تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ يُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِيْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْهِمْ:} اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو منافقین کو عذاب دے، چاہے تو نہ دے، کیونکہ کفر پر مرنے والوں کے لیے عذاب تو وہ خود طے کر چکا ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ چاہے تو عہد توڑنے والے منافقین کو موت سے پہلے توبہ کی توفیق نہ دے اور انھیں ان کے نفاق کی سزا دے اور چاہے تو توبہ کی توفیق دے کر ان کی توبہ قبول فرمائے۔ دلیل اس کی {” اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْهِمْ “} کے الفاظ ہیں۔
➌ {اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ منافق جو آگ کے درک اسفل کے حق دار بن چکے، وہ توبہ کیسے کریں گے؟ فرمایا، اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے بے حد مغفرت والا، یعنی گناہوں پر پردہ ڈالنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔ وہ جس پر چاہے مہربان ہو کر اس کے گناہوں پر پردہ ڈال دے، پھر اپنی مزید رحمت کے ساتھ نواز دے۔ اس میں عہد توڑنے والے منافقین کے لیے توبہ کی ترغیب اور ان کی توبہ کی قبولیت کی بشارت ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہاں مومنوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ انہوں نے اپنے وعدے پورے کر دکھائے ‘۔ بعض نے جام شہادت نوش فرمایا اور بعض اس کے نظارے میں بے چین ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے { ثابت رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ جب ہم نے قرآن لکھنا شروع کیا تو ایک آیت مجھے نہیں ملتی تھی حالانکہ سورۃ الاحزاب میں وہ آیت میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنی تھی۔ آخر خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس یہ آیت ملی یہ وہ صحابی رضی اللہ عنہ ہیں جن کی اکیلے کی گواہی کو رسول اللہ «عَلَيْهِ أَفْضَل الصَّلَاة وَالتَّسْلِيم» نے دو گواہوں کے برابر کر دیا تھا۔ وہ آیت «مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّـهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا» [33- الأحزاب: 23]، ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2807]
اور روایت میں ہے کہ { جب مسلمان بھاگے تو آپ نے فرمایا اے اللہ انہوں نے جو کیا میں اس سے اپنی معذوری ظاہر کرتا ہوں۔ اور مشرکوں نے جو کیا میں اس سے بیزار ہوں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا میں آپ کے ساتھ ہوں۔ ساتھ چلے بھی لیکن فرماتے ہیں جو وہ کر رہے تھے وہ میری طاقت سے باہر تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2805]
طلحہ رضی اللہ عنہ کا بیان ابی ابن حاتم میں ہے کہ { جنگ احد سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مدینے آئے تو منبر پر چڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور مسلمانوں سے ہمدردی ظاہر کی جو جو شہید ہو گئے تھے ان کے درجوں کی خبر دی۔ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ ایک مسلمان نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن لوگوں کا اس آیت میں ذکر ہے وہ کون ہیں؟ اس وقت میں سامنے آ رہا تھا اور حضرمی سبز رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف اشارہ کرکے فرمایا: { اے پوچھنے والے یہ بھی ان ہی میں سے ہیں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3203، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
ان کے صاحبزادے موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ، معاویہ رضی اللہ عنہ کے دربار میں گئے جب وہاں سے واپس آنے لگے دروازے سے باہر نکلے ہی تھے جو جناب معاویہ رضی اللہ عنہا نے واپس بلایا اور فرمایا آؤ مجھ سے ایک حدیث سنتے جاؤ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تمہارے والد طلحہ رضی اللہ عنہ ان میں سے ہے جن کا بیان اس آیت میں ہے کہ انہوں نے اپنا عہد اور نذر پوری کر دی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3720،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یہ خوف اور زلزلہ محض اس واسطے تھا کہ خبیث و طیب کی تمیز ہو جائے اور برے بھلے کا حال ہر ایک پر کھل جائے۔ کیونکہ اللہ تو عالم الغیب ہے اس کے نزدیک تو ظاہر و باطن برابر ہے جو نہیں ہوا اسے بھی وہ تو اسی طرح جانتا ہے جس طرح اسے جو ہو چکا۔ لیکن اس کی عادت ہے کہ جب تک مخلوق عمل نہ کر لے انہیں صرف اپنے علم کی بنا پر جزا سزا نہیں دیتا۔
جیسے اس کا فرمان ہے آیت «وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ» ۱؎ [47-محمد:31]، ’ ہم تمہیں خوب پرکھ کر مجاہدین صابرین کو تم میں سے ممتاز کردینگے ‘۔
پس وجود سے پہلے کا علم پھر وجود کے بعد کا علم دونوں اللہ کو ہیں اور اس کے بعد جزا سزا۔ جیسے فرمایا آیت «مَا كَان اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰي مَآ اَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ» ۱؎ [3-آل عمران:179]، ’ اللہ تعالیٰ جس حال پر تم ہو اسی پر مومنوں کو چھوڑ دے ایسا نہیں جب تک کہ وہ بھلے برے کی تمیز نہ کر لے نہ اللہ ایسا ہے کہ تمہیں غیب پر مطلع کر دے ‘۔
پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ یہ اس لیے کہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور عہد شکن منافقوں کو سزادے۔ یا انہیں توفیق توبہ دے کہ یہ اپنی روش بدل دیں اور سچے دل سے اللہ کی طرف جھک جائیں تو اللہ بھی ان پر مہربان ہو جائے اور ان کو معاف فرما دے۔ اس لیے کہ وہ اپنی مخلوق کی خطائیں معاف فرمانے والا اور ان پر مہربانی کرنے والا ہے۔ اس کی رافت و رحمت غضب و غصے سے بڑھی ہوئی ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لِيَجْزِي اللهُ الصادقينَ بصِدْقِهم}؛ أي: بسبب صدقهم في أقوالهم وأحوالهم ومعاملتهم مع الله واستواء ظاهِرِهم وباطِنِهم، قال الله تعالى: {هذا يومُ يَنفَعُ الصادقينَ صدقُهم لهم جناتٌ تجري من تحتها الأنهارُ خالدين فيها أبداً ... } الآية؛ أي: قدَّرنا ما قدَّرنا من هذه الفتن والمحن والزلازل ليتبيَّن الصادق من الكاذب، فيَجِزْيَ الصادقين بصدقهم، {ويعذِّبَ المنافقين}: الذين تغيَّرتْ قلوبُهم وأعمالُهم عند حلول الفتن، ولم يَفوا بما عاهدوا الله عليه، {إن شاءَ}: تعذيبَهم؛ بأنْ لم يشأ هدايتهم، بل علم أنَّهم لا خير فيهم، فلم يوفِّقْهم، {أو يتوبَ عليهم}: بأنْ يوفِّقَهم للتوبة والإنابة، وهذا هو الغالب على كرم الكريم، ولهذا ختم الآية باسمين دالَّيْنِ على المغفرة والفضل والإحسان، فقال: {إنَّ الله كان غفوراً رحيماً}؛ غفوراً لذنوب المسرفين على أنفسهم، ولو أكثروا من العصيان، إذا أتَوْا بالمتاب. {رحيماً}: بهم؛ حيث وفَّقَهم للتوبة، ثم قَبِلها منهم، وستر عليهم ما اجْتَرحوه.