ترجمہ و تفسیر — سورۃ السجدة (32) — آیت 2

تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ؕ﴿۲﴾
اس کتاب کا نازل کرنا جس میں کوئی شک نہیں، جہانوں کے رب کی طرف سے ہے۔ En
اس میں کچھ شک نہیں کہ اس کتاب کا نازل کیا جانا تمام جہان کے پروردگار کی طرف سے ہے
En
بلاشبہ اس کتاب کا اتارنا تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 1 میں تا آیت 3 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

حدیث میں آتا ہے کہ نبی جمعہ کے دن فجر نماز میں الَمَّ السَّجْدَہ (اور دوسری رکعت میں) (ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ) (سُوْرَۃ دہر) پڑھا کرتے تھے (صحیح بخاری) اسی طرح یہ بھی سند سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سونے سے قبل سورة الم السجدہ اور سورة ملک پڑھا کرتے تھے (ترمذی892 مسند احمد أ34 2-1مطلب یہ ہے کہ جھوٹ، جادو، کہانت اور من گھڑت قصے کہانیوں کی کتاب نہیں ہے بلکہ رب العالمین کی طرف سے آسمانی کتاب ہدایت ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

2۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ کتاب (قرآن) پروردگار عالم کی طرف سے [1] نازل شدہ ہے۔
[1] اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے ہی واضح ہے یعنی اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ کتاب فرمانروائے کائنات کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب جو فرمانروائے کائنات کی طرف سے نازل شدہ ہے اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس آیت میں دراصل مشرکین مکہ کے کئی اعتراضات کا جواب آگیا ہے۔ کبھی وہ کہتے تھے کہ اسے کوئی عجمی سکھلا جاتا ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی تصنیف کر ڈالی ہے۔ اس اعتراض کے پہلو بے شمار تھے مگر سب کا ماحصل یہی تھا کہ یہ کتاب نہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے، نہ ہی یہ اللہ کا رسول ہے۔ بلکہ اس نے خود بعض دوسرے لوگوں کی مدد سے اسے گھڑ کر یہ بات اللہ کے ذمہ لگا دی ہے جیسا کہ اگلی آیت سے ظاہر ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ٭٭
سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات ہیں ان کی پوری بحث ہم سورۃ البقرہ کے شروع میں کر چکے ہیں، یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ کتاب قرآن حکیم بیشک وشبہ اللہ رب العلمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ مشرکین کا یہ قول غلط ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے گھڑلیا ہے۔
نہیں یہ تو یقیناً اللہ کی طرف سے ہے اس لیے اترا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قوم کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کردیں جن کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی اور پیغمبر نہیں آیا، تاکہ وہ حق کی اتباع کر کے نجات حاصل کرلیں۔