وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا لُقۡمٰنَ الۡحِکۡمَۃَ اَنِ اشۡکُرۡ لِلّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یَّشۡکُرۡ فَاِنَّمَا یَشۡکُرُ لِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیۡدٌ ﴿۱۲﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے لقمان کو دانائی عطا کی کہ اللہ کا شکر کر اور جو شکر کرے تو وہ اپنے ہی لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو یقینا اللہ بہت بے پروا ، بہت تعریفوں والا ہے۔
En
اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی۔ کہ خدا کا شکر کرو۔ اور جو شخص شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے۔ اور جو ناشکری کرتا ہے تو خدا بھی بےپروا اور سزاوار حمد (وثنا) ہے
En
اور ہم نے یقیناً لقمان کو حکمت دی تھی کہ تو اللہ تعالیٰ کا شکر کر ہر شکر کرنے واﻻ اپنے ہی نفع کے لئے شکر کرتا ہے جو بھی ناشکری کرے وه جان لے کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز اور تعریفوں واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 12) ➊ { وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ:} تفاسیر میں لقمان کے متعلق جو کچھ لکھا ہے ملاحظہ فرمائیں، روح المعانی میں ہے: ”وہب نے کہا، وہ ایوب علیہ السلام کے بھانجے تھے۔ مقاتل نے کہا، ان کے خالہ زاد تھے۔ عبدالرحمن سہیلی نے کہا، وہ عنقا بن سرون کے بیٹے تھے۔ بعض نے کہا، وہ آزر کی اولاد سے تھے، ہزار برس زندہ رہے اور داؤد علیہ السلام کو پایا اور ان سے علم حاصل کیا۔
ان کے مبعوث ہونے سے پہلے فتویٰ دیتے تھے، جب وہ مبعوث ہوئے تو فتویٰ دینا چھوڑ دیا۔ ان سے پوچھا گیا تو فرمانے لگے، جب مجھ سے کفایت کی گئی تو کیا میں اکتفا نہ کروں۔ بعض نے کہا، وہ بنی اسرائیل کے ایک قاضی تھے۔ یہ بات واقدی سے نقل کی گئی ہے، مگر انھوں نے کہا، ان کا زمانہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان تھا۔ عکرمہ اور شعبی نے کہا، وہ نبی تھے۔ اکثر کا کہنا ہے کہ وہ داؤد علیہ السلام کے زمانہ میں تھے، نبی نہیں تھے اور ان کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ آزاد تھے یا غلام۔ اکثر کا کہنا ہے کہ وہ غلام تھے۔ ایک اختلاف اور ہے، بعض نے کہا، حبشی تھے، یہ ابن عباس اور مجاہد سے مروی ہے اور ابن مردویہ نے یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ مجاہد نے ان کے بارے میں بیان کیا کہ وہ موٹے ہونٹوں اور پاؤں کے سیدھے تلوے والے تھے۔ بعض نے کہا، وہ نُوبی تھے، پھٹے ہوئے پاؤں اور موٹے ہونٹوں والے تھے۔ یہ ابن عباس، ابن مسیب اور مجاہد سے منقول ہے۔ ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا، میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما سے کہا، آپ کو لقمان کے بارے میں کیا خبر پہنچی ہے؟ انھوں نے فرمایا، وہ چھوٹے قد، چپٹی ناک والے نوبی (حبشی) تھے۔ ابن ابی حاتم، ابن جریر اور ابن المنذر نے ابن المسیّب سے بیان کیا ہے، انھوں نے فرمایا کہ لقمان مصر کے سیاہ فام لوگوں میں سے کالے رنگ والے اور بڑے ہونٹوں والے تھے، اللہ تعالیٰ نے انھیں حکمت عطا کی، مگر نبوت نہیں دی۔ اس میں بھی اختلاف ہے کہ ان کا پیشہ کیا تھا۔ چنانچہ خالد بن ربیع نے کہا، وہ نجار (راء کے ساتھ) یعنی ترکھان تھے اور معانی الزجاج میں ہے، وہ نجاد تھے (دال کے ساتھ، بروزن کتاب، جو بچھونے اور گدے وغیرہ بناتے اور سیتے ہیں)۔ ابن ابی شیبہ نے اور احمد نے ”الزہد“ میں اور ابن المنذر نے ابن المسیّب سے روایت کی ہے کہ وہ خیاط (کپڑے سینے والے) تھے، جو نجاد سے عام ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ وہ چرواہے تھے۔ بعض نے کہا، وہ ہر روز اپنے مالک کے لیے ایندھن کا گٹھا لاتے تھے۔“ مفسر آلوسی صاحب روح المعانی یہ سب کچھ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: {” وَلَا وُثُوْقَ لِيْ بِشَيْءٍ مِنْ هٰذِهِ الْأَخْبَارِ وَإِنَّمَا نَقَلْتُهَا تَأْسِيًا بِمَنْ نَقَلَهَا مِنَ الْمُفَسِّرِيْنَ الْأَخْيَارِ غَيْرَ أَنِّيْ أَخْتَارُ أَنَّهُ كَانَ رَجُلًا صَالِحًا حَكِيْمًا وَلَمْ يَكُنْ نَبِيًّا“} ”یعنی مجھے ان خبروں میں سے کسی پر کوئی اعتبار نہیں ہے، میں نے تو انھیں صرف اس لیے نقل کیا ہے کہ جید مفسرین نے انھیں نقل کیا ہے۔ میں تو صرف اس بات کو ترجیح دیتا ہوں کہ وہ صالح اور حکیم (و دانا) آدمی تھے، نبی نہیں تھے۔“
میں نے بھی یہ سارا کلام یہ دکھانے کے لیے نقل کیا ہے کہ بعض مفسرین کس طرح بلاثبوت باتیں نقل کرتے جاتے ہیں اور یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتے کہ مجاہد، قتادہ، ابن المسیّب وغیرہ حضرات کا ہزاروں برس پہلے گزرے ہوئے لقمان کے ساتھ کوئی میل جول رہا ہے، یا انھوں نے ان تک کوئی سند بیان کی ہے۔ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب روایت نقل کرتے ہوئے یہ اہتمام کرتے ہیں کہ ثابت شدہ روایت ہی نقل کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ان کے متعلق اس سے زیادہ کچھ معلوم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمایا اور جسے صاحب روح المعانی نے ترجیح دی ہے۔ ان کے غلام یا حبشی وغیرہ ہونے کی کوئی روایت پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔ البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بھی ان کی حکمت اور دانائی کے واقعات عرب میں مشہور تھے اور جاہلی شعراء اور خطباء اپنے کلام میں ان کا ذکر کرتے تھے، جیسا کہ ابن ہشام نے اپنی سیرت میں نقل کیا ہے۔
➋ شرک کی تردید میں ایک پر زور عقلی دلیل پیش کرنے کے بعد اب عرب کے لوگوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ توحید کی بات صرف پیغمبروں ہی کے ذریعے سے نہیں آئی، بلکہ عقل و حکمت کا تقاضا بھی یہی ہے اور پہلے عاقل اور دانا لوگ بھی یہی بات کہتے چلے آئے ہیں، چنانچہ تمھارا اپنا مشہور حکیم لقمان بھی اب سے بہت پہلے یہی کچھ کہہ گیا ہے۔
➌ { اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ:} تفسیر قاسمی میں ہے: {”قَالَ فِي الْبَصَائِرِ الشُّكْرُ مَبْنِيٌّ عَلٰي خَمْسَةِ قَوَاعِدَ، خُضُوْعُ الشَّاكِرِ لِلْمَشْكُوْرِ وَ حُبُّهُ لَهُ وَاعْتِرَافُهُ بِنِعْمَتِهِ وَالثَّنَاءُ عَلَيْهِ بِهَا وَ أَنْ لَّا يَسْتَعْمِلَهَا فِيْمَا يَكْرَهُ، هٰذَا الْخَمْسَةُ هِيَ أَسَاسُ الشُّكْرِ وَبَنَاءُهُ عَلَيْهَا فَإِنْ عُدِمَ مِنْهَا وَاحِدَةٌ اخْتَلَّتْ قَاعِدَةٌ مِّنْ قَوَاعِدِ الشُّكْرِ وَكُلُ مَنْ تَكَلَّمَ فِي الشُّكْرِ فَإِنَّ كَلَامَهُ إِلَيْهَا يَرْجِعُ وَ عَلَيْهَا يَدُوْرُ“} ”البصائر میں فرمایا کہ شکر کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، شکر کرنے والے کا اس کے سامنے عاجز ہونا جس کا وہ شکر ادا کر رہا ہے، اس کے ساتھ محبت کرنا، اس کی نعمت کا اعتراف کرنا، اِس پر اُس کی تعریف کرنا اور یہ کہ اس نعمت کو اس جگہ استعمال نہ کرے جہاں نعمت دینے والا پسند نہ کرتا ہو۔ یہ پانچوں چیزیں ہی شکر کی اساس ہیں اور انھی پر اس کی بنیاد ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک کم ہو تو شکر کی بنیادوں میں سے ایک بنیاد کم ہو جائے گی۔ جس نے بھی شکر کے بارے میں گفتگو کی ہے اس کی گفتگو کا نتیجہ یہی ہے اور وہ اسی پر گھومتی ہے۔ “
➍ { وَ مَنْ يَّشْكُرْ فَاِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ابراہیم (۷) اور سورۂ نمل (۴۰)۔
➎ {وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ:} یعنی کسی کے کفر کا اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں، کیونکہ وہ بے نیاز ہے اور وہ کسی کے شکر کا محتاج نہیں، کوئی شکر کرے یا نہ کرے، کائنات کا ذرہ ذرہ گواہی دے رہا ہے کہ اس کی ذات محمود ہے اور تمام خوبیوں کا مالک وہی ہے، کسی میں کوئی خوبی ہے تو اس کی اپنی نہیں بلکہ اسی کی عطا کردہ ہے۔
ان کے مبعوث ہونے سے پہلے فتویٰ دیتے تھے، جب وہ مبعوث ہوئے تو فتویٰ دینا چھوڑ دیا۔ ان سے پوچھا گیا تو فرمانے لگے، جب مجھ سے کفایت کی گئی تو کیا میں اکتفا نہ کروں۔ بعض نے کہا، وہ بنی اسرائیل کے ایک قاضی تھے۔ یہ بات واقدی سے نقل کی گئی ہے، مگر انھوں نے کہا، ان کا زمانہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان تھا۔ عکرمہ اور شعبی نے کہا، وہ نبی تھے۔ اکثر کا کہنا ہے کہ وہ داؤد علیہ السلام کے زمانہ میں تھے، نبی نہیں تھے اور ان کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ آزاد تھے یا غلام۔ اکثر کا کہنا ہے کہ وہ غلام تھے۔ ایک اختلاف اور ہے، بعض نے کہا، حبشی تھے، یہ ابن عباس اور مجاہد سے مروی ہے اور ابن مردویہ نے یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ مجاہد نے ان کے بارے میں بیان کیا کہ وہ موٹے ہونٹوں اور پاؤں کے سیدھے تلوے والے تھے۔ بعض نے کہا، وہ نُوبی تھے، پھٹے ہوئے پاؤں اور موٹے ہونٹوں والے تھے۔ یہ ابن عباس، ابن مسیب اور مجاہد سے منقول ہے۔ ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا، میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما سے کہا، آپ کو لقمان کے بارے میں کیا خبر پہنچی ہے؟ انھوں نے فرمایا، وہ چھوٹے قد، چپٹی ناک والے نوبی (حبشی) تھے۔ ابن ابی حاتم، ابن جریر اور ابن المنذر نے ابن المسیّب سے بیان کیا ہے، انھوں نے فرمایا کہ لقمان مصر کے سیاہ فام لوگوں میں سے کالے رنگ والے اور بڑے ہونٹوں والے تھے، اللہ تعالیٰ نے انھیں حکمت عطا کی، مگر نبوت نہیں دی۔ اس میں بھی اختلاف ہے کہ ان کا پیشہ کیا تھا۔ چنانچہ خالد بن ربیع نے کہا، وہ نجار (راء کے ساتھ) یعنی ترکھان تھے اور معانی الزجاج میں ہے، وہ نجاد تھے (دال کے ساتھ، بروزن کتاب، جو بچھونے اور گدے وغیرہ بناتے اور سیتے ہیں)۔ ابن ابی شیبہ نے اور احمد نے ”الزہد“ میں اور ابن المنذر نے ابن المسیّب سے روایت کی ہے کہ وہ خیاط (کپڑے سینے والے) تھے، جو نجاد سے عام ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ وہ چرواہے تھے۔ بعض نے کہا، وہ ہر روز اپنے مالک کے لیے ایندھن کا گٹھا لاتے تھے۔“ مفسر آلوسی صاحب روح المعانی یہ سب کچھ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: {” وَلَا وُثُوْقَ لِيْ بِشَيْءٍ مِنْ هٰذِهِ الْأَخْبَارِ وَإِنَّمَا نَقَلْتُهَا تَأْسِيًا بِمَنْ نَقَلَهَا مِنَ الْمُفَسِّرِيْنَ الْأَخْيَارِ غَيْرَ أَنِّيْ أَخْتَارُ أَنَّهُ كَانَ رَجُلًا صَالِحًا حَكِيْمًا وَلَمْ يَكُنْ نَبِيًّا“} ”یعنی مجھے ان خبروں میں سے کسی پر کوئی اعتبار نہیں ہے، میں نے تو انھیں صرف اس لیے نقل کیا ہے کہ جید مفسرین نے انھیں نقل کیا ہے۔ میں تو صرف اس بات کو ترجیح دیتا ہوں کہ وہ صالح اور حکیم (و دانا) آدمی تھے، نبی نہیں تھے۔“
میں نے بھی یہ سارا کلام یہ دکھانے کے لیے نقل کیا ہے کہ بعض مفسرین کس طرح بلاثبوت باتیں نقل کرتے جاتے ہیں اور یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتے کہ مجاہد، قتادہ، ابن المسیّب وغیرہ حضرات کا ہزاروں برس پہلے گزرے ہوئے لقمان کے ساتھ کوئی میل جول رہا ہے، یا انھوں نے ان تک کوئی سند بیان کی ہے۔ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب روایت نقل کرتے ہوئے یہ اہتمام کرتے ہیں کہ ثابت شدہ روایت ہی نقل کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ان کے متعلق اس سے زیادہ کچھ معلوم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمایا اور جسے صاحب روح المعانی نے ترجیح دی ہے۔ ان کے غلام یا حبشی وغیرہ ہونے کی کوئی روایت پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔ البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بھی ان کی حکمت اور دانائی کے واقعات عرب میں مشہور تھے اور جاہلی شعراء اور خطباء اپنے کلام میں ان کا ذکر کرتے تھے، جیسا کہ ابن ہشام نے اپنی سیرت میں نقل کیا ہے۔
➋ شرک کی تردید میں ایک پر زور عقلی دلیل پیش کرنے کے بعد اب عرب کے لوگوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ توحید کی بات صرف پیغمبروں ہی کے ذریعے سے نہیں آئی، بلکہ عقل و حکمت کا تقاضا بھی یہی ہے اور پہلے عاقل اور دانا لوگ بھی یہی بات کہتے چلے آئے ہیں، چنانچہ تمھارا اپنا مشہور حکیم لقمان بھی اب سے بہت پہلے یہی کچھ کہہ گیا ہے۔
➌ { اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ:} تفسیر قاسمی میں ہے: {”قَالَ فِي الْبَصَائِرِ الشُّكْرُ مَبْنِيٌّ عَلٰي خَمْسَةِ قَوَاعِدَ، خُضُوْعُ الشَّاكِرِ لِلْمَشْكُوْرِ وَ حُبُّهُ لَهُ وَاعْتِرَافُهُ بِنِعْمَتِهِ وَالثَّنَاءُ عَلَيْهِ بِهَا وَ أَنْ لَّا يَسْتَعْمِلَهَا فِيْمَا يَكْرَهُ، هٰذَا الْخَمْسَةُ هِيَ أَسَاسُ الشُّكْرِ وَبَنَاءُهُ عَلَيْهَا فَإِنْ عُدِمَ مِنْهَا وَاحِدَةٌ اخْتَلَّتْ قَاعِدَةٌ مِّنْ قَوَاعِدِ الشُّكْرِ وَكُلُ مَنْ تَكَلَّمَ فِي الشُّكْرِ فَإِنَّ كَلَامَهُ إِلَيْهَا يَرْجِعُ وَ عَلَيْهَا يَدُوْرُ“} ”البصائر میں فرمایا کہ شکر کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، شکر کرنے والے کا اس کے سامنے عاجز ہونا جس کا وہ شکر ادا کر رہا ہے، اس کے ساتھ محبت کرنا، اس کی نعمت کا اعتراف کرنا، اِس پر اُس کی تعریف کرنا اور یہ کہ اس نعمت کو اس جگہ استعمال نہ کرے جہاں نعمت دینے والا پسند نہ کرتا ہو۔ یہ پانچوں چیزیں ہی شکر کی اساس ہیں اور انھی پر اس کی بنیاد ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک کم ہو تو شکر کی بنیادوں میں سے ایک بنیاد کم ہو جائے گی۔ جس نے بھی شکر کے بارے میں گفتگو کی ہے اس کی گفتگو کا نتیجہ یہی ہے اور وہ اسی پر گھومتی ہے۔ “
➍ { وَ مَنْ يَّشْكُرْ فَاِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ابراہیم (۷) اور سورۂ نمل (۴۰)۔
➎ {وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ:} یعنی کسی کے کفر کا اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں، کیونکہ وہ بے نیاز ہے اور وہ کسی کے شکر کا محتاج نہیں، کوئی شکر کرے یا نہ کرے، کائنات کا ذرہ ذرہ گواہی دے رہا ہے کہ اس کی ذات محمود ہے اور تمام خوبیوں کا مالک وہی ہے، کسی میں کوئی خوبی ہے تو اس کی اپنی نہیں بلکہ اسی کی عطا کردہ ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
12-1حضرت لقمان، اللہ کے نیک بندے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حکمت یعنی عقل فہم اور دینی بصیرت میں ممتاز مقام عطا فرمایا تھا۔ ان سے کسی نے پوچھا تمہیں یہ فہم و شعور کس طرح حاصل ہوا؟ انہوں نے فرمایا، راست بازی، امانت کے اختیار کرنے اور بےفائدہ باتوں سے اجتناب اور خاموشی کی وجہ سے۔ ان کا حکمت و دانش پر مبنی ایک واقعہ یہ بھی مشہور ہے کہ یہ غلام تھے، ان کے آقا نے کہا کہ بکری ذبح کرکے اس کے سب سے بہترین دو حصے لاؤ، چناچہ وہ زبان اور دل نکال کرلے گئے۔ ایک دوسرے موقع پر آقا نے ان سے کہا کہ بکری ذبح کرکے اس کے سب سے بدترین حصے لاؤ، چناچہ وہ زبان اور دل نکال کرلے گئے، پوچھنے پر انہوں نے بتلایا کہ زبان اور دل، اگر صحیح ہوں تو سب سے بہتر ہیں اور اگر یہ بگڑ جائیں تو ان سے بدتر کوئی چیز نہیں۔ (ابن کثیر) 12-2شکر کا مطلب ہے، اللہ کی نعمتوں پر اس کی حمد و ثنا اور اس کے احکام کی فرماں برداری۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی (جو یہ تھی) کہ اللہ کا شکر ادا کرتے رہو۔ جو کوئی شکر ادا کرتا ہے وہ اپنے ہی (فائدہ کے) لئے کرتا ہے اور جو ناشکری [14] کرے تو اللہ یقیناً (اس کے شکر سے) بے نیاز ہے اور خود اپنی ذات میں محمود ہے
[14] سیدنا لقمان کون تھے؟ شکر کی تلقین اور اللہ کی بے نیازی:۔
حضرت لقمان حبشہ یا مصر کے رہنے والے تھے۔ بعد میں شام میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ حضرت داؤدؑ کا زمانہ پایا۔ آپ کی نبوت میں اختلاف ہے اور راجح یہی بات ہے کہ آپ نبی نہیں تھے۔ البتہ حکیم اور دانا ضرور تھے۔ عرب بھر میں وہ اپنی حکمت و دانائی کی وجہ سے مشہور تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں جو حکمت اور دانائی کی باتیں سکھلائی تھیں ان میں سر فہرست یہ بات تھی کہ اگر اللہ کی نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کیا جائے تو اس کا فائدہ شکر ادا کرنے والے کو پہنچتا ہے۔ شکر میں اللہ تعالیٰ نے یہ تاثیر رکھ دی کہ وہ مزید توجہ اور مہربانی کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اللہ کا اس لئے بھی شکر ادا کرنا چاہئے تاکہ وہ مزید انعامات فرمائے اور بندوں کا بھی ضرور احسان مند ہونا چاہئے جو کوئی احسان کرے۔ اور یہ ایسی باتیں ہیں جو تقریباً ہر انسان کے تجربہ میں آتی رہتی ہیں۔ اور نا شکری اور نمک حرامی یا احسان فراموشی کے نتائج اس کے بالکل برعکس نکلتے ہیں۔ پہلی نعمتیں بھی چھین لی جاتی ہیں۔ بہرحال شکر کرنے کا فائدہ بھی شکر کرنے والے کو ہی پہنچتا ہے اور نا شکری کا نقصان بھی اسے ہی پہنچتا ہے۔ رہا اللہ کا معاملہ تو اللہ لوگوں کے شکر یا نا شکری سے بے نیاز ہے۔ کیونکہ اس کے سب کارنامے ہی ایسے ہیں جو قابل ستائش ہیں اور وہ اپنی ذات میں ہی محمود ہے۔ یہ تھی وہ پہلی دانائی کی بات جو اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمانؑ کو سکھلائی تھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
لقمان نبی تھے یا نہیں؟ ٭٭
اس میں سلف کا اختلاف ہے کہ حضرت لقمان نبی تھے یا نہ تھے؟ اکثر حضرات فرماتے ہیں کہ آپ نبی نہ تھے پرہیزگار ولی اللہ اور اللہ کے پیارے بزرگ بندے تھے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”آپ حبشی غلام تھے اور بڑھئی تھے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے جب سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ”لقمان پستہ قد اونچی ناک والے موٹے ہونٹ والے تھے۔“ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”آپ مصر کے رہنے والے حبشی تھے۔ آپ کو حکمت عطا ہوئی تھی لیکن نبوت نہیں ملی تھی۔“
آپ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ایک سیاہ رنگ غلام حبشی سے فرمایا ”اپنی رنگت کی وجہ سے اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھ تین شخص جو تمام لوگوں سے اچھے تھے تینوں سیاہ رنگ تھے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم رسالت پناہ کے غلام تھے۔ سیدنا مہج رضی اللہ عنہ جو جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے غلام تھے اور لقمان حکیم جو حبشہ کے نوبہ تھے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”آپ حبشی غلام تھے اور بڑھئی تھے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے جب سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ”لقمان پستہ قد اونچی ناک والے موٹے ہونٹ والے تھے۔“ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”آپ مصر کے رہنے والے حبشی تھے۔ آپ کو حکمت عطا ہوئی تھی لیکن نبوت نہیں ملی تھی۔“
آپ رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ایک سیاہ رنگ غلام حبشی سے فرمایا ”اپنی رنگت کی وجہ سے اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھ تین شخص جو تمام لوگوں سے اچھے تھے تینوں سیاہ رنگ تھے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم رسالت پناہ کے غلام تھے۔ سیدنا مہج رضی اللہ عنہ جو جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے غلام تھے اور لقمان حکیم جو حبشہ کے نوبہ تھے۔“
حضرت خالد ربعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”لقمان جو حبشی غلام بڑھئی تھے ان سے ایک روز ان کے مالک نے کہا بکری ذبح کرو اور اس کے دو بہترین اور نفیس ٹکڑے گوشت کے میرے پاس لاؤ۔ وہ دل اور زبان لے گئے کچھ دنوں بعد ان کے آقا نے یہی حکم کیا اور کہا آج اس سارے گوشت میں جو بدترین گوشت اور خبیث کے ٹکڑے ہوں وہ لادو۔ آج بھی یہی دو چیزیں لے گئے۔ مالک نے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ بہترین ٹکڑے تجھ سے مانگے تو تو یہی دو لایا اور بدترین مانگے تو تو نے یہی لادئیے۔ یہ کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا جب یہ اچھے رہے تو ان سے بہترین جسم کا کوئی عضو نہیں اور جب یہ برے بن جائے تو پھر سب سے بدتر بھی یہی ہیں۔“
حضرت مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”لقمان نبی نہ تھے نیک بندے تھے۔ سیاہ فام غلام تھے موٹے ہونٹوں والے اور بھرے قدموں والے۔“ اور بزرگ سے بھی یہ مروی ہے کہ ”بنی اسرائیل میں قاضی تھے۔“
ایک اور قول ہے کہ ”آپ داؤد علیہ السلام کے زمانے میں تھے۔ ایک مرتبہ آپ کسی مجلس میں وعظ فرما رہے تھے کہ ایک چروا ہے نے آپ کو دیکھ کر کہا کیا تو وہی نہیں ہے جو میرے ساتھ فلاں فلاں جگہ بکریاں چرایا کرتا تھا؟ آپ نے فرمایا ہاں میں وہی ہوں اس نے کہا پھر تجھے یہ مرتبہ کیسے حاصل ہوا؟ فرمایا سچ بولنے اور بے کار کلام نہ کرنے سے۔“
اور روایت میں ہے کہ آپ نے اپنی بلندی کی وجہ یہ بیان کی کہ اللہ کا فضل اور امانت ادائیگی اور کلام کی سچائی اور بے نفع کاموں کو چھوڑ دینا۔ الغرض ایسے ہی آثار صاف ہیں کہ آپ نبی نہ تھے۔ بعض روایتیں اور بھی ہیں جن میں گو صراحت نہیں کہ آپ نبی نہ تھے لیکن ان میں بھی آپ کا غلام ہونا بیان کیا گیا ہے جو ثبوت ہے اس امر کا کہ آپ نبی نہ تھے کیونکہ غلامی نبوت کے منافی ہے۔ انبیاء کرام علیہ السلام عالی نسب اور عالی خاندان کے ہوا کرتے تھے۔
ایک اور قول ہے کہ ”آپ داؤد علیہ السلام کے زمانے میں تھے۔ ایک مرتبہ آپ کسی مجلس میں وعظ فرما رہے تھے کہ ایک چروا ہے نے آپ کو دیکھ کر کہا کیا تو وہی نہیں ہے جو میرے ساتھ فلاں فلاں جگہ بکریاں چرایا کرتا تھا؟ آپ نے فرمایا ہاں میں وہی ہوں اس نے کہا پھر تجھے یہ مرتبہ کیسے حاصل ہوا؟ فرمایا سچ بولنے اور بے کار کلام نہ کرنے سے۔“
اور روایت میں ہے کہ آپ نے اپنی بلندی کی وجہ یہ بیان کی کہ اللہ کا فضل اور امانت ادائیگی اور کلام کی سچائی اور بے نفع کاموں کو چھوڑ دینا۔ الغرض ایسے ہی آثار صاف ہیں کہ آپ نبی نہ تھے۔ بعض روایتیں اور بھی ہیں جن میں گو صراحت نہیں کہ آپ نبی نہ تھے لیکن ان میں بھی آپ کا غلام ہونا بیان کیا گیا ہے جو ثبوت ہے اس امر کا کہ آپ نبی نہ تھے کیونکہ غلامی نبوت کے منافی ہے۔ انبیاء کرام علیہ السلام عالی نسب اور عالی خاندان کے ہوا کرتے تھے۔
اسی لیے جمہور سلف کا قول ہے کہ لقمان نبی نہ تھے۔ ہاں عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نبی تھے لیکن یہ بھی جب کے سند صحیح ثابت ہو جائے لیکن اس کی سند میں جابر بن یزید جعفی ہیں جو ضعیف ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
کہتے ہیں کہ لقمان حکیم سے ایک شخص نے کہا کیا تو بنی حسحاس کا غلام نہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ہوں۔ اس نے کہا تو بکریوں کا چرواہا نہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ہوں۔ کہا گیا تو سیاہ رنگ نہیں؟ آپ نے فرمایا ظاہر ہے میں سیاہ رنگ ہوں تم یہ بتاؤ کہ تم کیا پوچھنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا یہی کہ پھر کیا وجہ ہے کہ تیری مجلس پر رہتی ہے لوگ تیرے دروازے پر آتے رہتے ہیں تری باتیں شوق سے سنتے ہیں؟
آپ نے فرمایا ”سنو! بھائی جو باتیں میں تمہیں کہتا ہوں ان پر عمل کر لو تو تم بھی مجھ جیسے ہوجاؤ گے۔ آنکھیں حرام چیزوں سے بند کرلو۔ زبان بے ہودہ باتوں سے روک لو۔ مال حلال کھایا کرو۔ اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو۔ زبان سے سچ بات بولا کرو۔ وعدے کو پورا کیا کرو۔ مہمان کی عزت کرو۔ پڑوسی کا خیال رکھو۔ بے فائدہ کاموں کو چھوڑ دو۔ انہی عادتوں کی وجہ سے میں نے بزرگی پائی ہے۔“
کہتے ہیں کہ لقمان حکیم سے ایک شخص نے کہا کیا تو بنی حسحاس کا غلام نہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ہوں۔ اس نے کہا تو بکریوں کا چرواہا نہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ہوں۔ کہا گیا تو سیاہ رنگ نہیں؟ آپ نے فرمایا ظاہر ہے میں سیاہ رنگ ہوں تم یہ بتاؤ کہ تم کیا پوچھنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا یہی کہ پھر کیا وجہ ہے کہ تیری مجلس پر رہتی ہے لوگ تیرے دروازے پر آتے رہتے ہیں تری باتیں شوق سے سنتے ہیں؟
آپ نے فرمایا ”سنو! بھائی جو باتیں میں تمہیں کہتا ہوں ان پر عمل کر لو تو تم بھی مجھ جیسے ہوجاؤ گے۔ آنکھیں حرام چیزوں سے بند کرلو۔ زبان بے ہودہ باتوں سے روک لو۔ مال حلال کھایا کرو۔ اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو۔ زبان سے سچ بات بولا کرو۔ وعدے کو پورا کیا کرو۔ مہمان کی عزت کرو۔ پڑوسی کا خیال رکھو۔ بے فائدہ کاموں کو چھوڑ دو۔ انہی عادتوں کی وجہ سے میں نے بزرگی پائی ہے۔“
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں ”لقمان حکیم کسی بڑے گھرانے کے امیر اور بہت زیادہ کنبے قبیلے والے نہ تھے۔ ہاں ان میں بہت سی بھلی عادتیں تھیں۔ وہ خوش اخلاق خاموش غور و فکر کرنے والے گہری نظر والے دن کو نہ سونے والے تھے۔ لوگوں کے سامنے تھوکتے نہ تھے نہ پاخانہ پیشاب اور غسل کرتے تھے لغو کاموں سے دور رہتے ہنستے نہ تھے، جو کلام کرتے تھے حکمت سے خالی نہ ہوتا تھا جس وقت ان کی اولاد فوت ہوئی یہ بالکل نہیں روئے۔ وہ بادشاہوں امیروں کے پاس اس لیے جاتے تھے کہ غوروفکر اور عبرت و نصیحت حاصل کریں۔ اسی وجہ سے انہیں بزرگی ملی۔“
قتادۃ رحمہ اللہ سے ایک عجیب اثر وارد ہے کہ ”لقمان کو حکمت ونبوت کے قبول کرنے میں اختیار دیا گیا تو آپ نے حکمت قبول فرمائی راتوں رات ان پر حکمت برسادی گئی اور رگ و پے میں حکمت بھر دی گئی۔ صبح کو ان کی باتیں اور عادتیں حکیمانہ ہوگئیں۔ آپ سے سوال ہوا کہ آپ نے نبوت کے مقابلے میں حکمت کیسے اختیار کی؟ تو جواب دیا کہ اگر اللہ مجھے نبی بنا دیتا تو اور بات تھی ممکن تھا کہ منصب نبوت کو میں نبھا جاتا۔ لیکن جب مجھے اختیار دیا گیا تو مجھے ڈر لگا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں نبوت کا بوجھ نہ سہار سکوں۔ اس لیے میں نے حکمت ہی کو پسند کیا۔“ اس روایت کے ایک راوی سعید بن بشیر ہیں جن میں ضعف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
قتادۃ رحمہ اللہ سے ایک عجیب اثر وارد ہے کہ ”لقمان کو حکمت ونبوت کے قبول کرنے میں اختیار دیا گیا تو آپ نے حکمت قبول فرمائی راتوں رات ان پر حکمت برسادی گئی اور رگ و پے میں حکمت بھر دی گئی۔ صبح کو ان کی باتیں اور عادتیں حکیمانہ ہوگئیں۔ آپ سے سوال ہوا کہ آپ نے نبوت کے مقابلے میں حکمت کیسے اختیار کی؟ تو جواب دیا کہ اگر اللہ مجھے نبی بنا دیتا تو اور بات تھی ممکن تھا کہ منصب نبوت کو میں نبھا جاتا۔ لیکن جب مجھے اختیار دیا گیا تو مجھے ڈر لگا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں نبوت کا بوجھ نہ سہار سکوں۔ اس لیے میں نے حکمت ہی کو پسند کیا۔“ اس روایت کے ایک راوی سعید بن بشیر ہیں جن میں ضعف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
حضرت قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”مراد حکمت سے اسلام کی سمجھ ہے۔ لقمان نہ نبی تھے نہ ان پر وحی آئی تھی پس سمجھ علم اور عبرت مراد ہے۔“
’ ہم نے انہیں اپنا شکر بجالانے کا حکم فرمایا تھا کہ میں نے تجھے جو علم وعقل دی ہے اور دوسروں پر جو بزرگی عطا فرمائی ہے۔ اس پر تو میری شکر گزاری کر۔ شکر گزار کچھ مجھ پر احسان نہیں کرتا وہ اپنا ہی بھلا کرتا ہے ‘۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ يَمْهَدُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:44] ’ نیکی والے اپنے لیے بھی بھلا توشہ تیار کرتے ہیں ‘۔ یہاں فرمان ہے کہ ’ اگر کوئی ناشکری کرے تو اللہ کو اس کی ناشکری ضرر نہیں پہنچاسکتی وہ اپنے بندوں سے بے پرواہ ہے سب اس کے محتاج ہیں وہ سب سے بے نیاز ہے ‘۔ ساری زمین والے بھی اگر کافر ہو جائیں تو اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے وہ سب سے غنی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ہم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے۔
’ ہم نے انہیں اپنا شکر بجالانے کا حکم فرمایا تھا کہ میں نے تجھے جو علم وعقل دی ہے اور دوسروں پر جو بزرگی عطا فرمائی ہے۔ اس پر تو میری شکر گزاری کر۔ شکر گزار کچھ مجھ پر احسان نہیں کرتا وہ اپنا ہی بھلا کرتا ہے ‘۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ يَمْهَدُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:44] ’ نیکی والے اپنے لیے بھی بھلا توشہ تیار کرتے ہیں ‘۔ یہاں فرمان ہے کہ ’ اگر کوئی ناشکری کرے تو اللہ کو اس کی ناشکری ضرر نہیں پہنچاسکتی وہ اپنے بندوں سے بے پرواہ ہے سب اس کے محتاج ہیں وہ سب سے بے نیاز ہے ‘۔ ساری زمین والے بھی اگر کافر ہو جائیں تو اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے وہ سب سے غنی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ہم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے۔