اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ۚ بَلۡ ہُوَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰہُمۡ مِّنۡ نَّذِیۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ لَعَلَّہُمۡ یَہۡتَدُوۡنَ ﴿۳﴾
یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔ بلکہ وہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے ، تاکہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، تاکہ وہ راہ پائیں۔
En
کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو از خود بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تاکہ تم ان لوگوں کو ہدایت کرو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا تاکہ یہ رستے پر چلیں
En
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے۔ (نہیں نہیں) بلکہ یہ تیرے رب تعالیٰ کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ انہیں ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے واﻻ نہیں آیا۔ تاکہ وه راه راست پر آجائیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 3) ➊ { اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ: ” اَمْ “} سے پہلے عموماً ایسا جملہ موجود یا مقدر ہوتا ہے جو ہمزہ استفہام سے شروع ہوتا ہے۔ یہاں مقدر جملہ ظاہر کریں تو عبارت یہ ہو گی: {” أَهُمْ يُؤْمِنُوْنَ بِهِ أَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرَاهُ “} یعنی ”کیا یہ لوگ اللہ کی نازل کردہ کتاب پر ہر قسم کے شک و شبہ سے پاک ہو کر ایمان لاتے ہیں، یا یہ کہہ کر جھٹلا دیتے ہیں کہ اس پیغمبر نے اسے اپنے پاس سے گھڑ لیا ہے؟“ کئی مفسرین نے اس {” اَمْ “} کو منقطعہ قرار دے کر {” بَلْ“} کے معنی میں قرار دیا ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہو گا: ”بلکہ وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے۔“ اس{ ” بَلْ “} سے پہلے بھی ایک عبارت محذوف ہے کہ یہ لوگ اس پر ایمان لانے کے بجائے یہی کہتے ہیں کہ اس نے اسے اپنے پاس سے گھڑ لیا ہے۔ دیکھیے سورۂ فرقان (۴، ۵) اور مدثر (۱۸ تا ۲۵)۔
➋ { بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ:} فرمایا، ان کا یہ کہنا درست نہیں، بلکہ یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے اور یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق و امانت کو پوری طرح جاننے کے باوجود صریح غلط اور لغو بات کہہ رہے ہیں۔
➌ {لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ:} مراد قوم عرب ہے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کے ساتھ سب سے پہلے خطاب فرمایا اور ان کے ذریعے سے تمام دنیا تک یہ پیغام پہنچانے کا اہتمام فرمایا۔ اس سے پہلے اگرچہ عرب میں اسماعیل، ہود، صالح اور شعیب علیھم السلام مبعوث ہو چکے تھے، مگر ان کی بعثت کو مدتیں گزر چکی تھیں۔ ان کے بعد تورات و انجیل نازل ہوئیں، مگر عرب میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا۔ اس لیے اللہ عزوجل نے آخری نبی ان میں مبعوث فرمایا، جیسا کہ ارشاد ہے: «{ وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ (155) اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ (156) اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِيْنَ يَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰيٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يَصْدِفُوْنَ }» [الأنعام: ۱۵۵ تا ۱۵۷] ”اور یہ عظیم کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے، بڑی برکت والی، پس اس کی پیروی کرو اور بچ جاؤ، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ تم کہو کہ کتاب تو صرف ان دو گروہوں پر اتاری گئی جو ہم سے پہلے تھے اور بے شک ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے یقینا بے خبر تھے۔ یا یہ کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم ان سے زیادہ ہدایت والے ہوتے۔ پس بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل اور ہدایت اور رحمت آچکی، پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے کنارا کرے۔ عنقریب ہم ان لوگوں کو جو ہماری آیات سے کنارا کرتے ہیں، برے عذاب کی جزا دیں گے، اس کے بدلے جو وہ کنارا کرتے تھے۔“ مزید تفصیل مذکورہ بالا آیات کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
➍ اس مقام پر کئی مفسرین نے اسماعیل علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان دو ہزار یا اڑھائی ہزار سال کا عرصہ بیان کیا ہے، مگر اس کا کوئی قابل اعتماد حوالہ نہیں دیا، اس لیے ہمارے پاس اس لمبی مدت کی تعیین کا کوئی ذریعہ نہیں۔
➎ { لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ:} یہاں {”لَعَلَّ“ ”كَيْ“} کے معنی میں ہے ”تاکہ وہ ہدایت پائیں“ اور اگر ”ترجی“ کے معنی میں ہو، یعنی ”امید ہے، یا شاید“ تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتبار سے ہے کہ تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں، اس امید پر کہ وہ ہدایت پا جائیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو ہر بات کا علم ہے کہ وہ ہدایت پائیں گے یا نہیں، تو اسے ”شاید“ یا ”امید ہے“ کہنے کی کیا ضرورت ہے۔
➋ { بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ:} فرمایا، ان کا یہ کہنا درست نہیں، بلکہ یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے اور یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق و امانت کو پوری طرح جاننے کے باوجود صریح غلط اور لغو بات کہہ رہے ہیں۔
➌ {لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ:} مراد قوم عرب ہے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کے ساتھ سب سے پہلے خطاب فرمایا اور ان کے ذریعے سے تمام دنیا تک یہ پیغام پہنچانے کا اہتمام فرمایا۔ اس سے پہلے اگرچہ عرب میں اسماعیل، ہود، صالح اور شعیب علیھم السلام مبعوث ہو چکے تھے، مگر ان کی بعثت کو مدتیں گزر چکی تھیں۔ ان کے بعد تورات و انجیل نازل ہوئیں، مگر عرب میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا۔ اس لیے اللہ عزوجل نے آخری نبی ان میں مبعوث فرمایا، جیسا کہ ارشاد ہے: «{ وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ (155) اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ (156) اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِيْنَ يَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰيٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يَصْدِفُوْنَ }» [الأنعام: ۱۵۵ تا ۱۵۷] ”اور یہ عظیم کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے، بڑی برکت والی، پس اس کی پیروی کرو اور بچ جاؤ، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ تم کہو کہ کتاب تو صرف ان دو گروہوں پر اتاری گئی جو ہم سے پہلے تھے اور بے شک ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے یقینا بے خبر تھے۔ یا یہ کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم ان سے زیادہ ہدایت والے ہوتے۔ پس بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل اور ہدایت اور رحمت آچکی، پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے کنارا کرے۔ عنقریب ہم ان لوگوں کو جو ہماری آیات سے کنارا کرتے ہیں، برے عذاب کی جزا دیں گے، اس کے بدلے جو وہ کنارا کرتے تھے۔“ مزید تفصیل مذکورہ بالا آیات کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
➍ اس مقام پر کئی مفسرین نے اسماعیل علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان دو ہزار یا اڑھائی ہزار سال کا عرصہ بیان کیا ہے، مگر اس کا کوئی قابل اعتماد حوالہ نہیں دیا، اس لیے ہمارے پاس اس لمبی مدت کی تعیین کا کوئی ذریعہ نہیں۔
➎ { لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ:} یہاں {”لَعَلَّ“ ”كَيْ“} کے معنی میں ہے ”تاکہ وہ ہدایت پائیں“ اور اگر ”ترجی“ کے معنی میں ہو، یعنی ”امید ہے، یا شاید“ تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتبار سے ہے کہ تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں، اس امید پر کہ وہ ہدایت پا جائیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو ہر بات کا علم ہے کہ وہ ہدایت پائیں گے یا نہیں، تو اسے ”شاید“ یا ”امید ہے“ کہنے کی کیا ضرورت ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3-1یہ بطور توبیخ کے ہے کہ کیا رب العالمین کے نازل کردہ اس کلام بلاغت نظام کی بابت یہ کہتے ہیں کہ اسے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ لیا ہے؟ 3-2یہ نزول قرآن کی علت ہے۔ اس سے معلوم ہوا (جیسا کہ پہلے بھی وضاحت گزر چکی ہے) کہ عربوں میں نبی پہلے نبی تھے۔ بعض لوگوں نے حضرت شعیب ؑ کو بھی عربوں میں مبعوث نبی قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم۔ اس اعتبار سے قوم سے مراد پھر خاص قریش ہوں گے جن کی طرف کوئی نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نہیں آیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس (نبی) نے اس (قرآن) کو خود ہی گھڑ لیا ہے (بات یوں نہیں) بلکہ یہ آپ کے پروردگار [1۔1] کی طرف سے حق ہے۔ تاکہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا [2]۔ شاید وہ ہدایت [3] پا جائیں
[1۔1]تصنیف کے لیے مہارت لازمی ہے :۔
سوچنے کی بات ہے کہ کوئی انسان صرف اسی موضوع پر کتاب لکھ سکتا ہے جس میں اسے مہارت حاصل ہو اور لوگوں میں وہ اس فن کے عالم کی حیثیت سے کسی حد تک معروف ہو۔ اور تصنیف اس لئے کرتا ہے کہ وہ لوگوں پر اپنی علمیت اور مہارت کا سکہ بٹھائے اور لوگوں میں اور اس کی کتاب کو عام مقبولیت حاصل ہو۔ لیکن یہاں معاملہ سارے کا سارا اس سے بالکل برعکس تھا۔ نبوت کے بعد آپ نے جو کلام پیش کیا۔ نبوت سے پیشتر آپ نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہی تھی جس سے نبوت کے بعد والے کلام کے لئے کوئی اشارہ تک بھی پایا جاتا ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کلام پیش کیا وہ ان لوگوں کی عادات، رسوم، مزاج اور طبائع کے یکسر مخالف تھا اس سے آپ کا لوگوں میں مقبول ہونا تو دور کی بات ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گویا یہ کلام پیش کر کے کسی بھڑوں کے چھتے کو چھیڑ دیا۔ جس سے پوری قوم آپ کی دشمن بن گئی۔ اب کفار سے سوال یہ ہے کہ کیا کوئی شخص ایسا کام اپنی مرضی سے کر سکتا ہے جس سے سب لوگ اس کے دشمن بن جائیں؟ اور اگر یہ بات عقلاً محال ہے تو پھر یہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کام پر مامور کیا ہے کہ وہ اللہ کا کلام لوگوں کے سامنے پیش کر دے۔ اس سے لوگ اس کے مخالف ہوتے ہیں۔ تو ہو جائیں، اسے دکھ پہنچاتے ہیں تو پہنچا لیں اور اس کے دشمن بنتے ہیں تو بن جائیں مگر وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ کے سامنے اس بات کا پابند ہے کہ حالات خواہ کتنے ہی ناخوشگوار پیش آئیں وہ اللہ کا کلام لوگوں تک پہنچا دے۔
[2] عرب میں کون کون سے انبیاء مبعوث ہوئے؟
عرب میں حضرت ابراہیمؑ سے مدتوں پہلے حضرت ہودؑ، قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور صالحؑ قوم ثمود کی طرف ان کے بعد حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ مبعوث ہوئے۔ پھر ان کے بعد حضرت شعیبؑ پیدا ہوئے۔ باقی زیادہ تر انبیاء شام اور فلسطین کے علاقہ میں بھی مبعوث ہوتے رہے۔ حضرت شعیبؑ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا درمیانی وقفہ دو ہزار سال کے لگ بھگ ہے۔ اور چونکہ یہ دو ہزار سال کی مدت بھی ایک طویل مدت ہے جس میں بہت سے انبیاء عرب کی حدود سے باہر مبعوث ہوتے رہے۔ اسی لئے فرمایا کہ اہل عرب کے پاس پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔
[3] آپ کی نبوت سے پہلے اس کے اسلام پسند حضرات:۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب دو ہزار سال تک اہل عرب کے ہاں کوئی رسول ہی نہ آیا ہو نہ ہی اللہ کی طرف سے حجت پوری ہوئی ہو تو پھر ان لوگوں کو ان کے کفر و شرک کی بنا پر عذاب کیوں کر ہو گا جبکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ عذاب سے پہلے لوگوں پر حجت پوری کر لیتا ہے اور کسی پر ذرہ بھی ظلم و زیادتی نہیں کرتا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ انبیاء کی تعلیم ان لوگوں تک بھی برابر پہنچتی رہی تھی۔ کیونکہ ان لوگوں کا شام و فلسطین کے لوگوں سے گہرا میل جول بھی تھا اور تجارتی قافلے بھی آتے جاتے رہتے تھے لہٰذا ان مشرکین مکہ میں بھی ایسے لوگ ہر دور میں موجود رہے جو شرک سے بیزار اور توحید کے قائل تھے بعثت نبوی کے وقت بھی ایسے لوگ موجود تھے جو شرک سے بیزاری کے علاوہ شراب نوشی، جاہلی حمیت اور جدال و قتال سے بھی متنفر تھے۔ لیکن انھیں کوئی واضح راہ نہیں مل رہی تھی۔ نہ ہی ایسے لوگوں کے باہمی اتحاد کی کوئی صورت ممکن تھی۔ ایسے لوگوں کو جب ایک پیغمبر کے مبعوث ہونے کی خبر ملی تو گویا ان لوگوں کے دل کی مراد بر آئی اور وہ فوراً اسلام لے آئے۔ ان میں سر فہرست تو ورقہ بن نوفل ہیں جو بعثت کے وقت صاحب فراش تھے۔ جلد ہی فوت ہو گئے اور انھیں باقاعدہ اسلام لانے کا اعزاز حاصل نہ ہو سکا۔ باقی حضرت ابو بکر صدیقؓ، حضرت عثمان بن مظعونؓ، حضرت صہیب رومیؓ، حضرت ابوذرؓ غفاری، حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل وغیرہ سب کے سب شرک سے بیزار اور موحد تھے۔ جو فوراً اسلام لے آئے تھے۔ پھر بے شمار ایسے موحد بھی ہمیں تاریخ میں ملتے ہیں جو آپ کی بعثت سے پیشتر فوت ہو چکے تھے اور یہ سب انبیائے بنی اسرائیل کی تعلیمات کا اثر تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔