ترجمہ و تفسیر — سورۃ لقمان (31) — آیت 20

اَلَمۡ تَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمۡ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ وَ اَسۡبَغَ عَلَیۡکُمۡ نِعَمَہٗ ظَاہِرَۃً وَّ بَاطِنَۃً ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ وَّ لَا ہُدًی وَّ لَا کِتٰبٍ مُّنِیۡرٍ ﴿۲۰﴾
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے تمھاری خاطر مسخر کر دیا اور تم پر اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں پوری کر دیں، اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم اور بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے جھگڑا کرتا ہے۔ En
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو خدا نے تمہارے قابو میں کر دیا ہے اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں۔ اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں نہ علم رکھتے ہیں اور نہ ہدایت اور نہ کتاب روشن
En
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان کی ہر چیز کو ہمارے کام میں لگا رکھا ہے اور تمہیں اپنی ﻇاہری وباطنی نعمتیں بھرپور دے رکھی ہیں، بعض لوگ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے جھگڑا کرتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 20) ➊ {اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ: اَلَمْ تَرَوْا } کا معنی {اَلَمْ تَعْلَمُوْا} (کیا تم نے جانا) ہے، کیونکہ انسان نے آسمان و زمین کی ہر چیز کو اپنی آنکھوں سے اپنی خاطر مسخر شدہ نہیں دیکھا، مگر اس کے لیے دیکھنے کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا کہ یہ بات اتنی واضح ہے جیسے آنکھوں سے دیکھی ہوئی بات ہوتی ہے۔ (بقاعی) { سَخَّرَ لَكُمْ } میں لام انتفاع کا ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے تمھاری خاطر مسخر کر دیا کیونکہ چند چیزیں اگر انسان کے کسی حد تک تابع فرمان ہیں، جیسے چوپائے وغیرہ کہ انسان ان سے جس طرح چاہے فائدہ اٹھا سکتا ہے، تو بے شمار چیزیں ایسی ہیں جن پر انسان کا کوئی اختیار نہیں۔ انھیں انسان کی خاطر مسخر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں پابند کر دیا ہے کہ وہ سب اس کے فائدے اور خدمت کے لیے کام کریں، جیسے سورج، چاند، ستارے بلکہ فرشتے بھی جو اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ موذی جانور بھی آخر کار کسی نہ کسی طرح انسان کے فائدے کے لیے ہیں، حتیٰ کہ ابلیس بھی کہ وہ نہ ہوتا تو نہ آزمائش کا سلسلہ ہوتا، نہ اس میں کامیاب ہو کر انسان ہمیشہ کی جنت کا وارث بن سکتا۔ وہ لوگ اپنی حیثیت سے بہت بڑھ کر بولتے ہیں جو کہتے ہیں کہ آدمی سائنس کے ساتھ کائنات کو مسخر کر سکتا ہے۔ کائنات تو بہت دور کی بات ہے، یہ حضرات اپنے دل کی دھڑکن ہی کو مسخر کر کے دکھائیں، یا بچپن سے جوانی، پھر بڑھاپے کی منزلوں کو تابع فرمان بنا کر دکھائیں، چلیں موت ہی کو مسخر کر لیں۔ فرمایا: «{ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ اِنْ يَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا [الکہف: ۵] (یہ بات) بولنے میں بڑی ہے، جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہے، وہ سراسر جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کہتے۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کی دلیل { خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا} بیان فرمائی تھی، اب زمین و آسمان کی ہر چیز کو انسان کے فائدے کے لیے مسخر کرنے کو اپنی توحید کی دلیل کے طور پر بیان فرمایا کہ سوچو! اس خلق یا تسخیر میں تمھارے کسی معبود کا ذرہ برابر بھی دخل ہے؟
➋ {وَ اَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً:} کھلی نعمتوں سے مراد وہ نعمتیں ہیں جن کا انسان اپنے حواس سے مشاہدہ کرتا ہے، یا وہ عقل سے معلوم ہوتی ہیں، یا اسے کسی کے بتانے سے معلوم ہوتی ہیں اور چھپی نعمتوں سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو انسان کے جسم کے اندر یا باہر اس کے مفاد کے لیے کام کر رہی ہیں، جن کا اسے شعور تک نہیں کہ اس کے پروردگار نے اس کے رزق، اس کی نشوونما اور حفاظت کے لیے کیا کچھ سامان فراہم کر رکھا ہے۔ مثلاً انسان کھانا کھا کر فارغ ہو جاتا ہے، اسے کچھ خبر نہیں کہ اس کے اندر کتنی مشینیں اسے ہضم کرنے، جزو بدن بنانے اور اس کے فضلے کو خارج کرنے کے لیے پوری مستعدی کے ساتھ مصروف عمل ہو جاتی ہیں۔ سائنس کے مختلف شعبوں میں جیسے جیسے تحقیق آگے بڑھتی جا رہی ہے اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں انسان کے سامنے بے نقاب ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ تو ہوئیں دنیوی اور مادی نعمتیں، دینی اور روحانی نعمتیں جو ظاہر اور پوشیدہ ہیں، وہ ان کے علاوہ ہیں اور ان سے کہیں زیادہ ہیں، جیسا کہ اسلام، قرآن، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت وغیرہ۔ رازی نے { ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً } کی ایک سادہ سی پُر لطف توجیہ کی ہے، وہ فرماتے ہیں: ظاہری نعمتوں سے مراد اعضائے انسانی کا سلامت ہونا ہے اور باطنی نعمتوں سے مراد وہ قوتیں ہیں جو ان اعضا میں ودیعت کی گئی ہیں۔ دیکھیے آنکھ، کان، ناک اور زبان سب چربی، گوشت، ہڈی اور پٹھوں سے بنے ہیں، جو صاف نظر آتے ہیں، مگر ان میں دیکھنے، سننے، سونگھنے، چکھنے اور بولنے کی قوتیں باطنی نعمتیں ہیں۔ بعض اوقات باطنی نعمت مثلاً بینائی، شنوائی ختم ہو جاتی ہے، جب کہ ظاہری عضو، مثلاً آنکھ یا کان سلامت رہتا ہے۔ یہی حال ہر عضو کا ہے۔
➌ {وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ …:} یعنی کچھ لوگ ایسے ہیں جو خلق، تسخیر اور دوسری بے شمار ظاہری و باطنی نعمتوں کے دلائل سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ثابت ہو چکنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات میں جھگڑتے اور بحثیں کرتے ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ موجود بھی ہے یا نہیں؟ اور ہے تو ایک ہے یا اس کے ساتھ دوسرے بھی خدائی میں شریک ہیں؟ اور اس کی صفات کیا ہیں؟
➍ {بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ:} علم حاصل کرنے کے تین مراتب ہیں، پہلا اپنی جدوجہد اور غوروفکر سے معلوم کرنا، دوسرا کسی علم والے سے رہنمائی حاصل کر لینا اور تیسرا کسی درست کتاب کے مطالعہ سے علم حاصل کر لینا۔ مشرکین کا حال یہ ہے کہ نہ ان کے پاس خود کوئی علم یا سمجھ بوجھ ہے جس کی بنا پر وہ حقیقت کو سمجھ سکیں، نہ انھیں کسی سچے راہ نما کی راہ نمائی حاصل ہے اور نہ ان کے پاس خود اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کوئی کتاب موجود ہے جس سے انھوں نے یہ عقیدہ اخذ کیا ہو۔ بلکہ علم کے تینوں ذرائع سے محرومی کے بعد ان کی کل کائنات تقلید آباء ہے اور وہ اندھا دھند ان کے پیچھے چلے جا رہے ہیں۔
➎ حافظ صاحبان یاد رکھیں کہ{ اَلَمْ تَرَوْا } قرآن مجید میں صرف دو جگہ آیا ہے، ایک اس آیت میں اور دوسرا سورۂ نوح میں: «{ اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ‏‏‏‏ [نوح: ۱۵] ان کے علاوہ ہر جگہ واحد کے صیغے کے ساتھ { اَلَمْ تَرَ} ہی آیا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

20-1تسخیر کا مطلب ہے انتفاع (فائدہ اٹھانا) جس کو ' یہاں کام سے لگا دیا ' سے تعبیر کیا گیا ہے جیسے آسمانی مخلوقْ، چاند، سورج، ستارے وغیرہ ہیں، انھیں اللہ تعالیٰ نے ایسے ضابطوں کا پابند بنادیا ہے کہ یہ انسانوں کے لئے کام کر رہے ہیں اور انسان ان سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ دوسرا مطلب تسخیر کا تابع بنادینا ہے۔ چناچہ بہت سی زمینی مخلوق کو انسان کے تابع بنادیا گیا ہے جنہیں انسان اپنی حسب منشا استعمال کرتا ہے جیسے زمین اور حیوانات وغیرہ ہیں، گویا تسخیر کا مفہوم یہ ہوا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں انسانوں کے فائدے کے لئے کام میں لگی ہوئی ہیں، چاہے وہ انسان کے تابع اور اس کے زیر اثر تصرف ہوں یا اس کے تصرف اور تابعیت سے بالا ہوں۔ (فتح القدیر) 20-2ظاہری سے وہ نعمتیں مراد ہیں جن کا ادراک عقل، حواس وغیرہ سے ممکن ہو اور باطنی نعمتیں وہ جن کا ادراک و احساس انسان کو نہیں۔ یہ دونوں قسم کی نعمتیں اتنی ہیں کہ انسان ان کو شمار بھی نہیں کرسکتا۔ 20-3یعنی اس کے باوجود لوگ اللہ کی بابت جھگڑتے ہیں، کوئی اس کے وجود کے بارے میں کوئی اس کے ساتھ شریک گرداننے میں اور کوئی اس کے احکام و شرائع کے بارے میں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ نے تمہارے لئے کام [26] پر لگا دیا ہے اور اس نے اپنی تمام ظاہری و باطنی [27] نعمتیں تم پر پوری کر دی ہیں (اس کے باوجود) لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو اللہ کے بارے میں جھگڑا کرتا ہے جبکہ اس کے پاس نہ علم ہے نہ ہدایت اور نہ کوئی روشنی [28] دکھانے والی کتاب ہے۔
[26] تسخیر کائنات کا مفہوم:۔
تسخیر کائنات کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ کائنات کی ہر چیز انسان کی خادم ہے اور انسان مخدوم ہے۔ زمین، سمندر، پانی، ہوائیں، پہاڑ، چاند، سورج، ستارے یہی موٹی موٹی اشیائے کائنات گنی جاتی ہیں۔ ان کے انسان کا خادم ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اگر ان میں سے ایک چیز بھی نہ ہو تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ مگر انسان کے بغیر ان چیزوں میں سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگڑتا۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ زمین میں جتنی بھی اشیاء موجود ہیں۔ خواہ وہ جمادات ہو یا نباتات ہوں یا حیوانات ہوں اللہ نے انسان کو اتنی عقل عطا فرما دی ہے کہ وہ ان میں سے جس کو چاہے اپنے قابو میں لا سکتا ہے اور اس سے حسب ضرورت فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ وہیں وہ چیزیں جن کا تعلق زمین سے نہیں مثلاً سورج، چاند، ستارے اور ہوائیں وغیرہ تو ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے قوانین بنا دیئے ہیں اور انھیں ایسے نظم و ضبط سے جکڑ رکھا ہے کہ انسان ان سے فائدے اٹھا سکتا ہے۔ اور اپنے معمولات زندگی اور کاروبار وغیرہ ٹھیک طرح سے سرانجام دے سکتا ہے۔ وہ مدتوں پہلے یہ معلوم کر سکتا ہے کہ سورج گرہن یا چاند گرہن کب لگے گا۔ بحر و بر کی تاریکیوں میں وقت اور راستے اور سمتیں معلوم کر سکتا ہے یعنی کہ ہزارہا سال بعد تک کے لئے تقویم بھی تیار کر سکتا ہے۔ اور نت نئی سے نئی ایجادات بھی وجود میں لا سکتا ہے اور یہی تسخیر کائنات کا مطلب ہے۔ تسخیر کائنات کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان پہلے اپنے قریبی سیارہ چاند پر پہنچنے کی کوشش کرے پھر دوسرے سیاروں پر پہنچنے میں اپنی قیمتی عمر برباد کرے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ:
تو کار جہاں را نکو ساختی
کہ با آسمان نیز پرداختی؟
یعنی اس دنیا میں جو تیرے کرنے کے کام تھے کیا تو انھیں بخوبی سرانجام دے چکا ہے کہ اب تجھے آسمان پر اڑنے کی فکر پڑ گئی ہے۔
[27] ظاہری اور باطنی نعمتوں سے مراد؟
ظاہری نعمتیں وہ ہیں جن کو ہم حواس خمسہ کے ذریعہ معلوم کر سکتے ہیں۔ اور ان کا تعلق ہماری مادی زندگی اور معاشیات وغیرہ سے ہے۔ اور یہ بھی لاتعداد ہیں۔ اور باطنی سے مراد وہ نعمتیں ہیں جن سے ہماری اخلاقی تربیت ہوتی ہے اور روح کا تزکیہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی لاتعداد اور ان کا ذریعہ معلومات وحی الٰہی ہے۔ پھر کچھ ایسی نعمتیں ہیں جن کا تعلق دونوں سے ہے۔ مثلاً آنکھ سے ہم دیکھتے ہیں یہ آنکھ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ لیکن قوت باصرہ کا علم اس سے علیحدہ چیز ہے اسی طرح انسان کی قوت سامعہ، قوت ہاضمہ، قوت متخیلہ، قوت دافعہ وغیرہ بے شمار قوتیں انسان کے جسم کے اندر کام کر رہی ہیں۔ اگر یہ ٹھیک کام کرتی رہیں تو انسان تندرست رہتا ہے اگر ان میں سے کسی ایک میں بھی گڑ بڑ ہو جائے تو انسان بیمار پڑ جاتا ہے۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔ یہی وہ قسما قسم کی نعمتیں ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خود ہی فرما دیا کہ ”اگر تم اللہ کی نعمتیں گننا چاہو بھی تو کبھی ان کو شمار نہ کر سکو گے“ [14: 24، 16: 18]
[28] یعنی اللہ کی ان گنت نعمتوں کے باوجود کچھ لوگ ایسے نمک حرام ہیں کہ اللہ کے بارے میں بحث کرنے لگتے ہیں کہ اللہ کی ذات موجود بھی ہے یا نہیں یا اس کی صفات اور قدرتوں میں جھگڑا کرنے لگتے ہیں۔ [اس آيت كي تشريح كے لئے ديكهئے سورة حج كي آيت نمبر 8 كا حاشيه نمبر 8]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

انعام و اکرام کی بارش ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی نعمتوں کا اظہار فرما رہا ہے کہ ’ دیکھو آسمان کے ستارے تمہارے لیے کام میں مشغول ہیں چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں بادل بارش اولے خنکی سب تمہارے نفع کی چیزیں ہیں خود آسمان تمہارے لیے محفوظ اور مضبوط چھت ہے۔ زمین کی نہریں چشمے دریا سمندر درخت کھیتی پھل یہ سب نعمتیں بھی اسی نے دے رکھی ہیں ‘۔
پھر ان ظاہری بے شمار نعمتوں کے علاوہ باطنی بےشمار نعمتیں بھی اسی نے تمہیں دے رکھی ہیں مثلا رسولوں کا بھیجنا کتابوں کانازل فرمانا شک و شبہ وغیرہ دلوں سے دور کرنا وغیرہ۔
اتنی بڑی اور اتنی ساری نعمتیں جس نے دے رکھی ہیں حق یہ تھا کہ اس کی ذات پر سب کے سب ایمان لاتے لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ اب تک اللہ کے بارے میں یعنی اس کی توحید اور اس کے رسولوں کی رسالت کے بارے ہی میں الجھ رہے ہیں اور محض جہالت سے ضلالت سے بغیر کسی سند اور دلیل کے اڑے ہوئے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ وحی کی اتباع کرو تو بڑی بے حیائی سے جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اپنے اگلوں کی تقلید کریں گے گو ان کے باپ دادے محض بےعقل اور بے راہ شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوئے تھے اور اس نے انہیں دوزخ کی راہ پر ڈال دیا تھا یہ تھے ان کے سلف اور یہ ہیں ان کے خلف۔