ترجمہ و تفسیر — سورۃ السجدة (32) — آیت 8

ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَہٗ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّہِیۡنٍ ۚ﴿۸﴾
پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی کے خلاصے سے بنائی۔ En
پھر اس کی نسل خلاصے سے (یعنی) حقیر پانی سے پیدا کی
En
پھر اس کی نسل ایک بے وقعت پانی کے نچوڑ سے چلائی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 8){ ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِيْنٍ:} اس کے لیے دیکھیے سورۂ مومنون (۱۲ تا۱۴) اور سورۂ حج (۵) یعنی پھر اس کی نسل کو نطفہ اور توالد و تناسل سے آگے چلا دیا، جس سے لاتعداد انسان آگے پیدا ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ نطفہ کو خلاصہ اس لیے فرمایا کہ اطباء کے مطابق یہ غذا کے چوتھے ہضم کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے، جب کہ خون تیسرے ہضم کے بعد پیدا ہوتا ہے اور اعضائے بول سے نکلنے کی وجہ سے اسے { مَهِيْنٍ } قرار دیا۔ پھر منی کے اس قطرے میں لاکھوں جرثومے ہوتے ہیں جو طاقت ور خوردبین کے بغیر نظر نہیں آتے، جن میں سے ہر جرثومہ رحم میں مکمل انسان بننے کی استعداد رکھتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

۔-1یعنی منی کے قطرے سے، مطلب یہ ہے کہ ایک انسانی جوڑا بنانے کے بعد، اس کی نسل کے لئے ہم نے یہ طریقہ مقرر کردیا کہ مرد اور عورت آپس میں نکاح کریں، ان کے جنسی ملاپ سے جو قطرہ آب، عورت کے رحم میں جائے گا، اس سے ہم ایک انسانی پیکر تراش کر باہر بھیجتے رہیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

8۔ پھر اس کی نسل کو حقیر [9] پانی (نطفہ) کے سَت سے چلایا۔
[9] نطفہ کے ہر جرثومہ میں صاحب نطفہ کی شکل اور عادات و خصائل کا عکس:۔
ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دو اہم تخلیقی کارناموں کی طرف توجہ دلائی ہے پہلا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مٹی کو مختلف مراحل سے گزار کر انسان کا پتلا اپنے ہاتھ سے تیار کیا پھر اس میں اپنے ہاں سے روح پھونکی تو ایک محیر العقول اور عظیم الشان چیز وجود میں آگئی۔ جس میں عقل و شعور، قوت ارادہ و اختیار اور قوت تمیز و استنباط سب کچھ موجود تھا اور وہ اس قابل بنا دیا گیا کہ وہ خلافت ارضی کا بار اٹھا سکے۔ اور اللہ کا دوسرا محیر العقول تخلیقی کارنامہ یہ ہے کہ پھر انسان کی نسل کو نطفہ اور توالد و تناسل سے چلا دیا۔ جس سے کروڑوں انسان پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہ نطفہ کیا ہے؟ حکما کہتے ہیں کہ یہ چوتھے ہضم کے نتیجہ میں ظہور میں آتا ہے جبکہ خون تیسرے ہضم کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس نطفہ کے ہر قطرہ میں ہزاروں جرثومے ہوتے ہیں اور ایک ایک جرثومہ میں اصل انسان کی شکل و صورت، اس کی عادات اور اس کے خصائل موجود ہوتے ہیں۔ گویا نطفہ کا ایک ایک جرثومہ اس چیز کا چھوٹے سے چھوٹا اور مکمل ترین عکس ہوتا ہے جو صرف طاقتور خوردبین کے ذریعہ سے ہی نظر آسکتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بہترین خالق بہترین مصور و مدور ٭٭
فرماتا ہے ’ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہرچیز کو قرینے سے بہترین طور سے ترکیب پر خوبصورت بنائی ہے۔ ہرچیز کی پیدائش کتنی عمدہ کیسی مستحکم اور مضبوط ہے۔ آسمان و زمین کی پیدائش کے ساتھ ہی خود انسان کی پیدائش پر غور کرو۔ اس کا شروع دیکھو کہ مٹی سے پیدا ہوا ہے ‘۔
ابوالبشر آدم علیہ السلام مٹی سے پیدائے ہوئے، پر ان کی نسل نطفے سے جاری رکھی جو مرد کی پیٹھ اور عورت کے سینے سے نکلتا ہے۔ پھر اسے یعنی آدم کو مٹی سے پیدا کرنے کے بعد ٹھیک ٹھاک اور درست کیا اور اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی۔ تمہیں کان آنکھ سمجھ عطا فرمائی۔ افسوس کہ پھر بھی تم شکر گزاری میں کثرت نہیں کرتے۔ نیک انجام اور خوش نصیب وہ شخص ہے جو اللہ کی دی ہوئی طاقتوں کو اسی کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ «جَلَّ شَاْنُه وَ عَزَّاسْمُه»