ترجمہ و تفسیر — سورۃ لقمان (31) — آیت 13

وَ اِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِابۡنِہٖ وَ ہُوَ یَعِظُہٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشۡرِکۡ بِاللّٰہِ ؕؔ اِنَّ الشِّرۡکَ لَظُلۡمٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۳﴾
اور جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا، جب کہ وہ اسے نصیحت کر رہا تھا اے میرے چھوٹے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا، بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے۔ En
اور (اُس وقت کو یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا خدا کے ساتھ شرک نہ کرنا۔ شرک تو بڑا (بھاری) ظلم ہے
En
اور جب کہ لقمان نے وعﻆ کہتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا بیشک شرک بڑا بھاری ﻇلم ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 13) ➊ {وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ يَعِظُهٗ …: وَعَظَ} کا معنی کسی چیز سے روکنا ہے، جس میں ترغیب کے ساتھ ڈرانا بھی ہو، جیسا کہ اللہ نے نوح علیہ السلام کو بیٹے کے لیے سفارش پر فرمایا: «{ فَلَا تَسْـَٔلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ اِنِّيْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ [ھود: ۴۶] پس مجھ سے اس بات کا سوال نہ کر جس کا تجھے کچھ علم نہیں۔ بے شک میں تجھے اس سے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے ہو جائے۔ اور جیسا کہ فرمایا: «{ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِيْغًا [النساء: ۶۳] سو تو ان سے دھیان ہٹا لے اور انھیں نصیحت کر اور ان سے ایسی بات کہہ جو ان کے دلوں میں بہت اثر کرنے والی ہو۔
➋ {يٰبُنَيَّ:اِبْنٌ} اصل میں {بَنْوٌ} ہے، اس کی تصغیر { بُنَيْوٌ} ہے۔ یائے متکلم کی طرف مضاف کرنے سے {بُنَيْوِيَ} ہو گیا۔ واؤ کو یاء کرنے سے {بُنَيْيِيَ} ہو گیا۔ پھر ایک یاء حذف کرنے اور ادغام سے {بُنَيَّ} ہو گیا۔ معنی اس کا ہے اے میرے چھوٹے بیٹے۔ چھوٹے سے مراد پیارا ہے۔ بیٹے پر شفقت اور محبت کے اظہار کے لیے تصغیر اور یائے متکلم کی طرف مضاف کر کے مخاطب فرمایا۔
➌ اس سے معلوم ہوا کہ وعظ کرتے وقت مخاطب کو نہایت محبت اور شفقت بھرے الفاظ کے ساتھ خطاب کرنا چاہیے، جیسا کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو { يٰبُنَيَّ } کہہ کر اور ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کو { يٰۤاَبَتِ } کہہ کر مخاطب فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب کو {يَا عَمِّ! قُلْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ} کہہ کر وعظ فرمایا۔ بلکہ عام گفتگو میں بھی اس ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے والد کو { يٰۤاَبَتِ اِنِّيْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا } اور والد نے انھیں { يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ } کے ساتھ مخاطب کیا۔
➍ { لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ:} حکمت عطا ہونے کے بعد یہ پہلی نصیحت ہے جو لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کی اور یہی وہ اصل الاصول ہے جس کی وحی اللہ تعالیٰ نے اپنے ہر رسول کو فرمائی، فرمایا: «{ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ [الأنبیاء: ۲۵] اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر والد کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنی اولاد کو شرک سے بچانے کی کوشش کرے۔ اس کوشش میں وعظ کے ساتھ ان کے لیے اللہ سے دعا بھی شامل ہے، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے جب اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑا، تو ان کے نگاہوں سے اوجھل ہونے پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی: «{ وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِيْ وَ بَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ [إبراہیم: ۳۵] اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنادے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بچا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔
➎ {اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ: اِنَّ } کا لفظ تعلیل کے لیے آتا ہے، یعنی اس کے ساتھ پہلی بات کی علت بیان کی جاتی ہے، فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک مت کر، کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ ظلم کا معنی ہے {وَضْعُ الشَّيْءِ فِيْ غَيْرِ مَحَلِّهِ} کسی چیز کو اس کی جگہ کے بجائے دوسری جگہ رکھ دینا، کسی کا حق دوسرے کو دے دینا۔ کیونکہ ظلم کا اصل معنی اندھیرا ہے اور اندھیرے میں آدمی کسی چیز کو اس کی اصل جگہ نہیں رکھ سکتا۔ موحّد آدمی اپنی پوری زندگی توحید کی روشنی میں بصیرت کے ساتھ گزارتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ عَلٰى بَصِيْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِيْ [یوسف: ۱۰۸] کہہ دے یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر، میں اور وہ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے۔ جب کہ مشرک ساری عمر شرک کی ظلمتوں میں بھٹکتا رہتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ [البقرۃ: ۱۷۱] بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، پس وہ نہیں سمجھتے۔ شرک بہت بڑا ظلم اس لیے ہے کہ اس سے بڑھ کر بے انصافی ہو نہیں سکتی کہ بے بس اور عاجز مخلوق کو خالق و مالک اور مختار رب تعالیٰ کے اختیارات کا مالک بنا دیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حق تلفی ہے اور آدمی کا اپنی جان پر بھی بہت بڑا ظلم کہ وہ اپنے آپ کو توحید کے بلند آسمان سے گرا کر شرک کی پستی میں گرا دے اور ہمیشہ کی نعمتوں والی جنت کے بجائے ابد الآباد جہنم کے عذاب کا سزاوار ٹھہرے۔ دیکھیے سورۂ حج (۳۱) اور مائدہ (۷۲) مزید دیکھیے سورۂ انعام کی آیت (۸۲): «{ اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ يَلْبِسُوْۤا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

13-1اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان کی سب سے پہلی وصیت یہ نقل فرمائی کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو شرک سے منع فرمایا، جس سے یہ واضح ہوا کہ والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو شرک سے بچانے کی سب سے زیادہ کوشش کریں۔ 13-2یہ بعض کے نزدیک حضرت لقمان ہی کا قول ہے اور بعض نے اسے اللہ کا قول قرار دیا ہے اور اس کی تائید میں وہ حدیث پیش کی ہے جو (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ) 6۔ الانعام:82) کے نزول کے تعلق سے وارد ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہاں ظلم سے مراد ظلم عظیم ہے اور آیت (ڼ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) 31۔ لقمان:13) کا حوالہ دیا۔ مگر درحقیقت اس سے اللہ کا قول ہونے کی نہ تائید ہوتی ہے نہ تردید۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ اور (یاد کرو) جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہا تھا کہ: ”پیارے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک [15] نہ بنانا، کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
[15] بیٹے کو پہلی نصیحت، اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا:۔
ایک دفعہ حضرت لقمان نے چند نصیحتیں اپنے بیٹے کو فرمائیں کہ وہ اتنی اہم تھیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر فرمایا۔ دنیا میں اولاد ہی ایک ایسا رشتہ ہے جس کے متعلق انسان انتہائی خلوص برتتا ہے اور نفاق نہیں کر سکتا۔ اور اولاد ہی کے متعلق اس کی آرزو ہو سکتی ہے کہ وہ ہر بھلائی کی بات میں اس سے آگے نکل جائے۔ حتیٰ کہ ایسی آرزو انسان اپنے حقیقی بہن بھائیوں اور دوستوں تک سے بھی نہیں کر سکتا۔ چنانچہ پہلی نصیحت جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو وہ یہ تھی کہ اللہ کے ساتھ کبھی کسی کو شریک نہ بنانا۔ کیونکہ دنیا میں سب سے بڑی ناانصافی اور اندھیر کی بات یہی شرک ہی ہے۔ شرک مجسم ظلم اور سب سے بڑا ظلم ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے بھی واضح ہوتا ہے: حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ جب (سورہ انعام کی) یہ آیت اتری: ﴿اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ تو صحابہ کرامؓ پر بہت شاق گزری۔ وہ کہنے لگے ”ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے ایمان کے ساتھ ظلم (یعنی کوئی گناہ) نہ کیا ہو۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بتلایا کہ اس آیت میں ظلم سے ہر گناہ مراد نہیں ہے (بلکہ شرک مراد ہے) کیا ہم نے لقمان کا قول نہیں سنا۔ جو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا تھا: ﴿إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [بخاري۔ كتاب التفسير]
اللہ کا اپنے بندوں پر اور بندوں کا اپنے اللہ پر حق:۔
یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ اہل مکہ ایک طرف تو لقمان حکیم کے حکیم اور دانا ہونے کے قائل تھے، دوسری طرف شرک میں بھی بری طرح مبتلا تھے۔ انھیں بتلایا جا رہا ہے۔ کہ لقمان نے اپنے بیٹے کو جو نصیحتیں کی تھیں ان میں سر فہرست شرک سے ان کی نفرت اور بیزاری تھی۔ کیونکہ اللہ کا بندے پر سب سے بڑا حق یہ ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبلؓ سے فرمایا: ”تجھے معلوم ہے کہ اللہ کا اس کے بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟“ حضرت معاذؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ: ”اللہ اور اس کا پیغمبر ہی خوب جانتے ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ اور بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ جو بندہ شرک نہ کرتا ہو اللہ اسے عذاب نہ کرے“ (ہمیشہ دوزخ میں نہ رکھے) میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنا دوں؟“ فرمایا: ”ایسا نہ کرو ورنہ وہ اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے“ [بخاری۔ کتاب الجہاد والسیر۔ باب اسم الفرس والحمار]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت و وصیت ٭٭
حضرت لقمان نے جو اپنے صاحبزادے کو نصیحت و وصیت کی تھی اس کا بیان ہو رہا ہے۔ یہ لقمان بن عنقاء بن سدون تھے ان کے بیٹے کا نام سہیلی کے بیان کی رو سے ثاران ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر اچھائی سے کیا اور فرمایا ہے کہ ’ انکو حکمت عنایت فرمائی گئی تھی ‘۔ انہوں نے جو بہترین وعظ اپنے لڑکے کو سنایا تھا اور انہیں مفید ضروری اور عمدہ نصیحتیں کی تھیں ان کا ذکر ہو رہا ہے۔
ظاہر ہے کہ اولاد سے پیاری چیز انسان کی اور کوئی نہیں ہوتی اور انسان اپنی بہترین اور انمول چیز اپنی اولاد کو دینا چاہتا ہے۔ تو سب سے پہلے یہ نصیحت کی کہ صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ یاد رکھو اس سے بڑی بے حیائی اور زیادہ برا کام کوئی نہیں۔‏‏‏‏
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ { جب آیت «ااَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:82]‏‏‏‏ اتری تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی مشکل آپڑی اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ہم میں سے وہ کون ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو؟ اور آیت میں ہے کہ ’ ایمان کو جنہوں نے ظلم سے نہیں ملایا وہی با امن اور راہ راست والے ہیں ‘۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { ظلم سے مراد عام گناہ نہیں بلکہ ظلم سے مراد وہ ظلم ہے جو لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا بڑا بھاری ظلم ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4629]‏‏‏‏
اس پہلی وصیت کے بعد لقمان دوسری وصیت کرتے ہیں اور وہ بھی درجے اور تاکید کے لحاظ سے واقعی ایسی ہی ہے کہ اس پہلی وصیت سے ملائی جائے، یعنی ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرنا۔‏‏‏‏ جیسے فرمان جناب باری ہے آیت «وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا» ۱؎ [17-الإسراء:23]‏‏‏‏، یعنی ’ تیرا رب یہ فیصلہ فرما چکا ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک و احسان کرتے رہو ‘۔
عموماً قرآن کریم میں ان دونوں چیزوں کا بیان ایک ساتھ ہے۔ یہاں بھی اسی طرح ہے «وَھْنٌ» کے معنی مشقت تکلیف ضعف وغیرہ کے ہیں۔ ایک تکلیف تو حمل کی ہوتی ہے جسے ماں برداشت کرتی ہے۔ حالت حمل کے دکھ درد کی حالت سب کو معلوم ہے پھر دو سال تک اسے دودھ پلاتی رہتی ہے اور اس کی پرورش میں لگی رہتی ہے۔
چنانچہ اور آیت میں ہے «وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ» ۱؎ [2-البقرة:233]‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ جو لوگ اپنی اولاد کو پورا پورا دودھ پلانا چاہے ان کے لیے آخری انتہائی سبب یہ ہے کہ دو سال کامل تک ان بچوں کو ان کی مائیں اپنا دودھ پلاتی رہیں ‘۔ چونکہ ایک اور آیت میں فرمایا گیا ہے «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15]‏‏‏‏ یعنی ’ مدت حمل اور دودھ چھٹائی کل تیس ماہ ہے ‘۔
اس لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور دوسرے بڑے اماموں نے استدلال کیا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہے۔‏‏‏‏ ماں کی اس تکلیف کو اولاد کے سامنے اس لیے ظاہر کیا جاتا ہے کہ اولاد اپنی ماں کی ان مہربانیوں کو یاد کر کے شکر گزاری، اطاعت اور احسان کرے۔
جیسے اور آیت میں فرمان عالیشان ہے آیت «وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:24]‏‏‏‏ ’ ہم سے دعا کرو اور کہو کہ میرے سچے پروردگار میرے ماں باپ پر اس طرح رحم و کرم فرما جس طرح میرے بچپن میں وہ مجھ پر رحم کیا کرتے تھے ‘۔
یہاں فرمایا ’ تاکہ تو میرا اور اپنے ماں باپ کا احسان مند ہو۔ سن لے آخر لوٹنا تو میری طرف ہے اگر میری اس بات کو مان لیا تو پھر بہترین جزا دونگا ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر بنا کر بھیجا آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں پہنچ کر سب سے پہلے کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ یہ پیغام لے کر تم اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو میری باتیں مانتے رہو میں تمہاری خیر خواہی میں کوئی کوتاہی نہ کرونگا۔ سب کو لوٹ کر اللہ کی طرف جانا ہے۔ پھر یا تو جنت مکان بنے گی یا جہنم ٹھکانا ہو گا۔ پھر وہاں سے نہ اخراج ہو گا نہ موت آئے گی۱؎ [مستدرک حاکم:83/1]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر تمہارے ماں باپ تمہیں اسلام کے سوا اور دین قبول کرنے کو کہیں، گو وہ تمام تر طاقت خرچ کر ڈالیں خبردار! تم ان کی مان کر میرے ساتھ ہرگز شریک نہ کرنا۔ لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ تم ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنا چھوڑ دو نہیں دنیوی حقوق جو تمہارے ذمہ ان کے ہیں ادا کرتے رہو۔ ایسی باتیں ان کی نہ مانو بلکہ ان کی تابعداری کرو جو میری طرف رجوع ہو چکے ہیں۔ سن لو! تم سب لوٹ کر ایک دن میرے سامنے آنے والے ہو اس دن میں تمہیں تمہارے تمام تر اعمال کی خبر دونگا ‘۔
طبرانی کی کتاب العشرہ میں ہے سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ میں اپنی ماں کی بہت خدمت کیا کرتا تھا اور ان کا پورا اطاعت گزار تھا۔ جب مجھے اللہ نے اسلام کی طرف ہدایت کی تو میری والدہ مجھ پر بہت بگڑیں اور کہنے لگی بچے یہ نیا دین تو کہاں سے نکال لایا۔ سنو! میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اس دین سے دستبردار ہو جاؤ ورنہ میں نہ کھاؤنگی نہ پیوگی اور یونہی بھوکی مرجاؤں گی۔
میں نے اسلام کو چھوڑا نہیں اور میری ماں نے کھانا پینا ترک کر دیا اور ہر طرف سے مجھ پر آوازہ کشی ہونے لگی کہ یہ اپنی ماں کا قاتل ہے۔ میں بہت ہی دل میں تنگ ہوا اپنی والدہ کی خدمت میں باربار عرض کیا خوشامدیں کیں سمجھایا کہ اللہ کے لیے اپنی ضد سے باز آ جاؤ۔ یہ تو ناممکن ہے کہ میں اس سچے دین کو چھوڑ دوں۔
اسی ضد میں میری والدہ پر تین دن کا فاقہ گزر گیا اور اس کی حالت بہت ہی خراب ہو گئی تو میں اس کے پاس گیا اور میں نے کہا میری اچھی اماں جان سنو! تم مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو لیکن میرے دین سے زیادہ عزیز نہیں۔ واللہ! ایک نہیں تمہاری ایک سوجانیں بھی ہوں اور اسی بھوک پیاس میں ایک ایک کر کے سب نکل جائیں تو بھی میں اخری لمحہ تک اپنے سچے دین اسلام کو نہ چھوڑونگا۔ اب میری ماں مایوس ہوگئیں اور کھانا پینا شرع کر دیا۔‏‏‏‏