ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 17

قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَعۡصِمُکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ اِنۡ اَرَادَ بِکُمۡ سُوۡٓءًا اَوۡ اَرَادَ بِکُمۡ رَحۡمَۃً ؕ وَ لَا یَجِدُوۡنَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿۱۷﴾
کہہ دے وہ کون ہے جو تمھیں اللہ سے بچائے گا، اگر وہ تم سے کسی برائی کا ارادہ کرے، یا تم پر کسی مہربانی کا ارادہ کرے اور وہ اپنے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی دوست پائیں گے اور نہ کوئی مددگار۔ En
کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے تو کون تم کو اس سے بچا سکتا ہے یا اگر تم پر مہربانی کرنی چاہے تو (کون اس کو ہٹا سکتا ہے) اور یہ لوگ خدا کے سوا کسی کو نہ اپنا دوست پائیں گے اور نہ مددگار
En
پوچھیئے! تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی برائی پہنچانا چاہے یا تم پر کوئی فضل کرنا چاہے تو کون ہے جو تمہیں بچا سکے (یا تم سے روک سکے؟)، اپنے لیے بجز اللہ تعالیٰ کے نہ کوئی حمایتی پائیں گے نہ مددگار En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 17) {قُلْ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۱۰۷) اور سورۂ زمر (۳۸) یعنی اپنے خیال میں تم نے عرب کے مشرکین سے بچنے کے لیے فرار اختیار کیا، لیکن اگر اللہ حکم دے اور مسلمان تمھیں اب قتل کر دیں تو تمھیں کون بچائے گا، یا وہ تم پر رحم کا ارادہ کرے تو کون اس کا ہاتھ پکڑ سکتا ہے؟ بہرحال اللہ کی گرفت سے انھیں کوئی حمایتی یا مددگار نہیں بچا سکے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

17-1یعنی تمہیں ہلاک کرنا، بیمار کرنا، یا مال و جائداد میں نقصان پہنچانا یا قحط سالی میں مبتلا کرنا چاہے، تو کون ہے جو تمہیں اس سے بچا سکے؟ یا اپنا فضل و کرم کرنا چاہے تو وہ روک سکے؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ آپ ان سے پوچھئے کہ: اگر اللہ تمہیں تکلیف دینا چاہے تو کون ہے جو اس سے تمہیں بچا سکے؟ یا اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے [22] (تو کون ہے جو اسے روک سکے) اللہ کے مقابلے میں یہ لوگ نہ کوئی اپنا حامی پا سکتے ہیں اور نہ مددگار
[22] یعنی موت و حیات بھی سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دنیا میں عیش و آرام کرنا یا تکلیفیں اٹھانا بھی۔ اگر تمہارے مقدر میں موت آچکی ہے تو جنگ سے فرار کے بعد آہی جائے گی۔ اسی طرح اگر چند دن عیش و آرام تمہاری قسمت میں ہے تو تبھی تمہیں نصیب ہو سکتا ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو ایک مخلص مومن کو بے پناہ جرأت عطا کرتا ہے۔ مگر منافق صرف ظاہری اسباب پر نظر رکھتے اور انھیں پر بھروسا کرتے ہیں۔ انھیں صرف دنیوی مفادات ہی عزیز ہوتے ہیں مگر اس حقیقت سے غافل ہیں انھیں وہی کچھ مل سکتا ہے جو اللہ انھیں دینا چاہتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔