تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِنِ اتَّقَيْتُنَّ:} اس کا تعلق پہلے جملے سے ہے، یعنی دوسری عورتوں سے افضل ہونے کے لیے شرط تقویٰ ہے۔ یہ اس لیے فرمایا کہ وہ بے خوف نہ ہو جائیں، بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہیں اور ان کاموں سے بچتی رہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ ازواج مطہرات کا آخر دم تک تقویٰ پر قائم رہنا ایک ثابت شدہ حقیقت ہے، لہٰذا ان کی فضیلت بھی مسلّم ہے۔ {” اِنِ اتَّقَيْتُنَّ “} کا تعلق بعد والے جملے سے بھی ہو سکتا ہے، یعنی اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو بات کرنے میں لوچ اور نرمی اختیار نہ کرو۔
➌ { فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ …:} اللہ تعالیٰ نے جس طرح عورت کے وجود میں مرد کے لیے جنسی کشش رکھی ہے، جس کی حفاظت کے لیے پردے کا اور آنکھ نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح عورت کی آواز میں بھی فطری طور پر دل کشی، نرمی اور نزاکت رکھی ہے، جو مرد کو اپنی طرف کھینچتی ہے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو حکم دیا گیا کہ مردوں سے بات کرتے وقت ایسا لہجہ اختیار کریں جس میں نرمی اور دل کشی کے بجائے قدرے سختی اور مضبوطی ہو، تاکہ دل کا کوئی بیمار کسی غلط خیال میں مبتلا ہو کر آگے بڑھنے کی جرأت نہ کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ امہات المومنین کو ایسے لہجے میں غیر محرم مردوں سے بات کرنے کی اجازت تھی جو لوچ اور ملائمت سے خالی ہو۔ خصوصاً اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی اور عورتوں کے مسائل کے متعلق امت کو وہی بہتر اور پوری طرح آگاہ کر سکتی تھیں اور فی الواقع انھوں نے یہ فریضہ بہترین طریقے سے ادا کیا۔ عام طور پر جو کہا جاتا ہے کہ عورت کی آواز غیر محرم کو سننا جائز نہیں، یہ بات درست نہیں۔ واضح رہے کہ یہ حکم امہات المومنین کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ امت کی تمام عورتوں کے لیے ہے، کیونکہ ازواج مطہرات امت کی عورتوں کے لیے نمونہ ہیں۔ اگلی آیت میں مذکور احکام بھی اس بات کی دلیل ہیں کہ اگرچہ ان کی اولین مخاطب امہات المومنین ہیں، مگر یہ حکم سب کے لیے ہے، ورنہ دوسری عورتوں کے لیے جاہلیت کے زمانے کی عورتوں کی طرح زیب و زینت کے عام اظہار کی اجازت ہو گی، جب کہ انھیں زور سے زمین پر پاؤں مار کر مخفی زینت کے اظہار کی بھی اجازت نہیں۔ دیکھیے سورۂ نور (۳۱)۔
➍ { وَ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا:} نرمی سے بات کرنے کی ممانعت کا یہ مطلب نہیں کہ ایسی بات کرو جو اخلاق کے منافی ہو اور اس میں مخاطب کی بے عزتی ہو، بلکہ صرف لہجے میں مضبوطی ہونی چاہیے، بات بہرصورت اچھی اور دستور کے مطابق ہونی لازم ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس عورتوں کو غیر مردوں سے نزاکت کے ساتھ خوش آوازی سے باتیں کرنی منع ہیں۔ گھل مل کر وہ صرف اپنے خاوندوں سے ہی کلام کر سکتی ہیں۔ پھر فرمایا ’ بغیر کسی ضروری کام کے گھر سے باہر نہ نکلو ‘۔ مسجد میں نماز کے لیے آنا بھی شرعی ضرورت ہے۔
جیسے کہ حدیث میں ہے { اللہ کی لونڈیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو۔ لیکن انہیں چاہیئے کہ سادگی سے جس طرح گھروں میں رہتی ہیں اسی طرح آئیں }۔ [سنن ابوداود:565، قال الشيخ الألباني:حسن]
ایک روایت میں ہے کہ { ان کے لیے ان کے گھر بہتر ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:567، قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند بزار میں ہے کہ { عورتوں نے حاضر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جہاد وغیرہ کی کل فضیلتیں مرد ہی لے گئے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے ہم مجاہدین کی فضیلت کو پا سکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تم میں سے جو اپنے گھر میں پردے اور عصمت کے ساتھ بیٹھی رہے وہ جہاد کی فضیلت پا لے گی }۔ ۱؎ [مسند بزار:1475:ضعیف]
ابوداؤد وغیرہ میں ہے { عورت کی اپنے گھر کی اندرونی کوٹھڑی کی نماز گھر کی نماز سے افضل ہے اور گھر کی نماز صحن کی نماز سے بہتر ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:570، قال الشيخ الألباني:صحیح]
جاہلیت میں عورتیں بے پردہ پھرا کرتی تھیں اب اسلام بے پردگی کو حرام قرار دیتا ہے۔ ناز سے اٹھلا کر چلنا ممنوع ہے۔ دوپٹہ گلے میں ڈال لیا لیکن اسے لپیٹا نہیں جس سے گردن اور کانوں کے زیور دوسروں کو نظر آئیں، یہ جاہلیت کا بناؤ سنگھار تھا جس سے اس آیت میں روکا گیا ہے۔
اتفاقاً ایک دن ایک پہاڑی آدمی بھی آ گیا اور ان کی عورتوں کو دیکھ کر واپس جا کر اپنے قبیلے والوں میں اس کے حسن کا چرچا کرنے لگا۔ اب وہ لوگ بکثرت آنے لگے اور آہستہ آہستہ ان عورتوں مردوں میں اختلاط بڑھ گیا اور بدکاری اور زناکاری کا عام رواج ہو گیا۔ یہی جاہلیت کا بناؤ ہے جس سے یہ آیت روک رہی ہے۔“
ان کاموں سے روکنے کے بعد اب کچھ احکام بیان ہو رہے ہیں کہ ’ اللہ کی عبادت میں سب سے بڑی عبادت نماز ہے اس کی پابندی کرو اور بہت اچھی طرح سے اسے ادا کرتی رہو ‘۔
پھر فرمایا ’ اس اہل بیت سے ہر قسم کے میل کچیل کو دور کرنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کا ہو چکا ہے وہ تمہیں بالکل پاک صاف کر دے گا ‘۔
یہ آیت اس بات پر نص ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ان آیتوں میں اہل بیت میں داخل ہیں۔ اس لیے کہ یہ آیت انہی کے بارے میں اتری ہے۔ آیت کا شان نزول تو آیت کے حکم میں داخل ہوتا ہی ہے گو بعض کہتے ہیں کہ صرف وہی داخل ہوتا ہے اور بعض کہتے ہیں وہ بھی اور اس کے سوا بھی۔ اور یہ دوسرا قول ہی زیادہ صحیح ہے۔
عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ تو بازاروں میں منادی کرتے پھرتے تھے کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں ہی کے بارے میں خالصتاً نازل ہوئی ہے۔ [ابن جریر]۔
مسند احمد اور ترمذی میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے جب نکلتے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر پہنچ کر فرماتے { اے اہل بیت نماز کا وقت آ گیا ہے } پھر اسی آیت تطہیر کی تلاوت کرتے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3206، قال الشيخ الألباني:ضعیف] امام ترمذی اسے حسن غریب بتلاتے ہیں۔
ابن جریر کی ایک اسی حدیث میں سات مہینے کا بیان ہے۔ اس میں ایک راوی ابوداؤد اعمی نفیع بن حارث کذاب ہے۔ یہ روایت ٹھیک نہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28491:ضعیف جدا]
اور روایت میں ہے { واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا جب علی فاطمہ حسن حسین رضی اللہ عنہم اجمعین آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ان پر ڈال کر فرمایا: { اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں یا اللہ ان سے ناپاکی کو دور فرما اور انہیں پاک کر دے }۔ میں نے کہا میں بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں تو بھی }۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ میرا مضبوط عمل یہی ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28493:ضعیف]
مسند احمد میں ہے { ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے جب فاطمہ رضی اللہ عنہا حریرے کی ایک پتیلی بھری ہوئی لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اپنے میاں کو اور اپنے دونوں بچوں کو بھی بلا لو }۔ چنانچہ وہ بھی آ گئے اور کھانا شروع ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر تھے۔ خیبر کی ایک چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے بچھی ہوئی تھی۔ میں حجرے میں نماز ادا کر رہی تھی جب یہ آیت اتری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر انہیں اڑھا دی اور چادر میں سے ایک ہاتھ نکال کر آسمان کی طرف اٹھا کر یہ دعا کی کہ { الٰہی یہ میرے اہل بیت اور حمایتی ہیں تو ان سے ناپاکی دور کر اور انہیں ظاہر کر }۔ میں نے اپنا سر گھر میں سے نکال کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ سب کے ساتھ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یقیناً تو بہتری کی طرف ہے، فی الواقع تو خیر کی طرف ہے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:292/6:صحیح] اس روایت کے روایوں میں عطا کے استاد کا نام نہیں جو معلم ہو سکے کہ وہ کیسے راوی ہیں باقی راوی ثقہ ہیں۔
پس یہ آیت اس وقت اتری جبکہ یہ چادر میں جمع ہو چکے تھے میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی؟ لیکن اللہ جانتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خوش نہ ہوئے اور فرمایا: { تو خیر کی طرف ہے } }۔
مسند کی اور روایت میں ہے کہ { میرے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے جب خادم نے آ کر خبر کی کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: { ایک طرف ہو جاؤ میرے اہل بیت آ گئے ہیں }۔ میں گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئی جب دونوں ننھے بچے اور یہ دونوں صاحب تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں بچوں کو گودی میں لے لیا اور پیار کیا پھر ایک ہاتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گردن میں دوسرا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی گردن میں ڈال کر ان دونوں کو بھی پیار کیا اور ایک سیاہ چادر سب پر ڈال کر فرمایا: { یا اللہ تیری طرف نہ کہ آگ کی طرف میں اور میری اہل بیت }۔ میں نے کہا میں بھی؟ فرمایا: { ہاں تو بھی } }۔ ۱؎ [مسند احمد:296/6:ضعیف]
اور روایت میں ہے { میں نے کہا مجھے بھی ان کے ساتھ شامل کر لیجئے تو فرمایا: { تو میری اہل ہے } }۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیاہ چادر اوڑھے ہوئے ایک دن صبح ہی صبح نکلے اور ان چاروں کو اپنی چادر تلے لے کر یہ آیت پڑھی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2424]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک مرتبہ کسی نے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”وہ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب تھے ان کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں جو سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب تھیں۔“ پھر چادر کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا ”میں نے قریب جا کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دور رہو تم یقیناً خیر پر ہو }۔ [ابن ابی حاتم]
سیدنا سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میرے اور ان چاروں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28487:ضعیف] اور سند سے یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہونا مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چاروں کو اپنے کپڑے تلے لے کر فرمایا: { یارب یہ میرے اہل ہیں اور میرے اہل بیت ہیں }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:28501:ضعیف]
دوسری سند سے یہ بھی مروی ہے کہ { میں نے پوچھا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی اہل بیت میں داخل ہیں؟ کہا نہیں قسم ہے اللہ کی بیوی کا تو یہ حال ہے کہ وہ اپنے خاوند کے پاس گو عرصہ دراز سے ہو لیکن پھر اگر وہ طلاق دیدے تو اپنے میکے میں اور اپنی قوم میں چلی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت آپ کی اصل اور عصبہ ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدقہ حرام ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2048]
جس شخص کو نور معرفت حاصل ہو اور قرآن میں تدبر کرنے کی عادت ہو وہ یقیناً بیک نگاہ جان لے گا کہ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بلاشبک و شبہ داخل ہیں اس لیے کہ اوپر سے کلام ہی ان کے ساتھ اور انہی کے بارے میں چل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ہی فرمایا کہ ’ اللہ کی آیتیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں جن کا درس تمہارے گھروں میں ہو رہا ہے انہیں یاد رکھو اور ان پر عمل کرو ‘۔
یہ اس لیے بھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا تھا۔ ان کا بستر بجز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کے لیے نہ تھا۔ پس اس زیادتی درجہ اور بلندی مرتبہ کی وہ صحیح طور پر مستحق تھیں۔ ہاں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ کے اہل بیت ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتے دار بطور اولیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت ہیں۔ جیسے حدیث میں گزر چکا کہ { میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں }۔ اس کی مثال میں یہ آیت ٹھیک طور پر پیش ہو سکتی ہے، «لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ» ۱؎ [9-التوبة:108])، کہ یہ اتری تو ہے مسجد قباء کے بارے میں جیسا کہ صاف صاف احادیث میں موجود ہے۔
لیکن صحیح مسلم شریف میں ہے کہ { جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ اس مسجد سے کون سی مسجد مراد ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ میری ہی مسجد ہے } یعنی مسجد نبوی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1398]
پس جو صفت مسجد قباء میں تھی وہی صفت چونکہ مسجد نبوی میں بھی ہے اس لیے اس مسجد کو بھی اسی نام سے اس آیت کے تحت داخل کر دیا۔
اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے خوب زور دیا اور اس مضمون کو باربار ادا کیا جس سے مسجد والے رونے لگے۔
ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک شامی سے فرمایا تھا ”کیا تونے سورۃ الاحزاب کی آیت تطہیر نہیں پڑھی؟“ اس نے کہا ہاں کیا اس سے مراد تم ہو؟ فرمایا ”ہاں! اللہ تعالیٰ بڑے لطف و کرم والا، بڑے علم اور پوری خبر والا ہے۔ اس نے جان لیا کہ تم اس کے لطف کے اہل ہو، اس لیے اس نے تمہیں یہ نعمتیں عطا فرمائیں اور یہ فضیلتیں تمہیں دیں۔“
حکمت سے مراد سنت و حدیث ہے۔ اللہ انجام تک سے خبردار ہے۔ اس نے اپنے پورے اور صحیح علم سے جانچ کر تمہیں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بننے کے لیے منتخب کر لیا۔ پس دراصل یہ بھی اللہ کا تم پر احسان ہے جو لطیف و خبیر ہے ہرچیز کے جز و کل سے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {يا نساءَ النبيِّ}: خطابٌ لهنَّ كلهنَّ {لستنَّ كأحدٍ من النساء إنِ اتَّقَيْتُنَّ}: الله؛ فإنَّكُنَّ بذلك تفقن النساء ولا يلحقكُنَّ أحدٌ من النساء؛ فكمِّلْنَ التقوى بجميع وسائلها ومقاصدها، فلهذا أرشدهنَّ إلى قطع وسائل المحرم، فقال: {فلا تَخْضَعْنَ بالقول}؛ أي: في مخاطبة الرجال، أو بحيث يسمعون، فَتَلِنَّ في ذلك، وتتكلَّمْنَ بكلام رقيق، يدعو ويطمع {الذي في قلبِهِ مرضٌ}؛ أي: مرض شهوة الزنا فإنه مستعدٌّ ينتظرُ أدنى محركٍ يحرِّكُه لأنَّ قلبه غيرُ صحيح؛ فإنَّ القلب الصحيح ليس فيه شهوةٌ لما حرَّم الله؛ فإنَّ ذلك لا تكاد تُميله ولا تُحركه الأسباب لصحةِ قلبه وسلامتِهِ من المرض؛ بخلاف مريض القلبِ الذي لا يتحمَّلُ ما يتحمَّلُ الصحيح، ولا يصبِرُ على ما يصبِرُ عليه؛ فأدنى سبب يوجَدُ ويدعوه إلى الحرام يُجيب دعوته ولا يتعاصى عليه؛ فهذا دليلٌ على أنَّ الوسائل لها أحكام المقاصد؛ فإنَّ الخضوع بالقول واللين فيه في الأصل مباح، ولكن لمَّا كان وسيلةً إلى المحرَّم؛ منع منه، ولهذا ينبغي للمرأة في مخاطبة الرجال أن لا تُلينَ لهم القول.
ولمَّا نهاهنَّ عن الخضوع في القول؛ فربما تُوُهِّم أنهنَّ مأموراتٌ بإغلاظ القول؛ دَفَعَ هذا بقوله: {وقلنَ قولاً معروفاً}؛ أي: غير غليظ ولا جاف؛ كما أنه ليس بليِّنٍ خاضع. وتأمَّلْ كيف قال: {فلا تَخْضَعْنَ بالقول}، ولم يقل: فلا تَلِنَّ بالقول، وذلك لأنَّ المنهيَّ عنه القول الليِّن الذي فيه خضوع المرأة للرجل وانكسارُها عنده، والخاضِعُ هو الذي يُطمع فيه، بخلافِ من تكلَّمَ كلاماً ليِّناً ليس فيه خضوعٌ، بل ربَّما صار فيه ترفُّع وقهرٌ للخصم؛ فإنَّ هذا لا يطمع فيه خصمُه، ولهذا مدح الله رسولَه باللين، فقال: {فبما رحمةٍ من الله لِنتَ لهم}، وقال لموسى وهارون: {اذْهَبا إلى فرعونَ إنَّه طغى. فقولا له قَوْلاً ليِّناً لعله يَتَذَكَّر أو يخشى}.
ودل قوله: {فيطمعَ الذي في قلبِهِ مرضٌ}؛ مع أمره بحفظ الفرج وثنائِهِ على الحافظين لفروجهم والحافظات، ونهيه عن قربان الزنا: أنَّه ينبغي للعبد إذا رأى من نفسه هذه الحالة، وأنه يهشُّ لفعل المحرم عندما يرى أو يسمع كلام من يهواه ويجد دواعي طمعِهِ قد انصرفتْ إلى الحرام، فليعرفْ أنَّ ذلك مرض، فليجتهدْ في إضعاف هذا المرض وحسم الخواطر الرديَّة ومجاهدة نفسه على سلامتها من هذا المرض الخطر وسؤال الله العصمة والتوفيق، وأنَّ ذلك من حفظ الفرج المأمور به.