تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[25] ﴿أشحّة﴾ (مادہ ش ح ح) شحیح ایسے شخص کو کہتے ہیں جو مال سمیٹنے میں تو انتہا درجہ کا حریص ہو مگر خرچ کرنے میں سخت بخیل ہو۔ یعنی جب جنگ میں تمہارا ساتھ دینے کا معاملہ ہو تو اس معاملہ میں وہ انتہائی بخل سے کام لیتے ہیں۔ مگر جب جنگ ختم ہو جائے میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہے، اموال غنیمت کی تقسیم کا موقعہ ہو تو پھر یہ لوگ مال پر مرے جاتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ یہ سارا مال ہمارے ہی ہاتھ آجائے پھر وہ طرح طرح کی اپنی وفا داریاں اور ہمدردیاں جتلانے لگتے ہیں تاکہ اموال غنیمت میں اپنا استحقاق ثابت کر سکیں۔
[26] یعنی ان کے دلوں میں کفر ہی کفر چھپا ہے اور اعمال کی اخروی جزا کے لئے ایمان شرط اول ہے جو ان میں سرے سے ہے ہی نہیں۔ لہٰذا ان کے سب اعمال رائیگاں جائیں گے اور جو بد اعمالیاں ہیں ان پر ضرور گرفت ہو گی اور ان کی سب سے بڑی بد عملی نفاق ہے۔
[27] یعنی اپنے اعمال کی جزا ثابت کرنے کے لئے ان لوگوں کے پاس کوئی دلیل نہیں کہ ان کے پاس کچھ زور اور قوت ہے کہ اللہ کے لئے ان کے اعمال کو برباد کرنا کچھ قابل التفات یا مشکل ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
خوف کے وقت تو ان نامردوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑجاتے ہیں۔ آنکھیں چھاچھ پانی ہو جاتی ہے مایوسانہ نگاہوں سے تکتے لگتے ہیں۔ لیکن خوف دور ہوا کہ انہوں نے لمبی لمبی زبانیں نکال ڈالیں اور بڑھے چڑھے دعوے کرنے لگے اور شجاعت و مردمی کا دم بھرنے لگے۔ اور مال غنیمت پر بے طرح گرنے لگے۔ ہمیں دو ہمیں دو کا غل مچا دیتے ہیں۔ ہم آپ کے ساتھی ہیں۔ ہم نے جنگی خدمات انجام دی ہیں ہمارا حصہ ہے۔ اور جنگ کے وقت صورتیں بھی نہیں دکھاتے بھاگتوں کے آگے اور لڑتوں کے پیچھے رہاکرتے ہیں دونوں عیب جس میں جمع ہوں اس جیسا بے خیر انسان اور کون ہو گا؟ امن کے وقت عیاری بد خلقی بد زبانی اور لڑائی کے وقت نامردی روباہ بازی اور زنانہ پن۔ لڑائی کے وقت حائضہ عورتوں کی طرح الگ اور یکسو اور مال لینے کے وقت گدھوں کی طرح ڈھینچو ڈھینچو۔
اللہ فرماتا ہے بات یہ ہے کہ ’ ان کے دل شروع سے ہی ایمان سے خالی ہیں۔ اس لیے ان کے اعمال بھی اکارت ہیں۔ اللہ پر یہ آسان ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أشِحَّة عليكم}: بأبدانهم عند القتال، وأموالهم عند النفقة فيه؛ فلا يجاهدون بأموالهم وأنفسهم، {فإذا جاء الخوفُ رأيتَهم ينظُرون إليك}: نظر المَغْشِيِّ {عليه من الموت}: من شدَّة الجبن الذي خلع قلوبَهم والقلقِ الذي أذهلهم وخوفاً من إجبارِهم على ما يكرهون من القتال، {فإذا ذهب الخوفُ}: وصاروا في حال الأمن والطمأنينة؛ {سَلَقوكم بألسنةٍ حدادٍ}؛ أي: خاطبوكم وتكلَّموا معكم بكلام حديدٍ ودعاوٍ غير صحيحة، وحين تسمعُهم تظنُّهم أهلَ الشجاعة والإقدام. {أشحَّة على الخيرِ}: الذي يُراد منهم، وهذا شرُّ ما في الإنسان: أن يكون شحيحاً بما أُمِر به، شحيحاً بماله أن ينفِقَه في وجهه، شحيحاً في بدنِهِ أن يجاهِدَ أعداء الله أو يدعو إلى سبيل الله، شحيحاً بجاهه، شحيحاً بعلمه ونصيحته ورأيه. {أولئك}: الذين بتلك الحالة {لم يُؤْمِنوا}: بسبب عدم إيمانهم؛ أحبط الله أعمالهم. {وكان ذلك على الله يسيراً}: وأما المؤمنون؛ فقد وقاهُم اللهُ شحَّ أنفسهم، ووفَّقهم لبذل ما أُمِروا به من بذل أبدانهم في القتال في سبيله وإعلاء كلمتِهِ، وأموالهم للنفقة في طرق الخير، وجاههم وعلمهم.