ترجمہ و تفسیر — سورۃ السجدة (32) — آیت 20

وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ فَسَقُوۡا فَمَاۡوٰىہُمُ النَّارُ ؕ کُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنۡہَاۤ اُعِیۡدُوۡا فِیۡہَا وَ قِیۡلَ لَہُمۡ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۲۰﴾
اور رہے وہ لوگ جنھوں نے نافرمانی کی تو ان کا ٹھکانا آگ ہی ہے، جب کبھی چاہیں گے کہ اس سے نکلیں اس میں لوٹا دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا آگ کا وہ عذاب چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ En
اور جنہوں نے نافرمانی کی اُن کے رہنے کے لئے دوزخ ہے جب چاہیں گے کہ اس میں سے نکل جائیں تو اس میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ اور اُن سے کہا جائے گا کہ جس دوزخ کے عذاب کو تم جھوٹ سمجھتے تھے اس کے مزے چکھو
En
لیکن جن لوگوں نے حکم عدولی کی ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جب کبھی اس سے باہر نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ اور کہہ دیا جائے گا کہ اپنے جھٹلانے کے بدلے آگ کا عذاب چکھو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 20) ➊ {وَ اَمَّا الَّذِيْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ: الَّذِيْنَ فَسَقُوْا } سے مراد کفار ہیں، جیسا کہ پیچھے گزرا۔ {مَاْوَاهُمْ } کی خبر{ النَّارُ } معرف باللّام آنے کی وجہ سے کلام میں حصر پید اہو گیا کہ ان کا ٹھکانا آگ ہی ہے۔ یعنی کفار کی جہنم سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں۔
➋ { كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِيْدُوْا فِيْهَا …:} ظاہر ہے جہنم سے کفار کے نکلنے کی تو کوئی صورت ہی نہیں، تو وہ آگ سے نکلنے کا ارادہ کیسے کریں گے۔ اس کا اندازہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ایک لمبی حدیث سے ہوتا ہے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی چیزوں کا ذکر فرمایا، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو خواب میں دکھائیں۔ ان میں سے ایک چیز یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَانْطَلَقْنَا إِلٰی ثَقْبٍ مِثْلِ التَّنُّوْرِ أَعْلَاهُ ضَيِّقٌ وَ أَسْفَلُهُ وَاسِعٌ يَتَوَقَّدُ تَحْتَهُ نَارًا فَإِذَا اقْتَرَبَ ارْتَفَعُوْا حَتّٰی كَادَ أَنْ يَخْرُجُوْا، فَإِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوْا فِيْهَا، وَ فِيْهَا رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ، فَقُلْتُ مَنْ هٰذَا؟ قَالَا انْطَلِقْوَالَّذِيْ رَأَيْتَهُ فِي الثَّقْبِ فَهُمُ الزُّنَاةُ] [بخاري، الجنائز، باب: ۱۳۸۶] پھر ہم ایک سوراخ کی طرف چلے جو تنور کی طرح تھا، اس کا اوپر کا حصہ تنگ اور نیچے کا کھلا تھا۔ اس کے نیچے سے آگ بھڑک رہی تھی، جب وہ اوپر قریب آتی تو وہ اوپر اٹھ آتے، یہاں تک کہ نکلنے کے قریب ہو جاتے، جب وہ ماند پڑتی تو واپس اسی میں لوٹ جاتے۔ میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ تو دونوں فرشتوں نے کہا: آگے چلو۔… (تمام مشاہدات کے بعد ان فرشتوں نے بتایا) تم نے اس سوراخ میں جو کچھ دیکھا وہ زانی لوگ تھے۔ واضح رہے کہ ایک ہی حال میں رہنے میں تکلیف کی وہ شدت نہیں ہوتی جو بار بار اس کے دہرانے سے ہوتی ہے۔ جہنمیوں کے لیے آگ کے ماند ہونے پر ہر مرتبہ اس کی تیزی اور بڑھا دی جائے گی، جیسا کہ فرمایا: «{ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا [بني إسرائیل: ۹۷] ان کا ٹھکانا جہنم ہے، جب کبھی بجھنے لگے گی ہم ان پر بھڑکانا زیادہ کر دیں گے۔ اور فرمایا: «{ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِيْدُوْا فِيْهَا [الحج: ۲۲] جب کبھی ارادہ کریں گے کہ سخت گھٹن کی وجہ سے اس سے نکلیں، اس میں لوٹا دیے جائیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

۔-1یعنی جہنم کے عذاب کی شدت اور ہولناکی سے گھبرا کر باہر نکلنا چاہیں گے تو فرشتے پھر جہنم کی گہرائیں میں دھکیل دیں گے۔ 20-2یہ فرشتے کہیں گے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آئے گی، بہرحال اس میں مکذبین کی ذلت و رسوائی کا جو سامان ہے وہ چھپا ہوا نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ اور جو نافرمان ہیں ان کا ٹھکانا دوزخ ہو گا جب بھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور انھیں کہا جائے گا کہ اب اس آگ کے عذاب [22] کا مزہ چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔
[22] برے عذاب سے مراد قیامت کے دن جہنم کا عذاب ہے اور عذاب الادنیٰ سے مراد دنیا میں پہنچنے والے مصائب ہیں۔ جو انفرادی طور پر بھی ہر انسان کو دیکھنا پڑتے ہیں۔ مثلاً بیماریاں، مالی نقصان، عزیز و اقرباء کی موت یا کئی دوسرے حادثے اور اجتماعی زندگی کے مصائب الگ نوعیت کے ہوتے ہیں۔ مثلاً قحط، زلزلے، وبا، فسادات اور لڑائیاں جن سے بیک وقت ہزاروں انسان لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ اللہ کی طرف سے ہلکے ہلکے عذاب ہی نہیں بلکہ تنبیہات بھی ہیں کہ وہ بروقت سنبھل جائیں اور انھیں معلوم ہو جائے کہ ان سے بالاتر کوئی ہستی موجود ہے جو ان کی بداعمالیوں پر ان کی گرفت کر سکتی ہے۔ اور اس سے انھیں اپنا عقیدہ اور عمل درست کرنے میں مدد ملے۔ اس طرح شاید وہ بداعمالیوں سے اور آخرت میں ان کے برے انجام سے بچ جائیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔