اَوَ لَمۡ یَتَفَکَّرُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ ۟ مَا خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآیِٔ رَبِّہِمۡ لَکٰفِرُوۡنَ ﴿۸﴾
اور کیا انھوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اوران کے درمیان جو کچھ ہے اسے پیدا نہیں کیا مگر حق اور ایک مقرر وقت کے ساتھ اور بے شک بہت سے لوگ یقینا اپنے رب سے ملنے ہی کے منکر ہیں۔
En
کیا اُنہوں نے اپنے دل میں غور نہیں کیا۔ کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اُن کو حکمت سے اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور بہت سے لوگ اپنے پروردگار سے ملنے کے قائل ہی نہیں
En
کیا ان لوگوں نے اپنے دل میں یہ غور نہیں کیا؟ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے سب کو بہترین قرینے سے مقرر وقت تک کے لئے (ہی) پیدا کیا ہے، ہاں اکثر لوگ یقیناً اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 8) ➊ { اَوَ لَمْ يَتَفَكَّرُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ …:} اس میں دو احتمال ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ{” اَوَ لَمْ يَتَفَكَّرُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ “} ایک مستقل جملہ ہے اور{” مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى “} دوسرا جملہ ہے۔ یعنی کیا ان لوگوں نے جو اللہ کے رسولوں اور اس کی ملاقات کو جھٹلاتے ہیں اپنی جانوں میں غور نہیں کیا، کیونکہ ان کی جانوں میں کئی نشانیاں ہیں، جن کے ساتھ وہ جان سکتے ہیں کہ جس ذات نے انھیں عدم سے وجود بخشا ہے وہ اس کے بعد انھیں دوبارہ بھی زندہ کر ے گا اور یہ کہ وہ ذات جس نے انھیں ایک سے دوسری کئی حالتوں میں منتقل کیا، چنانچہ نطفے سے علقہ میں، پھر مضغہ میں، پھر ذی روح انسان میں، پھر بچے کی صورت میں، پھر جوان، پھر بوڑھے، پھر کھوسٹ بوڑھے کی شکل میں منتقل کیا۔ آیا اس ذات کے لائق ہے کہ انھیں شتربے مہار چھوڑ دے، نہ انھیں کوئی حکم دے، نہ کسی چیز سے منع کرے، نہ انھیں کوئی ثواب ہو نہ عقاب ہو۔ نہیں، بلکہ ہر حال میں وہ مختلف حالتوں سے منتقل ہوتے ہوئے اپنے اعمال کے محاسبے کے لیے اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ (دیکھیے سورۂ انشقاق: ۶ اور ۱۶ تا ۱۹) (عبد الرحمن سعدی)
دوسرا احتمال یہ ہے کہ{” فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ “ ” اَوَ لَمْ يَتَفَكَّرُوْا “} کا ظرف ہے اور جملہ{” بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى “} پر مکمل ہو رہا ہے۔ یعنی کیا ان لوگوں نے اپنی جانوں یعنی اپنے دلوں میں اس بات پر غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور ان دونوں کے درمیان کی تمام اشیاء کو نہ عبث اور بے مقصد پیدا فرمایا ہے اور نہ ہی ہمیشہ رہنے کے لیے بنایا ہے، بلکہ انھیں اپنی کمال حکمت کے مطابق حق کے ساتھ یعنی حقیقی مقصد (آزمائش) کے لیے پیدا فرمایا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا }» [ھود: ۷] ”تاکہ وہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے عمل میں کون بہتر ہے۔“ اور ایک مقررہ مدت کے ساتھ پیدا فرمایا ہے، جہاں پہنچ کر ہر حال میں اس سلسلے کو ختم ہونا ہے اور وہ مقررہ مدت قیام قیامت، حساب اور ثواب و عتاب کا وقت ہے۔ یہی بات اس آیت میں فرمائی ہے: «{ اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ }» [المؤمنون: ۱۱۵] ”تو کیا تم نے گمان کر لیا کہ ہم نے تمھیں بے مقصد ہی پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے؟“ دیکھیے یہاں اللہ تعالیٰ نے کیسے واضح فرمایا کہ اگر وہ مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد ایسے ہی چھوڑ دے اور انھیں دوبارہ زندہ کر کے اپنے پاس لے جا کر حساب نہ کرے تو اس کا انسانوں کو پیدا کرنا عبث ہو گا۔ (شنقیطی) آیت کی تفسیر کا پہلا احتمال بھی صحیح ہے مگر یہ دوسرا زیادہ واضح ہے، اس لیے ترجمہ اسی احتمال کے مطابق کیا گیا ہے۔ یہ دونوں باتیں کہ زمین و آسمان کی پیدائش بے مقصد نہیں بلکہ حق ہی کے ساتھ ہے اور یہ کہ قیامت ہر حال میں قائم ہو گی، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اکٹھی بیان ہوئی ہیں۔ دیکھیے سورۂ دخان (۳۸ تا ۴۰) اور سورۂ حجر (۸۵)۔
➋ {وَ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ:} اور بہت سے لوگ آخرت کے اور دوبارہ زندہ ہو کر اپنے رب کی ملاقات کے اور حساب کتاب کے منکر ہیں، کیوں کہ انھوں نے اپنے دلوں میں غور ہی نہیں کیا۔ اگر وہ اپنے دلوں میں زمین و آسمان پر اور ان کے درمیان کی بے شمار عجیب و غریب اشیاء (دیکھیے بقرہ: ۱۶۴) پر غور کرتے تو انھیں اپنے رب کی ملاقات کا یقین ہو جاتا۔
دوسرا احتمال یہ ہے کہ{” فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ “ ” اَوَ لَمْ يَتَفَكَّرُوْا “} کا ظرف ہے اور جملہ{” بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى “} پر مکمل ہو رہا ہے۔ یعنی کیا ان لوگوں نے اپنی جانوں یعنی اپنے دلوں میں اس بات پر غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور ان دونوں کے درمیان کی تمام اشیاء کو نہ عبث اور بے مقصد پیدا فرمایا ہے اور نہ ہی ہمیشہ رہنے کے لیے بنایا ہے، بلکہ انھیں اپنی کمال حکمت کے مطابق حق کے ساتھ یعنی حقیقی مقصد (آزمائش) کے لیے پیدا فرمایا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا }» [ھود: ۷] ”تاکہ وہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے عمل میں کون بہتر ہے۔“ اور ایک مقررہ مدت کے ساتھ پیدا فرمایا ہے، جہاں پہنچ کر ہر حال میں اس سلسلے کو ختم ہونا ہے اور وہ مقررہ مدت قیام قیامت، حساب اور ثواب و عتاب کا وقت ہے۔ یہی بات اس آیت میں فرمائی ہے: «{ اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ }» [المؤمنون: ۱۱۵] ”تو کیا تم نے گمان کر لیا کہ ہم نے تمھیں بے مقصد ہی پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے؟“ دیکھیے یہاں اللہ تعالیٰ نے کیسے واضح فرمایا کہ اگر وہ مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد ایسے ہی چھوڑ دے اور انھیں دوبارہ زندہ کر کے اپنے پاس لے جا کر حساب نہ کرے تو اس کا انسانوں کو پیدا کرنا عبث ہو گا۔ (شنقیطی) آیت کی تفسیر کا پہلا احتمال بھی صحیح ہے مگر یہ دوسرا زیادہ واضح ہے، اس لیے ترجمہ اسی احتمال کے مطابق کیا گیا ہے۔ یہ دونوں باتیں کہ زمین و آسمان کی پیدائش بے مقصد نہیں بلکہ حق ہی کے ساتھ ہے اور یہ کہ قیامت ہر حال میں قائم ہو گی، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اکٹھی بیان ہوئی ہیں۔ دیکھیے سورۂ دخان (۳۸ تا ۴۰) اور سورۂ حجر (۸۵)۔
➋ {وَ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ:} اور بہت سے لوگ آخرت کے اور دوبارہ زندہ ہو کر اپنے رب کی ملاقات کے اور حساب کتاب کے منکر ہیں، کیوں کہ انھوں نے اپنے دلوں میں غور ہی نہیں کیا۔ اگر وہ اپنے دلوں میں زمین و آسمان پر اور ان کے درمیان کی بے شمار عجیب و غریب اشیاء (دیکھیے بقرہ: ۱۶۴) پر غور کرتے تو انھیں اپنے رب کی ملاقات کا یقین ہو جاتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
8-1یا ایک مقصد اور حق کے ساتھ پیدا کیا ہے بےمقصد اور بیکار نہیں۔ اور وہ مقصد ہے کہ نیکوں کو ان کی نیکیوں کی جزا اور بدوں کو ان کی بدی کی سزا دی جائے۔ یعنی کیا وہ اپنے وجود پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح انھیں نیست سے ہست کیا اور پانی کے ایک حقیر قطرے سے ان کی تخلیق کی۔ پھر آسمان و زمین کا ایک خاص مقصد کے لیے وسیع و عریض سلسلہ قائم کیا نیز ان سب کے لیے ایک خاص وقت مقرر کیا یعنی قیامت کا دن۔ جس دن یہ سب کچھ فنا ہوجائے گا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ان باتوں پر غور کرتے تو یقینا اللہ کے وجود اس کی ربوبیت و الوہیت اور اس کی قدرت مطلقہ کا انھیں ادراک و احساس ہوجاتا اور اس پر ایمان لے آتے۔ 8-2اور اس کی وجہ وہی کائنات میں غور و فکر کا فقدان ہے ورنہ قیامت کے انکار کی کوئی معقول بنیاد نہیں ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں [4] غور و فکر نہیں کیا؟ اللہ نے آسمانوں و زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے ان سب کو کسی حقیقی مصلحت [5] اور ایک مقررہ وقت تک [6] کے لئے پیدا کیا ہے۔ مگر لوگوں میں سے اکثر اپنے پروردگار کی ملاقات سے منکر ہیں۔
[4] انسان کن کن باتوں میں دوسرے جانداروں سے ممتاز ہے :۔
انسان کے اندر بھی ایک پوری کائنات آباد ہے۔ اسی لئے انسان کے اندر کی دنیا عالم اصغر کہا جاتا ہے۔ اور بیرونی دنیا یا کائنات کو عالم اکبر۔ پھر اس اندرونی دنیا کے بھی بے شمار پہلو ہیں۔ ہم سر دست انسان کے اس پہلو پر غور کریں گے جس میں وہ دوسرے جانوروں سے ممتاز ہے۔ مفاد خویش، تحفظ خویش اور بقائے نسل وغیرہ ایسے طبعی تقاضے ہیں جو ہر جاندار اور اسی طرح انسان میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اور جن باتوں میں وہ ممتاز ہے وہ یہ ہیں۔
(1) زمین اور اس کے ماحول میں بے شمار چیزیں ایسی ہیں جو انسان کے لئے مسخر کر دی گئی ہیں۔ اور وہ ان سے جیسے چاہے کام لے سکتا ہے اور یہ صفت انسان کے علاوہ دوسرے کسی جاندار میں نہیں۔
(2) اسے خیر اور شر کی تمیز بخشی گئی ہے۔ وہ اپنے ہی کئے ہوئے کاموں پر حکم لگا سکتا ہے کہ میں نے فلاں اچھا کام کیا ہے اور فلاں کام برا تھا۔ یہ بات کافی حد تک اس کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے۔ پھر اسے وحی کے ذریعہ متنبہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔
(3) اسے قوت ارادہ و اختیار بھی بخشا ہے اور وہ اپنے لئے اچھا یا برا، کوئی بھی طرز زندگی اپنانے کا پورا اختیار رکھتا ہے۔ حتیٰ کہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ وہ اپنے تحفظ کے فطری داعیہ کے علی الرغم کسی جذبہ کے تحت اپنی جان تک دینے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔
(4) اسے عقل و شعور کا وافر حصہ عطا کیا گیا ہے جس کے ذریعے وہ چند معلوم اور دیکھی ہوئی اشیاء سے مزید کچھ حقائق اور نتائج کا سراغ لگانے کی اہلیت رکھتا ہے۔
اصطلاحی زبان میں علت (Cause) اور معلول (effect) سے تعبیر کیا جاتا ہے وہ مشاہدات کو دیکھ کر اس کی علت بھی معلوم کرنا چاہتا ہے اور اس سے آگے معلول بھی۔ انسان کے امتحان کا پورا وقت اس کی موت ہے۔ یہ وہ اللہ کے عطیات ہیں جو انسان کے علاوہ کسی جاندار کو عطا نہیں کئے گئے اور ان کے عطا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کا امتحان لیا جائے کہ آیا وہ ان امور میں بھی اللہ کا فرمانبردار بن کر رہتا ہے جس میں اسے اختیار دیا گیا ہے یا نہیں؟ جیسا کہ وہ طبعی امور میں اللہ کے قوانین و احکام کا پابند ہے۔ گویا یہ دنیا صرف انسان کے لئے دار الامتحان ہے اور کسی جاندار کے لئے نہیں۔ اور اس امتحان کا وقت اس کی موت تک ہے۔ موت دراصل اس کے امتحان کے نتیجہ کے امکان کا دن ہے۔
(1) زمین اور اس کے ماحول میں بے شمار چیزیں ایسی ہیں جو انسان کے لئے مسخر کر دی گئی ہیں۔ اور وہ ان سے جیسے چاہے کام لے سکتا ہے اور یہ صفت انسان کے علاوہ دوسرے کسی جاندار میں نہیں۔
(2) اسے خیر اور شر کی تمیز بخشی گئی ہے۔ وہ اپنے ہی کئے ہوئے کاموں پر حکم لگا سکتا ہے کہ میں نے فلاں اچھا کام کیا ہے اور فلاں کام برا تھا۔ یہ بات کافی حد تک اس کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے۔ پھر اسے وحی کے ذریعہ متنبہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔
(3) اسے قوت ارادہ و اختیار بھی بخشا ہے اور وہ اپنے لئے اچھا یا برا، کوئی بھی طرز زندگی اپنانے کا پورا اختیار رکھتا ہے۔ حتیٰ کہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ وہ اپنے تحفظ کے فطری داعیہ کے علی الرغم کسی جذبہ کے تحت اپنی جان تک دینے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔
(4) اسے عقل و شعور کا وافر حصہ عطا کیا گیا ہے جس کے ذریعے وہ چند معلوم اور دیکھی ہوئی اشیاء سے مزید کچھ حقائق اور نتائج کا سراغ لگانے کی اہلیت رکھتا ہے۔
اصطلاحی زبان میں علت (Cause) اور معلول (effect) سے تعبیر کیا جاتا ہے وہ مشاہدات کو دیکھ کر اس کی علت بھی معلوم کرنا چاہتا ہے اور اس سے آگے معلول بھی۔ انسان کے امتحان کا پورا وقت اس کی موت ہے۔ یہ وہ اللہ کے عطیات ہیں جو انسان کے علاوہ کسی جاندار کو عطا نہیں کئے گئے اور ان کے عطا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کا امتحان لیا جائے کہ آیا وہ ان امور میں بھی اللہ کا فرمانبردار بن کر رہتا ہے جس میں اسے اختیار دیا گیا ہے یا نہیں؟ جیسا کہ وہ طبعی امور میں اللہ کے قوانین و احکام کا پابند ہے۔ گویا یہ دنیا صرف انسان کے لئے دار الامتحان ہے اور کسی جاندار کے لئے نہیں۔ اور اس امتحان کا وقت اس کی موت تک ہے۔ موت دراصل اس کے امتحان کے نتیجہ کے امکان کا دن ہے۔
رزلٹ کا اعلان موت کا دن ہے اور اسی وقت سے جزا و سزا شروع ہو جاتی ہے:۔
اور موت کے فوراً بعد پاس ہونے والوں کو انعام و اکرام دیئے جائیں گے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور فیل ہونے کو اپنے اپنے رزلٹ کے حساب سے سخت اور سخت تر سزائیں دی جائیں گی۔ اسی حقیقت سے عالم آخرت کے یقینی طور پر واقع ہونے کی عقلی دلیل پیش کی گئی ہے۔ کیونکہ یہ تو نا ممکن ہے کہ کسی شخص کا امتحان تو لیا جائے لیکن اس کے نتیجہ کا اعلان ہی نہ کیا جائے یا اعلان کے بعد ان پاس ہونے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور نہ فیل ہونے والوں کو کچھ سزا دی جائے اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ امتحان کا وقت ختم ہونے سے پہلے ہی کسی کو سزا دے ڈالی جائے۔ لہٰذا جزا و سزا کا اصل مقام دار الآخرت ہے نہ کہ یہ دنیا۔ اور اس دنیا میں جو بعض افراد یا اقوام پر عذاب الٰہی نازل ہوتا ہے تو وہ محض مجرموں کی گرفتاری ہوتی ہے پوری سزائے جرم نہیں ہوتی۔ تاکہ دوسرے لوگ ایسے مجرموں کے مظالم سے محفوظ رہ سکیں اور آئندہ کے لئے ان کے مظالم کا سلسلہ بند ہو جائے۔
اخروی زندگی کیوں ضروری ہے :۔
گویا انسان کے اندر کی دنیا کے اس پہلو پر بھی غور کرنے سے یہی نتیجہ سامنے آیا ہے۔ کہ انسان کو اس کے اچھے اور برے اعمال کی سزا ملنا ضروری ہے۔ اور نیز یہ کہ یہ سزا موت کے بعد ہی ہو سکتی ہے لہٰذا روز آخرت کا قیام ضروری ہوا۔ اب جو لوگ انسان کے اعمال کی جزا و سزا اور روز آخرت پر یقین ہی نہیں رکھتے ان سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آخر تمہیں یہ زائد عطیات کیوں عطا کئے گئے تھے؟ اگر دنیا میں رہنے کا مقصد کھانا پینا، بقائے نسل اور اس کے بعد مر کر مٹی ہو جانا ہی تھا تو یہ کام تو دوسرے جاندار بھی کر رہے ہیں۔ پھر تم میں اور ان میں کیا امتیاز باقی رہ گیا؟ بلکہ ایک لحاظ سے ایسا انسان جانوروں سے بد تر ہوا۔ کہ اللہ نے اسے جو دوسرے جانوروں سے زائد صلاحیتیں عطا کی تھیں ان سے اس نے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا۔
[5] کائنات میں نظم و ضبط سے ہی ایجادات ہوتی ہے اور تمدن کو فروغ ملتا ہے :۔
بالحق سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی جملہ اشیاء کے ذمہ جو کام لگا دیا ہے اور اس کے لئے جو قوانین مقرر کر دیئے ہیں کہ وہ ان پر سختی سے پابند ہیں کہ نہ وہ ایک لمحہ آگے پیچھے ہو سکتی ہیں اور نہ ایک آدھ انچ بھی ہٹ سکتی ہیں۔ مثلاً سورج کے ایک دن طلوع ہونے سے دوسرے دن طلوع ہونے تک 24 گھنٹے لگتے ہیں۔ سورج کے لئے ممکن نہیں کہ وہ اس وقت میں ایک لمحہ کی بھی تقدیم و تاخیر کرے۔ پانی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ کسی وقت نشیب کے بجائے فراز کی طرف بہنا شروع کرے یا سطح ہموار نہ رکھے یا 100 درجہ سنٹی گریڈ سے پہلے ہی کھولنا شروع ہو جائے، نہ آگ کے لئے ممکن ہے کہ وہ اشیاء کو جلانا چھوڑ دے۔ یا گرمی سے اشیاء پھیلنا اور سردی سے سکڑنا چھوڑ دیں۔ یہی وہ قوانین ہیں جن میں نظم و ضبط کی بنا پر انسان نت نئی ایجادات کو ظہور میں لانے کے قابل ہو سکتا ہے بلکہ تھوڑا سا آگے غور و فکر کیا جائے کہ اگر اشیائے کائنات میں یہ نظم و ضبط نہ ہوتا تو انسان اس دنیا پر زندہ بھی نہ رہ سکتا تھا۔
توحید، انسانی زندگی کے مقصد اور روز آخرت پر دلائل:۔
جس سے صاف واضح ہے کہ کائنات کی ایک ایک چیز بے شمار فوائد اور مصالح کی بنا پر بنائی گئی ہے یہ محض کس بچے کا کھیل نہیں کہ جس نے اپنا دل بہلانے کے لئے ایک گھروندا بنا لیا ہو اور جب اس کا جی اکتا جائے تو اس پر ہاتھ پھیر کر اسے مٹا ڈالے۔ بلکہ یہ کسی حکیم مطلق کی ایک سوچی سمجھی تدبیر اور کارنامہ ہے۔ جس سے ایک نتیجہ تو یہ نکلتا ہے کہ ایسے منظم و مربوط کارخانہ کا خالق و مالک ایک ہی ہستی ہو سکتی ہے اور دوسرا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کی ایجادات اور تسخیر کائنات کا راز اسی بات میں ہے۔ کائنات کی جملہ اشیاء طبعی قوانین کی پابند ہیں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی نہ علوم سائنس کا تصور کیا جا سکتا تھا اور نہ انسانی تہذیب و تمدن کا۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک طرف کائنات کی بنیاد ٹھوس حقائق پر مبنی ہے، دوسری طرف انسان کو وہ صلاحیتیں دی گئی ہیں جو کسی اور جاندار کو نہیں دی گئیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ہے۔ ان باتوں کے باوجود یہ کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ انسان کی زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو۔ اور وہ جیسے چاہے اس دنیا میں زندگی گزار کر، عیش و عشرت کے مزے اڑا کر اور دوسروں پر ظلم کر کے اور ان کے حقوق پامال کر کے دنیا سے رخصت ہو جائے اور پھر مٹی میں مل کر مٹی بن جائے اور اس سے کوئی باز پرس تک کرنے والا نہ ہو۔ گویا اس آیت میں توحید باری پر، انسان کی زندگی کے مقصد پر اور روز آخرت پر قوی دلائل اور شہادتیں پیش کی گئی ہیں۔
[6] آخرت پر تیسری دلیل:۔
قیامت اور عالم آخرت پر یہ تیسری دلیل ہے۔ ہر چیز جو پیدا ہوئی ہے یا اصطلاحی زبان میں حادِث ہے وہ فنا ضرور ہو گی۔ کائنات کا یہ مربوط پائیدار نظام دیکھ کر انسان یہی سوچتا ہے کہ تا ابد یہ نظام یونہی چلتا جائے گا۔ اصل چیز مادہ ہے جو ازلی ابدی ہے۔ مادہ صرف اپنی شکلیں بدلتا ہے، فنا نہیں ہوتا یہی دہریہ حضرات کے عقیدہ کی اصل بنیاد ہے۔ لیکن موجودہ دور کی تحقیقات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مادہ کبھی بھی فنا ہو سکتا ہے اور اسے توانائی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ایٹم کے اجزاء الیکٹرون اور پروٹون کا نظام درہم برہم کر کے اسے توانائی میں تبدیل کر لیا جاتا ہے پھر توانائی بھی مادہ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ کی ذات اور اس کی صفات کے سوا نہ کوئی چیز ازلی ہے اور نہ ابدی۔ اور ہر چیز فنا ہو سکتی ہے۔ جب یہ بات سائنس کے ذریعہ پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے تو اب اس کائنات کے نظام کے درہم برہم ہونے اور قیامت قائم ہونے میں کیا استحالہ باقی رہ جاتا ہے؟ رہی یہ بات کہ اس کائنات کا یہ موجودہ نظام کب درہم برہم ہو گا اور کب قیامت قائم ہو گی اور یہ بات صرف خالق کائنات ہی جان سکتا ہے اور یہ بات معلوم کر لینا انسان کی دسترس سے باہر ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے ٭٭
چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ ’ موجودات میں غور و فکر کیا کرو اور قدرت اللہ کی نشانیوں سے اس مالک کو پہچانو اور اس کی قدر و تعظیم کرو ‘۔
کبھی عالم علوی کو دیکھو، کبھی عالم سفلی پر نظر ڈال، کبھی اور مخلوقات کی پیدائش کو سوچو اور سمجھو کہ یہ چیزیں عبث اور بے کار پیدا نہیں کی گئیں۔ بلکہ رب نے انہیں کارآمد اور نشان قدرت بنایا ہے۔ ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہے یعنی قیامت کا دن۔ جسے اکثر لوگ مانتے ہی نہیں۔
اس کے بعد نبیوں کی صداقت کو اس طرح ظاہر فرماتا ہے کہ ’ دیکھ لو ان کے مخالفین کا کس قدر عبرتناک انجام ہوا؟ اور ان کے ماننے والوں کو کس طرح دونوں جہاں کی عزت ملی؟ تم چل پھر کر اگلے واقعات معلوم کرو کہ گزشتہ امتیں جو تم سے زیادہ زور آور تھیں تم سے زیادہ مال و زر والی تھیں تم سے کنبے قبیلے اور بیٹے پوتے والی تھیں تم تو ان کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے وہ تم سے زیادہ عمر والے تھے۔ تم سے زیادہ آبادیاں انہوں نے کیں، تم سے زیادہ کھیتیاں اور باغات ان کے تھے اس کے باوجود جب ان کے پاس اس زمانے کے رسول آئے انہوں نے دلیلیں اور معجزے دکھائے اور پھر بھی اس زمانے کے ان بدنصیبوں نے ان کی نہ مانی اور اپنے خیالات میں مستغرق رہے اور سیاہ کاریوں میں مشغول رہے تو بالآخر عذاب اللہ ان پر برس پڑے ‘۔
اس وقت کوئی نہ تھا جو انہیں بچا سکے یا کسی عذاب کو ان پر سے ہٹا سکے۔ اللہ کی ذات اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے بندوں پر ظلم کرے۔
کبھی عالم علوی کو دیکھو، کبھی عالم سفلی پر نظر ڈال، کبھی اور مخلوقات کی پیدائش کو سوچو اور سمجھو کہ یہ چیزیں عبث اور بے کار پیدا نہیں کی گئیں۔ بلکہ رب نے انہیں کارآمد اور نشان قدرت بنایا ہے۔ ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہے یعنی قیامت کا دن۔ جسے اکثر لوگ مانتے ہی نہیں۔
اس کے بعد نبیوں کی صداقت کو اس طرح ظاہر فرماتا ہے کہ ’ دیکھ لو ان کے مخالفین کا کس قدر عبرتناک انجام ہوا؟ اور ان کے ماننے والوں کو کس طرح دونوں جہاں کی عزت ملی؟ تم چل پھر کر اگلے واقعات معلوم کرو کہ گزشتہ امتیں جو تم سے زیادہ زور آور تھیں تم سے زیادہ مال و زر والی تھیں تم سے کنبے قبیلے اور بیٹے پوتے والی تھیں تم تو ان کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے وہ تم سے زیادہ عمر والے تھے۔ تم سے زیادہ آبادیاں انہوں نے کیں، تم سے زیادہ کھیتیاں اور باغات ان کے تھے اس کے باوجود جب ان کے پاس اس زمانے کے رسول آئے انہوں نے دلیلیں اور معجزے دکھائے اور پھر بھی اس زمانے کے ان بدنصیبوں نے ان کی نہ مانی اور اپنے خیالات میں مستغرق رہے اور سیاہ کاریوں میں مشغول رہے تو بالآخر عذاب اللہ ان پر برس پڑے ‘۔
اس وقت کوئی نہ تھا جو انہیں بچا سکے یا کسی عذاب کو ان پر سے ہٹا سکے۔ اللہ کی ذات اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے بندوں پر ظلم کرے۔
یہ عذاب تو ان کے اپنے کرتوتوں کا وبال تھا۔ یہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے رب کی باتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [6-الأنعام:110]’ ان کی بےایمانی کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں کو ان کی نگاہوں کو پھیر دیا اور انہیں ان کی سرکشی میں ہی حیران چھوڑ دیا ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ» [61-الصف:5] ’ ان کی کجی کی وجہ سے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دئیے ‘ اور اس آیت میں ہے کہ «فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ» ۱؎ [5-المائدة:49] ’ اگر اب بھی منہ موڑیں تو سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض گناہوں پر ان کی پکڑ کرنے کا ارادہ کرچکا ہے ‘۔
اس بناء پر «اَلسُّوایٰ» منصوب ہو گا «اَسَاءُ» کا مفعول ہو کر۔ اور یہ بھی قول ہے کہ «سُّوایٰ» یہاں پر اس طرح واقع ہے کہ برائی ان کا انجام ہوئی۔ اس لیے کہ وہ آیات اللہ کے جھٹلانے والے اور ان کا مذاق اڑانے والے تھے۔ تو اس معنی کی رو سے یہ لفظ منصوب ہو گا «کَان» کی خبر ہو کر۔
امام ابن جریررحمہ اللہ نے یہی توجیہہ بیان کی ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور قتادۃ رحمہ اللہ سے نقل بھی کی ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور ظاہر بھی یہی ہے کیونکہ اس کے بعد آیت «ووَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ» ۱؎ [30- الروم:10] ہے۔
اور آیت میں ہے «فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ» [61-الصف:5] ’ ان کی کجی کی وجہ سے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دئیے ‘ اور اس آیت میں ہے کہ «فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ» ۱؎ [5-المائدة:49] ’ اگر اب بھی منہ موڑیں تو سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض گناہوں پر ان کی پکڑ کرنے کا ارادہ کرچکا ہے ‘۔
اس بناء پر «اَلسُّوایٰ» منصوب ہو گا «اَسَاءُ» کا مفعول ہو کر۔ اور یہ بھی قول ہے کہ «سُّوایٰ» یہاں پر اس طرح واقع ہے کہ برائی ان کا انجام ہوئی۔ اس لیے کہ وہ آیات اللہ کے جھٹلانے والے اور ان کا مذاق اڑانے والے تھے۔ تو اس معنی کی رو سے یہ لفظ منصوب ہو گا «کَان» کی خبر ہو کر۔
امام ابن جریررحمہ اللہ نے یہی توجیہہ بیان کی ہے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور قتادۃ رحمہ اللہ سے نقل بھی کی ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اور ظاہر بھی یہی ہے کیونکہ اس کے بعد آیت «ووَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ» ۱؎ [30- الروم:10] ہے۔