ترجمہ و تفسیر — سورۃ لقمان (31) — آیت 27

وَ لَوۡ اَنَّ مَا فِی الۡاَرۡضِ مِنۡ شَجَرَۃٍ اَقۡلَامٌ وَّ الۡبَحۡرُ یَمُدُّہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ سَبۡعَۃُ اَبۡحُرٍ مَّا نَفِدَتۡ کَلِمٰتُ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۷﴾
اور اگر ایسا ہو کہ زمین میں جو بھی درخت ہیں قلمیں ہوں اور سمندر اس کی سیاہی ہو، جس کے بعد سات سمندر اور ہوں تو بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی، یقینا اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والاہے۔ En
اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں اور سمندر (کا تمام پانی) سیاہی ہو (اور) اس کے بعد سات سمندر اور (سیاہی ہو جائیں) تو خدا کی باتیں (یعنی اس کی صفتیں) ختم نہ ہوں۔ بیشک خدا غالب حکمت والا ہے
En
روئے زمین کے (تمام) درختوں کے اگر قلمیں ہو جائیں اور تمام سمندروں کی سیاہی ہو اور ان کے بعد سات سمندر اور ہوں تاہم اللہ کے کلمات ختم نہیں ہو سکتے، بیشک اللہ تعالیٰ غالب اور باحکمت ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 27) ➊ {وَ لَوْ اَنَّ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ …: كَلِمٰتُ كَلِمَةٌ} کی جمع ہے، جس کا معنی کلام ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا [المؤمنون: ۱۰۰] یہ تو ایک بات ہے جسے وہ کہنے والا ہے۔ مراد اللہ تعالیٰ کے دوسرے کلام کے ساتھ ساتھ کلمہ {كُنْ} بھی ہے۔ یہ اس خیال کا رد ہے جو ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا مالک ہے اور وہ غنی ہے، مگر یہ سب کچھ ختم بھی تو ہو سکتا ہے اور جو غنی ہے وہ محتاج بھی تو ہو سکتا ہے۔ اس خیال کے رد میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں کبھی کمی نہیں ہو سکتی اور نہ وہ کبھی محتاج ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ کلمہ کُنْ کہنے سے ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی وہ جو بات چاہے کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔ جس طرح اس کی ذات کی نہ ابتدا ہے نہ انتہا، اسی طرح اس کے کلمات کی نہ ابتدا ہے نہ انتہا اور نہ ان کا شمار ہو سکتا ہے۔ پھر جو مالک ایک کلمہ {كُنْ} کہنے سے سارے عالم کو فنا کر سکتا ہے اور ایک {كُنْ} کہہ کر اس جیسے بلکہ اس سے کہیں بڑے اور اعلیٰ کروڑوں جہاں پیدا کر سکتا ہے اور جس کے کلمات کی کوئی انتہا نہیں اور نہ وہ کبھی ختم ہو سکتے ہیں، ایسے مالک کے ملک کو کبھی زوال ہو سکتا ہے؟ یا وہ کبھی محتاج ہو سکتا ہے؟ نہیں، وہ ہمیشہ سے غنی و حمید ہے اور عزیزو حکیم ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
➋ مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں: اللہ تعالیٰ اپنی عظمت، کبریائی، جلال، اپنے اسماء و صفاتِ حسنیٰ اور اپنے کامل کلمات کے متعلق بتاتے ہوئے فرماتے ہیں، جن کا نہ کوئی احاطہ کر سکتا ہے اور نہ کسی بشر کو ان کی حقیقت اور شمار کا علم ہے، جیسا کہ سیدالبشر اور خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا أُحْصِيْ ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلٰی نَفْسِكَ] [مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع و السجود؟: ۴۸۶] میں تیری ثنا کا شمار نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہے جیسے تو نے خود اپنی ثنا کی ہے۔ چنانچہ فرمایا: «{ وَ لَوْ اَنَّ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ … }» یعنی اگر زمین کے تمام درخت قلم بنا دیے جائیں اور سمندر کو سیاہی بنا دیا جائے اور اس کے ساتھ سات سمندر مزید بڑھا دیے جائیں اور ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلمات لکھے جائیں، جو اس کی عظمت، جلال اور اس کی صفات پر دلالت کرتے ہیں، تو قلم ٹوٹ جائیں گے، سمندروں کا پانی ختم ہو جائے گا، خواہ ان جیسے جتنے بھی اور لے آئیں۔ سات سمندروں کا ذکر صرف مبالغہ کے لیے ہے، اس سے حصر مراد نہیں، نہ ہی یہ بات ہے کہ کوئی سات سمندر موجود ہیں جو عالم کو گھیرے ہوئے ہیں، جیسا کہ بعض لوگوں نے کہا ہے جو اسرائیلیات بیان کرتے ہیں، جن کی تصدیق یا تکذیب نہیں ہو سکتی، بلکہ حقیقت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں بیان فرمایا: «{ قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا [الکہف: ۱۰۹] کہہ دے اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی بن جائے تو یقینا سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے برابر اور سیاہی لے آئیں۔ چنانچہ اس کی مثل سے مراد اس جیسا ایک اور سمندر نہیں بلکہ اس جیسا، پھر اس جیسا، پھر اس جیسا، اس طرح آگے بڑھاتے جاؤ۔ جتنے بھی سمندر لے آئیں اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے کلمات کا شمار نہیں ہو سکتا۔ حسن بصری نے فرمایا: اگر زمین کے تمام درخت قلم بنا دیے جائیں اور سمندر سیاہی ہو جائے اور اللہ تعالیٰ فرمائے کہ میرا یہ حکم ہے اور میرا یہ حکم ہے تو سمندر کا پانی ختم ہو جائے گا اور قلم ٹوٹ جائیں گے۔ (ابن کثیر)
➌ { اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب اور زبردست ہے، وہ جو ارادہ کرے کوئی نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اس سے باز پرس کر سکتا ہے، اور وہ کمال حکمت والا ہے، اس کا غلبہ اندھے کی لاٹھی نہیں، بلکہ اس کا ہر کام سراسر حکمت پر مبنی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

27-1اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی، جلالت شان، اس کے اسمائے حسنٰی اور صفات عالیہ اور اس کی عظمتوں کا بیان ہے کہ وہ اتنے ہیں کہ کسی کے لئے ان کا احاطہ یا ان سے آگاہی یا ان کی حقیقت تک پہنچنا ممکن ہی نہیں اگر ان کا شمار کرنا حیطہ تحریر میں لانا چاہے، تو دنیا بھر کے درختوں کے قلم گھس جائیں، سمندروں کے پانی سے بنائی ہوئی سیاہی ختم ہوجائے، لیکن اللہ کی معلومات، اس کی تخلیق و صنعت کے عجائبات اور عظمت و جلالت کے مظاہر کو شمار نہیں کیا جاسکتا۔ سات سمندر بطور مبالغہ ہے، حصر مراد نہیں (ابن کثیر) اس لیے کہ اللہ کی آیات و کلمات کا حصر و احصاء ممکن ہی نہیں ہے۔ اسی مفہوم کی ایک آیت سورة کہف کے آخر میں گزر چکی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

27۔ زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب قلمیں بن جائیں اور سمندر روشنائی بن جائے پھر اس کے بعد سات مزید سمندر بھی روشنائی مہیا کریں تو بھی اللہ کی باتیں [35] ختم نہ ہوں گی۔ بلا شبہ اللہ غالب اور حکمت والا ہے
[35] اللہ کے کلمات سے مراد اور اللہ کے کلمات لا تعداد ہیں:۔
اللہ کے کلمات سے مراد اس کے تخلیقی کارنامے، اس کے عجائبات، کرشمے اور اس کی خوبیاں ہیں۔ اور ان کے بے شمار پہلو ہیں۔ مثلاً انسان کے اندر کی دنیا کے عجائبات اور بیرونی دنیا کے عجائبات۔ انسان کی عقل اور علم ان دونوں میں کسی کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے۔ اور جو کچھ وہ جان سکا ہے اسے بھی ضبط تحریر میں لانا نا ممکن ہے اور نہ بیان کیا جا سکتا ہے۔ جہاں انسان کی عقل اور اس کا علم خود ہی ورطہ حیرت میں پڑ جاتے ہیں اسے وہ لکھے گا کیا اور بیان کیا کر سکتا ہے۔ پھر یہ ایک نوع انسان ہی کی بات نہیں جو اربوں کی تعداد میں دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ حیوانات کی تقریباً دس لاکھ انواع ایسی ہیں جو انسان کے علم میں آچکی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی جسمانی ساخت اور نظام زیست دوسری تمام انواع سے الگ ہے۔ یہی حال نباتات اور جمادات اور سمندری مخلوق کا ہے پھر بہت سی ایسی مخلوق ہے جو انسان کے علم میں آہی نہیں سکی اور نہ آسکتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے یہ تخلیقی کارنامے ختم نہیں ہو گئے بلکہ ہر آن جاری ہیں۔ اور اس کی مخلوق میں ہر آن ترقی اور اضافہ ہو رہے۔ جیسا کہ بعض دوسری آیات مثلاً 51: 47 اور 55: 29 میں یہ صراحت موجود ہے۔ لہٰذا اس آیت میں جو یہ بیان ہوا ہے کہ تمام درختوں کی قلمیں بنا لی جائیں اور سارے سمندر بلکہ اتنے اور بھی سیاہی بن جائیں تو یہ چیزیں تو ختم ہو سکتی ہیں مگر اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ اس میں کچھ مبالغہ معلوم نہیں ہوتا۔ وجہ یہ ہے کہ ان چیزوں کی خواہ کتنی ہی زیادہ تعداد ہو بہرحال وہ محدود ہے اور ان کا شمار کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ اللہ کے کلمات لامحدود ہیں۔ جن کا کچھ حد و حساب ممکن نہیں۔ اور یہ تو مسلمہ امر ہے کہ محدود چیز لا محدود کا کبھی احاطہ نہیں کر سکتی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

حمد و ثنا کا حق ادا کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ٭٭
اللہ رب العلمین اپنی عزت کبریائی، بڑائی اور بزرگی، جلالت اور شان بیان فرما رہا ہے۔ اپنی پاک صفتیں اپنے بلند ترین نام اور اپنے بے شمار کلمات کا ذکر فرما رہا ہے جنہیں نہ کوئی گن سکے نہ شمار کر سکے نہ ان پر کسی کا احاطہٰ ہو نہ ان کی حقیقت کو کوئی پاسکے۔
{ سید البشر ختم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے «‏‏‏‏لاَ أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» اے اللہ!میں تیری تعریفوں کا اتنا شمار بھی نہیں کرسکتا جتنی ثناء تو نے اپنے آپ فرمائی ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:486]‏‏‏‏
پس یہاں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ’ اگر روئے زمین کے تمام تر درخت قلمیں بن جائیں اور تمام سمندر کے پانی سیاہی بن جائیں اور ان کے ساتھ ہی سات سمندر اور بھی ملالئے جائیں اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و صفات جلالت و بزرگی کے کلمات لکھنے شروع کئے جائیں تو یہ تمام قلمیں گھس جائیں ختم ہو جائیں سب سیاہیاں پوری ہو جائیں ختم ہو جائیں لیکن اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی تعریفیں ختم نہ ہوں ‘۔
یہ نہ سمجھا جائے کہ سات سمندر سے زیادہ ہوں تو پھر اللہ کے پورے کلمات لکھنے کے لیے کافی ہو جائیں۔ نہیں یہ گنتی تو زیادتی دکھانے کے لیے ہے۔ اور یہ بھی نہ سمجھا جائے کہ سات سمندر موجود ہیں اور وہ عالم کو گھیرے ہوئے ہیں البتہ بنواسرائیل کی ان سات سمندروں کی بات ایسی روایتیں ہیں لیکن نہ تو انہیں سچ کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی جھٹلایا جا سکتا ہے۔
ہاں جو تفسیر ہم نے کہ ہے اس کی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے «‏‏‏‏قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا» ۱؎ [18-الكهف:109]‏‏‏‏، یعنی ’ اگر سمندر سیاہی بن جائیں اور رب کے کلمات کا لکھنا شروع ہو تو کلمات اللہ کے ختم ہونے سے پہلے ہی سمندر ختم ہو جائیں اگرچہ ایسا ہی اور سمندر اس کی مدد میں لائیں ‘۔
پس یہاں بھی مراد صرف اسی جیسا ایک ہی سمندر لانا نہیں بلکہ ویسا ایک پھر ایک اور بھی ویسا ہی پھر ویسا ہی پھر ویسا ہی الغرض خواہ کتنے ہی آجائیں لیکن اللہ کی باتیں ختم نہیں ہو سکتیں۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ لکھوانا شروع کرے کہ میرا یہ امر اور یہ امر تو تمام قلمیں ٹوٹ جائیں اور تمام سمندروں کے پانی ختم ہو جائیں۔‏‏‏‏ مشرکین کہتے تھے کہ یہ کلام اب ختم ہو جائے گا جس کی تردید اس آیت میں ہو رہی ہے کہ نہ رب کے عجائبات ختم ہوں نہ اس کی حکمت کی انتہا نہ اس کی صفت اور اس کے علم کا آخر۔ تمام بندوں کے علم اللہ کے علم کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے سمندر کے مقابلہ میں ایک قطرہ۔ اللہ کی باتیں فنا نہیں ہوتیں نہ اسے کوئی ادراک کر سکتا ہے۔ ہم جو کچھ اس کی تعریفیں کریں وہ ان سے سوا ہے۔
یہود کے علماء نے مدینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ یہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن میں پڑھتے ہیں آیت «وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:85]‏‏‏‏ یعنی ’ تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے ‘، اس سے کیا مراد ہے ہم یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں سب }۔ انہوں نے کہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کلام اللہ شریف کی اس آیت کو کیا کریں گے جہاں فرمان ہے کہ توراۃ میں ہر چیز کا بیان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سنو وہ اور تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ کے کلمات کے مقابلہ میں بہت کم ہے تمہیں کفایت ہو اتنا اللہ تعالیٰ نے نازل فرمادیا ہے }۔ اس پر آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28/49:ضعیف]‏‏‏‏
لیکن اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہونی چاہیئے حالانکہ مشہور یہ ہے کہ یہ آیت مکی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے تمام اشیاء اس کے سامنے پست و عاجز ہیں کوئی اس کے ارادے کے خلاف نہیں جا سکتا اس کا کوئی حکم ٹل نہیں سکتا اس کی منشاء کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ اپنے افعال اقوال شریعت حکمت اور تمام صفتوں میں سب سے اعلی غالب وقہار ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ تمام لوگوں کا پیدا کرنا اور انہیں مار ڈالنے کے بعد زندہ کر دینا مجھ پر ایسا ہی آسان ہے جیسے کہ ایک شخص کو مارنا اور پیدا کرنا ‘۔ اس کا تو کسی بات کو حکم فرما دینا کافی ہے۔ ایک آنکھ جھپکانے جتنی دیر بھی نہیں لگتی۔ نہ دوبارہ کہنا پڑے نہ اسباب اور مادے کی ضرورت۔
ایک فرمان میں قیامت قائم ہو جائے گی ایک ہی آواز کے ساتھ سب جی اٹھیں گے۔ اللہ تعالیٰ تمام باتوں کا سننے والا ہے سب کے کاموں کا جاننے والا ہے۔ ایک شخص کی باتیں اور اس کے کام جیسے اس پر مخفی نہیں اسی طرح تمام جہان کے معاملات اس سے پوشیدہ نہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی وسعت اور اپنے قول کی عظمت کو ایسی شرح کے ساتھ بیان کیا جو دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے، جس سے عقل و خرد حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں اور عقل مند اور اصحاب بصیرت اس کی معرفت میں سیاحت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿وَلَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌؔ اور اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں۔ جن کے ساتھ لکھا جائے ﴿وَّالْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ اور سمندر روشنائی ہو اور اس کے بعد سات سمندر اور روشنائی بن جائیں جن سے لکھنے میں مدد لی جائے تو قلم ٹوٹ جائیں گے اور یہ روشنائی ختم ہو جائے گی لیکن ﴿كَلِمٰتُ اللّٰهِ اللہ تعالیٰ کی باتیں لکھنے سے کبھی ختم نہ ہوں گی۔
یہ مبالغہ نہیں ہے، جس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ عقل انسانی اللہ کی بعض صفات کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے اور وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے اس کی معرفت سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے انھیں سرفراز کیا ہے اور سب سے بڑی منقبت ہے جو انھیں حاصل ہوئی ہے جس کا کامل طور پر ادراک ممکن نہیں، مگر جس چیز کا کامل ادراک ممکن نہ ہو اس کو کامل طور پر ترک نہیں کیا جا سکتا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان میں سے بعض صفات کی طرف اس طرح توجہ دلائی ہے جس سے ان کے قلب منور ہوتے ہیں اور انھیں شرح صدر حاصل ہوتی ہے وہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے جس پر وہ نہیں پہنچے، اس چیز سے راہ نمائی لیتے ہیں جس تک وہ پہنچ چکے ہیں۔ اور وہ اسی طرح کہتے ہیں جیسے ان میں سے بہترین انسان اور اپنے رب کی سب سے زیادہ معرفت رکھنے والی ہستی نے کہا: ’لَا نُحْصِي ثَنَاءً عَلَیْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ،(اصل لفظ (لَا اُحْصِي) ہے اور یہ مؤلف رحمہ اللہ کی سبقت قلم ہے) ہم تیری ثنا بیان نہیں کر سکتے، تو ایسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی ثنا بیان کی۔(صحیح مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع والسجود؟، ح: 486) ورنہ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ اس سے جلیل تر اور عظیم تر ہے۔
یہ تمثیل ان معانی کو قریب کرنے کے باب میں سے ہے جہاں تک پہنچنے کی ذہن اور فہم طاقت نہیں رکھتا۔ ورنہ اگر درختوں کو کئی گنا کر لیا جائے اور سمندروں کو بھی کئی گنا کر کے ان کی روشنائی بنا لی جائے تب بھی ان کے ختم ہونے کا تو تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ مخلوق ہیں... رہا اللہ تبارک و تعالیٰ کا کلام، تو اس کے ختم ہونے کا تصور نہیں کیا جا سکتا بلکہ عقلی اور نقلی دلیل دلالت کرتی ہے کہ اس کا کلام ختم ہوتا ہے نہ اس کی کوئی انتہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کے سوا باقی ہر چیز کی انتہا ہے۔ ﴿وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْ٘مُنْ٘تَهٰى (النجم:53؍42) اور تیرے رب ہی کے پاس پہنچنا ہے۔
جب عقل اللہ تعالیٰ کی اولیت اور آخریت کا تصور کرے تو، ذہن گزرے ہوئے زمانوں کو فرض کرے۔ وہ ازمان گزشتہ کا جتنا بھی اندازہ لگائے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بھی پہلے ہے جس کا کوئی منتہیٰ نہیں۔ اسی طرح عقل وذہن میں آنے والے زمانوں کے بارے میں خواہ کتنا ہی اندازہ کر لیں اور قلب و زبان کے ذریعے سے اس کی مدد بھی لے لیں، اللہ تعالیٰ ان کے ان اندازوں سے بھی زیادہ متأخر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے تمام اوقات میں فیصلہ کرتا ہے، کلام کرتا ہے، وہ جیسے چاہتا ہے اور جب چاہتا ہے اپنا قول و فعل صادر کرتا ہے اسے اپنے اقوال و افعال سے کوئی چیز مانع نہیں۔ جب عقل نے اس حقیقت کا تصور کر لیا تو معلوم ہوا کہ یہ مثال جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ضمن میں بیان کی ہے صرف اس لیے ہے کہ بندوں کو اس کا تھوڑا سا ادراک ہو جائے ورنہ اللہ تعالیٰ کا کلام اس سے عظیم تر اور جلیل تر ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عزت کے جلال اور کمال حکمت کا ذکر کیا فرمایا: ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔ یعنی تمام عزت و غلبے کا وہی مالک ہے تمام عالم علوی اور عالم سفلی میں جو بھی قوت پائی جاتی ہے وہ اسی کی طرف سے ہے، وہی ہے جس کی توفیق کے بغیر گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت ہے۔ وہ اپنے غلبے کے ذریعے سے تمام مخلوق پر غالب ہے، ان میں تصرف اور ان کی تدبیرکرتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت سے تمام مخلوق کو پیدا کیا۔ اس تخلیق سے اس کی غرض و غایت اور مقصد بھی حکمت ہی ہے اسی طرح امرونہی بھی اس کی حکمت ہی سے وجود میں آئے ہیں، اور ان کو وجود میں لانے کی غایت مقصود بھی حکمت ہی ہے۔ پس وہ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أخبر عن سعة كلامِهِ وعظمةِ قوله بشرح يبلغُ من القلوبِ كلَّ مبلغ، وتنبهِرُ له العقول وتحير فيه الأفئدة وتسيح في معرفتِهِ أولو الألباب والبصائر، فقال: {ولو أنَّ ما في الأرض من شجرةٍ أقلامٌ}: يُكتب بها، {والبحرُ يَمُدُّه من بعدِهِ سبعةُ أبحرٍ}: مداداً يستمدُّ بها؛ لتكسَّرت تلك الأقلام، ولفني ذلك المداد، ولم تنفد {كلماتُ الله}: وهذا ليس مبالغةً لا حقيقةَ له، بل لمَّا علم تبارك وتعالى أنَّ العقول تتقاصر عن الإحاطة ببعض صفاته، وعلم تعالى أنَّ معرفته لعباده أفضل نعمةٍ أنعم بها عليهم وأجلُّ منقبةٍ حصَّلوها، وهي لا تمكِنُ على وجهها، ولكن ما لا يُدْرَكُ كلُّه لا يُتْرَكُ كلُّه، فنبَّههم تعالى على بعضها تنبيهاً تستنير به قلوبُهم، وتنشرحُ له صدورُهم، ويستدلُّون بما وصلوا إليه إلى ما لم يصلوا إليه، ويقولون كما قال أفضلُهم، وأعلمُهم بربِّه: «لا نُحْصي ثناءً عليك، أنت كما أثْنَيْتَ على نفسِك »، وإلاَّ؛ فالأمر أجلُّ من ذلك وأعظم.

وهذا التمثيلُ من باب تقريب المعنى الذي لا يُطاق الوصول إليه إلى الأفهام والأذهان، وإلاَّ؛ فالأشجار وإنْ تضاعَفَتْ على ما ذُكِرَ أضعافاً كثيرةً، والبحور لو امتدَّت بأضعاف مضاعفةٍ؛ فإنَّه يُتَصَوَّر نفادها وانقضاؤها؛ لكونها مخلوقةً، وأمَّا كلام الله تعالى؛ فلا يُتَصَوَّرُ نفادُه، بل دلَّنا الدليلُ الشرعيُّ والعقليُّ على أنَّه لا نفاد له ولا منتهى؛ فكل شيء ينتهي إلاَّ الباري وصفاته، {وأنَّ إلى ربِّك المنتهى}، وإذا تصوَّر العقلُ حقيقة أوَّليَّته تعالى وآخريَّته، وأنَّ كلَّ ما فرضه الذهنُ من الأزمان السابقة مهما تسلسل الفرضُ والتقدير؛ فهو تعالى قبل ذلك إلى غير نهاية، وأنَّه مهما فرض الذهنُ والعقل من الأزمان المتأخرة وتسلسلَ الفرضُ والتقديرُ وساعد على ذلك مَنْ ساعد بقلبِهِ ولسانِهِ؛ فالله تعالى بعد ذلك إلى غير غايةٍ ولا نهاية، والله في جميع الأوقات يحكُم ويتكلَّم ويقولُ ويفعل كيف أرادَ، وإذا أراد، لا مانعَ له من شيء من أقواله وأفعاله؛ فإذا تصوَّر العقلُ ذلك؛ عرف أن المثل الذي ضربه الله لكلامه لِيُدْرِكَ العبادُ شيئاً منه، وإلاَّ؛ فالأمرُ أعظم وأجلُّ.

ثم ذكر جلالة عزَّته وكمال حكمتِهِ، فقال: {إنَّ الله عزيزٌ حكيمٌ}؛ أي: له العزَّة جميعاً الذي ما في العالم العلويِّ والسفليِّ من القوَّة إلاَّ منه، هو الذي أعطاها للخلق؛ فلا حول ولا قوَّةَ إلاَّ به، وبعزَّته قهر الخلق كلَّهم، وتصرَّف فيهم ودبَّرهم، وبحكمته خَلَقَ الخلق، وابتدأه بالحكمة، وجعل غايتَه والمقصودَ منه الحكمة، وكذلك الأمرُ والنهي وُجِدَ بالحكمة، وكانت غايتُه المقصودةُ الحكمةَ؛ فهو الحكيم في خلقه وأمره.