(آیت 25) ➊ { اِنَّرَبَّكَهُوَيَفْصِلُبَيْنَهُمْ …:} پچھلی آیت میں اس وقت کا ذکر ہے جب بنی اسرائیل نے کتاب اللہ پر عمل کیا، ان کے علماء اور ائمہ خود دین پر قائم رہے، دوسروں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا فریضہ سرانجام دیتے رہے اور اس راستے میں اپنوں اور بیگانوں کی ایذا رسانی پر صبر کرتے رہے۔ بعد میں جب وہ دنیا پرستی اور طمع میں مبتلا ہو گئے، جانتے بوجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی کتاب پر عمل کے بجائے اس کی من مانی تاویل بلکہ اس میں تحریف کرنے لگے، ہر ایک نے اپنی مرضی کے مسائل ایجاد کر لیے تو وہ مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔ ہر فرقہ اپنے آپ ہی کو سچا قرار دیتا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان کے ان اختلافات کے بارے میں تیرا رب ہی قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا۔ ➋ بنی اسرائیل کے ان حالات و واقعات میں امت مسلمہ کے لیے سبق ہے کہ امامت کا مقام کن لوگوں کو حاصل ہوتا ہے اور کسی قوم کے عروج و زوال کا باعث کیا چیز ہوتی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
25-1اس سے وہ اختلاف مراد ہے جو اہل کتاب میں باہم برپا تھا، ضمناً وہ اختلاف بھی آجاتے ہیں۔ جو اہل ایمان کفر، اہل حق اور اہل باطل کے درمیان دنیا میں رہے اور ہیں دنیا میں تو ہر گروہ اپنے دلائل پر مطمئن اور اپنی ڈگر پر قائم رہے۔ اس لئے ان اختلافات کا فیصلہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل حق کو جنت میں اور اہل کفر و باطل کو جہنم میں داخل فرمائے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
25۔ آپ کا پروردگار قیامت کے دن یقیناً ان لوگوں میں ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف [27] کرتے تھے۔
[27] تفرقہ بازی کا انجام :تعصب اور ذلت:۔
اصول دین سے اختلاف کرنے کا وجود دنیوی مفادات اور قائد بن کر اپنا جھنڈا الگ بلند کرنے کی خواہش ہوتی ہے اور اس روش کا لازمی نتیجہ امت میں انتشار اور دنیا میں ذلت و خواری ہوتی ہے۔ یہی کچھ یہود کو اختلافات کے نتیجہ میں حاصل ہوا۔ اور یہی کچھ آج کل مسلمانوں کو حاصل ہو رہا ہے۔ پھر جو فرقہ بن جاتا ہے اس میں کچھ ایسا فرقہ وارانہ تعصب پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی روش بدلنا قطعاً گوارا نہیں کرتا۔ وہ دوسرے سب فرقوں کو گمراہ سمجھتا ہے لیکن اپنے متعلق اسے خیال تک نہیں آتا کہ وہ بھی گمراہ ہو سکتا ہے۔ گویا دنیا میں تو کوئی فرقہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کو آمادہ نہیں ہوتا۔ ہاں اللہ تعالیٰ ہی ان کے درمیان یہ فیصلہ کرے گا کہ کس فرقہ کے پاس کس قدر حق کا حصہ تھا اور کس قدر باطل کا۔ ان سب میں سے فلاں فرقہ حق پر تھا اور باقی سب گمراہ تھے۔ لوگوں کے تعصب کی وجہ سے دنیا میں یہ مسئلہ لاینحل ہی رہتا ہے خواہ امت کتنی ہی ذلت اور خواری سے دو چار رہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔