تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَارْجِعُوْا:} منافقین کے ایک گروہ نے مسلمانوں کی ہمتیں پست کرنے کے لیے یہ کہنا شروع کر دیا کہ سلع پہاڑی اور خندق کے درمیان (جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معسکر تھا) اب رہنے کی کوئی صورت نہیں، اس لیے واپس لوٹ جاؤ۔ اس واپس لوٹ جاؤ کا مطلب یہ بھی ہو سکتا تھا کہ مدینہ واپس چلو اور یہ بھی کہ دوبارہ پہلے دین پر واپس ہو جاؤ اور مشرکین کے ساتھ مل جاؤ، تاکہ وہ تمھیں نقصان نہ پہنچائیں۔ یعنی وہ مسلمانوں کو ارتداد کی ترغیب دیتے، مگر ایسے الفاظ میں کہ اگر کوئی بازپرس کرے تو کہیں کہ ہمارا مطلب تو مدینہ واپس چلنا تھا۔
➌ {وَ يَسْتَاْذِنُ فَرِيْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِيَّ:} ان میں سے کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہہ کر اپنے گھروں کو واپسی کی اجازت مانگی کہ ہمارے گھر بالکل غیر محفوظ ہیں اور ڈر ہے کہ کہیں بنو قریظہ حملہ کر کے ہمارے بچوں اور عورتوں کو ہلاک نہ کر دیں، یا چور لوٹ مار نہ کریں۔
➍ { وَ مَا هِيَ بِعَوْرَةٍ:} حالانکہ وہ کسی طرح غیر محفوظ نہیں تھے، کیونکہ مسلمانوں نے تمام عورتوں اور بچوں کو شہر کی مضبوط حویلیوں میں رکھ کر اور ناکے لگا کر محفوظ کر دیا تھا۔
➎ { اِنْ يُّرِيْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا:} یعنی ان کی اجازت مانگنے کی اصل وجہ یہ نہیں ہے، بلکہ وہ کسی طرح میدانِ جنگ سے بھاگنا چاہتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[17] اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ یہ پریشان کن صورت حال دیکھ کر منافقین اپنے ساتھیوں کو یہ دعوت دینے لگے کہ محاذ جنگ چھوڑ کر اپنے گھروں کو واپس لوٹ آؤ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کی دعوت یہ تھی کہ اسلام کو چھوڑ کر پھر سے اپنے پہلے دین کی طرف واپس آجاؤ۔ اسی میں تمہاری عافیت اور خیریت ہے کہ اسلام کو چھوڑ کر اتحادیوں سے مل جاؤ۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإذ قالت طائفةٌ}: من المنافقين بعد ما جزعوا وقلَّ صبرُهم صاروا أيضاً من المخذِّلين؛ فلا صبروا بأنفسهم، ولا تركوا الناس من شرِّهم، فقالت هذه الطائفة: {يا أهلَ يَثْرِبَ}: يريدون: يا أهل المدينة! فنادَوهْم باسم الوطن المنبئ عن التسمية فيه؛ إشارةً إلى أنَّ الدين والأخوة الإيمانيَّة ليس له في قلوبهم قدرٌ؛ وأنَّ الذي حملهم على ذلك مجردُ الخور الطبيعي. {يا أهلَ يثربَ لا مُقام لكم}؛ أي: في موضعكم الذي خرجتُم إليه خارج المدينة، وكانوا عسكروا دون الخندق وخارج المدينة، {فارجِعوا}: إلى المدينةِ. فهذه الطائفةُ تُخَذِّلُ عن الجهاد وتبيِّن أنَّهم لا قوة لهم بقتال عدوِّهم ويأمرونهم بترك القتال؛ فهذه الطائفةُ أشرُّ الطوائف وأضرُّها، وطائفةٌ أخرى دونهم، أصابهم الجبنُ والجزع، وأحبُّوا أن ينخزلوا عن الصفوف، فجعلوا يعتذرون بالأعذار الباطلة، وهم الذين قال الله فيهم: {ويستأذنُ فريقٌ منهم النبيَّ يقولونَ إنَّ بيوتَنا عورةٌ}؛ أي: عليها الخطر ونخافُ عليها أن يَهْجُمَ عليها الأعداءُ ونحن غيبٌ عنها؛ فأذن لنا؛ نرجع إليها فنحرسها، وهم كذبةٌ في ذلك، {وما هي بعورةٍ إن يريدون}؛ أي: ما قصدُهم {إلاَّ فراراً}: ولكن جعلوا هذا الكلام وسيلةً وعذراً لهم؛ فهؤلاء قلَّ إيمانُهم، وليس له ثبوتٌ عند اشتدادِ المحنِ.