وَ اِذَا غَشِیَہُمۡ مَّوۡجٌ کَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۚ فَلَمَّا نَجّٰہُمۡ اِلَی الۡبَرِّ فَمِنۡہُمۡ مُّقۡتَصِدٌ ؕ وَ مَا یَجۡحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا کُلُّ خَتَّارٍ کَفُوۡرٍ ﴿۳۲﴾
اور جب انھیں سائبانوں جیسی کوئی موج ڈھانپ لیتی ہے تو اللہ کو پکارتے ہیں، اس حال میں کہ دین کو اس کے لیے خالص کرنے والے ہوتے ہیں، پھر جب وہ انھیں بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو ان میں سے کچھ ہی سیدھی راہ پر قائم رہنے والے ہیں، اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتا مگر ہر وہ شخص جو نہایت عہد توڑنے والا، بے حد ناشکرا ہو۔
En
اور جب اُن پر (دریا کی) لہریں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو خدا کو پکارنے (اور) خالص اس کی عبادت کرنے لگتے ہیں پھر جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو بعض ہی انصاف پر قائم رہتے ہیں۔ اور ہماری نشانیوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن اور ناشکرے ہیں
En
اور جب ان پر موجیں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو وه (نہایت) خلوص کے ساتھ اعتقاد کر کے اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں۔ پھر جب وه (باری تعالیٰ) انہیں نجات دے کر خشکی کی طرف پہنچاتا ہے تو کچھ ان میں سے اعتدال پر رہتے ہیں، اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی کرتے ہیں جو بدعہد اور ناشکرے ہوں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 32) ➊ { وَ اِذَا غَشِيَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ …:} پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی نعمت کے ساتھ سمندر میں چلنے والی کشتیوں اور جہازوں کو دیکھ کر ایمان والوں کی حالت کا ذکر فرمایا، جو بہت صبر و شکر کرنے والے ہوتے ہیں کہ ان کے لیے ان کشتیوں میں اللہ تعالیٰ کی توحید کی اور اس کے قادر و مختار ہونے کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ اب بتایا کہ مشرکوں کی حالت اس کے برعکس ہوتی ہے، چنانچہ جب سمندر میں طوفان آتا ہے اور یک لخت پانی کی موجیں سائبانوں کی طرح انھیں ڈھانپ لیتی ہیں اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ معاملہ ختم ہے تو تمام خداؤں، حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کو چھوڑ کر اپنے دین یعنی عبادت کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے اس اکیلے کو پکارتے ہیں۔
➋ { فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ …: ” خَتَّارٍ “ ”خَتْرٌ“} میں سے ہے، جو بدترین عہد شکنی اور غداری کو کہتے ہیں۔ {” مُقْتَصِدٌ “} کا لفظی معنی سیدھی راہ پر چلنے والا بھی ہے اور میانہ روی اختیار کرنے والا بھی۔ اس جملے کی تین تفسیریں ہو سکتی ہیں اور تینوں درست ہیں، ایک یہ کہ {” مُقْتَصِدٌ “} کا معنی سیدھی راہ پر چلنے والا ہے، کیونکہ تمام راستوں میں سے درمیانہ راستہ ہی سیدھا اور درست ہوتا ہے۔ {” فَمِنْهُمْ “} میں {”مِنْ“} تبعیض کے لیے ہے، یعنی جب اللہ تعالیٰ انھیں سائبانوں جیسی ان موجوں سے بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو ان میں سے کچھ ہی سیدھی راہ پر رہنے والے ہوتے ہیں، جو اس عہد پر قائم رہتے ہیں جو انھوں نے طوفان کی حالت میں اپنے رب سے کیا تھا، جیسا کہ ابو جہل کے بیٹے عکرمہ رضی اللہ عنہ تھے، ان میں سے اکثر اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں کا صاف انکار کر دیتے ہیں جن کا مشاہدہ انھوں نے سمندر میں کیا تھا اور اس عہد کو توڑ دیتے ہیں جو انھوں نے طوفان کے وقت اپنے رب سے کیا تھا۔ پھر جو دہریے ہیں وہ اپنے بچ جانے کے لیے مادی اسباب بیان کرتے پھرتے ہیں کہ ہم فلاں وجہ سے بچ گئے اور جو مشرک ہیں وہ اپنے بچ جانے کو کسی نہ کسی داتا یا دستگیر کی کرم نوازی قرار دینے لگتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی آیات اور اس کی نعمتوں کا اس طرح صاف انکار وہی شخص کر سکتا ہے جو بدترین عہد توڑنے والا اور نہایت ناشکرا ہو۔ {” خَتَّارٍ “} اور {” كَفُوْرٍ “} مشرک کی صفات ہیں، جو بالترتیب مومن کی صفات {” صَبَّارٍ “} اور {” شَكُوْرٍ “} کے مقابلہ میں آئی ہیں۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ {” مُقْتَصِدٌ “} سے مراد کفر میں میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ انھیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو ان میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کفر میں اتنے شدید نہیں رہتے، بلکہ میانہ روی اختیار کرتے ہیں، جبکہ اکثر اپنے رب کی اس نعمت کا صاف انکار کر کے بدترین عہد شکنی اور ناشکری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس صورت میں {” مُقْتَصِدٌ “} سے مراد {” مُقْتَصِدٌ فِي الْكُفْرِ“} ہو گا۔ تیسری تفسیر اس کی یہ ہے کہ {” اِقْتِصَادٌ “} سے مراد ایمان و اخلاص اور عمل میں میانہ روی ہے: {”أَيْ فَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ فِي الْإِيْمَانِ وَالْعَمَلِ“} یعنی طوفان سے نجات کے بعد جب کچھ وقت گزرتا ہے تو اخلاص اور ایمان کی وہ کیفیت کسی کی بھی باقی نہیں رہتی جو طوفان کے وقت تھی۔ پھر کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اخلاص و ایمان اور عمل کے اعلیٰ درجے سے میانہ روی پر آجاتے ہیں، البتہ اکثر کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ سارے عہد توڑ کر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا صاف انکار کر دیتے ہیں اور پھر اپنے شرک کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”یعنی جو حال خوف کے وقت تھا وہ تو کسی کا نہیں، مگر بالکل بھول بھی نہ جائے، ایسے بھی کم ہیں۔ نہیں تو اکثر قدرت سے منکر ہوتے ہیں، اپنے بچ نکلنے کو تدبیر پر رکھتے ہیں یا کسی ارواح وغیرہ کی مدد پر۔“ اللہ تعالیٰ کے کلام کا اعجاز ہے کہ آیت کے الفاظ میں تینوں معنوں کی گنجائش ہے اور کچھ بعید نہیں کہ تینوں مراد ہوں۔ مزید دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۶۷)، عنکبوت (۶۵) اور یونس (۲۱ تا۲۳)۔
➋ { فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ …: ” خَتَّارٍ “ ”خَتْرٌ“} میں سے ہے، جو بدترین عہد شکنی اور غداری کو کہتے ہیں۔ {” مُقْتَصِدٌ “} کا لفظی معنی سیدھی راہ پر چلنے والا بھی ہے اور میانہ روی اختیار کرنے والا بھی۔ اس جملے کی تین تفسیریں ہو سکتی ہیں اور تینوں درست ہیں، ایک یہ کہ {” مُقْتَصِدٌ “} کا معنی سیدھی راہ پر چلنے والا ہے، کیونکہ تمام راستوں میں سے درمیانہ راستہ ہی سیدھا اور درست ہوتا ہے۔ {” فَمِنْهُمْ “} میں {”مِنْ“} تبعیض کے لیے ہے، یعنی جب اللہ تعالیٰ انھیں سائبانوں جیسی ان موجوں سے بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو ان میں سے کچھ ہی سیدھی راہ پر رہنے والے ہوتے ہیں، جو اس عہد پر قائم رہتے ہیں جو انھوں نے طوفان کی حالت میں اپنے رب سے کیا تھا، جیسا کہ ابو جہل کے بیٹے عکرمہ رضی اللہ عنہ تھے، ان میں سے اکثر اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں کا صاف انکار کر دیتے ہیں جن کا مشاہدہ انھوں نے سمندر میں کیا تھا اور اس عہد کو توڑ دیتے ہیں جو انھوں نے طوفان کے وقت اپنے رب سے کیا تھا۔ پھر جو دہریے ہیں وہ اپنے بچ جانے کے لیے مادی اسباب بیان کرتے پھرتے ہیں کہ ہم فلاں وجہ سے بچ گئے اور جو مشرک ہیں وہ اپنے بچ جانے کو کسی نہ کسی داتا یا دستگیر کی کرم نوازی قرار دینے لگتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی آیات اور اس کی نعمتوں کا اس طرح صاف انکار وہی شخص کر سکتا ہے جو بدترین عہد توڑنے والا اور نہایت ناشکرا ہو۔ {” خَتَّارٍ “} اور {” كَفُوْرٍ “} مشرک کی صفات ہیں، جو بالترتیب مومن کی صفات {” صَبَّارٍ “} اور {” شَكُوْرٍ “} کے مقابلہ میں آئی ہیں۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ {” مُقْتَصِدٌ “} سے مراد کفر میں میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ انھیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو ان میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کفر میں اتنے شدید نہیں رہتے، بلکہ میانہ روی اختیار کرتے ہیں، جبکہ اکثر اپنے رب کی اس نعمت کا صاف انکار کر کے بدترین عہد شکنی اور ناشکری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس صورت میں {” مُقْتَصِدٌ “} سے مراد {” مُقْتَصِدٌ فِي الْكُفْرِ“} ہو گا۔ تیسری تفسیر اس کی یہ ہے کہ {” اِقْتِصَادٌ “} سے مراد ایمان و اخلاص اور عمل میں میانہ روی ہے: {”أَيْ فَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ فِي الْإِيْمَانِ وَالْعَمَلِ“} یعنی طوفان سے نجات کے بعد جب کچھ وقت گزرتا ہے تو اخلاص اور ایمان کی وہ کیفیت کسی کی بھی باقی نہیں رہتی جو طوفان کے وقت تھی۔ پھر کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اخلاص و ایمان اور عمل کے اعلیٰ درجے سے میانہ روی پر آجاتے ہیں، البتہ اکثر کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ سارے عہد توڑ کر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا صاف انکار کر دیتے ہیں اور پھر اپنے شرک کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”یعنی جو حال خوف کے وقت تھا وہ تو کسی کا نہیں، مگر بالکل بھول بھی نہ جائے، ایسے بھی کم ہیں۔ نہیں تو اکثر قدرت سے منکر ہوتے ہیں، اپنے بچ نکلنے کو تدبیر پر رکھتے ہیں یا کسی ارواح وغیرہ کی مدد پر۔“ اللہ تعالیٰ کے کلام کا اعجاز ہے کہ آیت کے الفاظ میں تینوں معنوں کی گنجائش ہے اور کچھ بعید نہیں کہ تینوں مراد ہوں۔ مزید دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۶۷)، عنکبوت (۶۵) اور یونس (۲۱ تا۲۳)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
32-1یعنی جب ان کی کشتیاں ایسی طوفانی موجوں میں گھر جاتی ہیں جو بادلوں اور پہاڑوں کی طرح ہوتی ہیں اور موت کا آہنی پنجہ انھیں اپنی گرفت میں لے لینا نظر آتا ہے تو پھر سارے زمینی معبود ان کے ذہنوں سے نکل جاتے ہیں اور صرف ایک آسمانی اللہ کو پکارتے ہیں جو واقعی اور حقیقی معبود ہے 32-2بعض نے مقتصد کے معنی بیان کیے ہیں عہد کو پورا کرنے والا، یعنی بعض ایمان، توحید اور اطاعت کے اس عہد پر قائم رہتے ہیں جو موج گرداب میں انہوں نے کیا تھا۔ ان کے نزدیک کلام میں حذف ہے، تقدیر کلام یوں ہوگا۔ فمنھم مقتصد ومنھم کافر۔ پس بعض ان میں سے مومن اور بعض کافر ہوتے ہیں، دوسرے مفسرین کے نزدیک اس کے معنی اعتدال پر رہنے والا اور یہ باب انکار سے ہوگا۔ یعنی اتنے ہولناک حالات اور پھر وہاں رب کی اتنی عظیم آیات کا مشاہدہ کرنے اور اللہ کے اس احسان کے باوجود کہ اس نے وہاں سے نجات دی۔ انسان اب بھی اللہ کی مکمل عبادت و اطاعت نہیں کرتا؟ اور متوسط راستہ اختیار کرتا ہے، جب کہ وہ حالات، جن سے گزر کر آیا ہے مکمل بندگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ نہ کہ اعتدال کا۔ مگر پہلا مفہوم سیاق کے زیادہ قریب ہے۔ 32-3ختار غدار کے معنی میں ہے بد عہدی کرنے والا کفور ناشکری کرنے والا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
32۔ اور جب ان پر سائبانوں جیسی کوئی موج چھا جاتی ہے تو اللہ کی مکمل حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے خالصتاً [43] اسے پکارتے ہیں پھر جب وہ انھیں بچا کر خشکی تک لے آتا ہے تو پھر کچھ ہی لوگ حد اعتدال پر رہتے [44] ہیں اور ہماری نشانیوں کا انکار صرف وہی کرتے ہیں جو غدار [45] اور ناشکرے ہوں۔
[43] تلاطم خیز موجوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس لئے فرمایا کہ ایسے طوفان سمندر میں اکثر اٹھتے رہتے ہیں۔ اس وقت تو سب لوگ کیا مشرک اور کیا دہریئے سب ہی اللہ کو پکارنے لگتے ہیں۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود اور توحید باری تعالیٰ دونوں باتیں ہی انسان کی فطرت میں موجود ہیں۔ [44] مقتصد کے دو مفہوم ہیں:۔
مقتصد ذومعنی لفظ ہے۔ اس کا اصل معنی تو اعتدال پر قائم رہنے والا ہے۔ پھر اس کے مفہوم میں راہ راست پر آجانے والا بھی شامل ہے۔ یعنی وہ شخص جو اس مصیبت میں اللہ سے کئے ہوئے وعدہ کو یاد رکھے اور اسے پورا کرے جیسا کہ عکرمہ بن ابو جہل کے متعلق پہلے لکھا جا چکا ہے۔ (دیکھئے سورۃ الانعام کی آیت نمبر 41 کا حاشیہ) دوسرا مطلب یہ ہے کہ دہریے لوگ بھی اللہ سے انکار اور اللہ کے اقرار کے درمیان کی سطح پر آجاتے ہیں۔ کٹر منکر نہیں رہتے۔ یہی حال مشرکوں کا ہوتا ہے وہ اپنے معبودوں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے بارے میں شک میں پڑ جاتے ہیں۔ مشرکوں کا اپنے معبودوں پر پورا اعتقاد نہیں رہتا۔
[45] اور جن لوگوں کی عادت ہی یہ ہو کہ خواہ ان پر انعامات کی کس قدر بارش کر دی جائے۔ انہوں نے شکر ادا کرنا یا احسان مان لینا سیکھا ہی نہ ہو، ایسے لوگ خطرہ ٹل جانے کے بعد اپنے سابقہ طرز زندگی یعنی کفر، شرک یا دہریت کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔
[45] اور جن لوگوں کی عادت ہی یہ ہو کہ خواہ ان پر انعامات کی کس قدر بارش کر دی جائے۔ انہوں نے شکر ادا کرنا یا احسان مان لینا سیکھا ہی نہ ہو، ایسے لوگ خطرہ ٹل جانے کے بعد اپنے سابقہ طرز زندگی یعنی کفر، شرک یا دہریت کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
طوفان میں کون یاد آتا ہے؟ ٭٭
اللہ کے حکم سے سمندروں میں جہاز رانی ہو رہی ہے اگر وہ پانی میں کشتی کو تھامنے کی اور کشتی میں پانی کو کاٹنے کی قوت نہ رکھتا تو پانی میں کشتیاں کیسے چلتیں؟ وہ تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھارہا ہے مصیبت میں صبر اور راحت میں شکر کرنے والے ان سے بہت کچھ عبرتیں حاصل کر سکتے ہیں۔
جب ان کفار کو سمندروں میں موجیں گھیر لیتی ہیں اور ان کی کشتی ڈگمگانے لگتی ہے اور موجیں پہاڑوں کی طرح ادھر سے ادھر ادھر سے ادھر کشتیوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے لگتی ہیں تو اپنا شرک کفر سب بھول جاتے ہیں اور گریہ وزاری سے ایک اللہ کو پکارنے لگتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے آیت «وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ» ۱؎ [17-الإسراء:67]، ’ دریا میں جب تمہیں ضرر پہنچتا ہے تو بجز اللہ کے سب کو کھو بیٹھتے ہو ‘۔
اور آیت میں ہے «افَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ» ۱؎ [29-العنكبوت:65] ’ ان کی اس وقت کی لجاجت پر اگر ہمیں رحم آگیا ہو اور جب انہیں سمندر سے پار کر دیا تو تھوڑے سے کافر ہو جاتے ہیں ‘۔
مجاہد رحمہ اللہ نے یہی تفیسر کی ہے جیسے فرمان ہے آیت «فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ» ۱؎ [29-سورةالعنكبوت:65] لفظی معنی یہ ہیں کہ ’ ان میں سے بعض متوسط درجے کے ہوتے ہیں ‘ سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہ یہی کہتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت «ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ» ۱؎ [35-فاطر:32]، ’ ان میں سے بعض ظالم ہیں بعض میانہ رو ہیں ‘۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی مراد ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ جس نے ایسی حالت دیکھی ہو جو اس مصیبت سے نکلا ہو اسے تو چاہئیے کہ نیکیوں میں پوری طرح کوشش کرے لیکن تاہم یہ بیچ میں ہی رہ جاتے ہیں اور کچھ تو پھر کفر پر چلے جاتے ہیں۔
«خَتَّار» کہتے ہیں غدار کو جو عہد شکن ہو۔ «خَتْرِ» کے معنی پوری عہد شکنی کے ہیں۔ «كَفُورٌ» کہتے ہیں منکر کو جو نعمتوں سے نٹ جائے منکر ہو جائے، شکر تو ایک طرف بھول جائے اور ذکر بھی نہ کرے۔
جب ان کفار کو سمندروں میں موجیں گھیر لیتی ہیں اور ان کی کشتی ڈگمگانے لگتی ہے اور موجیں پہاڑوں کی طرح ادھر سے ادھر ادھر سے ادھر کشتیوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے لگتی ہیں تو اپنا شرک کفر سب بھول جاتے ہیں اور گریہ وزاری سے ایک اللہ کو پکارنے لگتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے آیت «وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ» ۱؎ [17-الإسراء:67]، ’ دریا میں جب تمہیں ضرر پہنچتا ہے تو بجز اللہ کے سب کو کھو بیٹھتے ہو ‘۔
اور آیت میں ہے «افَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ» ۱؎ [29-العنكبوت:65] ’ ان کی اس وقت کی لجاجت پر اگر ہمیں رحم آگیا ہو اور جب انہیں سمندر سے پار کر دیا تو تھوڑے سے کافر ہو جاتے ہیں ‘۔
مجاہد رحمہ اللہ نے یہی تفیسر کی ہے جیسے فرمان ہے آیت «فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ» ۱؎ [29-سورةالعنكبوت:65] لفظی معنی یہ ہیں کہ ’ ان میں سے بعض متوسط درجے کے ہوتے ہیں ‘ سیدنا ابن زید رضی اللہ عنہ یہی کہتے ہیں جیسے فرمان ہے آیت «ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ» ۱؎ [35-فاطر:32]، ’ ان میں سے بعض ظالم ہیں بعض میانہ رو ہیں ‘۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی مراد ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ جس نے ایسی حالت دیکھی ہو جو اس مصیبت سے نکلا ہو اسے تو چاہئیے کہ نیکیوں میں پوری طرح کوشش کرے لیکن تاہم یہ بیچ میں ہی رہ جاتے ہیں اور کچھ تو پھر کفر پر چلے جاتے ہیں۔
«خَتَّار» کہتے ہیں غدار کو جو عہد شکن ہو۔ «خَتْرِ» کے معنی پوری عہد شکنی کے ہیں۔ «كَفُورٌ» کہتے ہیں منکر کو جو نعمتوں سے نٹ جائے منکر ہو جائے، شکر تو ایک طرف بھول جائے اور ذکر بھی نہ کرے۔