اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ۫ کُلٌّ یَّجۡرِیۡۤ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّ اَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۲۹﴾
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر دیا ہے، ہر ایک ایک مقرر وقت تک چل رہا ہے اور یہ کہ اللہ اس سے جو تم کرتے ہو پورا باخبر ہے۔
En
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اُسی نے سورج اور چاند کو (تمہارے) زیر فرمان کر رکھا ہے۔ ہر ایک ایک وقتِ مقرر تک چل رہا ہے اور یہ کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
En
کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں کھپا دیتا ہے، سورج چاند کو اسی نے فرماں بردار کر رکھا ہے ہر ایک مقرره وقت تک چلتا رہے، اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے جو تم کرتے ہو خبردار ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 29) ➊ { اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۲۷) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے تمام انسانوں کو پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے ایک جان کو پیدا کرنا اور دوبارہ زندہ کرنا۔ تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ جب دن بڑھنے لگتے ہیں تو ہر روز رات کا ایک حصہ دن میں شامل ہو جاتا ہے، پھر سردیوں کی آمد کے ساتھ دن کا وہی حصہ رات میں شامل ہوتا جاتا ہے۔ دن کو رات اور رات کو دن کا حصہ بنا دینے والے کے لیے تمھاری موت کے بعد حیات بالکل معمولی بات ہے۔ یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ وہ رات کی تاریکی کو دن کی روشنی پر اور دن کی روشنی کو رات کی تاریکی پر لے آتا ہے۔
➋ { وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ كُلٌّ يَّجْرِيْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى:} حافظ صاحبان توجہ فرمائیں کہ پورے قرآن مجید میں {” كُلٌّ يَّجْرِيْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى “} اسی مقام پر ہے۔ دوسرے تمام مقامات پر{” كُلٌّ يَّجْرِيْۤ لِأَجَلٍ مُّسَمًّى “} ہے۔ یہ دوبارہ زندگی کے ممکن ہونے کی دوسری دلیل ہے۔ یعنی انسان سے کہیں بڑی مخلوق سورج اور چاند کا اس طرح مسخر ہونا کہ مدت ہائے دراز سے اسی طرح چل رہے ہیں اور اس وقت تک چلتے رہیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ {” اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى “} (ایک مقرر وقت تک) کے لفظ میں کئی چیزیں شامل ہیں، پہلی یہ کہ رات دن کی روزانہ کی گردش میں یہ دونوں صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک چلتے ہیں، پھر اسی سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں۔ ان کا روزانہ کا یہ سفر مشرق سے مغرب اور مغرب سے مشرق کی طرف رہٹ کی طرح جاری رہتا ہے۔ دوسری یہ کہ طلوع و غروب کے وقت کے لحاظ سے چاند ایک ماہ میں اپنا سفر پورا کر کے اسی وقت طلوع ہوتا ہے جس وقت وہ پچھلے ماہ طلوع ہوا تھا اور سورج سال کے بعد عین اسی وقت طلوع ہوتا ہے جس وقت وہ پچھلے سال طلوع ہوا تھا۔ تیسری یہ کہ سورج اور چاند اس وقت تک چل رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کی گردش ختم ہونے کے لیے مقرر فرمایا ہے اور وہ قیامت کا دن ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ (1) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ }» [التکویر: ۱، ۲] ”جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔ اور جب ستارے بے نور ہو جائیں گے۔“ آیات کے سیاق کے لحاظ سے یہ معنی یہاں زیادہ مناسب ہے، اس لیے اکثر مفسرین نے یہاں {” اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى “} سے قیامت کا دن ہی مراد لیا ہے۔
➌ یہاں ایک سوال یہ ہے کہ اس مقام پر {” اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى “} کا لفظ استعمال فرمایا ہے، جب کہ دوسرے مقامات پر {” لِاَجَلٍ مُّسَمًّى “} استعمال فرمایا ہے، اس میں کیا حکمت ہے؟ سلیمان الجمل نے فرمایا: ”یہاں اللہ تعالیٰ نے {” اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى “} فرمایا ہے، جب کہ سورۂ فاطر اور سورۂ زمر (اور رعد) میں {” لِاَجَلٍ مُّسَمًّى “} فرمایا ہے۔ کیونکہ یہاں یہ لفظ دو ایسی آیات کے درمیان آیا ہے جن میں اس انتہا کا ذکر ہے جب مخلوق ختم ہو گی، چنانچہ اس سے پہلے{” مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ “} ہے اور بعد میں {” اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا يَوْمًا “} ہے، دونوں آیات کائنات کے اس نظام کے خاتمے پر دلالت کر رہی ہیں اور سورۂ فاطر اور زمر میں یہ بات نہیں، کیونکہ سورۂ فاطر میں نہ خلق کی ابتدا کا ذکر ہے نہ انتہا کا اور سورۂ زمر میں ابتدا کا ذکر ہے انتہا کا نہیں، اس لیے وہاں ”لام“ کا لفظ استعمال فرمایا کہ سورج اور چاند جس طرح چلتے دکھائی دے رہے ہیں یہ ایک مقرر وقت پر پہنچنے کے لیے چل رہے ہیں۔ “
➍ {وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ:} اس کا عطف {” اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُوْلِجُ “} پر ہے۔ {” اَلَمْ تَرَ “} کا معنی تھا ”کیا تم نے نہیں جانا؟“ یعنی تم یقینا جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور… یہ بھی جانتے ہو کہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
➋ { وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ كُلٌّ يَّجْرِيْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى:} حافظ صاحبان توجہ فرمائیں کہ پورے قرآن مجید میں {” كُلٌّ يَّجْرِيْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى “} اسی مقام پر ہے۔ دوسرے تمام مقامات پر{” كُلٌّ يَّجْرِيْۤ لِأَجَلٍ مُّسَمًّى “} ہے۔ یہ دوبارہ زندگی کے ممکن ہونے کی دوسری دلیل ہے۔ یعنی انسان سے کہیں بڑی مخلوق سورج اور چاند کا اس طرح مسخر ہونا کہ مدت ہائے دراز سے اسی طرح چل رہے ہیں اور اس وقت تک چلتے رہیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ {” اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى “} (ایک مقرر وقت تک) کے لفظ میں کئی چیزیں شامل ہیں، پہلی یہ کہ رات دن کی روزانہ کی گردش میں یہ دونوں صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک چلتے ہیں، پھر اسی سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں۔ ان کا روزانہ کا یہ سفر مشرق سے مغرب اور مغرب سے مشرق کی طرف رہٹ کی طرح جاری رہتا ہے۔ دوسری یہ کہ طلوع و غروب کے وقت کے لحاظ سے چاند ایک ماہ میں اپنا سفر پورا کر کے اسی وقت طلوع ہوتا ہے جس وقت وہ پچھلے ماہ طلوع ہوا تھا اور سورج سال کے بعد عین اسی وقت طلوع ہوتا ہے جس وقت وہ پچھلے سال طلوع ہوا تھا۔ تیسری یہ کہ سورج اور چاند اس وقت تک چل رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کی گردش ختم ہونے کے لیے مقرر فرمایا ہے اور وہ قیامت کا دن ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ (1) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ }» [التکویر: ۱، ۲] ”جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔ اور جب ستارے بے نور ہو جائیں گے۔“ آیات کے سیاق کے لحاظ سے یہ معنی یہاں زیادہ مناسب ہے، اس لیے اکثر مفسرین نے یہاں {” اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى “} سے قیامت کا دن ہی مراد لیا ہے۔
➌ یہاں ایک سوال یہ ہے کہ اس مقام پر {” اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى “} کا لفظ استعمال فرمایا ہے، جب کہ دوسرے مقامات پر {” لِاَجَلٍ مُّسَمًّى “} استعمال فرمایا ہے، اس میں کیا حکمت ہے؟ سلیمان الجمل نے فرمایا: ”یہاں اللہ تعالیٰ نے {” اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى “} فرمایا ہے، جب کہ سورۂ فاطر اور سورۂ زمر (اور رعد) میں {” لِاَجَلٍ مُّسَمًّى “} فرمایا ہے۔ کیونکہ یہاں یہ لفظ دو ایسی آیات کے درمیان آیا ہے جن میں اس انتہا کا ذکر ہے جب مخلوق ختم ہو گی، چنانچہ اس سے پہلے{” مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ “} ہے اور بعد میں {” اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا يَوْمًا “} ہے، دونوں آیات کائنات کے اس نظام کے خاتمے پر دلالت کر رہی ہیں اور سورۂ فاطر اور زمر میں یہ بات نہیں، کیونکہ سورۂ فاطر میں نہ خلق کی ابتدا کا ذکر ہے نہ انتہا کا اور سورۂ زمر میں ابتدا کا ذکر ہے انتہا کا نہیں، اس لیے وہاں ”لام“ کا لفظ استعمال فرمایا کہ سورج اور چاند جس طرح چلتے دکھائی دے رہے ہیں یہ ایک مقرر وقت پر پہنچنے کے لیے چل رہے ہیں۔ “
➍ {وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ:} اس کا عطف {” اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُوْلِجُ “} پر ہے۔ {” اَلَمْ تَرَ “} کا معنی تھا ”کیا تم نے نہیں جانا؟“ یعنی تم یقینا جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور… یہ بھی جانتے ہو کہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
29-1یعنی رات کا کچھ حصہ لے کر دن میں شامل کردیتا ہے، جس سے دن بڑا اور رات چھوٹی ہوجاتی ہے جیسے گرمیوں میں ہوتا ہے، اور پھر دن کا کچھ حصہ لے کر رات میں شامل کردیتا ہے، جس سے رات بڑی اور دن چھوٹا ہوجاتا ہے جیسے سردیوں میں ہوتا ہے۔ 29-2' مقررہ وقت تک ' سے مراد قیامت تک ہے یعنی سورج اور چاند کے طلوع و غروب کا نظام، جس کا اللہ نے ان کو پابند کیا ہوا ہے قیامت تک یوں ہی قائم رہے گا۔ دوسرا مطلب ہے کہ ایک متعینہ منزل تک، یعنی اللہ نے ان کی گردش کے لیے ایک منزل اور ایک دائرہ متعین کیا ہوا ہے جہاں ان کا سفر ختم ہوتا ہے اور دوسرے روز پھر وہاں سے شروع ہو کر پہلی منزل پر آکر ٹھہر جاتا ہے ایک حدیث سے بھی اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر ؓ سے فرمایا جانتے ہو، یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ ابوذر ؓ کہتے میں نے کہا اللہ اور کے رسول خوب جانتے ہیں فرمایا اس کی آخری منزل عرش الہی ہے یہ وہاں جاتا ہے اور زیر عرش سجدہ ریز ہوتا ہے پھر وہاں سے نکلنے کی اپنے رب سے اجازت مانگتا ہے ایک وقت آئے گا کہ اس کو کہا جائے تو جہاں سے آیا ہے وہی لوٹ جا۔ تو وہ مشرق سے طلوع ہونے کے بجائے مغرب سے طلوع ہوگا جیسا کہ قرب قیامت کی علامات میں آتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سورج رہٹ کی طرح ہے، دن کو آسمان پر اپنے مدار پر چلتا رہتا ہے، جب غروب ہوجاتا ہے، تو رات کو زمین کے نیچے اپنے مدار پر چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ مشرق سے طلوع ہوجاتا ہے۔ اسی طرح چاند کا معاملہ ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
29۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور سورج اور چاند کو کام [37] پر لگا دیا ہے۔ ہر ایک مقررہ وقت تک چلتا [38] رہے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے [39] با خبر ہے۔
[37] چاند اور سورج کی الوہیت کی تردید:۔
اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کا ذکر فرمایا تو ساتھ ہی سورج اور چاند کا بھی ذکر فرما دیا۔ سورج کا تعلق دن کے اوقات سے ہے اور چاند کا رات کے اوقات سے اور یہی دو سیارے ہیں جو اہل زمین کو سب سے زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں۔ اور اکثر ادوار میں ان دونوں کی ہی پوجا اور عبادت کی جاتی رہی ہے۔ اور ان دونوں کو اللہ تعالیٰ نے ایسے کام پر لگا دیا ہے جس سے وہ سرمو سرتابی نہیں کر سکتے۔ قابل غور و فکر بات یہ ہے کہ اللہ کی جو مخلوق اپنے کام میں اس طرح جکڑی ہوئی ہو۔ کیا وہ معبود ہونے کی اہلیت رکھتی ہے؟ جو چیز اپنے اختیار سے نہ ایک لمحہ آگے پیچھے رہ سکتی ہے اور نہ ایک انچ ادھر ادھر سرک سکتی ہے، ایسی بے اختیار مخلوق کو معبود سمجھ لینا حماقت نہیں تو کیا ہے؟
[38] مشرکین اور کا دہریہ کا رد:۔
یعنی اس مقررہ وقت کے بعد ان کی حرکت یا ان کی گردش ختم ہو جائے گی۔ بالفاظ دیگر یہ نظام لیل و نہار ختم کر دیا جائے گا۔ اور اس سورج اور چاند کا وجود فنا ہو جائے گا۔ کیونکہ یہ چیزیں ایک مقررہ وقت تک ہیں ابدی نہیں ہیں۔ اور اگر ابدی نہیں تو ازلی بھی نہیں ہو سکتیں۔ گویا یہ چیزیں حادث ہیں اور فنا ہونے والی ہیں۔ گویا اس آیت میں دہریوں کا رد بھی موجود ہے جو اس کائنات کو ازلی ابدی سمجھتے ہیں اور مشرکوں کا بھی رد ہے جو ان فانی چیزوں کو معبود سمجھے بیٹھے ہیں۔
[39] دہریہ حضرات تو سرے سے روز آخرت کے منکر ہوتے ہیں اور مشرکین میں سے اکثر تو آخرت کے منکر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ دور نبوی میں مشرکین مکہ اور ایران کے آتش پرست دونوں آخرت کے منکر تھے اور بعض مشرک عقیدہ آخرت کے منکر تو نہیں ہوتے مگر اس عقیدہ میں کچھ مزید ایسے عقیدے شامل کر لیتے ہیں۔ جو عقیدہ آخرت کے اصل مقصد کو فنا کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے سب لوگوں کی طرز زندگی اس دنیا میں شتر بے مہار کی طرح گزرتی ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ساتھ ہی یہ وعید سنا دی کہ اللہ تمہارے اعمال سے پوری طرح با خبر ہے اور ان کی تمہیں سزا دینے پر بھی قادر ہے۔
[39] دہریہ حضرات تو سرے سے روز آخرت کے منکر ہوتے ہیں اور مشرکین میں سے اکثر تو آخرت کے منکر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ دور نبوی میں مشرکین مکہ اور ایران کے آتش پرست دونوں آخرت کے منکر تھے اور بعض مشرک عقیدہ آخرت کے منکر تو نہیں ہوتے مگر اس عقیدہ میں کچھ مزید ایسے عقیدے شامل کر لیتے ہیں۔ جو عقیدہ آخرت کے اصل مقصد کو فنا کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے سب لوگوں کی طرز زندگی اس دنیا میں شتر بے مہار کی طرح گزرتی ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ساتھ ہی یہ وعید سنا دی کہ اللہ تمہارے اعمال سے پوری طرح با خبر ہے اور ان کی تمہیں سزا دینے پر بھی قادر ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس کے سامنے پر چیز حقیر و پست ہے ٭٭
رات کو کچھ گھٹا کر دن کو کچھ بڑھانے والا اور دن کو کچھ گھٹاکر رات کو کچھ بڑھانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جاڑوں کے دن چھوٹے اور راتیں بڑی، گرمیوں کے دن بڑے اور راتیں چھوٹی اسی کی قدرت کا ظہور ہے سورج چاند اسی کے تحت فرمان ہیں۔ جو جگہ مقرر ہے وہیں چلتے ہیں قیامت تک برابر اسی چال چلتے رہیں گے اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتے۔
بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ { جانتے ہو یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ } جواب دیا کہ ”اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ جا کر اللہ کے عرش کے نیچے سجدے میں گر پڑتا ہے اور اپنے رب سے اجازت چاہتا ہے قریب ہے کہ ایک دن اس سے کہہ دیا جائے کہ جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3199]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”سورج بمنزلہ ساقیہ کے ہے دن کو اپنے دوران میں جاری رہتا ہے غروب ہو کر رات کو پھر زمین کے نیچے گردش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اپنی مشرق سے ہی طلوع ہوتا ہے۔ اسی طرح چاند بھی۔“
’ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے ‘ جیسے فرمان ہے «أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» [22-الحج:70] ’ کیا تو نہیں جانتا کہ زمین آسمان میں جو کچھ ہے سب اللہ کے علم میں ہے سب کا خالق سب کا عالم اللہ ہی ہے‘۔
جیسے ارشاد ہے «اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا» [65-الطلاق:12]’ اللہ نے سات آسمان پیدا کئے اور انہی کے مثل زمینیں بنائیں ‘۔
’ یہ نشانیاں پروردگار عالم اس لیے ظاہر فرماتا ہے کہ تم ان سے اللہ کے حق وجود پر ایمان لاؤ اور اس کے سوا سب کو باطل مانو ‘۔ وہ سب سے بے نیاز اور بے پرواہ ہے سب کے سب اس کے محتاج اور اس کے در کے فقیر ہیں۔ سب اس کی مخلوق اور اس کے غلام ہیں۔ کسی کو ایک ذرے کے حرکت میں لانے کی قدرت نہیں۔ گو ساری مخلوق مل کر ارادہ کر لے کہ ایک مکھی پیدا کریں سب عاجز آ جائیں گے اور ہرگز اتنی قدرت بھی نہ پائیں گے۔ وہ سب سے بلند ہے جس پر کوئی چیز نہیں۔ وہ سب سے بڑا ہے جس کے سامنے کسی کی کوئی بڑائی نہیں۔ ہر چیز اس کے سامنے حقیر اور پست ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ”سورج بمنزلہ ساقیہ کے ہے دن کو اپنے دوران میں جاری رہتا ہے غروب ہو کر رات کو پھر زمین کے نیچے گردش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اپنی مشرق سے ہی طلوع ہوتا ہے۔ اسی طرح چاند بھی۔“
’ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے ‘ جیسے فرمان ہے «أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» [22-الحج:70] ’ کیا تو نہیں جانتا کہ زمین آسمان میں جو کچھ ہے سب اللہ کے علم میں ہے سب کا خالق سب کا عالم اللہ ہی ہے‘۔
جیسے ارشاد ہے «اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا» [65-الطلاق:12]’ اللہ نے سات آسمان پیدا کئے اور انہی کے مثل زمینیں بنائیں ‘۔
’ یہ نشانیاں پروردگار عالم اس لیے ظاہر فرماتا ہے کہ تم ان سے اللہ کے حق وجود پر ایمان لاؤ اور اس کے سوا سب کو باطل مانو ‘۔ وہ سب سے بے نیاز اور بے پرواہ ہے سب کے سب اس کے محتاج اور اس کے در کے فقیر ہیں۔ سب اس کی مخلوق اور اس کے غلام ہیں۔ کسی کو ایک ذرے کے حرکت میں لانے کی قدرت نہیں۔ گو ساری مخلوق مل کر ارادہ کر لے کہ ایک مکھی پیدا کریں سب عاجز آ جائیں گے اور ہرگز اتنی قدرت بھی نہ پائیں گے۔ وہ سب سے بلند ہے جس پر کوئی چیز نہیں۔ وہ سب سے بڑا ہے جس کے سامنے کسی کی کوئی بڑائی نہیں۔ ہر چیز اس کے سامنے حقیر اور پست ہے۔