ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِ الۡبَاطِلُ ۙ وَ اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡکَبِیۡرُ ﴿٪۳۰﴾
یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور یہ کہ اس کے سوا وہ جس کو پکارتے ہیں وہی باطل ہے اور یہ کہ اللہ ہی بے حد بلند، بے حد بڑا ہے۔
En
یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ لغو ہیں اور یہ کہ خدا ہی عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے
En
یہ سب (انتظامات) اس وجہ سے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حق ہے اور اس کے سوا جن جن کو لوگ پکارتے ہیں سب باطل ہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بلندیوں واﻻ اور بڑی شان واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 30) ➊ { ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ:} یعنی یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے اس لیے بیان فرمایا ہے کہ تم جان لو کہ وہی حق ہے جو حقیقی فاعل و مختار ہے، کیونکہ وہ ازلی و ابدی ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اپنے وجود میں وہ کسی کا محتاج نہیں۔
➋ {وَ اَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ:} اور اس کے سوا مشرک جس کی بھی عبادت کرتے ہیں سب باطل ہیں، ان کا کہیں وجود ہی نہیں۔ یہاں نہ کوئی لات ہے، نہ منات، نہ داتا، نہ دستگیر، نہ گنج بخش، نہ غریب نواز۔ سب ان مشرکوں کے خیال اور وہم کی تخلیق ہیں اور انھوں نے اپنے پاس سے فرض کر لیا ہے کہ فلاں صاحب خدائی میں کوئی دخل رکھتے ہیں اور انھیں مشکل کُشائی اور حاجت روائی کے اختیارات حاصل ہیں، حالانکہ فی الواقع ان میں سے کوئی بھی نہ خدائی اختیارات کا مالک ہے، نہ کسی کو پکارنا اور اس سے فریاد کرنا حق ہے۔ دیکھیے سورۂ یونس (۶۶) اور سورۂ نجم (۱۹ تا۲۳)۔
➌ ان آیات میں دہریوں کا بھی رد ہے جو اس کائنات کو ازلی اور ابدی سمجھتے ہیں اور مشرکوں کا بھی جو فانی چیزوں کو معبود بنائے بیٹھے ہیں۔
➍ { وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ:} یعنی کائنات کی ہر چیز سے اس کی شان بلند ہے اور بڑائی میں بھی وہ کائنات کی ہر چیز سے بڑا ہے۔ ان دونوں صفات کا مجموعہ {” ثُمَّ اسْتَوٰي عَلٰي الْعَرْشِ “} میں پایا جاتا ہے۔ اس میں ایک واضح اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ بلندی اور بڑائی جب اللہ ہی کی شان ہے تو اس کے مقابلے میں ساری مخلوق پست، عاجز اور حقیر ہے، جس کے مفہوم کو لفظ ”عبد“ ادا کرتا ہے، فرمایا: «{ اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا }» [مریم: ۹۳] ”آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمان کے پاس غلام بن کر آنے والا ہے۔“ اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا کہ اس علی و کبیر کے اختیارات اس کی پیدا کردہ ہستیوں کے لیے سمجھ لیے جائیں جو اس کے عباد اور اس کے سامنے بالکل پست، عاجز اور حقیر ہیں!؟
➋ {وَ اَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ:} اور اس کے سوا مشرک جس کی بھی عبادت کرتے ہیں سب باطل ہیں، ان کا کہیں وجود ہی نہیں۔ یہاں نہ کوئی لات ہے، نہ منات، نہ داتا، نہ دستگیر، نہ گنج بخش، نہ غریب نواز۔ سب ان مشرکوں کے خیال اور وہم کی تخلیق ہیں اور انھوں نے اپنے پاس سے فرض کر لیا ہے کہ فلاں صاحب خدائی میں کوئی دخل رکھتے ہیں اور انھیں مشکل کُشائی اور حاجت روائی کے اختیارات حاصل ہیں، حالانکہ فی الواقع ان میں سے کوئی بھی نہ خدائی اختیارات کا مالک ہے، نہ کسی کو پکارنا اور اس سے فریاد کرنا حق ہے۔ دیکھیے سورۂ یونس (۶۶) اور سورۂ نجم (۱۹ تا۲۳)۔
➌ ان آیات میں دہریوں کا بھی رد ہے جو اس کائنات کو ازلی اور ابدی سمجھتے ہیں اور مشرکوں کا بھی جو فانی چیزوں کو معبود بنائے بیٹھے ہیں۔
➍ { وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ:} یعنی کائنات کی ہر چیز سے اس کی شان بلند ہے اور بڑائی میں بھی وہ کائنات کی ہر چیز سے بڑا ہے۔ ان دونوں صفات کا مجموعہ {” ثُمَّ اسْتَوٰي عَلٰي الْعَرْشِ “} میں پایا جاتا ہے۔ اس میں ایک واضح اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ بلندی اور بڑائی جب اللہ ہی کی شان ہے تو اس کے مقابلے میں ساری مخلوق پست، عاجز اور حقیر ہے، جس کے مفہوم کو لفظ ”عبد“ ادا کرتا ہے، فرمایا: «{ اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا }» [مریم: ۹۳] ”آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمان کے پاس غلام بن کر آنے والا ہے۔“ اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا کہ اس علی و کبیر کے اختیارات اس کی پیدا کردہ ہستیوں کے لیے سمجھ لیے جائیں جو اس کے عباد اور اس کے سامنے بالکل پست، عاجز اور حقیر ہیں!؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
30-1یعنی یہ انتظامات یا نشانیاں، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ظاہر کرتا ہے تاکہ تم سمجھ لو کہ کائنات کا نظام چلانے والا صرف ایک اللہ ہے، جس کے حکم اور مشیت سے سب کچھ ہو رہا ہے، اور اس کے سوا سب باطل ہے یعنی کسی کے پاس کوئی بھی اختیار نہیں ہے بلکہ اس کے محتاج ہیں کیونکہ سب اس کی مخلوق اور اس کے ماتحت ہیں، ان میں سے کوئی بھی ایک ذرے کو بھی ہلانے کی قدرت نہیں رکھتا ہے (ابن کثیر) 30-2اس سے برتر شان والا کوئی ہے نہ اس سے بڑا کوئی۔ اس کی عظمت شان، علوم مرتبہ اور بڑائی کے سامنے ہر چیز حقیر اور پست ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
30۔ یہ اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے علاوہ جنہیں وہ پکارتے ہیں سب باطل [40] ہے اور اللہ ہی عالی شان اور کبریائی والا [41] ہے۔
[40] یعنی اللہ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے کی دلیل تو یہ ہے کہ اس نے رات اور دن کا نظام قائم کیا اور یہ نظام اس قدر پیچیدہ ہے جس کے مطالعہ سے از خود یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایسا نظام کوئی کمال درجے کی مقتدر اور حکیم ہستی ہی قائم کر سکتی ہے اور سورج اور چاند بھی اسی نظام کا ایک حصہ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اللہ کے سوا جن چیزوں کو لوگوں نے معبود بنا رکھا ہے اور انھیں پکارتے ہیں۔ انہوں نے کیا بنایا ہے کہ انھیں بھی الوہیت کا مستحق اور حصہ دار بنایا جائے؟ اور اس کا جواب نفی میں ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ معبود سراسر باطل ہیں۔ [41] یعنی کائنات کی ہر چیز سے اس کی شان بھی بلند اور بڑائی میں بھی کائنات کی ہر چیز سے بڑا ہے اور ان دونوں صفات کا مجموعہ ﴿ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ﴾ میں پایا جاتا ہے۔ اس میں ایک لطیف اشارہ یہ بھی پایا جاتا ہے اللہ کی ان صفات کے مقابلہ میں بندہ میں انتہائی پستی اور تذلل (یہی دراصل عبادت کا معنی ہے) اللہ ہی کے لئے ہونا چاہئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس کے سامنے پر چیز حقیر و پست ہے ٭٭
رات کو کچھ گھٹا کر دن کو کچھ بڑھانے والا اور دن کو کچھ گھٹاکر رات کو کچھ بڑھانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جاڑوں کے دن چھوٹے اور راتیں بڑی، گرمیوں کے دن بڑے اور راتیں چھوٹی اسی کی قدرت کا ظہور ہے سورج چاند اسی کے تحت فرمان ہیں۔ جو جگہ مقرر ہے وہیں چلتے ہیں قیامت تک برابر اسی چال چلتے رہیں گے اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتے۔
بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ { جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ } جواب دیا کہ ”اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ جا کر اللہ کے عرش کے نیچے سجدے میں گر پڑتا ہے اور اپنے رب سے اجازت چاہتا ہے قریب ہے کہ ایک دن اس سے کہہ دیا جائے کہ جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3199]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”سورج بمنزلہ ساقیہ کے ہے دن کو اپنے دوران میں جاری رہتا ہے غروب ہو کر رات کو پھر زمین کے نیچے گردش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اپنی مشرق سے ہی طلوع ہوتا ہے۔ اسی طرح چاند بھی۔“
’ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے ‘ جیسے فرمان ہے «أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» [22-الحج:70] ’ کیا تو نہیں جانتا کہ زمین آسمان میں جو کچھ ہے سب اللہ کے علم میں ہے سب کا خالق سب کا عالم اللہ ہی ہے‘۔
جیسے ارشاد ہے «اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا» [65-الطلاق:12]’ اللہ نے سات آسمان پیدا کئے اور انہی کے مثل زمینیں بنائیں ‘۔
’ یہ نشانیاں پروردگار عالم اس لیے ظاہر فرماتا ہے کہ تم ان سے اللہ کے حق وجود پر ایمان لاؤ اور اس کے سوا سب کو باطل مانو ‘۔ وہ سب سے بے نیاز اور بے پرواہ ہے سب کے سب اس کے محتاج اور اس کے در کے فقیر ہیں۔ سب اس کی مخلوق اور اس کے غلام ہیں۔ کسی کو ایک ذرے کے حرکت میں لانے کی قدرت نہیں۔ گو ساری مخلوق مل کر ارادہ کر لے کہ ایک مکھی پیدا کریں سب عاجز آ جائیں گے اور ہرگز اتنی قدرت بھی نہ پائیں گے۔ وہ سب سے بلند ہے جس پر کوئی چیز نہیں۔ وہ سب سے بڑا ہے جس کے سامنے کسی کی کوئی بڑائی نہیں۔ ہر چیز اس کے سامنے حقیر اور پست ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”سورج بمنزلہ ساقیہ کے ہے دن کو اپنے دوران میں جاری رہتا ہے غروب ہو کر رات کو پھر زمین کے نیچے گردش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اپنی مشرق سے ہی طلوع ہوتا ہے۔ اسی طرح چاند بھی۔“
’ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے ‘ جیسے فرمان ہے «أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» [22-الحج:70] ’ کیا تو نہیں جانتا کہ زمین آسمان میں جو کچھ ہے سب اللہ کے علم میں ہے سب کا خالق سب کا عالم اللہ ہی ہے‘۔
جیسے ارشاد ہے «اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا» [65-الطلاق:12]’ اللہ نے سات آسمان پیدا کئے اور انہی کے مثل زمینیں بنائیں ‘۔
’ یہ نشانیاں پروردگار عالم اس لیے ظاہر فرماتا ہے کہ تم ان سے اللہ کے حق وجود پر ایمان لاؤ اور اس کے سوا سب کو باطل مانو ‘۔ وہ سب سے بے نیاز اور بے پرواہ ہے سب کے سب اس کے محتاج اور اس کے در کے فقیر ہیں۔ سب اس کی مخلوق اور اس کے غلام ہیں۔ کسی کو ایک ذرے کے حرکت میں لانے کی قدرت نہیں۔ گو ساری مخلوق مل کر ارادہ کر لے کہ ایک مکھی پیدا کریں سب عاجز آ جائیں گے اور ہرگز اتنی قدرت بھی نہ پائیں گے۔ وہ سب سے بلند ہے جس پر کوئی چیز نہیں۔ وہ سب سے بڑا ہے جس کے سامنے کسی کی کوئی بڑائی نہیں۔ ہر چیز اس کے سامنے حقیر اور پست ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ذٰلِكَ ﴾ ”یہ“ جو اللہ تعالیٰ نے تمھارے سامنے اپنی عظمت اور اپنی صفات کو بیان کیا ہے ﴿بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنی ذات و صفات میں حق ہے، اس کا دین حق ہے، اس کے رسول حق ہیں، اس کا وعدہ حق ہے، اس کی وعید حق ہے اور اس کی عبادت حق ہے۔ ﴿وَاَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ ﴾ اور جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، سب اپنی ذات و صفات میں باطل ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو وجود میں نہ لاتا تو کبھی وجود میں نہ آ سکتے۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی امداد نہ کرے تو ان کی بقا ممکن نہیں۔ جب یہ خود باطل ہیں تو ان کی عبادت سب سے بڑا باطل ہے۔﴿وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْ٘عَلِیُّ ﴾ ”اور بے شک اللہ تعالیٰ (بذاتہ) بلند ہے“ وہ تمام مخلوقات سے اوپر ہے۔ اس کی صفات اس سے بلندتر ہیں کہ ان پر مخلوق کی صفات کو قیاس کیا جائے وہ مخلوق کے اوپر اور ان پر غالب ہے۔ ﴿الْكَبِیْرُ ﴾ وہ اپنی ذات و صفات میں کبریائی کا مالک ہے اور زمین اور آسمان کی تمام مخلوق کے دل اس کی کبریائی سے لبریز ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ذلك}: الذي بيَّن لكم من عظمتِهِ وصفاتِهِ ما بيَّن {بأنَّ الله هو الحقُّ}: في ذاته وفي صفاته، ودينُهُ حقٌّ، ورسله حقٌّ، ووعدُه حقٌّ، ووعيده حقٌّ، وعبادتُه هي الحق. {وأنَّ ما يدعونَ من دونِهِ الباطلُ}: في ذاته وصفاته؛ فلولا إيجادُ الله له؛ لما وُجِدَ، ولولا إمدادُه؛ لما بقي؛ فإذا كان باطلاً؛ كانت عبادتُه أبطل وأبطل. {وأنَّ الله هو العليُّ}: بذاته فوق جميع مخلوقاته الذي علت صفاته أن يقاس بها صفات [أحدٍ من الخلق]، وعلا على الخلق؛ فقهرهم {الكبير}: الذي له الكبرياءُ في ذاته وصفاته، وله الكبرياءُ في قلوب أهل السماء والأرض.