تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ اپنی عظمت، کبریائی، جلال، اپنے اسماء و صفاتِ حسنیٰ اور اپنے کامل کلمات کے متعلق بتاتے ہوئے فرماتے ہیں، جن کا نہ کوئی احاطہ کر سکتا ہے اور نہ کسی بشر کو ان کی حقیقت اور شمار کا علم ہے، جیسا کہ سیدالبشر اور خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا أُحْصِيْ ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلٰی نَفْسِكَ] [مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع و السجود؟: ۴۸۶] ”میں تیری ثنا کا شمار نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہے جیسے تو نے خود اپنی ثنا کی ہے۔“ چنانچہ فرمایا: «{ وَ لَوْ اَنَّ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ … }» یعنی اگر زمین کے تمام درخت قلم بنا دیے جائیں اور سمندر کو سیاہی بنا دیا جائے اور اس کے ساتھ سات سمندر مزید بڑھا دیے جائیں اور ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلمات لکھے جائیں، جو اس کی عظمت، جلال اور اس کی صفات پر دلالت کرتے ہیں، تو قلم ٹوٹ جائیں گے، سمندروں کا پانی ختم ہو جائے گا، خواہ ان جیسے جتنے بھی اور لے آئیں۔ ”سات سمندروں“ کا ذکر صرف مبالغہ کے لیے ہے، اس سے حصر مراد نہیں، نہ ہی یہ بات ہے کہ کوئی سات سمندر موجود ہیں جو عالم کو گھیرے ہوئے ہیں، جیسا کہ بعض لوگوں نے کہا ہے جو اسرائیلیات بیان کرتے ہیں، جن کی تصدیق یا تکذیب نہیں ہو سکتی، بلکہ حقیقت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں بیان فرمایا: «{ قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا }» [الکہف: ۱۰۹] ”کہہ دے اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی بن جائے تو یقینا سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے برابر اور سیاہی لے آئیں۔“ چنانچہ اس کی مثل سے مراد اس جیسا ایک اور سمندر نہیں بلکہ اس جیسا، پھر اس جیسا، پھر اس جیسا، اس طرح آگے بڑھاتے جاؤ۔ جتنے بھی سمندر لے آئیں اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے کلمات کا شمار نہیں ہو سکتا۔ حسن بصری نے فرمایا: ”اگر زمین کے تمام درخت قلم بنا دیے جائیں اور سمندر سیاہی ہو جائے اور اللہ تعالیٰ فرمائے کہ ”میرا یہ حکم ہے اور میرا یہ حکم ہے“ تو سمندر کا پانی ختم ہو جائے گا اور قلم ٹوٹ جائیں گے۔“ (ابن کثیر)
➌ { اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب اور زبردست ہے، وہ جو ارادہ کرے کوئی نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اس سے باز پرس کر سکتا ہے، اور وہ کمال حکمت والا ہے، اس کا غلبہ اندھے کی لاٹھی نہیں، بلکہ اس کا ہر کام سراسر حکمت پر مبنی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
{ سید البشر ختم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے «لاَ أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» اے اللہ!میں تیری تعریفوں کا اتنا شمار بھی نہیں کرسکتا جتنی ثناء تو نے اپنے آپ فرمائی ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:486]
پس یہاں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ’ اگر روئے زمین کے تمام تر درخت قلمیں بن جائیں اور تمام سمندر کے پانی سیاہی بن جائیں اور ان کے ساتھ ہی سات سمندر اور بھی ملالئے جائیں اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و صفات جلالت و بزرگی کے کلمات لکھنے شروع کئے جائیں تو یہ تمام قلمیں گھس جائیں ختم ہو جائیں سب سیاہیاں پوری ہو جائیں ختم ہو جائیں لیکن اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی تعریفیں ختم نہ ہوں ‘۔
یہ نہ سمجھا جائے کہ سات سمندر سے زیادہ ہوں تو پھر اللہ کے پورے کلمات لکھنے کے لیے کافی ہو جائیں۔ نہیں یہ گنتی تو زیادتی دکھانے کے لیے ہے۔ اور یہ بھی نہ سمجھا جائے کہ سات سمندر موجود ہیں اور وہ عالم کو گھیرے ہوئے ہیں البتہ بنواسرائیل کی ان سات سمندروں کی بات ایسی روایتیں ہیں لیکن نہ تو انہیں سچ کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی جھٹلایا جا سکتا ہے۔
ہاں جو تفسیر ہم نے کہ ہے اس کی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے «قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا» ۱؎ [18-الكهف:109]، یعنی ’ اگر سمندر سیاہی بن جائیں اور رب کے کلمات کا لکھنا شروع ہو تو کلمات اللہ کے ختم ہونے سے پہلے ہی سمندر ختم ہو جائیں اگرچہ ایسا ہی اور سمندر اس کی مدد میں لائیں ‘۔
پس یہاں بھی مراد صرف اسی جیسا ایک ہی سمندر لانا نہیں بلکہ ویسا ایک پھر ایک اور بھی ویسا ہی پھر ویسا ہی پھر ویسا ہی الغرض خواہ کتنے ہی آجائیں لیکن اللہ کی باتیں ختم نہیں ہو سکتیں۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر اللہ تعالیٰ لکھوانا شروع کرے کہ میرا یہ امر اور یہ امر تو تمام قلمیں ٹوٹ جائیں اور تمام سمندروں کے پانی ختم ہو جائیں۔“ مشرکین کہتے تھے کہ یہ کلام اب ختم ہو جائے گا جس کی تردید اس آیت میں ہو رہی ہے کہ نہ رب کے عجائبات ختم ہوں نہ اس کی حکمت کی انتہا نہ اس کی صفت اور اس کے علم کا آخر۔ تمام بندوں کے علم اللہ کے علم کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ۔ اللہ کی باتیں فنا نہیں ہوتیں نہ اسے کوئی ادراک کر سکتا ہے۔ ہم جو کچھ اس کی تعریفیں کریں وہ ان سے سوا ہے۔
یہود کے علماء نے مدینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ یہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن میں پڑھتے ہیں آیت «وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:85] یعنی ’ تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے ‘، اس سے کیا مراد ہے ہم یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں سب }۔ انہوں نے کہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کلام اللہ شریف کی اس آیت کو کیا کریں گے جہاں فرمان ہے کہ توراۃ میں ہر چیز کا بیان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سنو وہ اور تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ کے کلمات کے مقابلہ میں بہت کم ہے تمہیں کفایت ہو اتنا اللہ تعالیٰ نے نازل فرمادیا ہے }۔ اس پر آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28/49:ضعیف]
اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے تمام اشیاء اس کے سامنے پست و عاجز ہیں کوئی اس کے ارادے کے خلاف نہیں جا سکتا اس کا کوئی حکم ٹل نہیں سکتا اس کی منشاء کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ اپنے افعال اقوال شریعت حکمت اور تمام صفتوں میں سب سے اعلی غالب وقہار ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ تمام لوگوں کا پیدا کرنا اور انہیں مار ڈالنے کے بعد زندہ کر دینا مجھ پر ایسا ہی آسان ہے جیسے کہ ایک شخص کو مارنا اور پیدا کرنا ‘۔ اس کا تو کسی بات کو حکم فرما دینا کافی ہے۔ ایک آنکھ جھپکانے جتنی دیر بھی نہیں لگتی۔ نہ دوبارہ کہنا پڑے نہ اسباب اور مادے کی ضرورت۔
ایک فرمان میں قیامت قائم ہو جائے گی ایک ہی آواز کے ساتھ سب جی اٹھیں گے۔ اللہ تعالیٰ تمام باتوں کا سننے والا ہے سب کے کاموں کا جاننے والا ہے۔ ایک شخص کی باتیں اور اس کے کام جیسے اس پر مخفی نہیں اسی طرح تمام جہان کے معاملات اس سے پوشیدہ نہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أخبر عن سعة كلامِهِ وعظمةِ قوله بشرح يبلغُ من القلوبِ كلَّ مبلغ، وتنبهِرُ له العقول وتحير فيه الأفئدة وتسيح في معرفتِهِ أولو الألباب والبصائر، فقال: {ولو أنَّ ما في الأرض من شجرةٍ أقلامٌ}: يُكتب بها، {والبحرُ يَمُدُّه من بعدِهِ سبعةُ أبحرٍ}: مداداً يستمدُّ بها؛ لتكسَّرت تلك الأقلام، ولفني ذلك المداد، ولم تنفد {كلماتُ الله}: وهذا ليس مبالغةً لا حقيقةَ له، بل لمَّا علم تبارك وتعالى أنَّ العقول تتقاصر عن الإحاطة ببعض صفاته، وعلم تعالى أنَّ معرفته لعباده أفضل نعمةٍ أنعم بها عليهم وأجلُّ منقبةٍ حصَّلوها، وهي لا تمكِنُ على وجهها، ولكن ما لا يُدْرَكُ كلُّه لا يُتْرَكُ كلُّه، فنبَّههم تعالى على بعضها تنبيهاً تستنير به قلوبُهم، وتنشرحُ له صدورُهم، ويستدلُّون بما وصلوا إليه إلى ما لم يصلوا إليه، ويقولون كما قال أفضلُهم، وأعلمُهم بربِّه: «لا نُحْصي ثناءً عليك، أنت كما أثْنَيْتَ على نفسِك »، وإلاَّ؛ فالأمر أجلُّ من ذلك وأعظم.
وهذا التمثيلُ من باب تقريب المعنى الذي لا يُطاق الوصول إليه إلى الأفهام والأذهان، وإلاَّ؛ فالأشجار وإنْ تضاعَفَتْ على ما ذُكِرَ أضعافاً كثيرةً، والبحور لو امتدَّت بأضعاف مضاعفةٍ؛ فإنَّه يُتَصَوَّر نفادها وانقضاؤها؛ لكونها مخلوقةً، وأمَّا كلام الله تعالى؛ فلا يُتَصَوَّرُ نفادُه، بل دلَّنا الدليلُ الشرعيُّ والعقليُّ على أنَّه لا نفاد له ولا منتهى؛ فكل شيء ينتهي إلاَّ الباري وصفاته، {وأنَّ إلى ربِّك المنتهى}، وإذا تصوَّر العقلُ حقيقة أوَّليَّته تعالى وآخريَّته، وأنَّ كلَّ ما فرضه الذهنُ من الأزمان السابقة مهما تسلسل الفرضُ والتقدير؛ فهو تعالى قبل ذلك إلى غير نهاية، وأنَّه مهما فرض الذهنُ والعقل من الأزمان المتأخرة وتسلسلَ الفرضُ والتقديرُ وساعد على ذلك مَنْ ساعد بقلبِهِ ولسانِهِ؛ فالله تعالى بعد ذلك إلى غير غايةٍ ولا نهاية، والله في جميع الأوقات يحكُم ويتكلَّم ويقولُ ويفعل كيف أرادَ، وإذا أراد، لا مانعَ له من شيء من أقواله وأفعاله؛ فإذا تصوَّر العقلُ ذلك؛ عرف أن المثل الذي ضربه الله لكلامه لِيُدْرِكَ العبادُ شيئاً منه، وإلاَّ؛ فالأمرُ أعظم وأجلُّ.
ثم ذكر جلالة عزَّته وكمال حكمتِهِ، فقال: {إنَّ الله عزيزٌ حكيمٌ}؛ أي: له العزَّة جميعاً الذي ما في العالم العلويِّ والسفليِّ من القوَّة إلاَّ منه، هو الذي أعطاها للخلق؛ فلا حول ولا قوَّةَ إلاَّ به، وبعزَّته قهر الخلق كلَّهم، وتصرَّف فيهم ودبَّرهم، وبحكمته خَلَقَ الخلق، وابتدأه بالحكمة، وجعل غايتَه والمقصودَ منه الحكمة، وكذلك الأمرُ والنهي وُجِدَ بالحكمة، وكانت غايتُه المقصودةُ الحكمةَ؛ فهو الحكيم في خلقه وأمره.