ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 16

قُلۡ لَّنۡ یَّنۡفَعَکُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۱۶﴾
کہہ دے تمھیں بھاگنا ہرگز نفع نہیں دے گا اگر تم مرنے یا قتل ہونے سے بھاگو اور اس وقت تمھیں فائدہ نہیں دیا جائے گا مگر بہت کم۔ En
کہہ دو کہ اگر تم مرنے یا مارے سے بھاگتے ہو تو بھاگنا تم کو فائدہ نہیں دے گا اور اس وقت تم بہت ہی کم فائدہ اٹھاؤ گے
En
کہہ دیجئے کہ گو تم موت سے یا خوف قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہیں کچھ بھی کام نہ آئے گا اور اس وقت تم بہت ہی کم فائده اٹھاؤ گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 16) ➊ { قُلْ لَّنْ يَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ …:} یعنی فرار سے تمھاری عمر کچھ بڑھ نہیں جائے گی، نہ ہی فرار اختیار کرنے سے تم قتل سے یا موت سے بچ جاؤ گے، کیونکہ موت کا وقت تو مقرر ہو چکا ہے۔ پھر مرنا ہی ہے تو کیوں نہ اللہ کی راہ میں لڑ کر عزت کی موت مرو اور شہادت کا رتبہ پاؤ۔
➋ { وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا:} یعنی اگر تم نے فرار اختیار کیا اور تمھاری کچھ عمر باقی ہوئی تب بھی دنیا کی لذتوں سے تم تھوڑا ہی فائدہ اٹھا سکو گے، کیونکہ ایسے بزدلوں کا مقدر دشمن کے غلبہ کی صورت میں ذلت اور غلامی ہوتا ہے اور اگر اس سے بچ بھی گئے تو کتنی دیر زندہ رہ لو گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

16-1یعنی موت سے کوئی صورت مفر نہیں ہے۔ اگر میدان جنگ سے بھاگ کر آ بھی جاؤ گے تو کیا فائدہ؟ کچھ عرصے بعد موت کا پیالہ تو پھر بھی پینا پڑے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

16۔ آپ ان سے کہئے کہ اگر تم موت اور قتل ہونے سے بھاگتے ہو تو تمہارا بھاگنا تمہیں کچھ فائدہ [21] نہ دے گا، اس صورت میں بھی تم تھوڑا (عرصہ) ہی فائدہ اٹھا سکو گے“
[21] عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہت بہتر ہے :۔
موت کے متعلق چند اٹل حقائق ہیں۔ ایک یہ کہ موت اپنے وقت سے پہلے نہیں آتی۔ کیا یہ ضروری ہے کہ جو لوگ جنگ میں شریک ہوں اور نہایت خلوص سے جنگ کریں وہ سب کے سب شہید ہو جاتے ہیں؟ دوسری حقیقت یہ ہے کہ موت آکے رہے گی اس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ اگر تم جنگ سے فرار کی راہ اختیار کرو گے تو زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتا ہے کہ چند سال مزید جی لو گے۔ آخر تمہیں مرنا ہی ہے اور مر کر ہمارے ہی پاس آنا ہے۔ یہ تو بہرحال نا ممکن ہے کہ موت کی گرفت سے بچ سکو۔ مگر ایسی زندگی پر لعنت ہے جو بدنامی اور ذلت سے گزرے۔ کیونکہ عزت کے ساتھ مرنا ذلت کے ساتھ جینے سے بہرحال بہتر ہوتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔