(آیت 21) {وَلَنُذِيْقَنَّهُمْمِّنَالْعَذَابِالْاَدْنٰى …:} یعنی ہم اس بڑے عذاب سے پہلے، جس کا ابھی ذکر ہوا انھیں ایک ادنیٰ عذاب ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ باز آجائیں۔ مراد آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا کا عذاب ہے، جیسا کہ طبری نے معتبر سند کے ساتھ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل کیا ہے: ”اس سے مراد دنیا کی مصیبتیں، بیماریاں اور آزمائشیں ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ بندوں کو مبتلا کرتا ہے، تاکہ وہ توبہ کر لیں۔“ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اَوَلَايَرَوْنَاَنَّهُمْيُفْتَنُوْنَفِيْكُلِّعَامٍمَّرَّةًاَوْمَرَّتَيْنِثُمَّلَايَتُوْبُوْنَوَلَاهُمْيَذَّكَّرُوْنَ }»[التوبۃ: ۱۲۶]”اور کیا وہ نہیں دیکھتے کہ بے شک وہ ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں، پھر بھی وہ نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی وہ نصیحت پکڑتے ہیں۔“ اور فرمایا: «{ ظَهَرَالْفَسَادُفِيالْبَرِّوَالْبَحْرِبِمَاكَسَبَتْاَيْدِيالنَّاسِلِيُذِيْقَهُمْبَعْضَالَّذِيْعَمِلُوْالَعَلَّهُمْيَرْجِعُوْنَ }»[الروم: ۴۱]”خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا، اس کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا، تاکہ وہ انھیں اس کا کچھ مزہ چکھائے جو انھوں نے کیا ہے، تاکہ وہ باز آ جائیں۔“ کفار مکہ کے لیے اس سے مراد وہ قتل بھی ہے جس سے وہ جنگ بدر میں دو چار ہوئے اور وہ قحط سالی بھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا سے ان پر مسلط ہوئی۔بعض مفسرین نے {”الْعَذَابِالْاَدْنٰى“} سے مراد عذابِ قبر لیا ہے، مگر آیت کے آخری الفاظ {”لَعَلَّهُمْيَرْجِعُوْنَ“} (تاکہ وہ پلٹ آئیں) سے ظاہرہے کہ یہ تفسیر درست نہیں، کیونکہ عذابِ قبر کے بعد توبہ اور واپس پلٹنے کا کوئی موقع نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
21ا۔-1عذاب ادنی (چھوٹے سے یا قریب کے بعض عذاب) سے دنیا کا عذاب یا دنیا کی مصیبتیں اور بیماریاں وغیرہ مراد ہیں۔ بعض کے نزدیک وہ قتل اس سے مراد ہے، جس سے جنگ بدر میں کافر دوچار ہوئے یا وہ قحط سالی ہے جو اہل مکہ پر مسلط کی گئی تھی۔ امام شوکانی فرماتے ہیں۔ تمام صورتیں ہی اس میں شامل ہوسکتی ہیں۔ 21ا۔-2یہ آخرت کے بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب بھیجنے کی علت ہے کہ شاید وہ کفر و شرک اور معصیت سے باز آجائیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
21۔ ہم انھیں (قیامت کے) بڑے عذاب سے پہلے ہلکے عذاب کا مزا بھی ضرور چکھائیں گے شاید وہ (اپنی روش سے) باز آجائیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ہم رسول کی تکذیب کرنے والے فاسقوں کو نمونے کے طور پر کم تر عذاب کا مزا چکھائیں گے اور وہ برزخ کا عذاب ہے۔ پس ہم برزخ کے عذاب کا کچھ مزا ان کے مرنے سے پہلے انھیں چکھائیں گے اس سے مراد قتل وغیرہ کا عذاب ہے، جیسے غزوہ بدر میں مشرکین کو قتل کیا گیا… یا اس سے مراد موت کے وقت کا عذاب ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں اس کا ذکر آتا ہے: ﴿وَلَوْتَرٰۤىاِذِالظّٰلِمُوْنَفِیْغَ٘مَرٰتِالْمَوْتِوَالْمَلٰٓىِٕكَةُبَ٘اسِطُوْۤااَیْدِیْهِمْ١ۚاَخْرِجُوْۤااَنْفُسَكُمْ١ؕاَلْیَوْمَتُجْزَوْنَعَذَابَالْهُوْنِ ﴾ (الانعام:6؍93) ”اور کاش آپ دیکھتے، جب یہ ظالم موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے عذاب کے لیے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے، (اور کہہ رہے ہوں گے) نکالو اپنی جانیں، آج تمھیں رسوا کن عذاب کی سزا دی جائے گی۔“
پھر برزخ میں ان کا یہ کم تر عذاب مکمل ہو جائے گا۔ یہ آیت کریمہ عذاب قبر کے واضح دلائل میں شمار ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلَنُذِیْقَنَّهُمْمِّنَالْعَذَابِالْاَدْنٰى ﴾ اور ہم انھیں قریب کے کم تر عذاب میں سے چکھائیں گے یعنی اس عذاب کا کچھ حصہ، پس یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ”عذاب اکبر“ یعنی جہنم کے عذاب سے پہلے بھی ان کو عذاب ادنیٰ میں مبتلا کیا جائے گا۔
چونکہ عذاب ادنیٰ کا مزا جو انھیں دنیا میں چکھایا جائے گا، بسا اوقات اس سے موت واقع نہیں ہوتی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ انھیں عذاب ادنیٰ کا مزا اس لیے چکھاتا ہے تاکہ یہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں اور اپنے گناہوں سے توبہ کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ظَهَرَالْفَسَادُفِیالْـبَرِّوَالْبَحْرِبِمَاكَسَبَتْاَیْدِیالنَّاسِلِیُذِیْقَهُمْبَعْضَالَّذِیْعَمِلُوْالَعَلَّهُمْیَرْجِعُوْنَ ﴾ (الروم:30؍41) ”بحروبر میں فساد برپا ہو گیا لوگوں کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے، تاکہ وہ ان کو مزا چکھائے ان کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ لوٹ آئیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ولنذيقنَّ الفاسقين المكذِّبين نموذجاً من العذاب الأدنى، وهو عذاب البرزخ، فنذيقهم طرفاً منه قبل أن يموتوا: إما بعذابٍ بالقتل ونحوه كما جرى لأهل بدر من المشركين، وإمَّا عند الموت؛ كما في قوله تعالى: {ولو ترى إذِ الظالمونَ في غَمَراتِ الموتِ والملائكةُ باسطوا أيديهم أخرِجوا أنفُسَكُم اليومَ تُجْزَوْنَ عذابَ الهُونِ}، ثم يكمل لهم العذابُ الأدنى في برزَخِهم.
وهذه الآيةُ من الأدلة على إثبات عذاب القبر، ودلالتُها ظاهرةٌ؛ فإنَّه قال: {وَلَنُذيقَنَّهم من العذاب الأدنى}؛ أي: بعض وجزء منه، فدلَّ على أن ثَمَّ عذاباً أدنى قبل العذاب الأكبر، وهو عذاب النار، ولما كانت الإذاقة من العذابِ الأدنى في الدنيا قد لا يَتَّصلُ بها الموت، فأخبر تعالى أنَّه يذيقُهم ذلك؛ لعلَّهم يرجِعون إليه، ويتوبون من ذنوبهم؛ كما قال تعالى: {ظَهَرَ الفسادُ في البرِّ والبحرِ بما كَسَبَتْ أيدي الناس لِيُذيقَهم بعضَ الذي عَمِلوا لعلَّهم يرجِعونَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔