تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {لَمَّا صَبَرُوْا وَ كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يُوْقِنُوْنَ:} یعنی ان ائمہ کو پیشوائی کا یہ مقام دو وجہ سے حاصل ہوا، ایک صبر کی وجہ سے کہ انھوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری پر باندھ کر اور اس کی منع کردہ چیزوں سے روک کر رکھا۔ وہ اللہ کے دین کی دعوت دیتے رہے اور اس کے لیے جہاد کرتے رہے اور انھوں نے اس راستے میں پیش آنے والی ہر مصیبت پر صبر کیا۔ دوسرے اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین کی وجہ سے کہ وہ دنیاوی فائدوں اور لذتوں میں پھسل جانے والے نہیں تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے وعدوں پر یقین رکھنے والے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ امامت کا مقام وہی لوگ حاصل کر سکتے ہیں جو صبر اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین کے وصف سے آراستہ ہوں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
حدیث میں ہے { میں نے معراج والی رات سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ گندم گوں رنگ کے لانبے قد کے گھونگھریالے بالوں والے تھے ایسے جیسے قبیلہ شنواہ کے آدمی ہوتے ہیں۔ اسی رات میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا وہ درمیانہ قد کے سرخ و سفید تھے سیدھے بال تھے۔ میں نے اسی رات مالک کو دیکھا جو جہنم کے داروغہ ہیں اور دجال کو دیکھا یہ سب ان نشانیوں میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائیں } پس ’ اس کی ملاقات میں شک و شبہ نہ کر ‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یقیناً موسیٰ کو دیکھا اور ان سے ملے جس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28299:]
’ موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے بنی اسرائیل کا ہادی بنا دیا ‘۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ’ اس کتاب کے ذریعہ ہم نے اسرائیلیوں کو ہدایت دی ‘۔
جیسے سورۃ بنی اسرائیل میں ہے آیت «وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاءِيْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ وَكِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:2]، یعنی ’ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی اور بنی اسرائیل کے لیے ہادی بنا دیا کہ تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ سمجھو ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ چونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری اس کی نافرمانیوں کے ترک اس کی باتوں کی تصدیق اور اس کے رسولوں کی اتباع وصبر میں جمے رہے ہم نے ان میں سے بعض کو ہدایت کے پیشوا بنا دیا جو اللہ کے احکام لوگوں کو پہنچاتے ہیں بھلائی کی طرف بلاتے ہیں برائیوں سے روکتے ہیں ‘۔
لیکن جب ان کی حالت بدل گئی انہوں نے کلام اللہ میں تبدیلی تحریف تاویل شروع کر دی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے یہ منصب چھین لیا ان کے دل سخت کر دئیے عمل صالح اور اعتقاد صحیح ان سے دور ہوگیا۔ پہلے تو یہ دنیا سے بچے ہوئے تھے۔ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ لوگ پہلے ایسے ہی تھے لہٰذا انسان کے لیے ضروری ہے کہ اس کا کوئی پیشوا ہو جس کی یہ اقتداء کرکے دنیا سے بچا ہوا رہے۔“ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دین کے لیے علم ضروری ہے جیسے جسم کے لیے غذا ضروری ہے۔“
سفیان رحمہ اللہ سے علی رضی اللہ عنہ کے اس قول کے بارے میں سوال ہوا کہ ”صبر کی وجہ سے ان کو ایسا پیشوا بنا دیا کہ وہ ہمارے حکم کی ہدایت کرتے تھے۔“ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا مطلب یہ ہے کہ ”چونکہ انہوں نے تمام کاموں کو اپنے ذمہ لے لیا اللہ نے بھی انہیں پیشوا بنا دیا۔“
چنانچہ فرمان ہے «وَلَقَدْ آتَيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ (وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ وَآتَيْنَاهُمْ بَيِّنَاتٍ مِنَ الْأَمْرِ) فَمَا اخْتَلَفُوا إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ» ۱؎ [45-الجاثية:17-16] ’ ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب حکمت اور نبوت دی اور پاکیزہ روزیاں عنایت فرمائیں اور جہاں والوں پر فضیلت دی ‘۔ یہاں بھی آیت کے آخر میں فرمایا کہ ’ جن عقائد واعمال میں ان کا اختلاف ہے ان کا فیصلہ قیامت کے دن خود اللہ کرے گا ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وجَعَلْنا منهم}؛ أي: من بني إسرائيل، {أئمة يهدونَ بأمرِنا}؛ أي: علماء بالشرع وطرق الهداية مهتدين في أنفسهم يهدون غيرهم بذلك الهدى؛ فالكتاب الذي أُنْزِل إليهم هدى، والمؤمنون به منهم على قسمين: أئمَّة يهدون بأمرِ الله، وأتباعٌ مهتدون بهم، والقسمُ الأول أرفع الدرجات بعد درجة النبوَّة والرسالة، وهي درجة الصديقين، وإنما نالوا هذه الدرجة العالية، {لما صبروا}: على التعلُّم والتعليم والدَّعوة إلى الله والأذى في سبيله، وكفُّوا نفوسَهم عن جِماحها في المعاصي واسترسالِها في الشهوات. {وكانوا بآياتِنا يوقِنونَ}؛ أي: وصلوا في الإيمان بآيات الله إلى درجة اليقين، وهو العلم التامُّ الموجب للعمل، وإنَّما وصلوا إلى درجة اليقين؛ لأنَّهم تعلَّموا تعلُّما صحيحاً، وأخذوا المسائل عن أدلتها المفيدة لليقين، فما زالوا يتعلَّمون المسائل، ويستدلُّون عليها بكثرة الدَّلائل، حتى وصلوا لذاك؛ فبالصبر واليقين تُنال الإمامة في الدين.