے والیاں بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان (سب کے) لئے اللہ تعالیٰ نے (وسیع) مغفرت اور بڑا ﺛواب تیار کر رکھا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 35) ➊ { اِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ …:} امہات المومنین کو پاکیزہ اعمال و اخلاق کی ترغیب، برے اطوار سے اجتناب کی تلقین اور کتاب و حکمت کے سیکھنے اور سکھانے کی تاکید کے بعد ان دس صفاتِ کمال کا ذکر فرمایا جن پر کاربند ہونے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ مگر ان صفات والوں کو عام الفاظ کے ساتھ ذکر فرمایا اور تمام مردوں اور عورتوں دونوں کو الگ الگ صراحت کے ساتھ ذکر فرمایا، تاکہ کوئی اسے امہات المومنین کے ساتھ خاص نہ سمجھ لے، نہ ان فضائل کو اور ان کے اجرو ثواب کو صرف مردوں کا حصہ سمجھ لے۔
➋ ام سلمہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! قرآن میں جس طرح مردوں کا ذکر ہوتا ہے ہم عورتوں کا نہیں ہوتا۔“ تو اچانک ایک دن میں نے منبر پر آپ کی آواز سنی، میں نے دروازے کے قریب ہو کر کان لگایا تو آپ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «{ اِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِيْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِيْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِيْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِيْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِيْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىِٕمِيْنَ وَ الصّٰٓىِٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِيْمًا }» [الأحزاب: ۳۵] [مسند أحمد: 301/6، ح: ۲۶۵۷۵، و قال المحقق صحیح]
➌ { الْمُسْلِمِيْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ:} اسلام کا معنی انقیاد (تابع ہو جانا) ہے اور ایمان کا معنی تصدیق ہے۔ پھر ان کا استعمال تین طرح ہوتا ہے، کبھی دونوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں، جیسے فرمایا: «{ فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ (35) فَمَا وَجَدْنَا فِيْهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ }» [الذاریات: ۳۵، ۳۶] ” سو ہم نے اس (بستی) میں ایمان والوں سے جو بھی تھا نکال لیا۔ تو ہم نے اس میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا کوئی نہ پایا۔“ کبھی الگ الگ معنوں میں استعمال ہوتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا }» [الحجرات: ۱۴] ”بدویوں نے کہا ہم ایمان لے آئے، کہہ دے تم ایمان نہیں لائے اور لیکن یہ کہو کہ ہم مطیع ہو گئے۔“ اور کبھی مسلم کا لفظ عام ہوتا ہے، یعنی وہ شخص جو اسلام کے ظاہری اعمال بجا لائے، عام اس سے کہ اس کے سچا ہونے کا یقین رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو اور مومن کا لفظ خاص ہوتا ہے، یعنی وہ شخص جو ظاہری اعمال بجا لانے کے ساتھ دل سے بھی اللہ اور اس کے سچا ہونے کا یقین رکھتا ہو۔ ظاہر یہ ہے کہ اس آیت میں {” الْمُسْلِمِيْنَ “} سے مراد تمام مسلم ہیں، خواہ صرف ظاہر میں اعمال بجا لانے والے ہوں یا دل سے بھی یقین رکھنے والے ہوں۔ (ابن جَزیّ)
➍ { وَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ:} چونکہ {” الْمُسْلِمِيْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ “} میں مخلص اور منافق دونوں آ سکتے تھے، اس لیے مومنین اور مومنات کا ذکر فرمایا، یعنی جو ظاہری انقیاد کے ساتھ دل میں بھی ایمان رکھتے ہیں، کیونکہ جب تک دل میں یقین نہ ہو ظاہر میں تابع ہونے کا کچھ فائدہ نہیں۔
➎ { وَ الْقٰنِتِيْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ:} ہمیشہ کے لیے اطاعت کرنے والے۔ اسلام کے بعد ایمان کا مرتبہ ہے، ان دونوں کے نتیجے میں قنوت، یعنی اطاعت اور فرماں برداری پیدا ہوتی ہے۔
➏ { وَ الصّٰدِقِيْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ:} اس کی تفصیل سورۂ توبہ کی آیت (۱۱۹): «{ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ }» کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
➐ { وَ الصّٰبِرِيْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۵ اور ۱۵۳)۔
➑ { وَ الْخٰشِعِيْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ …:} یعنی وہ تکبر اور غرور سے پاک ہیں، ہر وقت اللہ کے سامنے عاجز اور دل و زبان اور جسم و جان سے اس کے آگے جھکے رہتے ہیں، حق سامنے آنے پر اس سے نہ سر پھیرتے ہیں، نہ انکار کرتے ہیں۔ خشوع اور عاجزی کی تمام کیفیتیں نماز میں جمع ہیں، اس لیے خشوع کا اعلیٰ درجہ نماز میں خشوع ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ (1) الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ }» [المؤمنون: ۱، ۲] ”یقینا کامیاب ہوگئے مومن۔ وہی جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔“ ممکن ہے یہاں عام حالات میں خشوع کے ساتھ خاص طور پر یہ مراد ہو، کیونکہ اس کے بعد صدقے اور روزے کا ذکر ہے اور نماز، صدقہ اور روزہ تینوں اسلام کے بنیادی ارکان ہیں۔ خشوع، صدقہ اور صیام کے الفاظ میں فرض اور نفل دونوں شامل ہیں۔
➒ { وَ الْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ:} اس میں زنا سے اجتناب کے علاوہ ننگا ہونے سے اجتناب بھی شامل ہے اور ایسا لباس پہننے سے بھی جس سے جسم کا وہ حصہ نمایاں ہوتا ہو جسے چھپانا لازم ہے۔ دیکھیے سورۂ مومنون (۵ تا ۷) اور معارج (۲۹ تا ۳۱)۔
➓ { وَ الذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ …: } ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے راستے میں چل رہے تھے تو ایک پہاڑ پر گزرے، جسے جُمدان کہا جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [سِيْرُوْا هٰذَا جُمْدَانُ سَبَقَ الْمُفَرَّدُوْنَ] ”چلتے رہو، یہ جُمدان ہے، ”مفرد“ لوگ (اپنے کام میں اکیلے رہ جانے والے) سبقت لے گئے۔“ لوگوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! مفرد لوگوں سے کیا مراد ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلذَّاكِرُوْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّالذَّاكِرَاتُ] [مسلم، الذکر و الدعاء، باب الحث علی ذکر اللہ تعالٰی: ۲۶۷۶] ”اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ یاد کرنے والے مرد اور بہت زیادہ یاد کرنے والی عورتیں۔“ ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَ أَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيْكِكُمْ وَأَرْفَعِهَا فِيْ دَرَجَاتِكُمْ وَ خَيْرٍ لَّكُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذَّهَبِ وَ الْوَرِقِ وَ خَيْرٍ لَّكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوْا أَعْنَاقَهُمْ وَ يَضْرِبُوْا أَعْنَاقَكُمْ؟ قَالُوْا بَلٰی قَالَ ذِكْرُ اللّٰهِ تَعَالٰی] [ترمذي، الدعوات، باب منہ: ۳۳۷۷، و قال الألباني صحیح] ”کیا میں تمھیں وہ عمل نہ بتاؤں جو تمھارے اعمال میں سے سب سے بہتر ہے اور تمھارے مالک کے ہاں سب سے پاکیزہ ہے اور تمھارے درجات میں سب سے بلند ہے اور تمھارے لیے سونا اور چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے اور اس سے بھی بہتر ہے کہ تم اپنے دشمن سے ملو، پھر وہ تمھاری گردنیں اڑائیں اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ؟“ صحابہ نے عرض کیا: ”کیوں نہیں (یا رسول اللہ!)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ کا ذکر ہے۔“ عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! اسلام کے احکام مجھ پر بہت زیادہ ہو گئے ہیں، اس لیے آپ مجھے کوئی ایک چیز بتا دیں جسے میں مضبوطی سے پکڑ لوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لاَ يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللّٰهِ] [ترمذي، الدعوات، باب ما جاء في فضل الذکر: ۳۳۷۵، و قال الألباني صحیح] ”تیری زبان ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہے۔“
یاد رہے زبانی ذکر ہی کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کو دل میں یاد رکھنا اور ہر وقت اس بات کا احساس ضروری ہے کہ میرا مالک مجھے دیکھ رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں آدمی اللہ کی نافرمانی سے بچتا ہے اور اگر نافرمانی کر بیٹھے تو اللہ کی یاد اسے اپنے رب کے ساتھ معاملہ درست کرنے پر مجبور کر دیتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کی صفت بیان فرمائی: «{ وَ الَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا۠ لِذُنُوْبِهِمْ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ وَ لَمْ يُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ }» [آل عمران: ۱۳۵] ”اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کرتے ہیں، یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا اور کون گناہ بخشتا ہے؟ اور انھوں نے جو کیا اس پر اصرار نہیں کرتے جب کہ وہ جانتے ہوں۔“ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عرش کا سایہ حاصل کرنے والے سات خوش نصیبوں میں سے ایک وہ ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَ رَجُلٌ ذَكَرَ اللّٰهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ] [بخاري، الأذان، باب من جلس في المسجد…: ۶۶۰] ”وہ آدمی جس نے اللہ کو خلوت میں یاد کیا تو اس کی آنکھیں بہ پڑیں۔“ اللہ کی نافرمانی پر اصرار کے ساتھ محض زبان سے ذکر کو اللہ کی یاد کہنا ”یاد“ کے مفہوم سے غفلت کا نتیجہ ہے۔
➋ ام سلمہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! قرآن میں جس طرح مردوں کا ذکر ہوتا ہے ہم عورتوں کا نہیں ہوتا۔“ تو اچانک ایک دن میں نے منبر پر آپ کی آواز سنی، میں نے دروازے کے قریب ہو کر کان لگایا تو آپ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «{ اِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِيْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِيْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِيْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِيْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِيْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىِٕمِيْنَ وَ الصّٰٓىِٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِيْمًا }» [الأحزاب: ۳۵] [مسند أحمد: 301/6، ح: ۲۶۵۷۵، و قال المحقق صحیح]
➌ { الْمُسْلِمِيْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ:} اسلام کا معنی انقیاد (تابع ہو جانا) ہے اور ایمان کا معنی تصدیق ہے۔ پھر ان کا استعمال تین طرح ہوتا ہے، کبھی دونوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں، جیسے فرمایا: «{ فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ (35) فَمَا وَجَدْنَا فِيْهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ }» [الذاریات: ۳۵، ۳۶] ” سو ہم نے اس (بستی) میں ایمان والوں سے جو بھی تھا نکال لیا۔ تو ہم نے اس میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا کوئی نہ پایا۔“ کبھی الگ الگ معنوں میں استعمال ہوتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا }» [الحجرات: ۱۴] ”بدویوں نے کہا ہم ایمان لے آئے، کہہ دے تم ایمان نہیں لائے اور لیکن یہ کہو کہ ہم مطیع ہو گئے۔“ اور کبھی مسلم کا لفظ عام ہوتا ہے، یعنی وہ شخص جو اسلام کے ظاہری اعمال بجا لائے، عام اس سے کہ اس کے سچا ہونے کا یقین رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو اور مومن کا لفظ خاص ہوتا ہے، یعنی وہ شخص جو ظاہری اعمال بجا لانے کے ساتھ دل سے بھی اللہ اور اس کے سچا ہونے کا یقین رکھتا ہو۔ ظاہر یہ ہے کہ اس آیت میں {” الْمُسْلِمِيْنَ “} سے مراد تمام مسلم ہیں، خواہ صرف ظاہر میں اعمال بجا لانے والے ہوں یا دل سے بھی یقین رکھنے والے ہوں۔ (ابن جَزیّ)
➍ { وَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ:} چونکہ {” الْمُسْلِمِيْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ “} میں مخلص اور منافق دونوں آ سکتے تھے، اس لیے مومنین اور مومنات کا ذکر فرمایا، یعنی جو ظاہری انقیاد کے ساتھ دل میں بھی ایمان رکھتے ہیں، کیونکہ جب تک دل میں یقین نہ ہو ظاہر میں تابع ہونے کا کچھ فائدہ نہیں۔
➎ { وَ الْقٰنِتِيْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ:} ہمیشہ کے لیے اطاعت کرنے والے۔ اسلام کے بعد ایمان کا مرتبہ ہے، ان دونوں کے نتیجے میں قنوت، یعنی اطاعت اور فرماں برداری پیدا ہوتی ہے۔
➏ { وَ الصّٰدِقِيْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ:} اس کی تفصیل سورۂ توبہ کی آیت (۱۱۹): «{ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ }» کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
➐ { وَ الصّٰبِرِيْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۵ اور ۱۵۳)۔
➑ { وَ الْخٰشِعِيْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ …:} یعنی وہ تکبر اور غرور سے پاک ہیں، ہر وقت اللہ کے سامنے عاجز اور دل و زبان اور جسم و جان سے اس کے آگے جھکے رہتے ہیں، حق سامنے آنے پر اس سے نہ سر پھیرتے ہیں، نہ انکار کرتے ہیں۔ خشوع اور عاجزی کی تمام کیفیتیں نماز میں جمع ہیں، اس لیے خشوع کا اعلیٰ درجہ نماز میں خشوع ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ (1) الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ }» [المؤمنون: ۱، ۲] ”یقینا کامیاب ہوگئے مومن۔ وہی جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔“ ممکن ہے یہاں عام حالات میں خشوع کے ساتھ خاص طور پر یہ مراد ہو، کیونکہ اس کے بعد صدقے اور روزے کا ذکر ہے اور نماز، صدقہ اور روزہ تینوں اسلام کے بنیادی ارکان ہیں۔ خشوع، صدقہ اور صیام کے الفاظ میں فرض اور نفل دونوں شامل ہیں۔
➒ { وَ الْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ:} اس میں زنا سے اجتناب کے علاوہ ننگا ہونے سے اجتناب بھی شامل ہے اور ایسا لباس پہننے سے بھی جس سے جسم کا وہ حصہ نمایاں ہوتا ہو جسے چھپانا لازم ہے۔ دیکھیے سورۂ مومنون (۵ تا ۷) اور معارج (۲۹ تا ۳۱)۔
➓ { وَ الذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ …: } ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے راستے میں چل رہے تھے تو ایک پہاڑ پر گزرے، جسے جُمدان کہا جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [سِيْرُوْا هٰذَا جُمْدَانُ سَبَقَ الْمُفَرَّدُوْنَ] ”چلتے رہو، یہ جُمدان ہے، ”مفرد“ لوگ (اپنے کام میں اکیلے رہ جانے والے) سبقت لے گئے۔“ لوگوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! مفرد لوگوں سے کیا مراد ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلذَّاكِرُوْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّالذَّاكِرَاتُ] [مسلم، الذکر و الدعاء، باب الحث علی ذکر اللہ تعالٰی: ۲۶۷۶] ”اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ یاد کرنے والے مرد اور بہت زیادہ یاد کرنے والی عورتیں۔“ ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَ أَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيْكِكُمْ وَأَرْفَعِهَا فِيْ دَرَجَاتِكُمْ وَ خَيْرٍ لَّكُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذَّهَبِ وَ الْوَرِقِ وَ خَيْرٍ لَّكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوْا أَعْنَاقَهُمْ وَ يَضْرِبُوْا أَعْنَاقَكُمْ؟ قَالُوْا بَلٰی قَالَ ذِكْرُ اللّٰهِ تَعَالٰی] [ترمذي، الدعوات، باب منہ: ۳۳۷۷، و قال الألباني صحیح] ”کیا میں تمھیں وہ عمل نہ بتاؤں جو تمھارے اعمال میں سے سب سے بہتر ہے اور تمھارے مالک کے ہاں سب سے پاکیزہ ہے اور تمھارے درجات میں سب سے بلند ہے اور تمھارے لیے سونا اور چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے اور اس سے بھی بہتر ہے کہ تم اپنے دشمن سے ملو، پھر وہ تمھاری گردنیں اڑائیں اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ؟“ صحابہ نے عرض کیا: ”کیوں نہیں (یا رسول اللہ!)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اللہ کا ذکر ہے۔“ عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! اسلام کے احکام مجھ پر بہت زیادہ ہو گئے ہیں، اس لیے آپ مجھے کوئی ایک چیز بتا دیں جسے میں مضبوطی سے پکڑ لوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لاَ يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللّٰهِ] [ترمذي، الدعوات، باب ما جاء في فضل الذکر: ۳۳۷۵، و قال الألباني صحیح] ”تیری زبان ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہے۔“
یاد رہے زبانی ذکر ہی کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کو دل میں یاد رکھنا اور ہر وقت اس بات کا احساس ضروری ہے کہ میرا مالک مجھے دیکھ رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں آدمی اللہ کی نافرمانی سے بچتا ہے اور اگر نافرمانی کر بیٹھے تو اللہ کی یاد اسے اپنے رب کے ساتھ معاملہ درست کرنے پر مجبور کر دیتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کی صفت بیان فرمائی: «{ وَ الَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا۠ لِذُنُوْبِهِمْ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ وَ لَمْ يُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ }» [آل عمران: ۱۳۵] ”اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کرتے ہیں، یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا اور کون گناہ بخشتا ہے؟ اور انھوں نے جو کیا اس پر اصرار نہیں کرتے جب کہ وہ جانتے ہوں۔“ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عرش کا سایہ حاصل کرنے والے سات خوش نصیبوں میں سے ایک وہ ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَ رَجُلٌ ذَكَرَ اللّٰهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ] [بخاري، الأذان، باب من جلس في المسجد…: ۶۶۰] ”وہ آدمی جس نے اللہ کو خلوت میں یاد کیا تو اس کی آنکھیں بہ پڑیں۔“ اللہ کی نافرمانی پر اصرار کے ساتھ محض زبان سے ذکر کو اللہ کی یاد کہنا ”یاد“ کے مفہوم سے غفلت کا نتیجہ ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
35-1حضرت ام سلمہ ؓ اور بعض دیگر صحابیات نے کہا کہ کیا بات ہے اللہ تعالیٰ ہر جگہ مردوں سے ہی خطاب فرماتا ہے عورتوں سے نہیں جس پر یہ آیت نازل ہوئی (مسندا-631ترمذی نمبر3211 اس میں عورتوں کی دل داری کا اہتمام کردیا گیا ہے ورنہ تمام احکام میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی شامل ہیں سوائے ان مخصوص احکام کے جو صرف عورتوں کے لیے ہیں۔ اس آیت اور دیگر آیات سے واضح ہے کہ عبادت واطاعت الہٰی اور اخروی درجات و فضائل میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے دونوں کے لیے یکساں طور پر یہ میدان کھلا ہے اور دونوں زیادہ سے زیادہ نیکیاں اور اجر وثواب کماسکتے ہیں جنس کی بنیاد پر اس میں کمی پیشی نہیں کی جائے گے علاوہ ازیں مسلمان اور مومن کا الگ الگ ذکر کرنے سے واضح ہے کہ ان دونوں میں فرق ہے ایمان کا درجہ اسلام سے بڑھ کر ہے جیسا کہ قرآن و حدیث کے دیگر دلائل بھی اس پر دلالت کرتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
35۔ یقیناً جو مرد اور جو عورتیں مسلمان ہیں، مومن ہیں، فرمانبردار ہیں، سچ بولنے والے ہیں، صبر کرنے والے ہیں، فروتنی کرنے والے ہیں، صدقہ دینے والے ہیں، روزہ رکھنے والے ہیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے اور اللہ کو بکثرت یاد کرنے والے ہیں، ان سب کے لئے اللہ تعالیٰ نے بخشش [54] اور بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔
[54] اسلام کی دس بنیادی اقدار :۔
اس آیت میں مسلمانوں کی دس ایسی صفات کا ذکر آیا ہے جنہیں اسلام کی بنیادی اقدار کا نام دیا جا سکتا ہے۔ پہلی صفت اسلام لانا ہے۔ اور اس کا انحصار دو شہادتوں پر ہے کہ جو شخص یہ اقرار کرے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے۔ اسلام کے بعد دوسری صفت ایمان ہے۔ ایمان کا مطلب یہ ہے کہ دو شہادتیں اس کے دل میں جانشین ہو جائیں اور دل بھی ان کی تصدیق کرے اور انسان اسلام کے تقاضے اور بنیادی ارکان کے لئے مستعد ہو جائے۔ جب تک انسان دعویٰ اسلام کے ساتھ دل کی تصدیق اور ساتھ ہی ساتھ اعمال صالح بجا نہ لائے اس کے ایمان کے دعویٰ کو غلط اور جھوٹ سمجھا جائے گا۔ تیسری صفت یہ ہے کہ وہ لوگ صرف زبانی حد تک ہی اللہ کے اور اس کے رسول کے احکام کے قائل نہیں ہوتے۔ بلکہ عملی لحاظ سے بھی ہر وقت انھیں ماننے پر اور مطیع فرمان بن کر رہنے پر تیار رہتے ہیں۔ چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ سچے اور راست باز ہوتے ہیں۔ اپنے معاملات میں جھوٹ، مکر، ریا کاری اور دغا بازی سے حتی الوسع اجتناب کرتے ہیں۔ پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں۔ نیز احکام الٰہی پر پورے صبر و ثبات کے ساتھ عمل پیرا ہوتے ہیں۔ چھٹی صفت یہ ہے کہ ان میں تکبر نام کو نہیں ہوتا۔ ان کی وضع قطع، چال ڈھال، اور گفتگو کبر و نخوت سے پاک ہوتی ہے۔ اس کے بجائے ان میں دوسروں کے لئے تواضع اور انکسار موجود ہوتا ہے۔ وہ ہر ایک سے عزت و احترام سے پیش آتے ہیں۔ اس مقام پر لفظ خاشعین استعمال ہوا ہے اور خشوع کے معنی ایسا خوف یا جذبہ ہے جس کے اثرات جوارح پر ظاہر ہونے لگیں۔ پھر یہی لفظ بول کر اس سے نماز بھی مراد لی جا سکتی ہے کیونکہ خشوع ہی نماز کی روح ہے اور یہاں نماز مراد لینا اس لحاظ سے بھی مناسب ہے کہ آگے صدقہ اور روزہ کا ذکر آ رہا ہے۔ ساتویں صفت یہ ہے کہ وہ متصدق ہوتے ہیں اور اس لفظ میں تین مفہوم شامل ہیں۔ ایک یہ کہ وہ زکوٰۃ (فرضی صدقہ) ادا کرتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ نفلی صدقات سے محتاجوں کی احتیاج کو دور کرتے اور ان کاموں میں خرچ کرتے ہیں جن کا شریعت نے حکم دیا ہے اور تیسرا یہ کہ اگر کسی سے قرض وغیرہ لینا ہو تو وہ معاف کر دیتے ہیں۔ یعنی اپنے حق سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔ آٹھویں صفت یہ ہے کہ وہ فرضی روزے تو ضرور رکھتے ہیں ان کے علاوہ نفلی روزے بھی حسب توفیق رکھتے ہیں۔ نویں صفت یہ ہے کہ وہ زنا سے بھی بچتے ہیں اور عریانی اور برہنگی سے بھی اجتناب کرتے ہیں اور دسویں صفت یہ ہے کہ وہ اپنے اکثر اوقات میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور یاد رکھتے ہیں۔ یاد کرنے سے مراد تسبیح و تہلیل اور اللہ کے ذکر سے زبان کو تر رکھنا ہے اور یاد رکھنے سے مراد یہ ہے کہ وہ کوئی کام کریں انھیں ہر وقت دل میں اللہ کا خوف رہتا ہے۔ جو انھیں اللہ کی نافرمانی سے بچاتا ہے۔ اور حقیقت ہے کہ تمام عبادتوں کی روح یہی اللہ کا ذکر یا اللہ کی یاد ہے۔ باقی سب عبادتوں کا کوئی نہ کوئی وقت ہوتا ہے مگر اس عبادت کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ اور یہ ہر وقت کی جا سکتی ہے اور اسی اللہ کی یاد سے ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ بندے کا اپنے اللہ سے تعلق کس حد تک مضبوط ہے یا کمزور ہے۔
عام طور پر مردوں کو ہی کیوں مخاطب کیا جاتا ہے اعمال کے اجر میں مرد اور عورت برابر ہیں :۔
اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ بعض ازواج مطہرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہ قرآن میں عام طور پر مردوں کو ہی خطاب کیا گیا ہے۔ عورتوں کا ذکر کم ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ اس آیت میں ایک ایک صفت میں مردوں کے ساتھ عورتوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ اور یہ بعض ازواج (سیدہ ام سلمہؓ) کا محض جذبہ اشتیاق ہی تھا کہ عورتوں کا الگ سے نام لیا جانا چاہئے۔ ورنہ ہر زبان کا اور اسی طرح عربی زبان کا یہ ہی دستور ہے کہ جب کسی مردوں اور عورتوں کے مشترکہ اجتماع کو خطاب کرنا ہو تو جمع مذکر کا صیغہ ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ اور عورتیں بالتبع اس خطاب میں شامل ہوتی ہیں۔ چنانچہ اس آیت میں یہ وضاحت کر دی گئی کہ عمل کرنے والا مرد ہو یا عورت کسی کی محنت اور کمائی اللہ کے ہاں ضائع نہیں جاتی۔ دوسرے یہ کہ ان دونوں کی کمائی کے اجر میں کچھ فرق نہ ہو گا۔ اخلاقی ترقی اور روحانی کمال دونوں کے سامنے ایک جیسا وسیع ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مردوں کا دائرہ عمل عورتوں کے دائرہ عمل سے الگ ہے۔ مرد کے لئے اگر جہاد میں بڑا درجہ ہے تو عورتوں کے لئے اولاد کی صحیح تربیت میں بڑا درجہ ہے۔ البتہ جن مسائل کا تعلق ہی عورتوں سے ہے ان میں عورتوں کو ہی خطاب کیا گیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اسلام اور ایمان میں فرق اور ذکر الٰہی ٭٭
{ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ مردوں کا ذکر تو قرآن میں آتا رہتا ہے لیکن عورتوں کا تو ذکر ہی نہیں کیا جاتا؟ ایک دن میں اپنے گھر میں بیٹھی اپنے سر کے بال سلجھا رہی تھی جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز منبر پر سنی میں نے بالوں کو تو یونہی لپیٹ لیا اور حجرے میں آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت یہی آیت تلاوت فرما رہے تھے }۔ [سنن نسائی:425:صحیح]۔
اور بہت سی روایتیں آپ رضی اللہ عنہا سے مختصراً مروی ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ { چند عورتوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا تھا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28510:اسنادہ ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { عورتوں نے ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» سے یہ کہا تھا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28505:]
اسلام و ایمان کو الگ الگ بیان کرنا دلیل ہے اس بات کی کہ ایمان اسلام کا غیر ہے اور ایمان اسلام سے مخصوص و ممتاز ہے «قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا» ۱؎ [49-الحجرات:14] الخ، والی آیت اور بخاری و مسلم کی حدیث کہ { زانی زنا کے وقت مومن نہیں ہوتا } ۱؎ [صحیح مسلم:2475] پھر اس پر اجماع کہ زنا سے کفر لازم نہیں آتا۔ یہ اس پر دلیل ہے اور ہم شرح بخاری کی ابتداء میں اسے ثابت کر چکے ہیں۔
(یہ یاد رہے کہ ان میں فرق اس وقت ہے جب اسلام حقیقی نہ ہو جیسے کہ امام المحدثین امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے صحیح بخاری کتاب الایمان میں بدلائل کثیرہ ثابت کیا ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، مترجم]۔
اور بہت سی روایتیں آپ رضی اللہ عنہا سے مختصراً مروی ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ { چند عورتوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا تھا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28510:اسنادہ ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { عورتوں نے ازواج مطہرات «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ وَأَرْضَاهُنَّ» سے یہ کہا تھا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28505:]
اسلام و ایمان کو الگ الگ بیان کرنا دلیل ہے اس بات کی کہ ایمان اسلام کا غیر ہے اور ایمان اسلام سے مخصوص و ممتاز ہے «قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا» ۱؎ [49-الحجرات:14] الخ، والی آیت اور بخاری و مسلم کی حدیث کہ { زانی زنا کے وقت مومن نہیں ہوتا } ۱؎ [صحیح مسلم:2475] پھر اس پر اجماع کہ زنا سے کفر لازم نہیں آتا۔ یہ اس پر دلیل ہے اور ہم شرح بخاری کی ابتداء میں اسے ثابت کر چکے ہیں۔
(یہ یاد رہے کہ ان میں فرق اس وقت ہے جب اسلام حقیقی نہ ہو جیسے کہ امام المحدثین امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے صحیح بخاری کتاب الایمان میں بدلائل کثیرہ ثابت کیا ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، مترجم]۔
قنوت سے مراد سکون کے ساتھ کی اطاعت گزاری ہے جیسے «ا اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَاءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَّقَاىِٕمًا يَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَيَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ» ۱؎ [39-الزمر:9]، میں ہے اور فرمان ہے «وَلَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:26] یعنی ’ آسمان و زمین کی ہر چیزاللہ کی فرماں بردار ہے ‘ اور فرماتا ہے «يٰمَرْيَمُ اقْنُتِىْ لِرَبِّكِ وَاسْجُدِيْ وَارْكَعِيْ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:43]، اور فرماتا ہے «وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ» ۱؎ [2-البقرة:238] یعنی ’ اللہ کے سامنے با ادب فرماں برداری کی صورت میں کھڑے ہوا کرو ‘۔
پس اسلام کے اوپر کا مرتبہ ایمان ہے اور ان کے اجتماع سے انسان میں فرماں برداری اور اطاعت گزاری پیدا ہو جاتی ہے۔ باتوں کی سچائی اللہ کو بہت ہی محبوب ہے اور یہ عادت ہر طرح محمود ہے۔ صحابہ کبار رضی اللہ عنہم میں تو وہ بزرگ بھی تھے جنہوں نے جاہلیت کے زمانے میں بھی کوئی جھوٹ نہیں بولا تھا، { سچائی ایمان کی نشانی ہے اور جھوٹ نفاق کی علامت ہے۔ سچا نجات پاتا ہے۔ سچ ہی بولا کرو۔ سچائی نیکی کی طرف رہبری کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف۔ جھوٹ سے بچو۔ جھوٹ بدکاری کی طرف رہبری کرتا ہے اور فسق وفجور انسان کو جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ انسان سچ بولتے بولتے اور سچائی کا قصد کرتے کرتے اللہ کے ہاں صدیق لکھ لیا جاتا ہے اور جھوٹ بولتے ہوئے اور جھوٹ کا قصد کرتے ہوئے اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ لیا جاتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6094] اور بھی اس بارے کی بہت سی حدیثیں ہیں۔
صبر ثابت قدمی کا نتیجہ ہے۔ مصیبتوں پر صبر ہوتا ہے اس علم پر کہ تقدیر کا لکھا ٹلتا نہیں۔ سب سے زیادہ سخت صبر صدمے کے ابتدائی وقت پر ہے اور اسی کا اجر زیادہ ہے۔ پھر تو جوں جوں زمانہ گزرتا ہے خواہ مخواہ ہی صبر آ جاتا ہے۔
خشوع سے مراد تسکین دلجمعی تواضح فروتنی اور عاجزی ہے۔ یہ انسان میں اس وقت آتی ہے جبکہ دل میں اللہ کا خوف اور رب کو ہر وقت حاضر ناظر جانتا ہو اور اس طرح اللہ کی عبادت کرتا ہو جیسے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے اور یہ نہیں تو کم از کم اس درجے پر وہ ضرور ہو کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
پس اسلام کے اوپر کا مرتبہ ایمان ہے اور ان کے اجتماع سے انسان میں فرماں برداری اور اطاعت گزاری پیدا ہو جاتی ہے۔ باتوں کی سچائی اللہ کو بہت ہی محبوب ہے اور یہ عادت ہر طرح محمود ہے۔ صحابہ کبار رضی اللہ عنہم میں تو وہ بزرگ بھی تھے جنہوں نے جاہلیت کے زمانے میں بھی کوئی جھوٹ نہیں بولا تھا، { سچائی ایمان کی نشانی ہے اور جھوٹ نفاق کی علامت ہے۔ سچا نجات پاتا ہے۔ سچ ہی بولا کرو۔ سچائی نیکی کی طرف رہبری کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف۔ جھوٹ سے بچو۔ جھوٹ بدکاری کی طرف رہبری کرتا ہے اور فسق وفجور انسان کو جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ انسان سچ بولتے بولتے اور سچائی کا قصد کرتے کرتے اللہ کے ہاں صدیق لکھ لیا جاتا ہے اور جھوٹ بولتے ہوئے اور جھوٹ کا قصد کرتے ہوئے اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ لیا جاتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6094] اور بھی اس بارے کی بہت سی حدیثیں ہیں۔
صبر ثابت قدمی کا نتیجہ ہے۔ مصیبتوں پر صبر ہوتا ہے اس علم پر کہ تقدیر کا لکھا ٹلتا نہیں۔ سب سے زیادہ سخت صبر صدمے کے ابتدائی وقت پر ہے اور اسی کا اجر زیادہ ہے۔ پھر تو جوں جوں زمانہ گزرتا ہے خواہ مخواہ ہی صبر آ جاتا ہے۔
خشوع سے مراد تسکین دلجمعی تواضح فروتنی اور عاجزی ہے۔ یہ انسان میں اس وقت آتی ہے جبکہ دل میں اللہ کا خوف اور رب کو ہر وقت حاضر ناظر جانتا ہو اور اس طرح اللہ کی عبادت کرتا ہو جیسے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے اور یہ نہیں تو کم از کم اس درجے پر وہ ضرور ہو کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
صدقے سے مراد محتاج ضعیفوں کو جن کی کوئی کمائی نہ ہو نہ جن کا کوئی کمانے والا ہو انہیں اپنا فالتو مال دینا اس نیت سے کہ اللہ کی اطاعت ہو اور اس کی مخلوق کا کام بنے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے عرش تلے سایہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ان میں ایک وہ بھی ہے جو صدقہ دیتا ہے لیکن اسطرح پوشیدہ طور پر کہ داہنے ہاتھ کے خرچ کی بائیں ہاتھ کو خبر نہیں لگتی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:660]
اور حدیث میں ہے { صدقہ خطاؤں کو اسطرح مٹا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2616، قال الشيخ الألباني:صحیح] اور بھی اس بارے کی بہت سی حدیثیں ہیں جو اپنی اپنی جگہ موجود ہیں۔
روزے کی بابت حدیث میں ہے کہ { یہ بدن کی زکوٰۃ ہے } ۱؎ [سنن ابن ماجه:1745، قال الشيخ الألباني:ضعیف] یعنی اسے پاک صاف کر دیتا ہے اور طبی طور پر بھی ردی اخلاط کو مٹا دیتا ہے۔
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”رمضان کے روزے رکھ کر جس نے ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیے وہ «وَالصَّاىِٕـمِيْنَ وَالـﮩـىِٕمٰتِ وَالْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَالذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّالذّٰكِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:35]، میں داخل ہو گیا۔“
روزہ شہوت کو بھی جھکا دینے والا ہے۔ حدیث میں ہے { اے نوجوانو! تم میں سے جسے طاقت ہو وہ تو اپنا نکاح کر لے تاکہ اس سے نگاہیں نیچی رہیں اور پاک دامنی حاصل ہو جائے اور جسے اپنے نکاح کی طاقت نہ ہو وہ روزے رکھے، یہی اس کے لیے گویا خصی ہونا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1905]
اسی لیے روزوں کے ذکر کے بعد ہی بدکاری سے بچنے کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ’ ایسے مسلمان مرد و عورت حرام سے اور گناہ کے کاموں سے بچتے رہتے ہیں۔ اپنی اس خاص قوت کو جائز جگہ صرف کرتے ہیں ‘۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:7-5] ’ یہ لوگ اپنے بدن کو روکے رہتے ہیں۔ مگر اپنی بیویوں سے اور لونڈیوں سے ان پر کوئی ملامت نہیں۔ ہاں اس کے سوا جو اور کچھ طلب کرے وہ حد سے گزر جانے والا ہے ‘۔
اور حدیث میں ہے { صدقہ خطاؤں کو اسطرح مٹا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2616، قال الشيخ الألباني:صحیح] اور بھی اس بارے کی بہت سی حدیثیں ہیں جو اپنی اپنی جگہ موجود ہیں۔
روزے کی بابت حدیث میں ہے کہ { یہ بدن کی زکوٰۃ ہے } ۱؎ [سنن ابن ماجه:1745، قال الشيخ الألباني:ضعیف] یعنی اسے پاک صاف کر دیتا ہے اور طبی طور پر بھی ردی اخلاط کو مٹا دیتا ہے۔
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”رمضان کے روزے رکھ کر جس نے ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیے وہ «وَالصَّاىِٕـمِيْنَ وَالـﮩـىِٕمٰتِ وَالْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَالذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّالذّٰكِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:35]، میں داخل ہو گیا۔“
روزہ شہوت کو بھی جھکا دینے والا ہے۔ حدیث میں ہے { اے نوجوانو! تم میں سے جسے طاقت ہو وہ تو اپنا نکاح کر لے تاکہ اس سے نگاہیں نیچی رہیں اور پاک دامنی حاصل ہو جائے اور جسے اپنے نکاح کی طاقت نہ ہو وہ روزے رکھے، یہی اس کے لیے گویا خصی ہونا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1905]
اسی لیے روزوں کے ذکر کے بعد ہی بدکاری سے بچنے کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ’ ایسے مسلمان مرد و عورت حرام سے اور گناہ کے کاموں سے بچتے رہتے ہیں۔ اپنی اس خاص قوت کو جائز جگہ صرف کرتے ہیں ‘۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:7-5] ’ یہ لوگ اپنے بدن کو روکے رہتے ہیں۔ مگر اپنی بیویوں سے اور لونڈیوں سے ان پر کوئی ملامت نہیں۔ ہاں اس کے سوا جو اور کچھ طلب کرے وہ حد سے گزر جانے والا ہے ‘۔
ذکر اللہ کی نسبت ایک حدیث میں ہے کہ { جب میاں اپنی بیوی کو رات کے وقت جگا کر دو رکعت نماز دونوں پڑھ لیں تو وہ اللہ کا ذکر کرنے والوں میں لکھ لیے جاتے ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1309، قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ { یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے درجے والا بندہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والا }۔ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ کے مجاہد سے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگرچہ وہ کافروں پر تلوار چلائے یہاں تک کہ تلوار ٹوٹ جائے اور وہ خون میں رنگ جائے تب بھی اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرنے والا اس سے افضل ہی رہے گا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:411/2:حسن]
مسند ہی میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکے کے راستے میں جا رہے تھے جمدان پر پہنچ کر فرمایا: { یہ جمدان ہے مفرد بن کر چلو }۔ آگے بڑھنے والوں نے پوچھا مفرد سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: { اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ ذکر کرنے والے }۔ پھر فرمایا: { اے اللہ حج و عمرے میں اپنا سر منڈوانے والوں پر رحم فرما! }۔ لوگوں نے کہا بال کتروانے والوں کے لیے بھی دعا کیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یا اللہ سر منڈوانے والوں کو بخش }۔ لوگوں نے پھر کتروانے والوں کے لیے درخواست کی تو،، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کتروانے والے بھی } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2676]
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { اللہ کے عذابوں سے نجات دینے والا کوئی عمل اللہ کے ذکر سے بڑا نہیں }۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں تمہیں سب سے بہتر سب سے پاک اور سب سے بلند درجے کا عمل نہ بتاؤں جو تمہارے حق میں سونا چاندی اللہ کی راہ میں لٹانے سے بھی بہتر ہو اور اس سے بھی افضل ہو جب تم کل دشمن سے ملو گے اور ان کی گردنیں مارو گے اور وہ تمہاری گردنیں ماریں گے }۔ لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتلائے فرمایا: { اللہ عزوجل کا ذکر } }۔ [مسند احمد:239/5:ضعیف]
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کون سا مجاہد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والا }۔ اس نے پھر روزے دار کی نسبت پوچھا یہی جواب ملا پھر نماز، زکوٰۃ، حج صدقہ، سب کی بابت پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کا یہی جواب دیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا ”پھر اللہ کا ذکر کرنے والے تو بہت ہی بڑھ گئے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:438/3:ضعیف]
کثرت ذکر اللہ کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں آئی ہیں۔ اسی سورت کی آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِيْرًا» ۱؎ [33-الأحزاب:41]، کی تفسیر میں ہم ان احادیث کو بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
پھر فرمایا ’ یہ نیک صفتیں جن میں ہوں ہم نے ان کے لیے مغفرت تیار کر رکھی ہے اور اجر عظیم ‘ یعنی جنت۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ { یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے درجے والا بندہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والا }۔ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ کے مجاہد سے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگرچہ وہ کافروں پر تلوار چلائے یہاں تک کہ تلوار ٹوٹ جائے اور وہ خون میں رنگ جائے تب بھی اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرنے والا اس سے افضل ہی رہے گا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:411/2:حسن]
مسند ہی میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکے کے راستے میں جا رہے تھے جمدان پر پہنچ کر فرمایا: { یہ جمدان ہے مفرد بن کر چلو }۔ آگے بڑھنے والوں نے پوچھا مفرد سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: { اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ ذکر کرنے والے }۔ پھر فرمایا: { اے اللہ حج و عمرے میں اپنا سر منڈوانے والوں پر رحم فرما! }۔ لوگوں نے کہا بال کتروانے والوں کے لیے بھی دعا کیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یا اللہ سر منڈوانے والوں کو بخش }۔ لوگوں نے پھر کتروانے والوں کے لیے درخواست کی تو،، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کتروانے والے بھی } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2676]
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { اللہ کے عذابوں سے نجات دینے والا کوئی عمل اللہ کے ذکر سے بڑا نہیں }۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں تمہیں سب سے بہتر سب سے پاک اور سب سے بلند درجے کا عمل نہ بتاؤں جو تمہارے حق میں سونا چاندی اللہ کی راہ میں لٹانے سے بھی بہتر ہو اور اس سے بھی افضل ہو جب تم کل دشمن سے ملو گے اور ان کی گردنیں مارو گے اور وہ تمہاری گردنیں ماریں گے }۔ لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتلائے فرمایا: { اللہ عزوجل کا ذکر } }۔ [مسند احمد:239/5:ضعیف]
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کون سا مجاہد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والا }۔ اس نے پھر روزے دار کی نسبت پوچھا یہی جواب ملا پھر نماز، زکوٰۃ، حج صدقہ، سب کی بابت پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کا یہی جواب دیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا ”پھر اللہ کا ذکر کرنے والے تو بہت ہی بڑھ گئے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:438/3:ضعیف]
کثرت ذکر اللہ کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں آئی ہیں۔ اسی سورت کی آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِيْرًا» ۱؎ [33-الأحزاب:41]، کی تفسیر میں ہم ان احادیث کو بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
پھر فرمایا ’ یہ نیک صفتیں جن میں ہوں ہم نے ان کے لیے مغفرت تیار کر رکھی ہے اور اجر عظیم ‘ یعنی جنت۔